ہر بہتے خون سے وضو ہے

حدیث نمبر :317

روایت ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے وہ تمیم داری سے ۱؎ راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بہتے خون سے وضو ہے۲؎ان دونوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیااور فرمایا کہ عمربن عبدالعزیز نے تمیم داری سے نہ سنا نہ انہیں دیکھااور یزیدابن خالداور یزیدابن محمدمجہول لوگ ہیں۳؎

شرح

۱؎ آپ کا نام تمیم ابن اوس یاتمیم ابن خارجہ ہے،دار آپ کے کسی دادا کا نام ہے،جس کی کنیت ابورقیہ تھی،آپ مشہور صحابی ہیں، ۹ھ؁ میں ایمان لائے،رات کو ایک رکعت میں قرآن ختم کرتے تھے،آپ نے ہی اولًا مسجد نبوی شریف میں چراغاں کیا،مدینہ منورہ میں قیام رہا،حضرت عثمان کی شہادت کے بعد شام چلے گئے،وہیں وفات پائی۔اورحضرت عمر بن عبدالعزیز ابن مروان ابن حکم تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابو حفص ہے،آپ کی والدہ کا نام لیلےٰ بنت عاصم بن عمرابن خطاب ہے،کنیت ام عاصم،سلیمان ابن عبدالملک کی خلافت کے بعد آپ خلیفہ ہوئے، ۹۹ھ ؁میں خلافت سنبھالی اور ۱۰۱ھ؁ میں ماہ رجب مقام دَیر سمعان میں قریب حمّص انتقال ہوا،چالیس سال عمر ہوئی،دو سال پانچ مہینے خلافت کی،فاطمہ بنت عبدالملک آپ کے نکاح میں تھیں،آپ جیسے عابد،زاہد،خوف خدا میں رونے والے امت مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں کم گزرے،آپ عدل و انصاف میں عمر فاروق کا نمونہ تھے،یزید وغیرہ کی بدعتوں کا آپ نے قلع قمع کیا۔

۲؎ یعنی جو خون بہہ کر جسم کے اس حصہ کی طرف آجائے جس کا دھونا غسل میں فرض ہے وہ ناقض وضو ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ خون وضو توڑتا ہے۔حضرت امام شافعی اس کے خلاف ہیں۔

۳؎ مصنف نے اس حدیث پر دو اعتراض کئے:ایک یہ کہ یہ حدیث مرسل ہے کہ بیچ میں ایک راوی چھوٹ گیا ہے۔دوسرے یہ کہ اس کی اسناد میں دو راوی مجہول ہیں۔مگرخیال رہے کہ حنفیوں کے نزدیک حدیث مرسل قابلِ عمل ہے،نیزحنفیوں کے اس مسئلے کا مدار صرف اس حدیث پر نہیں،بلکہ بخاری،ابن ماجہ،ترمذی،طبرانی،موطا امام مالک،ابوداؤد وغیرہم کی بہت سی احادیث پر ہے۔چنانچہ بخاری میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت ابی جیش سے فرمایا کہ جب تمہارے حیض کا زمانہ نکل جائے تو استحاضہ کے زمانہ میں ہر نماز کے لیے نیا وضوکرو۔اگر خون وضو نہیں توڑتا تو استحاضہ والی عورت معذور کیوں قرار دی گئی،نیز ابوداؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ حضورفرماتے ہیں اگر نمازمیں کسی کی نکسیر پھوٹ جائے تو نماز چھوڑکر وضوکرے،پھرنماز پوری کرے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب جاء الحق حصہ دوم میں دیکھو۔خیال رہے کہ بہتا خون بحکم قرآن نجاست ہے اور نجاست کا نکلنا وضوتوڑتا ہے۔ایسی صحیح مرفوع حدیث فقیر کی نظر سے نہ گزری جس میں ہو کہ خون ناقض وضو نہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.