حلال چیزوں سے وضو

حدیث نمبر :313

روایت ہے حضرت انس بن مالک سے فرماتے ہیں کہ میں اوراُبی اور ابوطلحہ ۱؎ بیٹھے ہوئے تھے ہم نے گوشت و روٹی کھائی پھر میں نے وضو کا پانی منگایا۲؎ تو ان دونوں نے فرمایا کہ کیوں وضو کرتے ہو،میں نے کہا اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایاوہ بولے کیا تم حلال چیزوں سے وضو کرتے ہو؟۳؎ اس سے تو انہوں نے بھی وضو نہ کیا جو تم سے بہتر ہیں۔(احمد)

شرح

۱؎ آپ کا نام زیدابن سہل ہے،کنیت ابوطلحہ،انصاری ہیں،نجاری ہیں،حضرت انس کے سوتیلے والد ہیں،۷۷ سال عمر پائی، ۳۱ھ؁ میں سمندر کا سفرکیا،جزیرہ میں وفات ہوئی،نو دن کے بعد وہیں دفن ہوئے،بیعت عقبہ اوربدر وغیرہ تمام غزوات میں شامل رہے۔

۲؎ کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ وضوءطعام کی حدیث میں وضوء کے شرعی معنی سمجھتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ محدث بغیر فقیہ کی رائے کے حدیث پر عمل نہ کرے اسی لیے امام ترمذی وغیرہم مقلد ہوئے۔

۳؎ یعنی وضوء پاکی ہے کسی ناپاک چیز سے ہوناچاہیئے اورکھانا حرام ہے نہ نجس پھروضو کیسا۔اس سےمعلوم ہوا کہ عورت کو چھونے سےبھی وضو نہیں جائے گا کہ وہ بھی نہ حرام ہے نہ نجس۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.