أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعۡضَكُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ‌ ؕ لِلرِّجَالِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا اكۡتَسَبُوۡا ؕ‌ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّمَّا اكۡتَسَبۡنَ‌ ؕ وَسۡئَـلُوا اللّٰهَ مِنۡ فَضۡلِهٖ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا

ترجمہ:

اور تم اس چیز کی تمنا نہ کرو، جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم اس چیز کی تمنا نہ کرو جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض پر فضلیت دی ہے مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (النساء : ٣٢)

اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور اس کی عطا کے خلاف تمنا کرنے سے ممانعت : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو لوگوں کا مال ناجائز طریقہ سے کھانے سے منع فرمایا تھا اور اس آیت میں لوگوں کے اموال کی طمع اور خواہش کرنے سے بھی منع فرمایا تھا ‘ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پہلی آیت میں ظاہری اعضاء سے لوگوں کے مال میں تصرف کرنے سے منع فرمایا تھا اور اس آیت میں دل سے حسد کرنے سے بھی منع فرمایا ہے تاکہ ظاہر اور باطن میں موافقت ہو۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض مسلمانوں کو جو مال ‘ عزت اور مرتبہ کے اعتبار سے فضیلت دی ہے اور جو بھی ایسی نعمت عطا فرمائی ہے جس میں رغبت کی جاسکے اس کے حصول کی دوسرے تمنا نہ کریں نہ اس پر حسد کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ مالک ‘ مختار اور علیم اور حکیم ہے وہ جس کو چاہتا ہے نعمت عطا فرماتا ہے ‘ اس لئے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ کاش میرے پاس فلاں مال ہوتا یا فلاں نعمت ہوتی یا فلاں حسین عورت ہوتی۔ رشک کا معنی یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر انسان یہ دعا کرے کہ اس شخص کے پاس بھی یہ نعمت رہے اور اللہ مجھے بھی ایسی نعمت عطا کردے سو رشک کرنا جائز ہے ‘ اور حسد کا معنی یہ ہے کہ انسان یہ چاہے کہ مجھے یہ نعمت ملے یا نہ ملے اس شخص کے پاس یہ نعمت نہ رہے اور حسد جائز نہیں ہے۔ 

بعض علماء نے کہا ہے اس آیت کا یہ معنی ہے کہ کوئی مرد یہ تمنا نہ کرے کہ کاش وہ عورت ہوتا اور کوئی عورت یہ تمنا نہ کرے کہ کاش وہ مرد ہوتی ‘ اور بعض علماء نے یہ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مردوں کا حصہ عورتوں سے دگنا کیا تو بعض عورتوں نے کہا ہم چونکہ صنف ضعیف ہیں اور ہم کو مال کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو ہمارا حصہ دگنا ہونا چاہیے تھا ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے۔ اس آیت کے شان نزول کے متعلق تین روایات ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کرتی اور ہمارئے لئے آدھی میراث ہے 

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ عورتوں نے جہاد کا سوال کیا اور انہوں نے کہا ہماری بھی یہ خواہش ہے کہ ہم بھی مردوں کی طرح جہاد کریں اور ہمیں بھی انکی طرح اجر ملے۔ 

قتادہ اور سدی نے بیان کیا ہے کہ مردوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح ہم کو وراثت میں دگنا حصہ دیا جاتا ہے ہماری عبادتوں کا بھی ہم کو عورتوں سے دگنا اجر ملے اور عورتوں نے کہا ہم یہ چاہتی ہیں کہ ہمارے آدھے گناہ مردوں پر ڈال دیئے جائیں ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٤٩۔ مطبوعہ ایران) 

اس کے بعد فرمایا اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو ‘ یعنی اللہ سے اپنے اعمال کا صلہ نہ مانگو اور نہ اللہ تعالیٰ سے اس کے عدل کی بناء پر سوال کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور افضل عبادت کشادگی کا انتظار کرنا ہے (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 32