وَ كَيۡفَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ وَقَدۡ اَفۡضٰى بَعۡضُكُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ وَّاَخَذۡنَ مِنۡكُمۡ مِّيۡثَاقًا غَلِيۡظًا‏- سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 21

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ كَيۡفَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ وَقَدۡ اَفۡضٰى بَعۡضُكُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ وَّاَخَذۡنَ مِنۡكُمۡ مِّيۡثَاقًا غَلِيۡظًا‏

ترجمہ:

اور تم اس مال کو کیونکر واپس لو گے جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ (خلوت میں) مل چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم اس مال کو کیونکر واپس لوگے ! جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ (خلوت میں) مل چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔ (النساء : ٢١ )

خلوت صحیحہ کی وجہ سے کامل مہر کے وجوب پر فقہاء احناف کے دلائل :

اس آیت میں زن وشو کے لئے افضاء کا لفظ استعمال فرمایا ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) ‘ مجاہد ‘ اور سدی سے یہ روایت ہے کہ اس سے مراد جماع ہے اور امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے کہ اس سے مراد جماع ہے اور اگر شوہر نے جماع نہ کیا ہو تو طلاق کے وقت عورت صرف نصف مہر لینے کی مستحق ہے خواہ ان کے درمیان خلوت صحیحہ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ زجاج کا بھی یہی مختار ہے ‘ اور افضاء کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ ہوچکی ہو اور یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے۔ 

فقیہ ابو اللیث نصربن محمد سمرقندی متوفی ٣٧٠ ھ روایت کرتے ہیں :

فرا نے کہا ہے کہ افضاء کا معنی یہ ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان خلوقت صحیحہ ہو ‘ خواہ جماع ہو یا نہ ہو ‘ اور اس سے پورا مہر واجب ہو ہوجاتا ہے کلبی نے کہا ہے کہ جب شوہر اور بیوی ایک بستر میں جمع ہوں تو پورا مہر واجب ہوجاتا ہے خواہ خاوند اس کے ساتھ جمع کرے یا نہ کرے ‘ زرارہ بن اوفی متوفی ٩٣ ھ نے بیان کیا ہے کہ خلفاء راشدین مہدیین نے یہ فیصلہ کیا کہ جس نے دروازہ بند کر کے پردہ ڈال دیا اس پر پورا مہر اور عورت پر عدت واجب ہوگئی (سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٢٥) اور مقاتل نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ افضاء کا معنی جماع ہے اور ہمارے علماء رحمہم اللہ نے یہ کہا ہے کہ جب خلوت صحیحہ ہوگئی تو پورا مہر اور عدت واجب ہوجائے گی خواہ جماع ہو یا نہ ہو۔ (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ٢٤٣۔ ٢٤٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ) 

اس کے بعد فرمایا حالانکہ وہ عورتیں تم سے میثاق غلیظ (پختہ عہد) لے چکی ہیں۔ اس کی تفسیر میں اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ قول ہے جو نکاح کرانے والے کہتے ہیں کہ ہم نے اس عورت سے تمہارا نکاح اس عہد و پیمان پر کیا ہے کہ تم اس عورت کو دستور کے مطابق رکھو گے یا حسن سلوک کے ساتھ چھوڑ دو گے ‘ اور ابو العالیہ نے کہا اس سے مراد یہ قول ہے کہ تم نے ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پر عقد میں لیا ہے اور اللہ کی اجازت سے تم نے ان کے جسموں کو اپنے اوپر حلال کرلیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 21

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.