وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 27

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا

ترجمہ:

اللہ تمہاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے اور جو لوگ خواہش نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ تمہیں سیدھی راہ سے بہت دور ہٹا دینا چاہتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے اور جو لوگ خواہش نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ تمہیں سیدھی راہ سے بہت دور ہٹا دینا چاہتے ہیں۔ (النساء : ٢٧ )

خواہش نفس کی پیروی کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ زنا حلال ہوجائے یا بعض محرمات حلال ہوجائیں۔ 

مجاہد نے کہا اس سے مراد یہود ہیں وہ علاتی بہنوں سے نکاح جائز قرار دیتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مسلمان بھی ایسا کریں۔ 

ابن زید نے کہا اس سے مراد اہل باطل ہیں وہ چاہتے تھے کہ تم اللہ کے دین کو چھوڑ کر ان کی پیروی کرو۔ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ١٩ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

فقیہ ابو اللیث نصربن محمد سمرقندی متوفی ٣٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

یہود ‘ نصاری اور مجوس یہ چاہتے تھے کہ تم کوئی بہت بڑا گناہ کر بیٹھو ‘ کیونکہ بعض کافر علاتی بہنوں ‘ بھتیجیوں اور بھانجیوں سے نکاح کو جائز کہتے تھے ‘ اور جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ رشتے حرام کردیئے تو انہوں نے کہا خالہ اور پھوپھی محرم ہیں جب تم ان کی بیٹیوں سے نکاح کو جائز کہتے ہو تو بھائی اور بہن کی بیٹیوں سے نکاح کو جائز کیوں نہیں کہتے ؟ اور ایک قول یہ ہے کہ یہود یہ چاہتے تھے کہ تم سے کوئی بڑا بھاری گناہ ہوجائے۔ (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ٣٤٩۔ ٣٤٨‘ مطبو عہ دارا الکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)

اس آیت میں ایسے تمام لوگ داخل ہیں جو اپنی عقل سے احکام شرع پر اعتراض کرتے ہیں مثلا مردوں کو عورتوں کے مساوی کیوں نہیں رکھا ‘ نابالغ لڑکی کا نکاح کرنا کیوں جائز ہے ‘ یتیم پوتے کو دادا کی میراث سے ترکہ کیوں نہیں ملتا ‘ تجارتی سود تو نفع کا متبادل ہے اس کو کیوں حرام کیا گیا ہے ‘ پردہ کی قیود سے عورتوں کا حق آزادی مجروح ہوتا ہے ‘ موسیقی تو روح کی غذا ہے اس کو کیوں ناجائز کیا گیا ‘ اور اس قسم کے تمام احکام کو ملا کی رجعت پسندی اور فرسودگی قرار دیتے ہیں اور بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عورت کو طلاق کا حق کیوں نہیں ہے ‘ اور عورت کو بیک وقت چار خاوندوں سے نکاح کی اجازت کیوں نہیں ہے وغیرہ وغیرہ نعوذ باللہ من تلک الخرافات :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 27

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.