يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَـكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 26

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَـكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ‏

ترجمہ:

اللہ تمہارے لیے وضاحت سے احکام بیان کرنا چاہتا ہے ‘ اور تمہیں ان (نیک) لوگوں کے راستوں پر چلانا چاہتا ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور تمہاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بہت حکمت والا ہے A

تفسیر:

احکام شرعیہ پر عمل کرنے کی ترغیب : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تمہارے لئے وضاحت سے احکام بیان کرنا چاہتا ہے۔ (النساء : ٢٦ )

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام احکام شرعیہ بیان کردیئے اور حلال کر حرام سے متمیز کردیا اور اچھے اور نیک کام کو برے اور قبیح کام سے ممتاز کردیا۔ پھر فرمایا : اور تمہیں ان نیک لوگوں کے راستہ پر چلانا چاہتا ہے جو گزر چکے ہیں۔ ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ تم سے پہلے جو نیک ‘ صالحین اور حق پرست لوگ گزرے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے انکی سیرتیں بیان کردی ہیں تاکہ تم حق کی اتباع کرو اور باطل سے اجتناب کرو ‘ پھر فرمایا اللہ تمہاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے بیان کئے ہوئے احکام شرعیہ پر عمل کرنے میں اور اہل حق کی اتباع کرنے میں اگر تم سے کوئی تقصیر یا کوئی زیادتی یا کمی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 26

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.