يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّخَفِّفَ عَنۡكُمۡ‌ۚ وَخُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِيۡفًا‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 28

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّخَفِّفَ عَنۡكُمۡ‌ۚ وَخُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِيۡفًا‏

ترجمہ:

اللہ تم سے (مشکل احکام کا) بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تم سے (مشکل احکام کا) بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ 

شریعت کا مزاج آسان احکام بیان کرنا ہے نہ کہ مشکل۔ 

اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر آسانی کرکے ضرورت کے وقت باندیوں سے نکاح کرنا ان کے لئے جائز کردیا ‘ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے آسان احکام مشروع کئے ہیں ایسے سخت اور مشل احکام کا ہم کو مکلف نہیں کیا جیسے مشکل احکام کا بنواسرائیل کو مکلف کیا تھا۔ ہمارے لئے تمام روئے زمین پر نماز پڑھنے کو جائز کردیا ‘ قربانی کو کھانا اور مال غنیمت ہمارے لئے حلال کردیا ‘ گناہ کے لئے استغفار اور توبہ رکھی بنو اسرائیل کی شریعت کی طرح یہ نہیں فرمایا کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو تو تمہاری توبہ ہوگی ‘ سفر اور بیماری میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت دی نیز سفر میں چار رکعت والی نماز کو دو رکعت کردیا غرض پچھلی شریعتوں میں جو مشکل احکام تھے وہ ہمارے لئے آسان کردیئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے 

(آیت) ” ویضع عنھم اصرھم والاغلال التی کا نت علیہم (الاعراف : ١٥٧) 

ترجمہ : (وہ نبی امی) ان سے (مشکل احکام کا) بوجھ اتارتے ہیں اور ان کے (گلے کے) طوق ان سے نکال کر دور کرتے ہیں۔ 

(آیت) ” یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر “۔ (البقرۃ : ١٨٥) 

ترجمہ : اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تم کو مشکل میں ڈالنے کا ارادہ نہیں فرماتا۔ 

(آیت) ” وما جعل علیکم فی الدین من حرج “۔ (الحج : ٧٨) 

ترجمہ : اللہ نے دین میں تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں رکھی۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم پر آسانی کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو مشکل میں ڈالنے کے لئے نہیں بھیجے گئے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢٠‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٤٧١) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب بھی دو کاموں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا جاتا تو آپ زیادہ آسان کو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ (شمائل ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٤٨) 

اسی طرح جب کسی مسئلہ میں علماء اور فقہاء کے مختلف قول ہوں تو مفتیان کرام کو اس قول پر فتوی دینا چاہیے جو مسلمانوں کے لئے آسان ہوں۔ 

امام احمد رضاقادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

مقاصد شرع سے ماہر خوب جانتا ہے کہ شریعت مطہرہ رفق وتیسیر (آسانی اور تخفیف) پسند فرماتی ہے نہ معاذ اللہ تشدید و تضییق (سختی اور تنگی) لہذا جہاں ایسی دقتیں واقع ہوئیں علماء کرام انہیں (ان ہی) روایات کی طرف جھکے ہیں جن کی بناء پر مسلمان تنگی سے بچیں (فتاوی رضویہ ج ٥ کتاب النکاح ص ٢١‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

ہمارے دور میں آج کل بعض مفتیوں کی روش اس کے برعکس ہے۔ لاوڈ سپیکر پر نماز پڑھانے کو ناجائز کہتے ہیں ‘ ریڈیو اور ٹیوی کے اعلان پر روزہ اور عید کو ناجائز کہتے ہیں ‘ ایلوپیتھک اور ہومیو پیتھک دواؤں سے علاج کرنے اور پر فیوم لگانے کو حرام کہتے ہیں ‘ کالر والی قمیص کو بھی حرام کہتے ہیں ‘ جس عورت کا خاوند مفقود الخبر (لاپتہ) ہو اس کو ستر یا نوے سال سے پہلے نکاح کرنے کی اجازت نہیں دیتے ‘ جس عورت کا خاوند اس کو نہ طلاق دے اور نہ خرچ دے اور عدالت اس بناء پر اس کا نکاح فسخ کردے تو اس کو دوسری جگہ نکاح کی اجازت نہیں دیتے نماز میں اگر سجدہ میں انگلیوں کے پیٹ زمین سے نہ لگیں تو کہتے ہیں نماز فاسد ہوگئی اسی طرح اور بہت سے معاملات میں سخت اور مشکل احکام کو بیان کرتے ہیں جب کہ اس کے بالمقابل آسان احکام اور دلائل بھی فقہاء کی عبارات سے ثابت ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 28

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.