کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟

کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟

تحریر: ابوسعد محمد انعام المصطفیٰ اعظمی

ہمیشہ سے اہل باطل کا پرانا طریقۂ واردات رہا ہے جنہوں نے اپنے مذموم مقاصد کو جامہ پہنانے اور اپنے موقف کی تائید میں روایتیں گھڑنے اور اپنی رائے کو ثابت کرنے کے لیے بہت سی من گھڑت باتیں بنام احادیث گھڑیں اور پھر خم ٹھونک کر انہیں اپنے تئیں سند جواز فراہم کیا اور کفر و شرک کے گرگوں سے واہ واہ اور داد و تحسین وصول کی.

جسٹس کھوسہ صاحب نے بھی ایک ایسی خیانت کا ارتکاب کیا اور کھوٹے سکے کو رگڑ کر پالش کرکے اسے چمکانے کی کوشش کی اور جن لوگوں نے اپنی آسمانی کتاب انجیل کو بھی خیانت سے محفوظ نہ رکھا اپنے انہی کرم فرماؤں سے ایک من گھڑت روایت بشکل معاہدہ سینے سے لگائے عاصیہ مسیح کو بچانے کے لیے پُرعزم اور سیکولرز لبرلز اور تحفظ ناموس رسالتﷺ کے مخالفین کے لیے دفاعی اور وضاحتی پوزیشن سنبھالے نظر آئے اور اس من گھڑت روایت کو بنیاد بناتے ہوئے تبصرہ کیا کہ آسیہ کیس میں اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے.

حالانکہ اس جعلساز معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں کہ اگر کوئی عیسائی شان اقدس میں گستاخی اور توہین کرے گا تو اس کو معاف کردیا جائے گا اور اسی بات کو ثابت کرنے کے لیے جسٹس صاحب نے اپنی تمام توانائی خرچ کی مگر من گھڑت واقعہ سے کچھ بھی ثابت نہ کرسکے.

آئیے اور ان سطور میں ایک نظر جسٹس صاحب کی پیش کردہ روایت کے من گھڑت ہونے پر ڈالتے ہیں.

اس کا پس منظر یہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے خدمت گزار سلطان سلیم خان نے جب مصر فتح کیا تو سینا کے پادریوں نے انہیں رسول اللہﷺ کی جانب سے عیسائیوں کے ساتھ کیا گیا ایک معاہدہ پیش کیا جو کہ تحریر کے ساتھ منسلک ہے.

۱- خود عیسائیوں کے مابین اس معاہدہ کے بارے میں شدید اختلافات قائم ہیں.

۲- اس کے من گھڑت ہونے کو یہی بات کافی ہے کہ اس معاہدہ کی آخری سے چھٹی لائن میں معاہدہ کی تاریخ *ثانی سنۃ الھجرۃ النبویہ* یعنی ۲ سن ھجری درج ہے جبکہ سن ھجری کا آغاز رسول اللہﷺ کے وصال باکمال فرماجانے کے بعد ہوا.

۳- معاہدہ کے گواہوں میں حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کا نام بھی شامل ہے جبکہ تمام مستند کتب کے مطابق آپ کا اسلام لانا 7 ھجری میں ثابت ہے.

۴- کسی بھی معتبر و مستند حدیث یا تاریخ کی کتب میں ایسے کسی معاہدے کا ذکر شامل نہیں ہے.

۵- رسم الخط غمازی کررہا ہے کہ انداز تحریر دورِ نبویﷺ کا ہرگز نہیں.

۶- گواہوں میں دیگر غیر معروف اسماء صحابہ کرام رضی اللّٰه تعالیٰ عنہم اجمعین کے ظاہر کیے گئے ہیں مثلاً معظم بن قریش اور عبدالعظیم بن حسن،

ان ناموں کو میں نے بہت تلاش کیا اور گوگل میں سرچ کیا مگر ان ناموں کے کوئی صحابی تو نہ ملے البتہ ان ناموں کے روافض کے احبار ضرور مل گئے.

بہرحال یہ معاہدہ سراسر کذب و بہتان کی سراسمیگی پھیلاتا ہوا طوفان ہے جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے.

تعجب تو مجھے لائق و فائق مسند پر براجمان کوتاہ نظر جسٹس کہلانے والوں پر ہے جنہیں قطری خط کے تضادات نظر آگئے مگر اس من گھڑت معاہدے کے تضاد کو مدنظر رکھنے میں ان کی آنکھیں چندھیا گئیں،

جو کسی کی گردن ناپنے پر آئیں تو اس کے دستار کی ہر تار کو تحقیق و جستجو کا رگڑا لگاکر تار تار کردیں اور جعلی ڈگری سمیت جعلی معاہدوں پر سزائیں نافذ کردیں مگر اس مقام پر خود جج صاحب جعلسازی کرتے ہوئے ملعونہ عاصیہ کو بچانے کی فکر میں اس قدر مستعد نظر آئے کہ اپنے شعبہ کی حساسیت کا علم ہوتے ہوئے اتنا بھی احساس ان کے دل میں پیدا نہ ہوسکا کہ اس من گھڑت و جعلی روایت کو بیان کرنے سے پہلے پورا اطمینان حاصل کرلیتے کہ یہ حدیث معتبر سند سے ثابت ہے یا ان کی ڈگری کی طرح یہ بھی جعلی ہے.

حالانکہ *جسٹس کھوسہ صاحب کے یہ الفاظ عاصیہ مسیح کیس میں درج ہیں کہ "آسیہ بی بی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور حضرت محمد ﷺ کے نام پر سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ کرنا بھی توہین رسالت سے کم نہیں ہے”*

لہٰذا آپ اپنے دام میں صیاد آگیا کے مصداق جسٹس صاحب خود توہین رسالتﷺ کیس میں سچے رسولﷺ کے نام پر بدترین جھوٹ کو پروان چڑھاتے ہوئے اس سولی پر لٹک چکے ہیں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں انہیں لٹکایا جائے گا یا آخرت میں اس کا فیصلہ احکم الحاکمین کے قلم نے لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے.

جج صاحب! آپ نے تو اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لیے ایک من گھڑت بات پیش کی مگر میں آپ کو سچے رسولﷺ کی سچی حدیث سناتا ہوں تاکہ پیارے اور سچے محمدﷺ کے نام پر آپ نے جس جھوٹ کو ایک مجرمہ کو مکرمہ ثابت کرنے کے لیے گھڑا ہے اس جرم کی شناعت سے آپ مطلع ہوجائیں.

"جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے”(صحیح بخاری)

لہٰذا پہلے اپنے وجود سے لپٹی آگ کی فکر کیجیے جو عاصیہ ملعونہ کو بچانے کی فکر میں آپ خود کو لگاچکے ہیں.

آپ اس منصب پر بیٹھ کر جھوٹی بات گھڑ کر اس منصب کی توہین کے مرتکب ہوئے اور اُمت میں رطب و یابس پھیلا کر شریعت کو مسخ کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر اسلام و مسلمانوں سے معافی مانگیے.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.