حاسد کاعبرت ناک انجام

حکایت نمبر142: حاسد کاعبرت ناک انجام

حضر ت سیدنا بکر بن عبداللہ المزنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی سے مروی ہے:” ایک شخص کی عادت تھی کہ وہ با دشاہوں کے درباروں میں جاتا اور ان کے سامنے اچھی اچھی باتیں کرتا با دشاہ خوش ہو کر اسے اِنعام واِکرام سے نواز تے اوراس کی خوب حوصلہ افزائی کرتے۔ ایک مرتبہ وہ ایک بادشاہ کے دربار میں گیااوراس سے اجازت چاہی کہ میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ با دشاہ نے اجازت دی اور اسے اپنے سامنے کُرسی پر بٹھا یا اور کہا:” اب جو کہنا چاہتے ہو کہو۔” اس شخص نے کہا:” محسن کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کرے اس کی برائی کا بدلہ اسے خود ہی مل جائے گا۔ ” با دشاہ اس کی یہ بات سن کر بہت خوش ہوا اور اسے انعام واکرام سے نوازا ۔”یہ دیکھ کر بادشاہ کے ایک درباری کو اس شخص سے حسد ہوگیا اور وہ دل ہی دل میں کڑھنے لگا کہ اس عام سے شخص کو بادشاہ کے دربار میں اتنی عزت اور اِتنا مقام کیوں حاصل ہوگیابالآخر وہ حسد کی بیماری سے مجبور ہو کر با دشاہ کے پاس گیا اور بڑے خوشامد انہ انداز میں بولا:”با دشاہ سلامت ! ابھی جو شخص آپ کے سامنے گفتگو کرکے گیا ہے اگرچہ اس نے باتیں اچھی کی ہیں لیکن وہ آپ سے نفرت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ با دشاہ کو گندہ دہنی (یعنی منہ سے بدبُوآنے ) کامرض لاحق ہے ۔”
جب با دشاہ نے یہ سنا تو پوچھا :” تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ میرے بارے میں ایسا گمان رکھتا ہے ؟” وہ حاسد بولا: ”حضور! اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ آزماکر دیکھ لیں، اسے اپنے پاس بلائیں جب وہ آپ کے قریب آئے گا تو اپنی ناک پرہاتھ رکھ لے گا تا کہ اسے آپ کے منہ سے بد بُو نہ آئے۔” یہ سن کربا دشاہ نے کہا : ”تم جاؤ جب تک میں اس معاملہ کی تحقیق نہ کرلوں اس کے بارے میں کو ئی فیصلہ نہیں کروں گا ۔”
چنانچہ وہ حاسد دربارِ شاہی سے چلا آیا اور اس شخص کے پاس پہنچا جس سے وہ حسد کرتا تھا ۔اسے کھانے کی دعوت دی، اس نے حاسد کی دعوت قبول کی اور اس کے ساتھ چل دیا۔ حاسد نے اسے جو کھانا کھلایا اس میں بہت زیادہ لہسن ڈال دیا۔ اب اس شخص کے منہ سے لہسن کی بد بُو آنے لگی بہر حال وہ اپنے گھر آگیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ با دشاہ کا قاصد آیا اور اس نے کہا: ”بادشاہ نے آپ کو ابھی دربار میں بلایا ہے ۔” وہ شخص قاصد کے ساتھ دربار میں پہنچا ۔ با دشاہ نے اسے اپنے سامنے بٹھا یا اور کہا: ” ہمیں وہی کلمات سناؤ جو تم سنایاکرتے ہو ۔” اس شخص نے کہا :” مُحسِن کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کریگا اسے برائی کابدلہ خود ہی مل جائے گا ۔”
جب اس نے اپنی بات مکمل کرلی تو بادشاہ نے اس سے کہا :” میرے قریب آؤ۔” وہ بادشاہ کے قریب گیا تو اس نے فوراً ًاپنے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لیا تا کہ لہسن کی بدبُو سے بادشاہ کو تکلیف نہ ہو ۔ جب بادشاہ نے یہ صورتحال دیکھی تواپنے دل میں کہا کہ اس شخص نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ میرے متعلق یہ شخص گمان رکھتا ہے کہ مجھے گندہ دہنی (یعنی منہ سے بد بُوآنے ) کی بیماری ہے۔ با دشاہ اس شخص کے بارے میں بد گمانی کا شکار ہوگیا اور بلا تحقیق اس نے فیصلہ کرلیا کہ اس شخص کو سخت سزا ملنی چاہے ۔ چنانچہ اس نے اپنے گورنر کے نام اس طرح خط لکھا :”اے گورنر! جیسے ہی یہ شخص تمہارے پاس پہنچے اسے ذبح کردینا اور اس کی کھال اُتا ر کر اس میں بھوسا بھر دینا اورا سے ہمارے پاس بھجوا دینا ۔”پھر با دشاہ نے خط پر مہر لگائی اور اس شخص کو دیتے ہوئے کہا :”یہ خط لے کر فلاں علاقے کے گورنر کے پاس پہنچ جاؤ۔”
با دشاہ کی عاد ت تھی کہ جب بھی وہ کسی کوکوئی بڑا اِنعام دینا چاہتا تو کسی گو رنر کے نام خط لکھتا اور اس شخص کو گورنر کے پاس بھیج دیتا وہاں اسے خوب اِنعام واِکرام سے نوازا جاتا۔ کبھی بھی با دشاہ نے سزا کے لئے کسی کو خط نہ لکھا تھا ۔آج پہلی مرتبہ بادشاہ نے کسی کو سزا دینے کے لئے گورنر کے نام خط لکھا ورنہ اس با دشاہ کے بارے میں مشہور تھا کہ جب کسی کو اِنعام دیتاتو اسے گو رنر کے پاس بھیجتا۔ بہر حال یہ شخص خط لے کر دربار شاہی سے نکلا اس بیچارے کو کیا معلوم کہ اس خط میں میری موت کا حکم ہے۔ یہ شخص خط لے کر گورنر کے پاس جا رہا تھا کہ راستے میں اس کی ملاقات اسی حاسد سے ہوگئی ۔اس نے پوچھا: ”بھائی! کہا ں کا ارادہ ہے ؟”
اس نے کہا :میں نے بادشاہ کو اپنا کلام سنایاتو اس نے مجھے ایک خط مہر لگا کر دیا اور کہا: ”فلاں گورنر کے پاس یہ خط لے جاؤ ۔” میں اسی گو رنر کے پاس خط لئے جا رہا ہو ں۔” حاسد کہنے لگا:” بھائی! تویہ خط مجھے دے دے میں ہی اسے گو رنر تک پہنچا دوں گا۔ ”چنانچہ اس شریف آدمی نے خط حاسد کے حوالے کر دیا ، وہ حاسد خط لے کر خوشی خوشی گو رنر کے دربار کی طر ف چل دیا، وہ یہ سو چ کر بہت خوش ہو رہا تھا کہ اس خط میں با د شاہ نے گو رنر کے نام پیغام لکھا ہوگا کہ” جو شخص یہ خط لے کر آئے اسے اِنعام واِکرام سے نوازا جائے ۔”میری قسمت کتنی اچھی ہے، میں نے اس شخص کو جھانسا دے کر یہ خط لے لیا ہے اب میں مالا مال ہوجاؤں گا۔ وہ حاسد انہیں سوچو ں میں مگن بڑی خوشی کے عالم میں جھومتا جھومتا گو رنر کے دربار کی جانب جا رہا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ موت کے منہ میں جا رہا ہے اور جاتے ہی اسے قتل کردیا جائے گا ۔
بہر حال وہ گو رنر کے پاس پہنچا اور بڑے مو ئدبانہ انداز میں بادشاہ کا خط گورنر کو دیا۔ گو رنر نے جیسے ہی خط پڑھا تو پوچھا: ”اے شخص! کیا تجھے معلوم ہے کہ اس خط میں با دشاہ نے کیا لکھا ہے ؟” اس نے کہا: ”با دشاہ سلامت نے یہی لکھا ہوگا کہ مجھے اِنعام واِکرام سے نوازا جائے او رمیری حاجات کو پورا کیا جائے ۔”گورنر نے یہ سن کر کہا : اے نادان شخص! بادشاہ نے اس خط میں مجھے حکم دیا ہے کہ” جیسے ہی یہ شخص خط لے کر پہنچے اسے ذبح کردینا او راس کی کھال اُتا ر کر اس میں بھوسا بھر دینا پھر اس کی لاش میرے پاس بھجو ادینا۔ ” یہ سن کر اس حاسد کے تو ہوش اُڑ گئے اور وہ کہنے لگا:” خداعزوجل کی قسم !یہ خط میرے بارے میں نہیں لکھا گیا بلکہ یہ تو فلاں شخص کے متعلق ہے، بےشک آپ با دشاہ کے پاس کسی قاصد کو بھیج کر معلوم کرلیں ۔ ”
گورنر نے اس کی ایک نہ سنی اور کہا :” ہمیں کوئی حاجت نہیں کہ ہم با دشاہ سے اس معاملہ کی تصدیق کریں با دشاہ کی مہر اس خط پر موجود ہے لہٰذا ہمیں با دشاہ کے حکم پر عمل کرنا ہوگا۔” اتنا کہنے کے بعد اس نے جلا د کو حکم دیا اور اس حاسد شخص کو ذبح کر کے اس کی کھال اُتار کر اس میں بھوسا بھر دیا گیا ۔ پھر اس کی لاش کو با دشاہ کے دربار میں بھجوادیا گیا۔ وہ شخص جس سے یہ حسد کیا کرتا تھا حسبِ معمول بادشاہ کے دربار میں گیا اور با دشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر وہی الفا ظ دہرائے:” محسن کے ساتھ احسان کر اور جو کوئی برائی کریگا اسے عنقریب اس کی برائی کا صلہ مل جائے گا۔”جب بادشاہ نے اس شخص کوصحیح وسالم دیکھا تو اس سے پوچھا :” میں نے تجھے جو خط دیا تھا اس کا کیا ہو ا؟”اس نے جواب دیا:” میں آپ کا خط لے کر گورنر کے پاس جا رہاتھا کہ مجھے راستے میں فلاں شخص ملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ یہ خط مجھے دے دو،چنانچہ میں نے اسے خط دے دیا اور وہ خط لے کر گو رنر کے پاس چلا گیا ہے ۔”
با دشاہ نے کہا :”اس شخص نے مجھے تمہارے بارے میں بتا یا تھا کہ تم میرے متعلق یہ گمان رکھتے ہو کہ میرے منہ سے بدبُو آتی ہے، کیا واقعی ایسا ہے ؟ ”اس شخص نے کہا :”با دشاہ سلامت !میں نے کبھی بھی آپ کے بارے میں ایسا نہیں سوچا۔”
توبادشاہ نے پوچھا:” جب میں نے تجھے اپنے قریب بلایا تھاتوتُو نے اپنے منہ پر ہاتھ کیوں رکھ لیا تھا ؟” اس شخص نے جواب دیا: ”بادشاہ سلامت! آپ کے در بار میں آنے سے کچھ دیر قبل اس شخص نے میری دعوت کی تھی اور کھانے میں مجھے بہت زیادہ لہسن کھلا دیا تھا جس کی وجہ سے میرا منہ بد بُو دار ہوگیا۔جب آپ نے مجھے اپنے قریب بلایا تو میں نے یہ بات گوارا نہ کی کہ میرے منہ کی بد بُو سے بادشاہ سلامت کو تکلیف پہنچے اسی لئے میں نے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لیا تھا ۔”
جب بادشاہ نے یہ سنا تو کہا:اے خوش نصیب شخص! تُو نے بالکل ٹھیک کہا تیری یہ بات بالکل سچی ہے کہ” جو کسی کے ساتھ برائی کرتا ہے اسے عنقریب اس کی برائی کا بدلہ مل جائے گا۔” اس شخص نے تیرے ساتھ برائی کا اِرادہ کیا اور تجھے سزا دلوانی چاہی لیکن اسے اپنی برائی کا صلہ خود ہی مل گیا ۔سچ ہے کہ جو کسی کے لئے گڑھا کھودتا ہے وہ خود ہی اس میں جا گرتا ہے ۔ اے نیک شخص! میرے سامنے بیٹھ او راپنی اسی بات کو دہرا۔” چنانچہ وہ شخص بادشاہ کے سامنے بیٹھا اور کہنے لگا :”محسن کے ساتھ احسان کر اور برائی کرنے والے کو عنقریب اس کی برائی کی سزا خود ہی مل جائے گی۔ ”
( میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو کسی پر احسان کرتا ہے اس پر بھی احسان کیا جاتاہے اورجوکسی کے لئے براچاہتا ہے اس کے ساتھ برا معاملہ ہی ہوتا ہے۔ جو دو سروں کی تباہی وبربادی کا خواہاں ہوتا ہے وہ خود تباہ و بر باد ہوجاتا ہے۔ جو کسی سے حسد کرتا ہے اسے اس کے حسد کی سزا خود ہی مل جاتی ہے ، اچھے کام کا اچھا نتیجہ اور برے کا م کا برا نتیجہ، جیسی کرنی ویسی بھرنی، اللہ عزوجل ہمیں حسد جیسی بیماری سے محفوظ فرمائے آمین )
سچ ہے کہ بُرے کام کاا نجام بُرا ہے

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.