صلہ رحمی کے فوائد

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

“جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کی عمر بڑھائی جائے, اس کے رزق میں وسعت کی جائے اور اس سے بری موت کو دور کیا جائے (تو) وہ اللہ عزوجل سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے ( یعنی رشتہ داروں سے تعلق جوڑے)۔”

[مسند احمد (ت شاکر) ج 2 ص 105 رقم الحدیث 1212 (احمد شاکر نے حاشیہ میں اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دے دیا ہے۔)]

[مسند احمد (ط الرسالۃ) ج 2 ص 387 رقم الحدیث 1213 (شعیب الارنوؤط وغیرہ نے حاشیہ میں اس حدیث کی سند کو قوی قرار دیے دیا ہے۔)]

امام ہیثمی علیہ الرحمہ اس حدیث کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں:

اس حدیث کو امام عبداللہ بن احمد, امام بزار اور امام طبرانی علیہم الرحمہ نے (المعجم) الاوسط میں روایت کیا ہے اور امام بزار علیہ الرحمہ (کی سند) کے رجال (رواۃ) صحیح (حدیث) کے رجال ہیں سوائے عاصم بن ضمرۃ کے اور وہ ثقہ ہے۔”

[مجمع الزوائد ج 8 ص 152-153 رقم الحدیث 13465]

لیکن میرے علم کے مطابق اس حدیث کی سند میں ابواسحاق طبقہ ثالثہ کا مدلس اور مختلط راوی موجود ہے۔ [طبقات المدلسین لابن حجر رقم 90] اس روایت میں ان کی سماع کی تصریح موجود نہیں ہے لیکن ان کی متابعت حبیب بن ابی ثابت نے کی ہوئی ہے۔[معجم الشیوخ لابن جمیع الصیداوی رقم الحدیث 224] لیکن یہ راوی خود طبقہ ثالثہ کا مدلس ہے [طبقات المدلسین لابن حجر رقم69] اس نے بھی یہاں کی سماع تصریح نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود اس روایت کے کئی شواہد موجود ہیں اس لیے اس روایت کی شواہد کی بنیاد پر تحسین کی جائے گی۔

واللہ اعلم

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

23 جنوری 2019ء