وَلِكُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِىَ مِمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ عَقَدَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ فَاٰ تُوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 33

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِكُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِىَ مِمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ عَقَدَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ فَاٰ تُوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدًا

ترجمہ:

اور ہم نے ہر شخص کو ترکہ کے لیے وارث مقرر کردیے ہیں اولاد اور قرابت دار اور وہ لوگ جن سے تمہارا عہد ہوچکا ہے سو تم انھیں ان کا حصہ دے دو بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ہر شخص کے ترکہ کے لئے وارث مقرر کردیئے ہیں۔ اولاد ‘ قرابت دار اور وہ لوگ جن سے تمہارا عہد ہوچکا ہے سو تم انہیں ان کا حصہ دو بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (النساء : ٣٣)

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس انسان کا مال اور ترکہ ہے ہم نے اس کے لئے وارث بنادیئے ہیں پھر ان وارثوں کا بیان فرمایا وہ اس کی اولاد اور اس کے قرابت دار ہیں اور وہ لوگ ہیں جن سے تمہارا عہد ہوچکا ہے۔ 

امام ابن جریر نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ روایت کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص دوسرے شخص سے (جس سے اس کی نسبی قرابت نہیں ہوتی تھی) یہ عہد کرتا کہ میرا خون تمہارا خون ہے اور میرا نقصان تمہارا نقصان ہے تم میرے وارث ہو گے اور میں تمہارا وارث ہوں گا تم مجھ سے مطالبہ کرنا اور میں تم سے مطالبہ کروں گا پھر زمانہ اسلام میں اس کا چھٹا حصہ مقرر کردیا گیا اس کا حصہ نکالنے کے بعد باقی ورثہ میں ترکہ تقسیم کیا جاتا تھا پھر جب سورة انفال میں یہ آیت نازل ہوئی : 

(آیت) ” واولوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ “۔ (الانفال : ٧٥) 

ترجمہ : اور قرابت دار ایک دوسرے کے ساتھ اللہ کی کتاب میں زیادہ حقدار ہیں۔ 

اس آیت کے نزول کے بعد جس شخص سے کسی نے عہد کیا تھا اس کی وراثت منسوخ ہوگئی۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٣٤) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٢ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب یہ ہے کہ جب کسی شخص نے کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور انہوں نے یہ عہد کیا کہ وہ اس کی دیت ادا کرے گا اور اس کا وارث ہوگا تو اس کا دیت ادا کرنا صحیح ہے اور اگر اس کا کوئی اور نسبی وارث نہ ہو تو پھر وہ شخص اس کا وارث ہوگا۔ (روح المعانی ج ٥ ص ٢٢) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی لکھتے ہیں : 

اس آیت کی تفسیر میں چار قول ہیں : 

(١) جاہلیت میں جو لوگ ایک دوسرے سے ایک دوسرے کا وارث ہونے کا عہد کرتے اس آیت میں وہ لوگ مراد ہیں اور سورة انفال کی آیت سے یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ 

(٢) اس سے وہ مہاجرین اور انصارمراد ہیں جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دوسرے کا بھائی بنادیا تھا۔ 

(٣) اس سے وہ لوگ ہیں مراد ہیں جن کو زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنا بیٹا بنا لیا کرتے تھے حالانکہ وہ کسی اور کے بیٹے ہوتے تھے ‘ پہلے قول کے متعلق امام شافعی ‘ امام مالک اور امام احمد کا یہ مذہب ہے وہ سورة انفال کی آخری آیت سے منسوخ ہوگیا۔ rnّ (٤) امام ابوحنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ یہ حکم اب بھی باقی ہے البتہ عصبات اور ذوالارحام اس شخص پر مقدم ہیں جس سے عہد کیا گیا وہ نہ ہوں تو اس کو عہد کرنے والے کی وراثت ملے گی۔ 

اور ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس شخص سے تم نے وراثت کے علاوہ مدد کرنے اور خیر خواہی کا معاہدہ کیا ہے اس معاہدہ کو پورا کرو ‘ کیونکہ زمانہ جاہلیت میں صرف ایک دوسرے کی مدد کرنے کا معاہدہ ہوتا تھا اس کے سوا نہیں ہوتا تھا اور اسلام نے اس کو متغیر نہیں کیا بلکہ اور پختہ کیا ہے۔ یہ سعید بن جبیر کا قول ہے اور یہ آیت محکم ہے۔ (زاد المسیر ج ٢ ص ٧٢) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام میں حلف نہیں ہے حلف صرف جاہلیت میں ہوتا تھا اور اسلام میں اس حلف کی شدت میں اور اضافہ کیا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٣٠‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٩٢٥‘ مسند احمد ج ٤ ص ٨٣) 

اس حدیث میں غیر شرعی باتوں پر حلف اٹھانے کی ممانعت ہے اور ایک دوسرے کا وارث بنانے پر حلف اٹھانے کی ممانعت ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے لیے جو حلف اٹھایا جائے اس حلف کی شدت میں اور اضافہ کیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 33

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.