وَاِنۡ اَرَدتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـــًٔا‌ ؕ اَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا- سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 20

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ اَرَدتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـــًٔا‌ ؕ اَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا

ترجمہ:

اور اگر تم ایک بیوی کے بدلہ دوسری بیوی لانا چاہو اور ان میں سے ایک کو تم ڈھیروں مال دے چکے ہو ‘ تو اس مال میں سے کچھ بھی واپس نہ لو، کیا تم اس مال کو بہتان باندھ کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرکے واپس لو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم ایک بیوی کے بدلہ دوسری بیوی لانا چاہو ‘ اور ان میں سے ایک کو تم ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس مال میں سے تم کچھ بھی واپس نہ لو۔ کیا تم مال کو بہتان باندھ کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرکے واپس لو گے ؟۔ (النساء : ٢٠ )

زیادہ سے زیادہ مہر رکھنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اگر تم کو کوئی عورت ناپسند ہو اور اس کے علاوہ دوسری عورت پسند ہو اور تم یہ ارادہ کرو کہ تم اپنی عورت کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرلو تو تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ مطلقہ عورت کو جو مہر دیا تھا اس کو واپس لے لو ‘ خواہ وہ ڈھیروں مال کیوں نہ ہو ‘ کیا تم اس عورت پر کوئی تہمت یا بہتان باندھ کر اس مال کو واپس لو گے ؟ اور تمہارے لئے اس عورت سے مال لینا کس طرح جائز ہوگا حالانکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ عمل ازدواج کرکے جسمانی قرب حاصل کرچکے ہو ‘ اور تم اس عورت سے مہر پر عقد نکاح کرچکے ہو جس پر مسلمان گواہ ہوچکے ہیں اور اللہ بھی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (الوسیط ج ١ ص ٢٨۔ ٢٧ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت کا زیادہ سے زیادہ مہر رکھنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

قنطار کا معنی : 

اس آیت میں عورت کو دی ہوئی رقم کے لئے قنطار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کی مقدار میں حسب ذیل آثار ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا قنطار بارہ ہزار ہیں ‘ ابو نضرہ العبدی نے کہا بیل کی کھال میں جتنا سونا بھرا جاسکے ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد بارہ ہزار ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد ستر ہزار دینار ہیں ‘ حضرت معاذ (رض) نے کہا اس مراد بارہ سو اوقیہ ہیں (ایک اوقیہ ‘ چالیس درہم کے برابر ہے) مجاہد سے ایک اور روایت ہے کہ اس سے مراد ستر ہزار مثقال ہیں۔ (سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٣٤٧٠۔ ٣٤٦٤‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت) 

تاہم اس آیت میں قنطار سے مراد ڈھیروں روپیہ ہے امام ابو جعفر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے کہا اس سے مراد مال کثیر ہے (جامع البیان : ج ٤ ص ٢١٤) اسی طرح علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی لکھا ہے اس سے مراد مال کثیر ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٢٤٣) 

حضرت عمر کا زیادہ مہر رکھنے سے منع فرمانا :

امام سعید بن منصور متوفی ٢٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ انہوں نے اللہ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا سنو ! عورتوں کے مہر بہت زیادہ نہ رکھا کرو۔ اگر مجھے کسی کے متعلق معلوم ہوا کہ کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باندھے ہوئے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے تو میں آپ کے مقرر کردہ مہر سے زائد رقم کو بیت المال میں داخل کر دوں گا۔ اس وقت قریش کی ایک عورت نے کہا اے امیر المومنین آیا اللہ کی کتاب پر عمل کرنا زیادہ حقدار ہے یا آپ کے حکم پر عمل کرنا ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا بلکہ اللہ کی کتاب پر عمل کرنا ‘ اس عورت نے کہا آپ نے ابھی عورتوں کا زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا ہے حالانکہ اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے : اگر تم نے کسی عورت کو قنطار (ڈھیروں مال) بھی دیا ہو تو اس سے واپس نہ لو ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہر شخص عمر سے زیادہ فقیہہ ہے آپ دو یا تین بار یہ فرما کر منبر سے نیچے اتر آئے اور فرمایا میں نے تم کو زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا تھا سنو اب جو شخص جتنا چاہے مہر رکھ سکتا ہے۔ (سنن سعید بن منصور ‘ رقم الحدیث : ٥٩٨‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٠٤٢٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٣٣‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٨٤) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

کہ امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص چار سو درہم سے زیادہ مہر نہ رکھے اور جب اس عورت نے قرآن مجید کی یہ آیت پیش کی تو آپ نے فرمایا اے اللہ مجھے معاف فرما ہر شخص کو عمر سے زیادہ قرآن کی سمجھ ہے ‘ اور زبیر بن بکار نے عبداللہ بن مصعب سے روایت کیا ہے کہ اس عورت کے اعتراض کے بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا مرد نے خطا کی اور عورت نے درست کیا۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٣٣) 

دوسری روایت کو حافظ ابن عبدالبرمتوفی ٤٦٣ ھ نے بھی عبداللہ بن مصعب سے روایت کیا ہے (جامع بیان العلم ج ١ ص ١٣١) 

حضرت عمر (رض) کے علم پر شیعہ کا اعتراض اور اس کا جواب : 

علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے اس حدیث کو امام ابویعلی کے حوالہ سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ شیعہ اس حدیث پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عمر کو اس مسئلہ کا بھی علم نہیں تھا تو وہ خلافت کے اہل کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ پھر انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس آیت میں یہ تصریح نہیں ہے کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے مثلا کوئی کہے کہ اگر فلاں شخص تمہارے بیٹے کو قتل کردے پھر بھی تم اس کو معاف کردینا اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ اس کو قتل کرنا جائز ہے اسی طرح یہاں فرمایا کہ اگر تم عورت کو قنطار دو پھر بھی اس سے واپس نہ لینا۔ اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ قنطار مہرباندھنا جائز ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں قنطار دینے کا ذکر ہے نہ یہ کہ قنطار بہ طور مہر دیا جائے اس لئے اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے اور خاوند کا عورت کو ہبہ کرکے واپس لینا صحیح نہیں ہے ‘ امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے بہتر عورت وہ ہے جس کا سب سے آسان مہر ہو ‘ حضرت عائشہ (رض) نے روایت کیا ہے کہ عورت کی سعادت یہ ہے کہ اس کا مہر سہل ہو۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٢٤٥) 

ہمارے نزدیک علامہ آلوسی کے یہ دونوں جواب صحیح نہیں ہیں کیونکہ اس حدیث کے مطابق حضرت عمر (رض) نے یہ تسلیم کرلیا تھا کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے اور اس عورت کی رائے کو صحیح اور اپنی رائے کو خطا قرار دے کر اس سے رجوع فرمالیا تھا اور یہ حضرت عمر (رض) کی للہیت اور بلند ہمتی کی دلیل ہے کہ بھرئے مجمع میں انہوں نے اپنی رائے سے رجوع فرما لیا۔ رہا شیعہ کا اعتراض تو اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کے لئے عالم کل ہونا لازم نہیں ہے ‘ امام بخاری نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی (رض) نے زندیقوں کو جلا دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو ان کو نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو اور میں ان زندیقوں کو قتل کردیتا ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کردو (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٩٢٢) 

امام حسین بن محمد بغوی متوفی ٥١٦ ھ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب حضرت علی (رض) کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا : ابن عباس (رض) نے سچ کہا۔ اور تمام اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا۔ (شرح السنۃ ج ٥ ص ٤٣١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے کوئی مسئلہ دریافت کیا آپ نے اس کا جواب دیا اس شخص نے کہا یہ مسئلہ اس طرح نہیں اس طرح ہے ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا تم نے درست کہا اور میں نے خطا کی ” وفوق کل ذی علم علیم “ اور ہر علم والے سے زیادہ علم والا ہے۔ (جامع البیان ج ١٣ ص ١٩‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

حافظ ابن عبد البر نے بھی اس اثر کو محمد بن کعب القرظی سے روایت کیا ہے (جامع العلم ج ١ ص ١٣١) 

ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ کسی ایک مسئلہ کا علم نہ ہونا خلافت کے منافی نہیں اور یہ حضرت علی (رض) کی عظمت ہے کہ انہوں نے حدیث کے سامنے ہونے کے بعد اپنے موقف سے رجوع فرما لیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 20

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.