اشاعت اسلام کے بعد کتابت پر خصوصی توجہ رہی

XZXZXZXZXZX

اشاعت اسلام کے بعد کتابت پر خصوصی توجہ رہی

ہجرت کے بعد جب اسلامی ریاست کو استحکام حاصل ہوگیا تو کاتبوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ،مسجد نبوی کے علاوہ مدینہ طیبہ کی دیگر نو مساجد مسلمانوں کی نگاہوں کا مرکزتھیں ، اورمساجد میں مسلمان قرآن حکیم ،اسلامیات اور قرأۃ کتابت کی تعلیم حاصل کرتے تھے ،اور جو مسلمان لکھنا پڑھنا جانتے تھے وہ رضاکارانہ طور پر اپنے مسلمان بھائیوں کی تدریس کا فریضہ سرانجام دیتے تھے ۔

وکان الی جانب ہذہ المساجد کتاتیب یتعلم فیہا الصبیان الکتابۃ والقرآۃ الی جانب القرآن الکریم ۔(السنتہ قبل التدوین ۲۹۹)

ان مساجد کے علاوہ کچھ مدارس بھی تھے جن میں بچے قرآ ن حکیم کے ساتھ ساتھ قرآۃ اور کتابت کی تعلیم حاصل کرتے تھے ۔

یہ تفصیلات بیان کرنے کا مقصدیہ ہے کہ عہد نبوی میں ملت اسلامیہ کے متعلق یہ دعوی کرنا کہ وہ کسی چیز کی تدوین کی اہلیت ہی نہیں رکھتے تھے غلط ہے ،کیونکہ جن لوگوں نے قرآن حکیم کو کامیابی کے ساتھ مدون کرلیا تھا ،حدیث کی تدوین انکے لئے ناممکن نہ تھی ،اس لئے مستشرقین کا کہنا غلط ہے کہ مسلمانوں نے دور اول میں احادیث طیبہ کی تدوین اس لئے نہیں کی کہ وہ اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتے تھے ۔(ضیاء النبی ۱۱۲)

XZXZXZXZXZXZX

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.