ایک فرق سمجھیے

ایک فرق سمجھیے

وکلاء اورجج صاحبان ، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو عزت ہمارے قانون نے دی۔

اور علماء کو عزت اللہ اور اس کے رسول ﷺنے دی۔

علماءکو ایسےہی سمجھ لیجئے جیسے وکلاء اورجج صاحبان ، جیسے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج صاحبان ،پس جس طرح ہائی کورٹ کے جج بلکہ ایک ٹرائل کورٹ کے جج کی بھی مخالفت جائز نہیں۔

تو اسی طرح عوام کو علماء کی مخالفت کب جائز ہوگی، میں یہ نہیں کہتا کہ علماء سے غلطی نہیں ہوتی ،بلکہ غلطی ہوجاتی ہے

مگر اس کا پکڑنا عوام کا کام نہیں بلکہ علماء ہی کاکام ہے۔

بہت سے لوگ جو اس حقیقت سے واقف نہیں وہ مذاہب فقہاء اور علماء حق کے فتوؤں میں اختلاف کو بھی حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، ان کو یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ جب علماء میں اختلاف ہے تو ہم کدھر جائیں۔

حالانکہ بات بالکل صاف ہے کہ جس طرح کسی بیمار کے معاملہ میں ڈاکٹروں کا اختلاف رائے ہوتا ہے تو ہر شخص یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ان میں سے فنی اعتبار سے زیادہ ماہر اور تجربہ کار،سپیشلسٹ کون ہے۔

بس جس کو زیادہ تجربہ کار، ماہر ،سپیشلسٹ سمجھتے ہیں اس سے علاج کرواتے ہیںدوسرے ڈاکٹروں کر برابھلا نہیں کہتے۔

اسی طرح ایک ہی آئین و قانون کو پڑھنے کے باوجود مقدمہ کے وکیلوں میں اختلاف ہو جاتا ہے، تو جس وکیل کو زیادہ قابل اور تجربہ کار جانتے ہیں اس کے کہنے پر عمل کرتے ہیں، دوسروں کی بدگوئی کرتے نہیں پھرتے۔

عوام کو یہی طریقہ علماء کے بارے اپناناچا ہئے،جس کو تقویٰ پرہیز گاری ،علمی اعتبار سے مستند،اور اپنے فن میں ماہر سمجھیں اس کی بات کو لے لیں دوسروں کو چھوڑ دیں،بد زبانی اور بد کلامی سے پرہیز کریں۔

جس طرح انجینئر وکالت میں ماہر ، معتبر نہیں ہوتا۔

جس طرح ڈاکٹر کی رائے انجینئر کے لیے اہمیت نہیں رکھتی۔

جس طرح ایک درزی گاڑی مرمت کرنے میں مہارت نہیں رکھتا۔

جس طرح ایک جج ملاح کی طرح کشتی کنارے لگانے میں ماہر نہیں ہوتا۔

جس طرح ہر شعبہ زندگی میںما ہر ،سپیشلسٹ کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔

اسی طرح دین کے معاملے میں بھی دین کے ماہر لوگوں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔

تفصٰلات اگلے کالم میں

محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.