وَلَيۡسَتِ التَّوۡبَةُ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السَّيِّاٰتِ‌ ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ اِنِّىۡ تُبۡتُ الۡـــٰٔنَ وَلَا الَّذِيۡنَ يَمُوۡتُوۡنَ وَهُمۡ كُفَّارٌ ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَ لِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 18

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَيۡسَتِ التَّوۡبَةُ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السَّيِّاٰتِ‌ ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ اِنِّىۡ تُبۡتُ الۡـــٰٔنَ وَلَا الَّذِيۡنَ يَمُوۡتُوۡنَ وَهُمۡ كُفَّارٌ ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَ لِيۡمًا

ترجمہ:

اور ان لوگوں کی توبہ مقبول نہیں ہے جو مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں ‘ حتی کہ جب ان میں سے کسی شخص کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے میں نے اب توبہ کی اور نہ ان لوگوں کی توبہ مقبول ہے جو حالت کفر میں مرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان لوگوں کی توبہ مقبول نہیں ہے جو مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں حتی کہ جب ان میں سے کسی شخص کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے میں نے اب توبہ کی اور نہ ان لوگوں کی توبہ قبول ہے جو حالت کفر میں مرتے ہیں۔ (النساء : ١٨)

غرغرہ موت کے وقت توبہ کا قبول نہ ہونا :

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ جو لوگ گناہ کرنے کے بعد جلد توبہ کرلیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں اور توبہ کرنے میں تاخیر کرتے ہیں حتی کہ ان کی نزع روح کا وقت آجاتا ہے اور وہ امور غیبیہ کا مشاہدہ کرلیتے ہیں اس وقت ان کو اضطراری طور پر اللہ کے حق ہونے کا یقین ہوجاتا ہے اس وقت وہ ایمان لے آئیں یا توبہ کرلیں تو وہ ایمان اور توبہ مقبول نہیں کیونکہ اپنے اختیار سے اللہ کو حق ماننے اور توبہ کرنے کا نام ایمان ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک غرغرہ موت (نزع روح) کا وقت نہ آئے اللہ تعالیٰ بندوں کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٥٤٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٢٥٣‘ شرح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ١٣٠٦‘ صحیح ابن حبان : ج ٢ ص ٦٢٨‘ مسند احمد : ج ٢ ص ١٣٢‘ ١٥٣‘ ج ٣ ص ٤٢٥) 

امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے فرشتوں کو دیکھنے سے پہلے توبہ کرلی وہ اس کی عنقریب توبہ ہے۔ امام ابن جریر اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ضحاک سے روایت کیا ہے کہ موت سے پہلے ہر چیز عنقریب ہے۔ موت کے فرشتے کو دیکھنے سے پہلے توبہ مقبول ہوتی ہے اور موت کے فرشتہ کو دیکھنے کے بعد توبہ مقبول نہیں ہوتی (الدرالمنثور ج ٣ ص ١٣٠‘ مطبوعہ ایران) 

فرعون چونکہ موت کے فرشے اور عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان لایا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا ایمان قبول نہیں فرمایا : 

(آیت) ” حتی اذا ادر کہ الغرق قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسرآئیل وانا من المسلمین، آلئن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین “۔ (یونس : ٩١۔ ٩٠) 

ترجمہ : حتی کہ فرعون کو جب غرق نے گھیر لیا تو اس نے کہا میں اللہ پر ایمان لایا جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ (فرمایا) تو اب ایمان لایا ہے حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمانی کرتارہا تھا اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 18

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.