حدیث نمبر :316

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بوسہ لمس سے ہے لہذا اس سے وضو کرو ۱؎

شرح

۱؎ خیال رہے کہ ان تینوں بزرگوں کا اپنا قول یہ ہے کہ عورت کو چھونے اور بوسہ سے وضو ہے۔اس بارے میں حدیث مرفوع کوئی نہیں بلکہ حدیث مرفوع اس کے خلاف ہے۔چنانچہ دارقطنی میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ کو جب حضرت ابن عمر کا یہ قول پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ بوسے سے وضو کیسے ہوسکتا ہے،حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے تھے اور بغیر وضو کئے نماز پڑھ لیتے تھے۔نیز ابن ماجہ،ترمذی،ابوداؤ،ابن ابی شیبہ،نسائی،ابن عساکرموطاءامام محمد وغیرہ میں حضرت عائشہ صدیقہ سے تھوڑے اختلاف کے ساتھ روایات ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج کا بوسہ لیتے تھے اور پھر بغیر وضو کئے نماز پڑھ لیتے تھے،نیز مسندابوعبداﷲ میں حضرت حفصہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرکے بعض ازواج کا بوسہ لیتے اورپھردوبارہ وضو نہ فرماتے،نیز جیسے اس بوسہ سے عورت کا وضو نہیں جاتا تو چاہیئے کہ مرد کا بھی نہ جائے،مباشرت عورت ومرد دونوں کا وضو توڑتی ہے اورصحبت دونوں کا غسل۔تو کیسے ہوسکتا ہے کہ بوسہ یا چھونا مرد کا تو وضو توڑے،عورت کا نہ توڑے۔لہذا ان موقوف احادیث کا یہ مطلب ہے کہ عورت کو چھوکریابوسہ لے کر وضو کرنا مستحب ہے کیونکہ لُغَۃً لَمْس میں یہ بھی داخل ہے،اگرچہ یہ قرآن میں مراد نہیں،یا ان بزرگوں کو ہماری پیش کردہ روایات پہنچی ہی نہیں۔بہرحال حدیث مرفوع کے مقابل حدیث موقوف معتبر نہیں،حتی الامکان دونوں میں مطابقت کی جائے اگرمطابقت نہ ہوسکے تو موقوف چھوڑ دی جائے،چھونے کی حدیث ہم پہلے پیش کرچکے ہیں کہ عائشہ صدیقہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں شریف نمازمیں چھوا ہے،اور عائشہ صدیقہ کو عین نماز میں حضور نے چھوا ہے اور سرکار دونوں موقعوں پر نماز پڑھتے رہے۔بہرحال مذہب حنفی نہایت قوی ہے،اسی کمزوری کی وجہ سے امام شافعی نے آخر میں یہ فرمایا کہ اجنبی عورت کے چھونے سے وضو جاتا ہے نہ کہ اپنی بیوی کو۔مسند امام ابوحنیفہ میں ہے کہ عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں بوسہ میں وضو نہیں۔شیخ عبدالحق نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ یہ تینوں مشکوٰۃ کی موقوف حدیثیں اسنادًا صحیح نہیں۔