صرف اسلام ہی دین ہے

سارے جہاں کے خالق و مالک، معبودِ حقیقی اللہ عز و جل کے یہاں صرف اسلام ہی دین ہے، اسلام کے سوا جتنے بھی ادیان و مذاہب رائج ہیں سب خود ساختہ ہیں، انسانوں ہی کے ایجاد کردہ ہیں، جن کی کوئی حقیقت ہے نہ حیثیت اور جو ہرگز ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ اللہ جل مجدہٗ نے صاف ارشاد فرمایا:…

’’ان الدین عند اللہ الاسلام‘‘ترجمہ: بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ (کنز الایمان،آل عمران، ۱۹)

’’و من یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ‘‘ (آل عمران) ترجمہ: اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔ (کنز الایمان)

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام صرف چودہ سو برس پرانا دین ہے وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اسلام کا زمینی سفر اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب دنیا کے سب سے پہلے انسان اور تمام انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام نے اس دھرتی پر قدم رنجہ فرمایا تھا حالانکہ اسلام کا سفرِ اصلی نورِ محمدی کی تخلیق سے ہی شروع ہو گیا تھا۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام تک سارے نبیوں کا دین اسلام ہی تھا، وہ مسلمان تھے، انہوں نے اسلام ہی کی تبلیغ کی اور ان پر جو ایمان لائے وہ مسلمان ہی کہلائے۔ البتہ جب نبیوں اور رسولوں کے سردار و خاتم، پیغمبرِ اسلام، نبی ٔ امی، حضرت سیدنا محمد عربیتشریف لائے تو رب عظیم نے آپ کو سارے انسانوں کا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر اسلام کو کامل فرمایا۔

قرآن مقدس ان تمام حقائق کا اس طرح اظہار فرماتا ہے:…

’’کان الناس امۃ واحدۃ‘‘ترجمہ: اور لوگ ایک ہی امت تھے۔

(کنزالایمان، البقرہ، ۲۱۳)

’’و ما کان الناس الا امۃ واحدۃ فاختلفوا‘‘ ترجمہ: اور لوگ ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوئے۔ (کنز الایمان،یونس،۱۹)

’’قل یٰایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘

ترجمہ: تم فرمادو اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

(کنزالایمان ،اعراف، ۱۵۸)

چوں کہ آقا حضور ﷺ کل انسانوں کے رسول ہیں، رسول انسانیت ہیں، رب کائنات نے انہیں سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ ارشاد ربانی ہے:…’’و ما ارسلنٰک الا رحمۃ للعلمین‘‘ ترجمہ: اور ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے۔ (کنزالایمان،الانبیاء:۱۰۷)

’’الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا‘‘ ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام دین پسند کیا۔ (کنزالایمان،مائدہ:۳)

خود حضور رسالت مآب ﷺ نے بھی اعلان فرمایا:…

’’اے اللہ کے نبیو! ہمارا دین ایک ہے‘‘ (بخاری شریف)

یعنی ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا۔

چوں کہ سارے نبیوں کا دین اسلام ہی تھا اور دنیا کے سارے انسان، خطہ و علاقہ اور عہد کے مطابق انہیں ہادیانِ کرام کی امت میں تھے، لہٰذا ثابت ہوا کہ اسلام ہی سارے انسانوں کا دین ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے آقا حضور سیدنا محمد رسول اللہا تمام انسانوں کے رسول ہیں اور وہی کل جہاں کے لئے رحمت ہیں۔ لہٰذا اس سے بھی ثابت ہوا کہ اسلام ہی کل انسانوں کا دین ہے۔

چوں کہ اسلام ہی سارے انسانوں کا دین ہے اس لئے اللہ رب العزت نے سب کے لئے ایک مرکز قائم فرمایا، ارشاد فرماتا ہے: …’’ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا و ہدیً للعالمین فیہ آیٰت بینٰت مقام ابراہیم و من دخلہ کان آمنا و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العٰلمین‘‘ ترجمہ:بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہاں کا راہنما، اس میں کھلی نشانیاں ہیں، ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو کوئی اس میں آئے امان میں ہو اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہاں سے بے پرواہ ہے۔

(البقرہ:۹۶،۹۷…کنزالایمان)

قرآنی آیات اور سرکار ابد قرارﷺ کی حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اسلام ہی دینِ الٰہی ہے، یہی سارے نبیوں اور رسولوں کا دین ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دین کو حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ا پر کامل فرمایا۔ رہتی دنیا تک چوں کہ حضور ا کی نبوت و رسالت قائم رہے گی اور اسلام ہی کی حکمرانی رہے گی۔

اسلام در اصل دینِ فطرت ہے یہی سب کا دین ہے، ہر انسان کا دین ہے، رنگ و نسل، خطہ و علاقہ، عہد و عصر اور جنس و عمر کی تخصیص کے بغیر اور اسی لئے اس کا ہر اصول اور قانون انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اس نے انسان کو زندگی کا سلیقہ اور بندگی کا طریقہ بخشا ہے۔ یہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کی فطرت پر خالقِ کائنات اللہ رب تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے۔

ارشادِ ربانی ہے:…’’اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی بنائی ہوئی چیز نہ بدلنا، یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے‘‘ (کنزالایمان… روم:۳۰)

حدیثِ پاک ہے:…’’بچہ اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر جب وہ بولنے لگتا ہے تو اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا لیتے ہیں، عیسائی بنا لیتے ہیں، مجوسی بنا لیتے ہیں‘‘ (الجامع الصغیر للسیوطی)

اسلام ہی دینِ فطرت بھی اور دینِ انسانیت بھی

’’اسلام دینِ انسانیت ہے‘‘ سے دو معانی مراد لئے جا سکتے ہیں۔

(۱)اسلام انسانیت یعنی آدمیت، بشریت کا دین ہے، یعنی سارے انسانوں کا دین ہے۔

(۲)انسانیت سے مراد ہے انسانی اقدار یعنی شرافت، انس، محبت، رحمدلی، اخلاق، تہذیب وغیرہ وغیرہ۔

پس اسلام سلامتی کا دین ہے، امن و آشتی کا دین ہے، اخلاق و تہذیب اور شرافت کا دین ہے، رأفت و رحمت اور محبت و رواداری کا دین ہے۔ اس کی دعوت، اسکی تعلیم، اس کی صداقت، اس کی محبت ہر انسان کو عام ہے۔

اسلام کی تعریف ایک مستشرق نے اس طرح کی ہے وہ اسلام کو انگریزی میں لکھتا ہے۔ ISLAM

اس کے پہلے حرف (I) سے مراد لیتا ہے (I) یعنی میں۔

دوسرے حرف (S) سے مراد لیتا ہے Shallیعنی (گا)

تیسرے حرف (L) سے مراد لیتا ہے Love یعنی محبت۔

چوتھے حرف (A) سے مراد لیتا ہے All یعنی سب۔

پانچویں حرف (M) سے مراد لیتا ہے Man Kind بنی نوعِ انسانی۔

مطلب ہوا:… "I shall love all Man kind”

یعنی میں سبھی انسانوں سے پیار کروں گا۔ اور لا ریب یہی اسلام ہے۔

اسلام کسی بھی انسان کے ساتھ ظلم، نا انصافی، کسی کی دل آزاری اور تعصب و فرقہ واریت کے سخت خلاف ہے۔ اسلام امن و آشتی کا علم بردار ہے۔ اصل ستیہ اور اہنسا (سچائی اور عدمِ تشدد۔ Truth and Non-Vorlence) کا علم بردار صرف اور صرف اسلام ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:…’’جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جلایا اس نے گویا سب لوگوں کو جلایا‘‘ (مائدہ:۳۲)

جانِ رحمت سیدنا محمد عربی ا کا ارشاد گرامی ہے:…’’مخلوق اللہ کا گھرانہ ہے۔ پس اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہی ہے جو اس کے گھرانے کے لئے فائدہ مند ہو‘‘ ۔

(طبرانی کبیر، طبرانی اوسط، حلیۃ الاولیا، شعب الایمان و غیرہا)

اسلام جو دینِ فطرت ہے، دینِ انسانیت ہے، رحمت و محبت ہے، جس نے انسان کو اس کے پیدا کرنے والے خالق و مالک اور اس کے معبود حقیقی کی معرفت عطا کی، جس نے انسان کو تہذیب و اخلاق اور شرافت و انسانیت کا درس دیا، جہاں گیری و جہاں بانی کے آداب سکھائے۔ افسوس اور حیرت بلکہ ظلم در ظلم!! کہ اعدائِ اسلام اور ظالمانِ زمانہ بالخصوص امریکہ و یورپ اور ایشیامیں ان کے ایجنٹ اسرائیل اور ہمارے ملک بھارت کی فرقہ پرست تنظیموں کے لیڈران اور ارکان، اسلام کو بدنام اور مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے اسلام پر دہشت گردی اور مسلمانوں پر دہشت گرد کا لیبل لگانے میں جٹے ہوئے ہیں۔ در اصل ان ظالمانِ زمانہ کو اسلام کی حقانیت سے سخت خطرہ ہے جو ان کے شیطانی مشن کے فروغ کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

٭ صرف اسلام ہی انسانیت کا محافظ اور عالمی امن کا ضامن ہے۔

٭ اسلام نے رواداری کا جو تصور پیش کیا ہے تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، یہاں تک کہ اس دور جدید میں بھی یہ تصور نہیں ملتا۔

٭ اسلام نے ذمی کافر کو مسلمانوں ہی کے سے حقوق دئے ہیں۔

٭ اسلام نے غلاموں کو آزادی سے ہمکنار کیا، جبری مزدوری، استحصال، ذخیرہ اندوزی، کالابازاری، سود خوری، بے پردگی، عیاشی، فحاشی اور تمام خرافات و خرابات کا سدِ باب فرما دیا۔

٭ انسان تو انسان اسلام نے تو حیوانات و نباتات کے تحفظ اور ان کی بے حرمتی پر روک لگا دی۔

٭ رحمتِ عالم ﷺ نے (۱)زندہ جانوروں کا گوشت کاٹنے سے منع فرمایا۔ (۲)کسی بھی جانور کو آگ میں جلانے سے منع فرمایا۔ (۳)جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایا۔ (۴)کسی بھی جانور کو بھوکا پیاسا رکھ کر ذبح کرنے سے منع فرمایا۔

اسلام کی سچائیوں اور اچھائیوں کو اجاگر کرنے کے لئے ایک دفتر ہی نہیں پوری عمر چاہئے۔ یہ ہر انسان کا دین ہے، اسلام ہی ہر انسان کا گھر ہے، یہیں امن ہے، ہر انسان کو اسلام کے گھر میں یعنی اپنے گھر میں لوٹ آنا چاہئے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.