درس 023: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

*درس 023: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَأَمَّا) النِّيَّةُ فَلَيْسَتْ مِنْ الشَّرَائِطِ

نیت وضو کی شرائط میں سے نہیں ہے۔

وَكَذَلِكَ التَّرْتِيبُ

اسی طرح ترتیب قائم رکھنا بھی وضو کی شرائط میں سے نہیں ہے۔

فَيَجُوزُ الْوُضُوءُ بِدُونِ النِّيَّةِ وَمُرَاعَاةُ التَّرْتِيبِ عِنْدنَا وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ مِنْ الشَّرَائِطِ لَا يَجُوزُ بِدُونِهِمَا

لہذا ہم احناف کے نزدیک نیت نہ کی اور ترتیب کا اہتمام نہیں کیا تب بھی وضو درست ہوجائے گا۔امام شافعی کے نزدیک مذکورہ دونوں چیزیں وضو کی شرائط میں سے ہے لہذا ان کے بغیر وضو نہیں ہوگا۔

وَكَذَلِكَ إيمَانُ الْمُتَوَضِّئِ لَيْسَ بِشَرْطٍ لِصِحَّةِ وُضُوئِهِ عِنْدَنَا فَيَجُوزُ وُضُوءُ الْكَافِرِ عِنْدَنَا

اسی طرح ہم احناف کے نزدیک وضو کرنے والے شخص کا مسلمان ہونا وضو درست ہونے کی شرط نہیں ہے، لہذا کافر کا وضو ہمارے نزدیک درست ہے۔

وَعِنْدَهُ شَرْطٌ، فَلَا يَجُوزُ وُضُوءُ الْكَافِرِ

امام شافعی کے نزدیک وضو کرنے والے کا مسلمان ہونا ضروری ہے، لہذا کافر کا وضو درست نہیں ہے۔

وَكَذَلِكَ الْمُوَالَاةُ لَيْسَتْ بِشَرْطٍ عِنْدَ عَامَّةِ الْمَشَايِخِ، وَعِنْدَ مَالِكٍ شَرْطٌ

اسی طرح اعضاء کا پے درپے (تسلسل کے ساتھ) دھونا اکثر علماء کے نزدیک شرط نہیں ہے، جبکہ امام مالک کے نزدیک شرط ہے۔

وَسَنَذْكُرُ هَذِهِ الْمَسَائِلَ عِنْدَ بَيَانِ سُنَنِ الْوُضُوءِ؛ لِأَنَّهَا مِنْ السُّنَنِ عِنْدَنَا لَا مِنْ الْفَرَائِضِ، فَكَانَ إلْحَاقُهَا بِفَصْلِ السُّنَنِ أَوْلَى.

ہم ان مسائل کی تفصیل وضو کی سنتوں کے بیان میں کریں گے، اسلئے کہ مذکورہ چیزیں ہمارے نزدیک سنت ہیں نہ کہ فرائض، لہذا بہتر یہی ہے کہ ان چیزوں کو سنتوں کے بیان میں تفصیلی ذکر کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

ارکانِ وضو کی شرائط ختم ہوئی، جس میں پانی سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اب وضو کی سنتوں سے پہلے کچھ اختلافی امور ذکر کئے ہیں، جو ہمارے نزدیک تو سنت ہیں مگر دیگر فقہی مذاہب میں شرط یا فرض کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ہم یہاں اس کا خلاصہ ذکر کردیتے ہیں؛

*حنفیوں* کے نزدیک وضو کے چارفرائض ہیں:

(1) چہرہ دھونا (2) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا (3) چوتھائی سر کا مسح کرنا (4) دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا

*مالکیوں* کے نزدیک وضو کے سات فرائض ہیں:

(1) نیت (2) چہرہ دھونا (2) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا (3) پورے سر کا مسح کرنا (4) دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا (6) پے درپے یعنی تسلسل کے ساتھ ایک کے بعد ایک عضو دھونا (7) تدلیک یعنی ملنا، اعضاء کو مل کر دھونا

*شافعیوں* کے نزدیک وضو کے چھ فرائض ہیں:

(1) نیت (2) چہرہ دھونا (3) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا (4)سر کے کچھ حصہ کا مسح کرنا (5) دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا (6) ترتیب

*حنبلیوں* کے نزدیک وضو کے چھ فرائض ہیں:

(1) چہرہ دھونا (کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا اسی فرض کا حصہ ہیں) (2) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا (3) پورے سر کا مسح کرنا (4) دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا (5) ترتیب (6) پے درپے یعنی تسلسل کے ساتھ ایک کے بعد ایک عضو دھونا

ہم نے یہ تفصیل *كتاب الفقه على المذاهب الأربعة* سے اخذ کی ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ علامہ کاسانی نے نیت، ترتیب وغیرہ کو شرائط میں ذکر کیا ہے۔۔ شرط اور فرض میں معنوی فرق ہے، شرط عمل سے پہلے پائی جاتی ہے جبکہ فرض عمل کے دوران۔ لیکن نتیجہ دونوں کا یکساں ہے کہ ان کے بغیر عمل کا وجود کالعدم قرار پاتا ہے یعنی وہ عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسی لئے علامہ کاسانی نے آگے جا کر لکھا ہے کہ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ هِيَ فَرِيضَةٌ یعنی نیت امام شافعی کے نزدیک فرض ہے۔

لہذا ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

کافر کا وضو درست ہے یا نہیں ۔۔۔؟ اس سمیت بہت سی مفید ابحاث اگلے درس میں ملاحظہ فرمائیں۔

*ابو محمد عارفین القادری*

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.