سؤال:

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کے عیسائیوں کے ساتھ 628ھ میں ہونے والے جو معاہدہ کی بات کی ہے أس کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے ؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی) :

الحمد للہ رب العالمین ، والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء وأفضل المرسلین وأکرم العباد وعلی آله وصحبه ومن تبعھم بإحسان إلى يوم الدين ،

وبعد:

محترم !

قبل إسکے کہ میں أپنے جواب کی طرف آؤں تین باتوں کی وضاحت سپرد قلم کرنا چاہتا ہوں:

پہلی بات:

چیف جسٹس نے 628ھ کا نام لیا تو یہ شائد أنکی سبق لسانی ہے ، شائد کہ أنہوں نے 628 عیسوی کہنا تھا أور ہجری کہ بیٹھے کیونکہ ہجرت کے وقت سن عیسوی 622 تھا أور إس معاہدہ کا ذکر یا تو دوسری سن ہجری یعنی 623 میلادی یا پھر چوتھی سن ہجری 625 میلادی کے طور پہ ملتا ہے ، یا پھر یہ چیف جسٹس صاحب کی عدم معرفت پر دلالت ہے کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا ظاہری وصال مبارکہ تو گیارھویں ہجری میں ہوچکا تھا .

دوسری بات:

چیف جسٹس صاحب!

آپکو یاد ہوگا کہ جب مریم نواز شریف صاحبہ نے إیک لیٹر پیش کیا تھا سپریم کورٹ میں تو آپ لوگوں نے أسکی رائٹنگ کی بناء پہ ریجیکٹ کیا تو آپکو میں بتاتا چلوں یہ منہج ہمارے أسلاف کا بھی تھا کہ جب بھی وہ کسی کا لکھا ہوا نسخہ دیکھتے تو أسکو ہر طرح سے پرکھتے تاکہ أسکے ثبوت یا عدم ثبوت کا قول کیا جائے حتی کہ رائٹنگ کی بناء پہ بھی وہ بہت سے نسخوں کو رد کرتے کتب أصول حدیث أور شروحات حدیث میں مقارنۃ بین النسخ کے تحت إسکی بحثیں ملتی ہیں تو یہی إس معاہدے کے ساتھ بھی ہوا جو ہم عنقریب بیان کریں گے بإذن اللہ.

تیسری بات:

عوام إس بات کا خیال رکھے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم أور قرآن نے ہمیں غیر مسلموں کے ساتھ أچھا سلوک و تعاون کرنے کا حکم دیا ہے جب تک وہ أچھا سلوک و تعاون کریں گے أور إسلامی ریاست کے أصولوں کو فالوں کریں گے ، أور دین إسلامی کے ساتھ کسی بھی قسم کے استہزاء و تحقیر سے اجتناب کریں گے ، أور إسی طرح أنکی عبادت گاہوں کی حفاظت بھی إسلامی ریاست کی زمہ داری ہوتی ہے یہ قرآن کی آیت و سیرت نبوی و خلفاء راشدین کے معاہدات سے واضح ہے.

محترم أب میں آپکے سؤال کے جواب کی طرف آتا ہوں:

یہودیوں أور عیسائیوں نے ہمیشہ إس معاہدے کو أپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا ، أور یہ معاہدہ أنکی خود ساختہ اختراع تھی أور أیسا کوئی معاہدہ حضور صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں ،

إس کے من گھڑت و جھوٹے ہونے پہ دلیل خود إس معاہدے کے نسخوں میں فرق ، أور جن سے حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ معاہدہ لکھوایا أن میں فرق أور جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین کے إس معاہدے کی گواہی میں شریک ہونے کا ذکر ہے أنکے زمانہ إسلام میں فرق ہی اس معاہدے کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے جسکا مفصل بیان کچھ سطور کے بعد مسطور ہوگا .

سب سے پہلے یہ معاہدہ کب ظاہر ہوا أور کس نے پیش کیا؟

سب سے پہلے امام خطیب بغدادی کے زمانے میں یہ معاہدہ بغداد کے یہودیوں نے سازش کرتے ہوئے پیش کیا تھا حاکم وقت کو جزیہ سے بچنے کے لیے جسکا بیان آگے آرہا ہے پھر بعد کے نصاری نے إسکو پیش کرنا شروع کردیا یہی وجہ ہے نسخوں میں اختلاف فاحش ہے.

معاہدے کے جھوٹے ہونے پر دلائل اور أئمہ کی تصریحات:

پہلی دلیل:

نسخوں کے ألفاظ أور کاتب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں فرق و اختلاف جسکی وضاحت أستاذ حسن محمد قاسم نے أپنے مقال میں کی جو مجلۃ إسلام ، عدد نمبر: 45 أور دوسری جلد میں شائع ہوا تھا ، جسکو سابق مفتی جمہوریہ مصر عطیۃ صقر نے بھی أپنے إیک سؤال کے جواب میں إس معاہدے کے باطل و جھوٹا ہونے پہ استاذ حسن محمد قاسم کے کلام کو نقل کیا ، أور أنکا یہ فتوی فتاوی دار الافتاء المصریہ جو شاملہ میں موجود ہے أس میں ذکر ہے ،

پھر إس کے صحیح نہ ہونے پہ مفصل کلام حمید اللہ نے أپنی کتاب ( المجموعۃ الوثائق السیاسیۃ للعھد النبوی والخلافۃ الراشدہ ) کے صفحہ نمبر: 553 سے 566 تک کیا ہے أور إس میں انہوں نے أحمد زکی باشا المصری کا کلام نقل کیا ہے ،

أور إسکے لکھنے والوں میں حضرت معاویہ بن أبی سفیان رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے کہ أنہوں نے چوتھی ہجری میں لکھا حضور صلی الله علیہ وسلم کے فرمانے سے أور دوسرے نسخۃ میں ہے کہ دوسری ہجری میں لکھا أور تیسرے نسخۃ میں ہے کہ مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کے فرمانے سے دوسری ہجری میں لکھا ،

أب آپ خود غور فرمائیں کہ کیا دوسری یا چوتھی ہجری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا تھا؟

نہیں ، بلکہ أنہوں نے فتح مکہ کے بعد إسلام قبول کیا تو لہذا یہ إس معاہدے کے باطل ہونے کی دلیل ہے.

دوسری دلیل:

یہ معاہدہ دیگر صحیح و ثابت شدہ نصوص کے خلاف ہے جیسے إس میں جزیۃ کے ساقط ہونے کا ذکر ہے وغيره وغيره

تیسری دلیل:

بغداد میں جو وزہر أعظم تھا ، أس نے خطباء و واعظین پہ یہ شرط لگائی تھی کہ وہ کوئی بھی حدیث أس وقت تک بیان نہ کریں جب تک أسکی تصحیح إمام خطیب بغدادی سے نہ کروالیں ، تو بعض یہودی یہ معاہدہ نکال کے لے آئے جسکا ذکر چیف جسٹس صاحب نے کیا ہے أور انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے خط سے لکھا ہوا ہے ، تو أس وزیراعظم نے وہ معاہدہ إمام خطیب بغدادی کے پاس پیش کیا کہ چیک کریں کیا یہ صحیح ہے یا غلط ؟

آپ نے أس کے بارے میں چانچ پڑتال کرنے کے بعد فرمایا:

ھذا مزور / یہ جھوٹا معاہدہ گڑھا گیا ہے ،

تو أن سے کہا گیا کہ آپ کے پاس اس کے جھوٹے ہونے کی کیا دلیل ہے؟

خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے جواب دیا:

إس معاہدے میں جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین کی گواہی کا ذکر ہے أن میں حضرت معاویہ بن ابي سفیان رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر ہے أور أنہوں نے فتح مکہ کے سال إسلام قبول کیا ، أور خیبر ساتویں سال فتح ہوا ( یعنی فتح مکہ سے پہلے) ،

أور پھر إس معاہدے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی گواہی کا بھی ذکر ہے أور بنی قریظہ والے دن ( خندق والے دن) فوت ہوگئے أور یہ خیبر سے دو سال پہلے کا دن ہے ، تو وزیر اعظم نے آپ کی دلیل کو تسلیم کیا أور أس معاہدہ میں جو کچھ تھا أن أحکام کو نافذ نہیں کیا یعنی أس معاہدے کو قبول نہیں کیا.

( تاريخ الإسلام للذهبي متوفى748ھ، ترجمه : الخطيب البغدادي ، 10/175 )

تو چیف جسٹس صاحب آپ کیسے أسکو قبول کرسکتے ہیں؟

چوتھی دلیل:

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

یہ معاہدہ باطل ہے ، ہمارے أصحاب ( حنابلہ) أور دوسروں نے بھی إسکے جھوٹے ہونے کو ذکر کیا جیسے قاضی ( جج) أبو العباس بن سریج ، قاضی ابن أبی یعلی قاضی ماوردی ، أور إسکے جھوٹے ہونے پہ إجماع ذکر کیا ہے ،

پھر ابن سریج کہتے ہیں:

یہودیوں کی إیک جماعت 701 ھ میں یہ معاہدہ لے کر میرے پاس آئی أور جزیہ ساقط کرنے کا مطالبہ کیا تو جب مینے أس معاہدے کو دیکھا تو وہ معاہدہ کئ دلائل سے جھوٹا ثابت ہوا .

( الفتاوی الکبری لابن تیمیۃ متوفی 728 ھ ، باب عقد الذمہ وأخذ الجزیۃ ، 5/543 )

أور ابن تیمیہ نے إسکے بطلان کو أپنی کتاب ( الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح ) جلد:3 أور صفحہ: 45 پہ بھی ذکر کیا ہے.

چیف جسٹس صاحب ! إتنے ججز إس معاہدے کو إنصاف کی کرسی پر بیٹھ کر باطل کہ چکے ہیں أور آپ إسکو بطور دلیل صحیح مان رہے ہیں.

پانچویں دلیل:

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے إس معاہدے کے جھوٹے ہونے پر دس دلائل دیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

نمبر 1 : علماء نقل و سیر و مغازی نے إسکا ذکر نہیں کیا حالانکہ أنہوں نے تو أیسی چیزیں بیان کرنے کا بھی اہتمام کیا جو إس بھی کم أہم تھیں.

نمبر 2 : جزیۃ والی آیت خیبر کی فتح کے بعد نازل ہوئی ہے تو پھر خیبر کے وقت جزیۃ ساقط ہونے کا ذکر کہاں سے آگیا؟

نمبر 3 : حضرت معاویہ بن أبي سفیان کا گواہوں میں ذکر ہونا إس معاہدے کے جھوٹے ہونے کو ثابت کرتا ہے کیونکہ وہ تو أس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین میں أنکا نام کیسے شامل ہے؟

نمبر 4 : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ خندق والے دن فوت ھوگے جو کہ خیبر سے پہلے واقعہ ہوا تھا تو پھر خیبر کے وقت لکھے جانے والے معاہدے میں وہ شامل کیسے ہوگے؟

نمبر 5: حضور صلی الله علیہ وسلم کے دور میں أہل خیبر پہ کوئی جزیۃ نہیں تھا تو پھر ساقط کرنے کا معاہدہ کیسے ہوگیا؟

نمبر 6: أہل خیبر تو بہت بڑے دشمن تھے أور عداوت رکھنے والے تھے حضور صلی الله علیہ وسلم سے تو کفار کے علاوہ أنکے ساتھ اتنی بھلائی کیسے؟

نمبر 7 : یہ نسخۃ پہ لکھا ہوا ہے کہ یہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لکھا گیا ہے ںیہ جھوٹ ہے کیونکہ مولا علی رضی اللہ عنہ کی عداوت جو یہودیوں کے ساتھ تھی وہی اسکے جھوٹ ہونے پر دلیل ہے.

نمبر 8: یہ نسخۃ صرف یہود کے بتانے سے معلوم ہوا ہے تو یہودیوں کی بات کیسے مان لیں خاص أس وقت جب کسی أور نے إسکو نقل ہی نہیں کیا أور یہودی سب سے ںڑے جھوٹے لوگ ہیں.

نمبر 9 : أگر یہ معاہدہ صحیح تھا تو خلفائے راشدین کے زمانے میں سامنے کیوں نہیں آیا أور دیگر خلفاء کے جنہوں نے یہودیوں سے جزیۃ لیا.

نمبر 10 : محدثین نے إس معاہدے کے جھوٹے ہونے پہ گواہی دی جیسے کہ خطیب بغدادی نے فرمایا : ھذا الکتاب زور / یہ کتاب ( معاہدہ) جھوٹا ہے.

( أحکام أہل الذمۃ لابن قیم متوفی: 751 ھ، ادعاء یہود خیبر إسقاط الجزیۃ عنھم ورد ذلک ، 1/94 )

چیف جسٹس صاحب! آپکو تو جرح کا بہت شوق ہے تو پھر إس معاہدے پہ جرح کرنا کیسے بھول گے؟

چھٹی دلیل:

درج ذیل أئمہ نے بھی إس معاہدے کو جھوٹا کہا:

-أبو الحسین الیمنی الشافعی متوفی: 558ھ نے أپنی کتاب ” البیان فی مذھب الإمام الشافعي ، جلد: 12 ، ص: 275 .

-إمام نووی الشافعی متوفی: 676 ھ نے أپنی کتاب ” روضة الطالبين وعمدة المفتين ” جلد: 10 ، ص: 367 پہ.

-إمام خطیب الشربینی الشافعی متوفی: 977ھ نے أپنی کتاب” مغنی المحتاج إلى معرفة ألفاظ المنهاج ” جلد: 6 ، ص : 63 .

-إمام ابن قدامہ الحنبلی متوفی: 620ھ نے أپنی کتاب ” المغنی ” جلد: 9 ، ص: 363 .

-إمام أبو الفرج شمس الدین الحنبلی متوفی: 628ھ نے أپنی کتاب ” الشرح الکبیر علی متن المقنع ” جلد: 10 ، ص: 610 ،

أور دیگر أئمۂ حنابلہ نے بھی إسکے جھوٹے ہونے کی تصریح فرمائی ہے.

-ابن جوزی متوفی: 597ھ نے أپنی کتاب ” المنتظم ” خطیب بغدادی کے ترجمہ میں ، أور ابن کثیر نے أپنی کتاب ” البدایہ والنہایہ ” میں أور دیگر مؤرخین نے بھی اسکے باطل ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔ رحمهم الله جميعا-

محترم چیف جسٹس صاحب!

یہ مینے تقریبا چودہ أئمہ کی تصریحات کا ذکر کیا أور یہ سب متقدمین ہے سوائے شیخ حمید اللہ کے أور مینے ساتھ سن وصال بھی لکھ دیا ہے تاکہ آپ پہ واضح ہوجائے کہ یہ تمام متقدمین أئمہ اس معاہدے کو جھوٹا أور باطل کہ چکے ہیں أور یہودیوں کی سازش ۔

تو حیرت ہے إیک گستاخہ کو بچانے کے لیے اتنی جرح أور معاہدے پر جرح ہی نہیں تو إسکو میں کیا نام دوں؟؟؟

وصلی اللہ تعالیٰ علی رسول خیر خلقه سيدنا محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين .