چھوئے تو وضو کرے

حدیث نمبر :305

روایت ہے حضرت بسرہ سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے عضو خاص کو چھوئے تو وضو کرے۲؎ اسے مالک،احمد،ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ اوردارمی نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ آپ بسرہ بنت صفوان ابن نوفل ہیں،قرشیہ ہیں،اسدیہ ہیں،ورقہ ابن نوفل کی بھیجتی ہیں،مشہور صحابیہ ہیں۔

۲؎ مس کے معنی چھونا بھی ہیں،لگنا ولگانا بھی،اور پہنچنا پہنچانابھی،رب فرماتا ہے:”مَسَّتْہُمُ الْبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ”یہاں اگر چھونے کے معنی ہوں تو تھوڑی عبارت پوشیدہ ہوگی،یعنی جو عضو خاص چھوئے اور وہاں تری پائے تو وضو کرے،چھونے سے نہیں بلکہ تری نکلنے سے،جیسے رب فرماتا ہے:”اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الْغَآئِطِ” یعنی تم میں سے کوئی بیت الخلاء(پاخانہ)سے آئے۔ظاہر ہے کہ بیت الخلاء میں ہو کر آنا وضو نہیں توڑتا بلکہ وہاں پیشاب پاخانہ کرکے آنا وضو توڑتا ہے۔اور اگر مس لگانے یا پہنچانے کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جب تم میں اپنی عورت سے کوئی مباشرت کرے تب وضو کرے،یعنی مَسّ بِالْیَدْ مرادنہیں بلکہ مَسّ بِالْفَرْج مراد ہے۔ان دونوں صورتوں میں یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے اور اگلی حدیث کے خلاف بھی نہیں۔حضرت امام شافعی اس حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ مس عضو خاص وضو توڑ دیتا ہے،لیکن اس حدیث سے ان کا مذہب ثابت نہیں ہوتا،کیونکہ ان کے نزدیک صرف ہتھیلی یا انگلیوں کے پیٹ سے بغیر آڑ چھونا وضوتوڑتا ہے۔انگلیوں یا ہتھیلی کی پیٹھ یا کلائی،کہنی ران سے لگ جانا وضو نہیں توڑتا حالانکہ اس حدیث میں مس مطلق ہے جس میں یہ قیدیں نہیں،نیز یہ حدیث اگلی حدیث کے بھی خلاف ہوگی۔طحاوی شریف میں ہے کہ یہاں وضو سے مراد ہاتھ دھونا ہے۔یہی حضرت مصعب ابن سعد کا قول ہے،یعنی جو عضو خاص چھوئے مناسب ہے کہ ہاتھ دھوئے جیسے کھانے کے وضو میں تھا۔(ازمرقاۃ لمعات وغیرہ)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.