بوسہ لیتے پھر نماز پڑھ لیتے اور وضو نہ کرتے

حدیث نمبر :308

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض بیویوں کا بوسہ لیتےپھر نماز پڑھ لیتے اور وضو نہ کرتے ۱؎ اسے ابوداؤد،ترمذی اور نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا اور ترمذی نے فرمایا کہ ہمارے ساتھیوں کے نزدیک کسی حالت میں بھی عروہ کی حضرت عائشہ سے اسناد صحیح نہیں۲؎نیز ابراہیم تیمی کی اسناد انہی حضرت عائشہ سے ہے۔اور ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث مرسل ہے ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہ سے نہ سنا۳؎

شرح

۱؎ یہ حدیث حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی قوی دلیل ہے کہ عورت کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جو مسلم،بخاری،نسائی وغیرہ میں ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور آپ تہجد پڑھنے میں مشغول ہوتے تھے،جب وہ سجدہ کرتے تو مجھے ہاتھ لگادیتے میں پاؤں سمیٹ لیتی،آپ سجدہ کرلیتے سجدہ کے بعد میں پاؤں پھیلالیتی۔(مسلم بخاری)نیز فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور کو بستر پر نہ پایا میں ٹٹولنے لگی میرا ہاتھ آپ کے قدم شریف سے لگا جو کھڑا ہوا تھا اور آپ سجدہ میں تھے۔(نسائی)نیز فرماتی ہیں کہ ایک بارآپ نے لمبا سجدہ فرمایا میں سمجھی کہ آپ کی وفات ہوگئی،میں نے آپ کے پاؤں کا انگوٹھا پکڑ کر ہلایا۔(بیہقی)ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ عورت کا چھونا وضو نہیں توڑتا۔

۲؎ کیونکہ اس اسناد میں حبیب ابن ثابت حضرت عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے راوی ہیں،عروہ کی سماعت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے ثابت ہے بلکہ وہ ان کے شاگرد ہیں،مگر حبیب کی سماعت عروہ سے صحیح نہیں لہذا حدیث مرسل ہے۔ترمذی نے اَصْحَابِنَا اس واسطے فرمایا کہ مرسل حدیث شوافع کے مذہب میں دلیل نہیں۔مگر احناف کے نزدیک دلیل ہے۔

۳؎ خلاصۂ اعتراض یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت عائشہ سے دو اسنادوں سے مروی ہے۔عروہ عن عائشہ اور ابراھیم التیمی عن عائشہ اور دونوں مرسل کیونکہ ابراہیم تیمی نے بھی عائشہ صدیقہ سے نہ سنا،مگر یہ اعتراض امام صاحب پر نہیں پڑ سکتا،کیونکہ ان کے ہاں حدیث مرسل قابل حجت ہے،شوافع اپنے اصول سے ہم پر اعتراضات کیسے کرسکتے ہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.