وَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنۡكُمۡ طَوۡلًا اَنۡ يَّنۡكِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ فَتَيٰـتِكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ‌ ؕ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاِيۡمَانِكُمۡ‌ ؕ بَعۡضُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ‌ ۚ فَانْكِحُوۡهُنَّ بِاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ وَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَيۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ‌ ؕ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ فَاِنۡ اَ تَيۡنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ‌ ؕ ذٰ لِكَ لِمَنۡ خَشِىَ الۡعَنَتَ مِنۡكُمۡ‌ ؕ وَاَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 25

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنۡكُمۡ طَوۡلًا اَنۡ يَّنۡكِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ فَتَيٰـتِكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ‌ ؕ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاِيۡمَانِكُمۡ‌ ؕ بَعۡضُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ‌ ۚ فَانْكِحُوۡهُنَّ بِاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ وَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَيۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ‌ ؕ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ فَاِنۡ اَ تَيۡنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ‌ ؕ ذٰ لِكَ لِمَنۡ خَشِىَ الۡعَنَتَ مِنۡكُمۡ‌ ؕ وَاَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

ترجمہ:

اور تم میں سے جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی مالی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمانوں کی مملوکہ ‘ مسلمان باندیوں سے (نکاح کرے) اور اللہ تمہارے ایمان کو بہت زیادہ جاننے والا ہے، تم باہم ایک دوسرے کی جنس سے ہو ‘ تم ان (باندیوں) سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو اور دستور کے مطابق ان کے مہر ادا کرو ‘ دراں حالیکہ وہ (باندیاں) قلعہ نکاح کی حفاظت میں آنے والی ہوں ‘ بدکار نہ ہوں ‘ نہ غیروں سے آشنائی کرنے والی ہوں ‘ اور جب وہ قلعہ نکاح میں محفوظ ہوجائیں پھر بےحیائی کا کام کریں تو ان کو آزاد (کنواری) عورت کی آدھی سزا ملے گی (باندیوں سے نکاح کا) یہ حکم تم میں سے اس شخص کے لیے ہے جس کو اپنے نفس پر بدچلنی کا خدشہ ہو ‘ اور تمہارے لئے صبر کرنا بہتر ہے اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے ؏

تفسیر:

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ومن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المؤمنت فمن ماملکت ایمانکم من فتیتکم المؤمنت “۔ (الی قولہ) ذلک لمن خشی العنت منکم وان تصبروا خیرلکم۔ (النساء : ٢٥) 

ترجمہ : اور تم میں سے جو شخص آزاد کنواری مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی مالی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی مملوکہ مسلمان باندیوں سے نکاح کرے۔ اور یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جسے غلبہ شہوت کی وجہ سے اپنے اوپر زنا کا خطرہ ہو اور اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ 

اس آیت میں غلبہ شہوت رکھنے والے شخص کے لئے صرف دو طریقے تجویز کئے گئے ہیں ایک یہ کہ وہ باندیوں سے نکاح کرے دوسرا یہ کہ وہ صبط نفس کرے اور تجرد کی زندگی گزارے اگر متعہ ہوتا تو کنیزوں سے نکاح کی طاقت نہ رکھنے کی صورت میں اس کو متعہ کی ہدایت دی جاتی ‘ لیکن ایسا نہیں کیا گیا پس معلوم ہوا کہ کوئی شخص متعہ نہیں کرسکتا اسے نکاح ہی کرنا پڑے گا خواہ باندیوں سے کرے اور اگر ان سے بھی نکاح کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر اسے صبر کرنا پڑے گا۔ متعہ کے جواز کی کوئی صورت نہیں ہے۔ 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ولیستعفف الذین لایجدون نکاحا حتی یغنیھم اللہ من فضلہ “۔ (النور : ٣٣) 

ترجمہ : اور جو لوگ نکاح کی طاقت نہیں رکھتے ان پر لازم ہے کہ وہ ضبط نفس کریں حتی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے غیر مبہم الفاظ میں واضح فرماد یا ہے کہ اگر نکاح نہیں کرسکتے تو ضبط نفس کرو اگر متعہ جائز ہوتا تو نکاح کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں متعہ کی اجازت دے دی جاتی ‘ جب کہ متعہ کی اجازت کی بجائے ضبط نفس کا حکم دیا گیا ہے تو معلوم ہوگیا کہ اسلام میں متعہ کے جواز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ 

(آیت) ” محصنین غیر مسافحین “۔ (النساء : ٢٤) 

ترجمہ : درآں حالیکہ تم ان کو قلعہ نکاح کی حفاظت میں لانے والے ہو نہ محض عیاشی کرنے والے۔ 

اور یہ واضح ہے کہ متعہ میں محض عیاشی ہوتی ہے اس میں متعہ والی عورت کا مرد پر نفقہ ہوتا ہے نہ اس کی طلاق ہے نہ عدت اور نہ وہ مرد کے ترکہ کی وارث ہوتی ہے یہ محض عیاشی ہے۔ حفاظت نکاح میں ہوتی ہے۔ 

حرمت متعہ پر احادیث سے دلائل : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام کردیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٢١٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٢٤) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کے ساتھ غزوہ تبوک میں گئے ہم تنیۃ الوداع پر اترے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چراغوں کو دیکھا اور عورتوں کو روتے ہوئے دیکھا آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ جن عورتوں سے متعہ کیا گیا تھا وہ رو رہی ہیں آپ نے فرمایا نکاح ‘ طلاق ‘ عدت اور میراث نے متعہ کو حرام کردیا۔ (مسند ابو یعلی ‘ رقم الحدیث : ٦٥٩٤‘ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ) 

کیونکہ متعہ میں نہ طلاق ہوتی ہے نہ عدت اور نہ میراث ‘ نہ اس کو نکاح کہا جاتا ہے بلکہ اس میں عورت کا نان نفقہ بھی واجب نہیں ہوتا جیسا کہ کتب شیعہ سے باحوالہ گزر چکا ہے اور نہ متعہ والی عورت پر بیوی کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ قرآن مجید میں بیویوں کی وارثت بیان کی گئی ہے اور متعہ والی عورت وارث نہیں ہوتی۔ 

اس حدیث کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے امام بخاری نے اس کو ضعیف کہا ہے لیکن ابن معین اور ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے اس کی سند کے باقی راوی حدیث صحیح کے راوی ہیں۔ 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) بیان کرتے ہیں ہم باہر گئے اور ہمارے ساتھ وہ عورتیں تھیں جن کے ساتھ ہم نے متعہ کیا تھا جب ہم ثنیۃ الرکاب پر پہنچے تو ہم نے کہا یا رسول اللہ یہ وہ عورتیں ہیں جن سے ہم نے متعہ کیا تھا آپ نے فرمایا یہ قیامت تک کے لئے حرام کردی گئی ہیں۔ (المعجم الاوسط : ٩٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض۔ ١٤١٦ ھ) 

اس حدیث کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ ہے۔ امام احمد نے اس کو ضعیف کہا ہے اور امام ابو حاتم نے اس کو ثقہ کہا ہے اور اس کے باقی راوی حدیث صحیح کے راوی ہیں۔ 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہا آپ نے متعہ کے جواز کا کیسا فتوی دیا ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا ‘ (آیت) ” اناللہ وانا الیہ راجعون “ خدا کی قسم میں نے یہ فتوی نہیں دیا اور نہ میں نے یہ ارادہ کیا تھا میں نے اسی صورت میں متعہ کو حلال کہا ہے جس صورت میں اللہ نے مردار ‘ خون اور خنزیر کے گوشت کو حلال فرمایا ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١٠٦٠١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

اس حدیث کی سند میں حجاج بن ارطاۃ ثقہ ہے لیکن وہ مدلس ہے اور اس کے باقی راوی حدیث صحیح کے راوی ہیں 

امام ابوبکرعبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

ربیع بن مرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : سنو ! اے لوگو ! میں نے تم کو متعہ کرنے کی اجازت دی تھی سنو اب اللہ نے متعہ کو قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے ‘ سو جس شخص کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہے اس کو چھوڑ دے اور جو کچھ اس کو دیا ہے وہ اس سے واپس نہ لے۔ 

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے اگر وہ متعہ کی حرمت نہ بیان کرتے تو علی الاعلان زنا ہوتا۔ 

حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا سنو متعہ زنا ہے۔ (المصنف ج ٢۔ ٤ ص ٢٩٣۔ ٢٩٢ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ) 

امام عبدالرزاق بن ہمام ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں :

ابن ابی عمرۃ انصاری نے حضرت ابن عباس (رض) سے ان کے متعہ کے متعلق فتوی کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا میں نے امام المتقین کے ساتھ متعہ کیا ہے ‘ ابن ابی عمرہ نے کہا اللہ معاف فرمائے متعہ ضرورت کی بناء پر رخصت تھا جیسے ضرورت کے وقت مردار خون اور خنزیر کے گوشت کی رخصت ہوتی ہے۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٣٣)

ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں سے متعہ کو حرام کردیا۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٣٤)

معمر اور حسن بیان کرتے ہیں کہ عمرۃ القضاء کے موقع پر صرف تین دن کے لئے متعہ حلال ہوا تھا اس سے پہلے حلال ہوا تھا نہ اس کے بعد۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤٠‘ سنن سعید بن منصور ‘ رقم الحدیث : ٨٣٢) 

ربیع بن سبرہ والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع کے لئے مدینہ سے روانہ ہوئے جب آپ مقام عسفان پر پہنچے تو آپ نے فرمایا عمرہ حج میں داخل ہوگیا۔ سراقہ نے پوچھا یا رسول اللہ کیا یہ دائما ‘ ہے ؟ آپ نے فرمایا ‘ ہے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ اور صفا اور مروہ کے درمیان طواف کیا پھر پھر آپ نے ہم کو عورتوں سے متعہ کرنے کا حکم دیا ہم نے کہا ہم اس کو مدت معین کے لئے کریں گے آپ نے فرمایا کرو ‘ میں اور میرا ایک ساتھی باہر نکلے ہم دونوں کے پاس ایک ایک چادر تھی ہم دونوں ایک عورت کے پاس گئے اور ہم دونوں نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے میرے ساتھی کی چادر کی طرف دیکھا تو وہ میری چادر سے زیادہ نئی تھی اور میری طرف دیکھا تو میں اس سے زیادہ جوان تھا بالآخر اس نے مجھ کو پسند کرلیا اور میں نے اپنی چادر کے عوض اس سے متعہ کرلیا میں اس کے ساتھ اس رات کو رہا جب صبح کو میں مسجد کی طرف گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ مدت معین کے لئے متعہ کیا ہے تو وہ اس کو طے شدہ چیز دے دے اور جو اس کو دے رکھا ہے اس سے واپس نہ لے اور اس سے الگ ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے متعہ حرام کردیا ہے۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٠٣) 

حضرت ابن عمر (رض) سے متعہ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ زنا ہے۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤٢) 

حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ متعہ صرف تین دن ہوا پھر اللہ عزوجل اور اس کے رسول نے اس کو حرام کردیا۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٠٧) 

حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : متعہ کو طلاق ‘ عدت اور میراث نے منسوخ کردیا۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤٤‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٠٧) 

حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا رمضان نے ہر روزہ کو منسوخ کردیا ‘ زکوۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا، اور طلاق ‘ عدت اور میراث نے متعہ کو منسوخ کردیا۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٠٧۔ مواردالظمآن : ص ٣٠٩) 

احادیث شیعہ سے حرمت متعہ پر دلائل : 

زید بن علی اپنے آباء سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے بیان فرمایا کہ خیبر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پالتو گدھوں کے گوشت اور نکاح متعہ کو حرام کردیا۔ (تہذیب الاحکام ج ٧ ص ٣٥١‘ الاستبصار ج ٣ ص ١٤٢‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران) 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب خیبر کے دن متعہ حرام کردیا گیا تھا تو پھر فتح مکہ کے موقع پر متعہ کیوں ہوا اس کا جواب یہ ہے کہ متعہ خیبر کے دن ہی حرام کردیا گیا تھا فتح مکہ کے موقع پر ضرورت کی وجہ سے تین دن کے لئے عارضی رخصت دی گئی اور پھر اس کو دائماحرام کردیا گیا اور حجۃ الوداع کے موقع پر تاکیدا اس کی حرامت کو دہرایا گیا جیسے اور کئی حرام کاموں کی حرمت کو اس موقع پر بیان کیا گیا۔ 

بعض مفسرین کا تسامح : 

مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں : فرمان باری تعالیٰ شانہ : (آیت) ” والذین ھم لفروجھم حافظون الا علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین “۔ یہ ایسا واضح ارشاد ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ اس سے حرمت متعہ صاف ظاہر ہے اس کے مقابلہ میں بعض شاذ قراتوں کا سہارا لینا قطعا غلط ہے۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ٣٦٨) 

علامہ آلوسی (روح المعانی : ج ٥ ص ٧) امام رازی (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١٩٥) پیر محمد کرم شاہ الازہری (ضیاء القرآن ج ٣ ص ٢٤٥) اور دیگر مفسرین نے بھی سورة المومنون (: ٦) کی اس آیت کو حرمت متعہ کی قطعی دلیل بنایا ہے لیکن یہ اس لئے صحیح نہیں ہے کہ المومنون مکی سورت ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مکہ میں متعہ حرام ہوگیا تھا جب کہ اس پر اتفاق ہے کہ ٧ ہجری تک مدینہ میں متعہ حلال رہا اور جنگ خیبر کے موقع پر متعہ کو حرام کیا گیا جیسا کہ صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم اور سنن ترمذی کی حدیث میں ہے اور مفتی محمد شفیع نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ اسی لئے ہم نے النساء اور النور کی آیتوں سے حرمت متعہ پر استدلال کیا ہے اور یہ مدنی سورتیں ہیں اور ان پر شیعہ علماء کا یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ فافہم وتشکر۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم میں سے جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمانوں کی مملوکہ مسلمان باندیوں سے (نکاح کرے) (النساء : ٢٥ )

اہل کتاب باندیوں سے نکاح میں فقہاء کے مذاہب : 

امام ابوحنیفہ کے نزدیک آزاد مسلمان عورت سے نکاح کی قدرت کے باوجود باندی یا کتابیہ باندی سے نکاح کرنا مکروہ ہے کیونکہ باندی کی اولاد بھی اس کے مالک کی غلام ہوتی ہے اور آزاد شخص کے لئے یہ باعث عار ہے کہ اس کی اولاد لونڈی اور غلام بن جائے۔ 

اس آیت میں باندیوں کے ساتھ مسلمان ہونے کی صفت کو ذکر کیا ہے امام شافعی کے نزدیک چونکہ مفہوم مخالف معتبر ہوتا ہے اس لئے ان کے نزدیک یہ صفت بمنزلہ شرط ہے اور جو شخص آزاد (کنواری) مسلمان عورت سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ باندی سے اسی وقت نکاح کرسکتا ہے جب باندی مسلمان ہو ‘ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک باندی کا مسلمان ہونا شرط نہیں ہے بلکہ مستحب ہے باندی اگر اہل کتاب ہو پھر بھی وہ اس سے نکاح کرسکتا ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٤٧٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام احمد کا بھی یہی مذہب ہے اور امام مالک کے نزدیک جو شخص آزاد مسلمان عورت سے نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ بھی باندی سے نکاح کرسکتا ہے اور امام اعظم کے نزدیک آزاد مسلمان عورت کے ہوتے ہوئے باندی سے نکاح جائز نہیں (الجامع احکام القرآن ج ٥ ص ١٣٦) اہل کتاب باندیوں سے نکاح کے جواز پر امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محرمات کے علاوہ ہر عورت سے نکاح کرنے کو حلال قرار دیا ہے ماسوا ان کے جن کی کتاب اللہ میں تخصیص کرلی گئی ہے اور اہل کتاب باندی کی تخصیص نہیں کی گئی ‘ وہ آیتیں یہ ہیں : 

(آیت) ” فانکحوا ماطاب لکم من النساء “ 

ترجمہ : تو اپنی پسند کے موافق عورتوں سے نکاح کرلو۔ 

(آیت) ” واحل لکم ما ورآء ذالکم “۔ (النسا : ٢٤) 

ترجمہ : اور محرمات کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال کردی گئی ہیں۔ 

(روح المعانی ج ٥ ص ٨ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

ان آیات کے عموم کا تقاضا یہ ہے کہ اہل کتاب باندی کے ساتھ بھی نکاح جائز ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے۔ 

غیر سید کا فاطمی سیدہ سے نکاح :

بعض سادات کرام نے کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نسب کے فضائل میں جو احادیث وارد ہیں وہ بھی ان آیات کے عموم کے لئے مخصص ہیں اور سیدہ کا نکاح غیر سید سے حرام ہے۔ سادات کرام کا احترام اور اکرام مسلم ہے لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ احادیث زیادہ سے زیادہ خبر واحد ہیں اور خبر واحد قرآن مجید کے عموم کے لئے ناسخ نہیں ہوسکتی ‘ بعض سادات کرام نے کہا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز پر آواز اونچی کرنا جائز نہیں ہے تو آپ کے نسب کے اوپر نسب کرنا کیسے جائز ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح سے یہ لازم نہیں آتا کہ شوہر کا نسب بیوی کے نسب سے اونچا ہوجائے ورنہ کسی سید کا نکاح بھی سیدہ سے جائز نہیں ہوگا۔ نیز حضرت فاطمہ (رض) کی صاحبزادیوں میں سے کسی صاحبزادی کا نکاح تو یقینا غیر فاطمی شخص سے ہوا ہے کیونکہ ہماری شریعت میں بھائی بہن کا نکاح جائز نہیں ہے جیسا کہ محرمات کے بیان میں گزر چکا ہے ‘ اس بحث میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہم یہ دعوت نہیں دیتے کہ غیر فاطمی سید فاطمی سیدہ سے نکاح کریں نہ یہ ہمارا منصب اور حق ہے ہمارا صرف یہ کہنا ہے کہ اگر کہیں یہ نکاح منعقد ہوجاتا ہے تو اس کو حرام کہنے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے ‘ اگر ہمارے کسی استدلال سے سادات کرام کی دل آزاری ہوئی ہے تو ہم ان سے معافی چاہتے ہیں اور سادات کرام کی محبت کو حرز ایمان سمجھتے ہیں۔ لیکن مسئلہ اپنی جگہ پر ہے۔ اگر اس نکاح کو حرام کہا جائے تو جس سیدہ خاتون نے اپنی مرضی یا اپنے والدین کی مرضی سے غیر سید سے نکاح کیا اس فاطمی سیدہ خاتون کو مرتکب حرام ‘ زانیہ اور اس کی اولاد کو ولد الزنا کہنا لازم آئے گا ‘ اور مانعین ایسا کہتے بھی ہیں لیکن ہم شہزادی رسول اور سیدہ فاطمہ کی صاحبزادی کے متعلق ایسا فتوی لگانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور سیدہ فاطمہ (رض) کو اذیت پہنچانے کے مترادف سمجھتے ہیں اور اس کو خطرہ ایمان گردانتے ہیں ‘ سو جو لوگ اس نکاح کو ناجائز اور حرام کہتے ہیں وہ نادانستگی میں شہزادی رسول کو زانیہ کہہ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچا رہے ہیں۔ کسی بھی نکاح رجسٹرار کے کے ریکارڈ شدہ رجسٹر کو دیکھ لیں ملک کے طول وعرض میں غیر فاطمی سید کے فاطمی سیدہ سے نکاح کے بہت مندرجات مل جائیں گے ‘ آخر جس فاطمی سیدہ خاتون نے غیر سید سے نکاح کیا ہے وہ بھی تو بنت رسول ہے اس کو زنا کی گالی دینا کسی مسلمان کے لئے کس طرح زیبا ہے کیا اس کا احترام اور اکرام واجب نہیں ہے۔ کیا اس کو گالی دینے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت نہیں پہنچے گی ؟ خدارا سوچئے کہ ہم اس نکاح کے جواز کا فتوی دے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہزادیوں کی عزتوں کا تحفظ کر رہے ہیں یا العیاذ باللہ انکی توہین کررہے ہیں۔ مانعین اس نکاح کو حرام کہتے ہیں اور حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے تو جس سیدہ خاتون یا اس کے سادات والدین نے جائز سمجھ کر نکاح کردیا تو آپ کے نزدیک وہ العیاذ باللہ کافر ہوگئے اور کافر کا ٹھکانہ دوزخ ہے آخر آپ خون رسول کو دوزخ میں کیوں پہنچانے کے درپے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم ان (باندیوں) سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو اور دستور کے مطابق ان کے مہر ادا کرو درآں حالیکہ وہ (باندیاں) قلعہ نکاح کی حفاظت میں آنے والی ہوں ‘ بدکار نہ ہوں نہ غیروں سے آشنائی کرنے والی ہوں۔ (النساء : ٢٥ )

باندیوں سے نکاح کے احکام :

اس آیت میں باندیوں کے اہل سے مراد ان کے مالک ہیں اس آیت میں یہ بتانا مقصود ہے کہ باندی کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح صحیح نہیں ہے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے وہ زانی ہے۔ (سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٠٧٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١١٣) 

اس آیت کے آخر میں فرمایا یہ حکم تم میں سے ہراس شخص کے لئے ہے جس کو اپنے نفس پر بدچلنی کا خدشہ ہو اور اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ‘ اس میں یہ بتایا ہے کہ اگرچہ باندیوں سے نکاح کی تم کو اجازت دی گئی ہے لیکن اگر تم آزاد مسلمان عورت سے نکاح کی طاقت نہ رکھتے ہو اور پاک دامنی کے ساتھ رہ سکتے ہو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ باندی پر اس کے مالک کا حق شوہر کے حق سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ تمہاری خدمت اور حقوق کے لئے سبیل نہیں پاسکیں گی اور ان کے مالک سفر اور حضر میں ان سے خدمت لینے اور جس کو چاہے فروخت کرنے پر قادر ہوں گے اور اس میں شوہروں کے لئے دشواری ہے کیونکہ باندی کے مہر کا مالک اس کا مولی ہوگا اور اس باندی سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ اس کے مالک کی غلام ہوگی۔ اس کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے نفس پر صبر نہ کرسکا تو اللہ اس کو بخشنے والا اور مہربان ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب وہ قلعہ نکاح میں محفوظ ہوجائیں پھر بےحیائی کے کام کریں تو ان کو آزاد (کنواری) عورت کی آدھی سزا ملے گی۔ 

یعنی اگر باندیاں زنا کریں تو ان کی سزا وہ ہے جو آزاد کنواریوں کو سزا دی جاتی ہے اور آزاد کنواری عورت کو زنا کرنے پر سو کوڑے لگائے جاتے ہیں تو ان کو پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 25

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.