عہد صحابہ اور تدوین حدیث

عہد صحابہ اور تدوین حدیث

مستشرقین اور منکرین حدیث اس بات پر مصر ہیں کہ حدیث لکھنے کی ممانعت خود حضور سے مروی ہے پھراحادیث لکھنے کا سوال ہی پید انہیں ہوتا ۔

اس کے جواب کی طرف ہم ابتدائے مضمون میں اشارہ کرچکے ہیں ،یہاں قدر ے تفصیل سے ملاحظہ فرمائیں ۔

سب سے پہلی بات تو یہ کہ ممانعت پر زور دینے والے اپنا یہ اصول بھول جاتے ہیں کہ ممانعت ثابت کرنے کیلئے بھی وہ احادیث ہی کا سہارالے رہے ہیں۔

منکرین کا نہایت نامعقول طریقہ یہ بھی ہے کہ پہلے ایک اصول اور نصب العین متعین کرتے ہیں اور پھر اسکے بعد روایتوں کا جائزہ لیتے ہیں ،ا س نصب العین کی حمایت میں جو روایتیں ملتی ہیں انکو حرزجاں بناکر زوردار انداز میں بیان کرتے ہیں خواہ وہ روایات جس نہج کی ہوں یاکتنی ہی قلیل کیوں نہ ہوں ۔لیکن جن سے احادیث لکھنے کی اجازت ثابت ہو انکو ذکر کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے جب کہ ایسی روایتیں ہی کثیر ہیں اور جواز کتابت میں نص صریح بھی ۔ دونوں طرح کی روایتیں ملاحظہ کریں تاکہ فیصلہ آسان ہو ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.