فتویٰ امانت ہے، اسے سیاست کی نذر نہ کریں

فتویٰ امانت ہے، اسے سیاست کی نذر نہ کریں

از: افتخار الحسن رضوی

دکھ اور کرب کی بات یہ ہے کہ ہماری مذہبی قائدین سیاسی اختلافات کی اۤڑ اور تعصب میں فتوے دیتے ہیں، ان کے معتقدین ان فتاوٰی کو حکم قطعی مان کر میدان میں اترتے ہیں اور جن لوگوں کے خلاف فتوے دیے جاتے ہیں انہیں کافر، گستاخ اور بد مذہب سمجھتے ہیں۔ ماضی قریب میں بلاول بھٹو، سید مراد علی شاہ، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور عمران خان کے خلاف ہمارے مذہبی علماء نے فتوے دے (تحریری و تقریری)۔ لیکن ہر نئی صبح کے ساتھ یہ فتوے ردی کی ٹوکری میں گئے۔ عمران خان صادق و امین بن چکا ہے، پنجاب کے وزیر اعلٰی کی پیر سیالوی صاحب سے ملاقات کے بعد رانا ثناء اللہ اب حاجی ثناء اللہ بن چکا ہے۔

ہمارے مفتی، علماء، خطباء اور پیر صاحبان کب تک عوام کے ساتھ کھلواڑ کریں گے؟ یہ لوگ کب تک شریعت کا تمسخر اڑائیں گے؟ کیا یہ لوگ فتوٰی دینے کے اہل ہیں؟ یہ کس حیثیت سے فتوٰی دیتے ہیں؟ کیا ان کی عقلیں، دماغ اور ذہنی صحت اتنی اچھی ہے کہ یہ فتوے دیں؟

حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ایک سو بیس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس حالت میں پایا کہ ان میں سے کوئ محدث ہوتا تو اس کی کوشش ہوتی کہ ان کی بجائے کوئی اور بھائی حدیث بیان کر دے، اور مفتی کی یہ خواہش ہوتی کہ کوئی دوسرا مفتی ان کی جگہ فتویٰ دے۔ یہ ان لوگوں کی احتیاط تھی جنہوں نے براہ راست رسول اللہ ﷺ سے تعلیم حاصل کی، یہ لوگ حضور کی مجلس و صحبت میں رہے۔ اۤج کے مولوی و مفتی اور پیر و شیخ اس قدر بے دریغی سے کیوں کام لیتے ہیں؟

امام ابن سیرین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں؛

"فتوٰی دینا صرف تین لوگوں کا کام ہے، وہ شخص جو قراۤن کے ناسخ و منسوخ کا علم رکھتا ہو، امیر جس کو فتوٰی دیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، یا حمق تکلف کرنے والا۔

پھر امام ابن سیرین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میں پہلے دو میں سے تو ہوسکتا ہوں لیکن تیسرا نہیں بن سکتا۔

اۤج کے سیاسی میدان میں سیاسی اختلافات کی اۤڑ میں فتوی فتوی کھیلنے والے یہ مولوی اسی تیسری کیٹیگری میں اۤتے ہیں۔ (الا ما شاء اللہ)۔

عوام الناس کو چاہیے کہ ایسے پیروں ، مولویوں اور مفتیوں کے ساتھ سختی سے پیش اۤئیں اور ان کا ہر اعتبار سے بائیکاٹ کریں۔ یہ مسلک، مذہب اور دین کے بیوپاری بن کر اسلام و مسلمین کی تضحیک و تذلیل کا سبب بنتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے یہ سلسلہ بھی چل نکلا ہے کہ فلاں جماعت کے ایک سو تیس، فلاں بورڈ کے پچاس، فلاں جماعت کے پانچ سو مفتیوں نے فلاں جماعت، فلاں حکومت کے خلاف اجتماعی فتوٰی جاری کر دیا۔ ان میں سے ایک خاص تعداد ان مفتیوں کی ہی ہوتی ہے جو نکاح پڑھانے کی فیس پر مسجد انتظامیہ سے لڑتے ہوئے بے روزگار ہو کر گھر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر لاری اڈے پر "مرنڈا” یا دال سویاں بیچتے نظر اۤتے ہیں۔ (کسی کی تضحیک مقصود نہیں، مثال دے رہا ہوں کہ یہ عقل کے اس قدر کمزور لوگ ہوتے ہیں)۔

عالم، مفتی اور پیر کو اپنا گھر مضبوط کرنا چاہیے، کوئی بھی رائے دینے سے قبل صد بار سوچے، سمجھے اور پھر بولے، فتویٰ حکم شریعت ہوتا ہے، یہ ایک امانت ہے اور اس کے اجراء میں صداقت و امانت دونوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔ فتوٰی اللہ عزوجل اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی رضا کے لیے دیا جائے ، لوگوں کی اصلاح کے لیے دیا جائے نہ کہ سیاسی و مالی مقاصد کے لیے۔ یاد رکھیں مسند افتاء ایک امانت ہے اور اس امانت میں خیانت کرنے والا بد ترین انسان ہے۔

ایسی صورتِ حال میں وہ علماء جو امت میں انتشار و افتراق سے محفوظ رہیں، یا اس مقدس منصب کا خیال رکھتے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.