گئوماتا”: سمّان سے اپمان تک, ایک جائزہ

*”گئوماتا”: سمّان سے اپمان تک, ایک جائزہ*

گئو بھکتوں کے "گئوپریم” کی نقاب کشائی پر مبنی ایک تحقیقی رپورٹ

غلام مصطفےٰ نعیمی

مدیراعلیٰ سواداعظم دہلی gmnaimi@gmail.com

کس نے سوچاتھا کہ "گئوماتا‘”کے سمّان کے نام پرآسمان سر پراٹھانے والے گئوبھکتوں کے چہرے اتنی جلدی بے نقاب ہوجائیں گے۔جس گائے کو "ماتا”جیسے مقدس لفظ سے یاد کیا جاتاہے اسی ماتاکو”آوارہ جانور”کہہ کر اس کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔بے دردی سے ماراپیٹا جائے گا اوراسے بھوکا پیاسا رکھ کرسرکاری اسکولوں،اسپتالوں میں بند کیا جائے گا؟؟

لیکن !ایسا ہوا !!

گئوماتاکےبھکتوں نے بے حسی اور طوطا چشمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گائے جیسی سیدھی مخلوق پر "آوارہ جانور” کہہ کر لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر”ماتا”کے تقدس کوخوب پامال کیا۔ اورحکومت سے گزارش کی کہ اس گائے سے انہیں نجات دلائی جائے اور اس کو آبادیوں سے نکال کر کہیں اور بند کردیا جائے۔

*گایوں کی بدحالی*

ان دنوں پورے ملک کے کئی حصوں میں سڑکوں پر "آوارہ” گھومنے والے گئو وَنش[گائے واہل خانہ]سے دکان دار،کسان اور راہگیر سخت پریشان ہیں۔جہاں دیکھو گایوں کا جھنڈ کا جھنڈ گھومتا نظر آرہا ہے ۔جو کسی بھی دکان میں گھس جاتے ہیں،کسی کی سبزی کھا جاتے ہیں،کسی کاکھیت چر جاتے ہیں ۔اسی سے پریشان ہوکرگئو بھکت اب اپنی ہی ماتا کے خلاف مورچہ کھول چکے ہیں۔پچھلے دنوں ABP نیوز چینل نے گایوں پر ایک خصوصی پروگرام نشرکیا۔جس میں بتایاگیا کہ ملک کے مختلف شہروں میں "آوارہ جانوروں”

[گائے واہل خانہ]کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔جس سے ناراض ہوکر لوگوں نے انہیں مارپیٹ کرسرکاری اسکولوں میں بندکردیاہے۔چندنمایاں شہروں میں علی گڈھ، فیروزآباد، متھرا،اٹاوہ،کانپور،ہاتھ رس، بلندشہر،آگرہ،فتح پور،لکھنؤ،امیٹھی وغیرہ شامل ہیں۔مختصر تفصیل درج ذیل ہے:

🔹 علی گڈھ میں ہی محض دودن میں[یکم جنوری 2019 سے دو جنوری تک]78 گائیں مرگئیں۔

علی گڈھ کے گاؤں "جَٹاری” کی شیام پروشوتم(श्याम पुरुषोत्तम) گوشالہ کے سیکریٹری "شِودَتّ شرما” نے بتایا کہ ان گایوں کی موت بیماری کی وجہ سے ہوئی ۔

🔹 متھرا میں کسانوں نے 150 گایوں کو مارپیٹ کر اسکو ل میں بندکردیا ،بھوک پیاس کی وجہ سے 6 گائیں مرگئیں۔

گرام پردھان اور تحصیل افسر نے کنفرم کیا کہ گایوں کی موت بھوک پیاس کی وجہ سے ہوئی لیکن کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔

🔹 کانپور ضلع کے بدھونا قصبے کے "نَگوا” میں گاؤں والوں نے 50 گایوں کومار پیٹ کر سرکاری اسکول میں بندکردیا۔اطلاع ملنے پر پولیس نے پہنچ کر تالا کھولنا چاہا تاکہ گایوں کو آزادکیا جاسکے لیکن گاؤں والوں نے گایوں کو آزاد کرنے کی مخالفت کی جس کی وجہ سے انہوں پولیس پر حملہ کردیا۔

چوکی انچارج "اِندر پرکاش” کی بائک توڑ دی،سپاہی کملیش،اوم ویر زخمی ہوگئے۔جان بچانے کے لئے یہ تینوں ہی اسکول میں چھپ گئے اور کنٹرول روم کو خبردی.

بعدہ جب پانچ تھانوں کی پولیس فورس پہنچی تب جاکر ان پولیس والوں کی جان بچی اور گایوں کو آزاد کیاگیا۔

🔹 امیٹھی میں کسانوں کا کہنا ہے کہ گایوں نے ہماری فصلوں کو بربادکردیاہے۔ایک ایک کھیت میں 20/20 جانوروں کاجھنڈ گھستا ہے اور ساری فصل کھاجاتاہے اس لئے ہمیں مجبورہوکر رات رات بھر پہرہ دینا پڑتاہے۔

🔹 الہ آباد کے شنکرگڈھ [بھداوا گائوں] میں لوگوں نے گایوں کو مارپیٹ کر سرکاری اسکول میں بند کردیا جس کی وجہ سے طلبہ کو باہر سڑک پر پڑھنا پڑا۔بعد میں پولیس نے آکر سختی کی اور گایوں کو نکال کر اسکول کی صفائی کرا کر تعلیم شروع کرائی لیکن ٹیچرز اور طلبہ کا کہنا ہے کہ گایوں کی وجہ سے اسکول میں بدبو پھیل گئی ہے اور پڑھنا دشوار ہورہا ہے۔

*گایوں کو جیل*

اب تک تو گوبھکت "گئوماتا”کو اسکولوں میں ہی بندکر رہے تھے لیکن 16 جنوری 2019 کو یوپی حکومت کا ایک نیا فرمان آیا کہ سڑکوں پر گھومنے والی گایوں کو جیل بھیج دیا جائے اور جیل کی زمین پر ہی ان کے کھانے پینے کا بندوبست کیا جائے۔لکھنؤ کمشنر انِل گرگ نے تمام کمشنریوں کو حکم دیا ہے کہ 31 جنوری تک تمام ضلع کی جیلوں میں "گئو سیوا کیندر”(गऊ सेवा केंद्र)قائم کئے جائیں۔اس حکم نامہ کی رو سے گایوں کو جیل میں رکھا جائے گا۔

آج تک نیوز چینل کی خبرکے مطابق "گئو رکھشک”کسانوں کی اس پریشانی کی آڑ میں جم کر منافع بنارہے ہیں۔

18 جنوری کی خبرکے مطابق باغپت میں "گئو رکھشک” ایک گائے کو گوشالہ پہنچانے کے عوض میں کسانوں سے پانچ سے چھ ہزار کی رقم اینٹھ رہے ہیں۔

*گایوں کی داستان غم*

"گوبھکتوں” کی حکومت سازی کے بعد گائے کو لگا ہوگا کہ شاید اب جابجا میری پوجا کی جائے گی،ہر گھر میں میرے لئے عمدہ قسم کے کھانے تیارہوں گے،صبح صبح لوگ میرا آشیرواد لیکر کام پر جائیں گے.اور یہ امیدیں بجا بھی تھیں کہ ہر گلی کوچے میں بھکت یہ شعر پڑھتے گھومتے تھے:

جن کے نہیں ہیں نام, ان کے نام بنیں گے

گھر گاؤں شہر مُرلی دَھر کے دھام بنیں گے

برہمانڈ کے سب دیوتا گئو میں سمائے ہیں

تم گائے پال لینا,تمہارے سب کام بنیں گے

اس عقیدت کو دیکھ کر "گئوماتا” کی امیدیں درجہ یقین میں تھیں مگر افسوس!! "گئوماتا”کی امیدیں پانی کے بلبلے سے بھی زیادہ کمزور نکلیں۔بھکتوں نے "ماتاجی” کے نام پر صرف اپنی تجوریاں بھریں۔

سیاسی بھکتوں نے”گئوشالہ” کے نام پر حکومت سے رقمیں حاصل کیں جبکہ دوسرے نمبر کے بھکتوں نے گایوں کا دودھ نکالا اور انہیں چرنے کے لئے سڑکوں پر چھوڑ دیا۔بھوک سے بے حال "گئوماتا” نے کسی دوکان پر چاول میں منہ ڈال دیا تو گوبھکت دکاندار ڈنڈے سے ماتا کا سواگت کرتا ہے۔سڑکوں اور دکانوں سے مایوس ہو کر ماتاجی کھیتوں کی جانب نکل پڑتی ہیں لیکن جیسے ہی کسی کھیت میں چرنے کے لئے منہ ڈالا فوراً ہی کئی سارے "گئوبھکت” لاٹھی ڈنڈوں سے لیس ہوکر سامنے آتے ہیں اور ماتا جی کی طبیعت سے دھلائی کرتے ہیں۔پورا دن بھوک پیاس کی تکلیف اٹھا کر”گوماتا” رات کے وقت کھیتوں میں پہنچتی ہیں کہ شاید رات کے سناٹے میں کچھ کھانے کومل جائے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

امیدیں پوری نہ ہوئیں بلکہ رات کےا ندھیرے میں بھی دہقانی لوگ پہرا کرتے نظر آئے۔اپنے ہی بیٹوں سے جان بچاکر گائے کئی دن فاقہ کشی کی تکلیفیں اٹھا کر آخر ایک دن دنیا کو خیرآباد کہہ دیتی ہے ۔کہا جاتا ہے کہ "ماں”کی موت پر رسماً ہی سہی لیکن اولادیں آخری رسومات ضرور ادا کرتی ہیں اور احترام کے ساتھ آخری رسم ادا کی جاتی ہے۔لیکن بد نصیب گائے کو پس مرگ بھی سکون نہ ملا اور بھکتوں نے مرنے کے بعد بھی ماتا کا کوئی احترام نہیں کیا بلکہ لاوارث سمجھ کر کوڑے کی طرح کہیں بھی اٹھاکرڈال دیا۔

یہ بات اپنے آپ میں کتنی مضحکہ خیز ہے کہ جس گائے کو "ماتا”کہا جاتا ہے اس کو چارا کھلانے سے بھی بھکتوں کی جیب تنگ ہوجاتی ہے۔

بھلا کون ایسا بدنصیب بیٹا ہوگا جو خود تو پیٹ بھر کھانا کھائے اور اس کی "ماتا”سڑکوں پر بھوک سے بلبلاتی پھرے۔

شہرکی مارکیٹ میں بیٹھنے والے بھکت ویسے تو احترام گائے کے نام پر دنیا کو پِروَچَن(प्रवचन) دیتے نظر آتے ہیں لیکن انہیں کی دکان میں گائے ایک مٹھی چاول ہی کھالے تو غصے میں لال پیلے ہوکر سیدھی سادی گائے پر بے رحمی سے ڈنڈے برساتے ہیں،کیا یہی گوبھکتی ہے؟

گائوں دیہات میں بسنے والے افراد بھی مذہبی افکار کے حامل ہوتے ہیں لیکن اپنے کھیت میں”گئوماتا” کا منہ ڈالنا انہیں بھی گوارا نہیں ہوتا اور یہ بھی”گئوماتا” کی خاطرداری لاٹھی ڈنڈوں سے کرتے ہیں۔

ان سب معاملات کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں کیسے کیسے بیٹے موجود ہیں جو "گئوماتا”کے نام پر کسی کا قتل تو کرسکتے ہیں لیکن وہی بھکت "ماتا” کا پیٹ نہیں بھرسکتے۔

ان لوگوں کے بالمقابل عام لوگ بڑے حقیقت پسند ہوتے ہیں ۔جو نہ گوبھکتی کا دکھاوا کرتے ہیں اور نہ کسی قسم کی سیاسی نوٹنکی!!

یہی لوگ بے سہارا گھومنے والے جانوروں کو پانی بھی پلاتے ہیں اور بقدر وسعت چارا بھی کھلاتے ہیں ۔ضرورت ہے کہ ایسے لوگ آگے آئیں اور سماج میں امن وامان کا ماحول سازگار کرنے میں پیش قدمی کریں۔

غلام مصطفےٰ نعیمی مؤرخہ 19جمادی الاول 1440ھ

25 جنوری 2019ء بروز جمعہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.