صحابہ نے عمل سے کتابت حدیث کا ثبوت دیا

صحابہ نے عمل سے کتابت حدیث کا ثبوت دیا

اولاً بعض صحابہ کرام کو کتابت حدیث میں تامل رہا ،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کتابت کی وجہ سے حفظ وضبط کا وہ اہتمام نہیں رہ سکے گا اور اسکی جانب وہ توجہ باقی نہ رہے گی ، اس طرح سفینوں کا علم سینوں کو خالی کردیگا ،آئندہ صرف تحریریں ہونگی جن پر اعتماد ہوگا اور انکے پیچھے حافظہ کی قوت نہ ہوگی کہ غلطیوں کی تصحیح ہوسکے ،لہذا حذف واضافہ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور تحریف کے دروازے کھل جائیں گے ، منافقین اور یہودونصاری کو روایات میں تغیروتبدل کا موقع مل جائے گا، اس طرح دین کی بنیادوں میں رخنہ اندازی شروع ہوسکتی ہے ،ان وجوہ کی بنا پر کچھ ایام بعض صحابہ کرام کو تذبذب رہا ،لیکن اسلام جب دور دور تک پھیل گیا ، اور خوب قوت حاصل ہوگئی تو مندرجہ بالا خدشات کی جانب سے اطمینان ہوگیا اورقرآن مجید کی طرح رفتہ رفتہ حدیث کی کتابت پر بھی سب متفق ہوگئے ۔ ہاں مگر ان حضرات صحابہ کے درمیان یہ طریقہ بھی رائج تھا کہ کتابیں دیکھ دیکھ کر احادیث بیان نہیں کی جاتی تھیں ، اسی وجہ سے ان تحریری مجموعوں کو کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوسکی پھر کافی تعداد میں صحابہ کرام نے اس فریضہ کو انجام دیا جس کی قدرے تفصیل اس طرح ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو پہلے کتابت حدیث کے سخت مخالف تھے لیکن بعد میں وہ عملی طور پر اس میدان میں اتر آئے اور آخر میں ان کی مجالس کا یہ طریقہ تھا ۔

حضرت سعید بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔

کنت اکتب عند ابن عباس فی صحیفۃ (السنن للدارمی، ۹۶)

میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں اوراق پر احادیث لکھتاتھا۔

حضرت موسی بن عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ۔

وضع عندنا کریب حمل بعیر اوعدل بعیر من کتب ابن عباس ،قال :

فکان علی بن عبداللہ بن عباس اذا اراد الکتاب کتب الیہ ابعث علی بصحیفۃ کذاکذا ،قال : ینسخھا فیبعث الیہ احداہما ( کتاب العلل للترمذی، الطبقات الکبری لا بن سعد، ۵/۲۱۶)

حضرت کریب نے ہمارے پاس ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی کتابیں رکھیں ۔حضرت علی بن عبداللہ بن عباس جب کوئی کتاب چاہتے تو انہیں لکھدیتے کہ مجھے فلا ں صحیفہ بھیجدو ،وہ اسے نقل کرتے اور ان میں سے ایک بھیج دیتے۔

انکی یہ تصانیف انکی زندگی ہی میں دوردور تک پھیل گئی تھیں ،اس سلسلہ میں امام طحاوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ان کا بیان نقل کیا ہے ۔

عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان ناسا من اہل الطائف اتوہ بصحیفۃ من صحفہ لیقرء ھا علیہم ،فلما اخذہالم ینطلق فقال : انی لما ذھب بصری بلھت فاقرأوھاعلی ،ولایکن فی انفسکم من ذلک حرج ،فان قرأ تکم علی کقرأنی علیکم۔ (شرح معانی الآثار، للطحاوی، ۲/۳۸۴)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ طائف کے کچھ لوگ انکے پاس انکی کتابوں سے ایک کتاب لیکر آئے تاکہ وہ انہیں پڑھکر سنائیں ،حضرت ابن عباس نے جب وہ کتابیں لیں تو پڑھ نہ سکے ،فرمایا: جب سے میری نگاہ جاتی رہی میں بیکار ہوگیا ہوں ،تم لوگ خود میرے سامنے پڑھو اوراس میں کچھ حرج نہ سمجھو ،میرے سامنے تمہارا پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے کہ میں تمہارے سامنے پڑھوں ۔

تصانیف کی اس کثرت سے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیئے ،کیونکہ آپ نے علم حدیث کی تحصیل میں غیر معمولی کوشش اور محنت سے کام لیاتھا ۔اسکی تفصیل آپ گذشتہ پیغامات میں پڑھ چکے ہیں ۔

درس 025: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 025: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَالْكَلَامُ فِي الِاسْتِنْجَاءِ) فِي مَوَاضِعَ فِي بَيَانِ صِفَةِ الِاسْتِنْجَاءِ، وَفِي بَيَانِ مَا يُسْتَنْجَى بِهِ، وَفِي بَيَان مَا يُسْتَنْجَى مِنْهُ.

استنجاء کے حوالے سے گفتگو کچھ حصوں پرمشتمل ہے، استنجاءکی شرعی حیثیت، کن چیزوں سے استنجاء کیا جاسکتا ہے اور کن ناپاکیوں سے استنجاء کیا جاتا ہے۔

أَمَّا الْأَوَّلُ: فَالِاسْتِنْجَاءُ سُنَّةٌ عِنْدَنَا، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ فَرْضٌ

استنجاء کی شرعی حیثیت: ہم احناف کے نزدیک استنجاء سنت (موکدہ) ہے، اور امام شافعی کے نزدیک فرض ہے۔

حَتَّى لَوْ تَرَكَ الِاسْتِنْجَاءَ أَصْلًا جَازَتْ صَلَاتُهُ عِنْدَنَا، وَلَكِنْ مَعَ الْكَرَاهَةِ، وَعِنْدَهُ لَا يَجُوزُ

لہذا اگر کسی نے بالکل بھی استنجاء نہیں کیا تو ہمارے نزدیک اسکی نماز کراہت کے ساتھ جائز ہے، اور امام شافعی کے نزدیک جائز نہیں ہے۔

وَالْكَلَامُ فِيهِ رَاجِعٌ إلَى أَصْلٍ نَذْكُرُهُ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَهُوَ أَنَّ قَلِيلَ النَّجَاسَةِ الْحَقِيقِيَّةِ فِي الثَّوْبِ وَالْبَدَنِ عَفْوٌ فِي حَقِّ جَوَازِ الصَّلَاةِ عِنْدَنَا، وَعِنْدَهُ لَيْسَ بِعَفْوٍ

اور اس مسئلہ میں اصل کلام جسے ان شاء اللہ ہم ذکر کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم احناف کے نزدیک نمازدرست ہونے کے سلسلے میں نجاستِ حقیقیہ کی قلیل (تھوڑی) مقدار کا کپڑے یا بدن پر لگ جانا معاف ہے، جبکہ امام شافعی کے نزدیک معاف نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

استنجاء پر گفتگو کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ بھی معلوم ہوچکا ہے سبیلین (اگلے اور پچھلے مقام) سے خارج ہونے والی گندگی سے طہارت حاصل کرنے کو استنجاء کہتے ہیں۔

علامہ کاسانی نے فرمایا کہ ہم احناف کے نزدیک استنجاء سنت ہے، اس سے سنتِ موکدہ مراد ہے۔

*استنجاءسنت ہے فرض کیوں نہیں۔۔۔؟*

ہم کئی کتب میں موجود ابحاث کوکچھ تفصیل کچھ اختصار کے ساتھ بیان کررہے ہیں ۔۔!

اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب انسان کے پچھلے مقام سے نجاست خارج ہوتی ہے تو اس کے *مقعد*(یعنی نجاست نکلنے کی جگہ) پر کچھ نجاست لگ جاتی ہے اور وہ اتنی قلیل ہوتی ہے کہ بغیر اہتمام کے نجاست کا مکمل ازالہ بہت مشکل ہوتا ہے، نیز نجاست کی قلیل مقدار کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو اسکے معاف ہونے پر فقہاء کا اجماع ہے، پھر جلیل القدر صحابہ کرام حضرت عمر فاروق، حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایات موجود ہیں کہ وہ درہم جتنی قلیل نجاست کو قابلِ معافی قرار دیتے تھے۔

اور اصول یہ ہے کہ *مقدار* ان اشیاء میں سے ہے جس پر اجتہادی رائے نہیں چلتی لہذا صحابہ کرام علیہم الرضوان کا کسی شے کی مقدار بیان کرنا اس بات پر محمول ہوتا ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس سے متعلق سن کر ہی عمل کیا ہوگا۔

یہ اصول *کتبِ اصول* میں موجود ہے۔ علامہ شامی نے بھی یہی بات لکھی ہے: وَهُوَ مِمَّا لَا يُعْرَفُ بِالرَّأْيِ فَيُحْمَلُ عَلَى السَّمَاعِ

(اس سے علماء نے داڑھی کی مقدار پر بھی استدلال کیا ہے کہ ایک مشت ہے)

لہذا *مقعد* پر جتنی نجاست لگتی ہے اتنی نجاست کو نماز درست ہونے کے لئے معاف رکھا گیا۔۔لیکن بدن پر اتنی نجاست کا بھی لگا رہنا کامل طہارت کے خلاف ہے لہذا اسے فرض تو قرار نہیں دیا گیا مگر خلافِ سنت قرارد دیا گیا اور اس سے طہارت حاصل کرنا سنت قرار پایا، نیز اس کا فرض نہ ہونا حدیث شریف سے بھی ثابت ہے جیسا کہ اگلے درس میں دلیل آئے گی۔

لہذا ثابت ہوا کہ استنجاء کرنا سنت ہے لیکن سنت اسی وقت ہے جب نجاست مقعد پر موجود ہو اگر مقعد سے تجاوز کرجائے یعنی آس پاس جگہ پھیل جائے تو اب پانی سے دھونا فرض ہے۔

*مقعد یا درہم*

مختلف کتب فقہ میں لکھا ہے کہ نجاست کی قلیل مقدار معاف ہونے کے لئے *درہم* کی جو مقدار ذکر کی گئی ہے دراصل یہ *مقعد* کی جگہ ہے اور مقعد وہ جگہ ہے جہاں سے نجاست خارج ہوتی ہے، ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنی مجلسوں میں *مقعد* کا لفظ بار بار استعمال کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے تو انہوں نے اشارۃ کنایۃ *درہم* کا لفظ استعمال شروع کردیا ۔

*درہم کی پیمائش*

گاڑھی نجاست جیسے پاخانہ تو اسکی پیمائش 4.375 گرام ہے۔۔ اتنی مقدار درہم شمار ہوگی۔

درہم کی مقدار جو دراصل مقعد پر لگنے والی نجاست کی پیمائش ہے ۔۔ طہارت کے دیگر مسائل میں بنیاد فراہم کرتی ہے۔

رہی یہ بات کہ امام شافعی کے نزدیک نماز جائز نہیں ہے تو ان کے ہاں بھی قلیل مقدار معاف ہے جس کی تفصیل علامہ کاسانی خود آگے بیان کریں گے۔

ہم نے مذکورہ تمام گفتگو کتبِ معتبرہ کے ملاحظہ کے بعد نقل کی ہے، جنہیں حوالہ درکار ہو پرسنل پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

*ابو محمد عارفین القادری*

تالیفاتِ فقہ حنفی کی أنواع:

تالیفاتِ فقہ حنفی کی أنواع:

منقول من سعد محمد بالتصرف الیسیر والزیادات أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی)

==============================

فقہ حنفی کی تالیفات کو مختلف کٹیگریز اور حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہم ان کو سات حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:

1۔اصول

2۔متون ومختصرات

3۔منظومات

4۔شروحات،حواشی،تعلیقات

5۔کتب الخلاف

6۔فتاوی

7۔مؤلفات خاصہ

8-کتب أحکام القرآن

9-کتب أحادیث الاحکام

[1]۔۔۔اصول:اس سے امام محمدؒ کی چھ کتابیں مراد ہیں جو فقہ حنفی کی بنیادیں ہیں۔ان کتابوں کے مسائل کو ظاہر الروایہ بھی کہتے ہیں۔وہ چھ کتابیں یہ ہیں:

1۔کتاب الاصل(المبسوط للشیبانی)

2۔الجامع الصغیر

3۔الجامع الکبیر

4۔السیر الصغیر

5۔السیر الکبیر

6۔الزیادات

[2]۔۔۔متون ومختصرات:یہ وہ کتابیں ہیں جن میں مختصر الفاظ کے اندر وسیع معانی کو سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ان میں کچھ بہت ہی مختصر، کچھ متوسط اور کچھ میں تھوڑی تفصیل بھی ہے۔ان کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

1۔متقدمین کے متون:

کتاب الکافی،للحاکم

مختصر الکرخی

مختصر الطحاوی

مختصر القدوری

2۔متاخرین کی متون:

کنز الدقائق،نسفی

وقایۃ الروایہ فی مسائل الہدایہ،محبوبی

المختار للفتوی،موصلی

مجمع البحرین وملتقی النیرین،ابن ساعاتی

النقایۃ(مختصر الوقایہ)محبوبی

3۔جامع متون:

بدایۃ المبتدی،للمرغینانی

تحفۃ الفقہاء،علاء الدین سمرقندی

الفقہ النافع،ابو القاسم سمرقندی

ملتقی الابحر،حلبی

عیون المذاہب،کاکی

4۔متون جدیدہ:

غرر الحکام،ملاخسرو

تنویر الابصار،تمرتاشی

الاصلاح،کمال پاشا

مواہب الرحمن فی مذہب ابی حنیفہ النعمان،طرابلسی

مخزن الفقہ،اماسی

مجلۃ الاحکام العدلیہ

بہار شریعت مولانا أمجد أعظمی

تیسیر فی الفقہ الحنفی خلاصۃ حاشیہ ابن عابدین صاغرجی

5۔متون صغیرہ:

زاد الفقیر،ابن الہمام

منیۃ المصلی،کاشغری

نور الایضاح،شرنبلالی

[3]۔۔۔منظومات:یہ وہ کتابیں ہیں جن میں فقہاء حنفیہ نے منظوم کلام میں فقہ مسائل بیان کیے ہیں:

منظومۃ کنز الدقائق،مقدسی

منظومۃ الخلافیات،نجم الدین نسفی

لمعۃ البدر،فراہی

مستحسن الطرائق،ابن فصیح

قید الشرائد ونظم الفرائد،ابن وہبان

در المہتدی وذخر المقتدی،ہاملی

الفرائد السنیۃ،کواکبی

خلاصۃ التنویر وذخیرۃ المحتاج والفقیر،محاسنی

تحفۃ الطلاب،ابوبکر الملا

الفتاوی النظم،ابن حمزہ

حمید الآثار فی نظم تنویر الابصار،جعفری

[4]۔۔۔شروحات،حواشی،تعلیقات:اس کے تحت ان کتابوں کے نام مذکور ہیں جو کسی دوسری کتاب(متن،یا منظوم)کی شرح ہے یا اس پر حاشیہ اور تعلیق وغیرہ :

شرح الجامع الصغیر،بزدوی

شرح السیر الکبیر،سرخسی

شرح الجامع الصغیر،سمرقندی

شرح الجامع الصغیر،کردری

شرح الجامع الصغیر،صدر الشہید

شرح الجامع الصغیر،عتابی

شرح الزیادات،عتابی

شرح الجامع الصغیر،قاضی خان

شرح الزیادات،قاضی خان

شرح الجامع الصغیر، حسام الدین رازی

الوجیز شرح الجامع الکبیر،حصیری

التحریرفی شرح الجامع الکبیر،حصیری

التیسیر بمعانی الجامع الکبیر،خلاطی

النافع الکبیر لمن یطالع الجامع الصغیر،لکھنوی

المبسوط شرح الکافی،سرخسی

شرح مختصر الطحاوی،جصاص

شرح مختصر الطحاوی،اسبیجابی

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،شرح تحفۃ الفقہاء،کاسانی

الہدایہ شرح بدایہ المبتدی،مرغینانی

خلاصۃ الدلائل وتنقیح المسائل،حسام الدین رازی

کتاب النافع فی فوائد النافع،رامشی

الاختیار لتعلیل المختار،الموصلی

المستصفیٰ من المستوفی،حافظ الدین نسفی

تبیین الحقائق،زیلعی

شرح الوقایۃ ،محبوبی

غایۃ البیان،اتقانی

المنبع شرح المجمع،عینتابی

عقد القلائد فی حل قید الشرائد،ابن وہبان

کتاب الینابیع فی معرفۃ الاصول والتفاریع،رومی

العنایۃ شرح الہدایہ،بابرتی

الجوہرۃ النیرۃ شرح القدوری،حداد

شرح النقایۃ مختصر الوقایۃ،رومی

شرح الوقایہ،ابن ملک

السعایۃ فی شرح الوقایۃ،لکھنوی

عمدۃ الرعایۃ شرح الوقایۃ،لکھنوی

البنایۃ فی شرح الہدایۃ،عینی

رمز الحقائق فی شرح کنز الدقائق،عینی

فتح القدیر شرح الہدایہ،ابن ہمام

نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار،قاضی زادہ

درر الحکام شرح غرر الحکام،ملا خسرو

ذخیرۃ العقبیٰ، توقانی

مستخلص الحقائق،قاری

تفصیل عقد القلائد بتکمیل قید الشرائد،ابن شحنہ

البرہان شرح مواہب الرحمن فی مذہب ابی حنیفہ النعمان،طرابلسی

شرح مختصر الوقایہ،برجندی

فتح باب العنایۃ فی شرح مختصر الوقایۃ،ملا علی قاری

جامع الرموز ،قہستانی

البحر الرائق شرح کنز الدقائق،ابن نجیم۔،وتکملتہ ،للطوری

مجری الانھر علی ملتقی الابحر،باقانی

مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر،افندی

الدر المنتقی،حصکفی

الایضاح شرح الاصلاح،کمال پاشا

مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، شرنبلالی

منح الغفار لشرح تنویر الابصار،تمرتاشی

النھر الفائق شرح کنز الدقائق،ابن نجیم الصغیر

تیسیر المقاصد شرح نظم الفرائد،شرنبلالی

رمز الحقائق شرح کنز الدقائق،مقدسی

الدر المختار شرح تنویر الابصار،حصکفی

کشف الرمز عن خبایا الکنز،حموی

قرۃ عیون الاخیار تکملۃ رد المحتار،محمد علاء الدین

اللباب فی شرح الکتاب،شرح قدوری،میدانی

تسہیل القدوری،برنی

حاشیۃ الشرنبلالی علی غرر الحکام،شرنبلالی

حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار،طحطاوی

حاشیۃ الحلبی علی الدر المختار،حلبی

حاشیۃ السندی علی الدر المختار،عابد السندی

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، طحطاوی

حاشیہ ابن عابدین علی الدرالمختار،ابن عابدین شامی

حاشیہ علی الہدایۃ،خیازی

حاشیہ الشلبی علی تبیین الحقائق،ابن یونس شلبی

منحة الخالق،حاشیہ ابن عابدین علی البحر

[5]۔۔۔کتب الخلا ف: وہ کتابیں جن میں اصلا وہ مسائل بیان کیے گئے ہیں جن میں فقہاء کا اختلاف ہیں،دیگر مسائل کو تبعا اور ضمنا بیان کیا گیا ہے:

مختصر اختلاف العلماء،جصاص

الاسرار،ابوزید دبوسی

رؤوس المسائل،زمخشری

طریقۃ الخلاف،اسمندی

حقائق المنظومۃ،افشنجی

اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب،منبجی

المصفیٰ،حافظ الدین نسفی

زبدۃ الاحکام فی اختلاف الائمہ الاعلام،غزنوی

التجرید،مرغینانی

التجنیس والمزید،مرغینانی

[6]۔۔۔فتاوی:

خلاصۃ الفتاوی،بخاری

فتاوی قاضی خان

قنیۃ المنیہ،زاہدی

الفتاوی التاتارخانیۃ،اندربتی

جامع الفتاوی،حمیدی

مہمات المفتی،ابن کمال پاشا

الفتاوی الزینیہ،ابن نجیم

الفتاوی العدلیہ،آیدینی

الفتاوی البزازیہ،کردی

الفتاوی الولوالجیہ،ولوالجی

الفتاوی السراجیۃ،اوشی

جامع الفصولین،سماوہ

فتاوی مہدیہ،مہدی

فتاوی التمرتاشی

معین المفتی علی جواب المستفتی،تمرتاشی

الفتاوی الخیریہ،رملی

الفتاوی الانقرویہ،انقروی

الفتاوی الہندیہ،لجنۃ العلماء

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،ابن عابدین

کتاب النوازل،ابو اللیث سمرقندی

مختارات النوازل،مرغینانی

محیط البرہانی،برہان الدین سنبھلی

النتف فی الفتاوی،سعدی

الحاوی القدسی،غزنی

فتاوی رضویۃ لأعلیحضرت احمد رضا خان بریلوی

[7]۔۔۔مؤلفات خاصہ: ان سے وہ کتابیں مراد ہیں جو کسی خاص موضوع یا تمام ابواب کے بجائے چند موضوعات پر مشتمل ہیں:

کتاب الخراج،ابو یوسف

الرد علی سیر الاوزاعی،ابویوسف

اختلاف ابی حنیفہ و ابن ابی لیلی،ابویوسف

الحجۃ علی اہل المدینہ،شیبانی

الکسب،شیبانی

اصول العلاقات الدولیہ،شیبانی

کتاب الشروط الصغیر،طحاوی

شرح کتاب النفقات،صدر الدین شہید

جامع احکام الصغار،استروشنی

کتاب الفصول،استروشنی

تحفۃ الملوک،رازی

منیۃ المصلی وغنیۃ المبتدی،کاشغری

نصاب الاحتساب،سنامی

منحۃ السلوک فی شرح تحفۃ الملوک،عینی

موجبات الاحکام وواقعات الایام،ابن قطلوبغا

الاسعاف فی احکام الاوقاف،طرابلسی

غنیۃ المتملی فی شرح منیۃ المصلی،حلبی

مختصر غنیۃ المتملی،حلبی

مسعفۃ الحکام علی الاحکام،تمرتاشی

مجمع الضمانات،بغدادی

ہدیۃ ابن العماد لعباد العباد،عمادی

فقہ الملوک ومفتاح الرتاج المرصد علی خزانۃ کتاب الخراج،رحبی

خلاصۃ الکیدانی

أحكام القرآن :

أحكام القرآن للجصاص الرازي

أحكام القرآن للطحاوي

أحکام القرآن لابن الصلاح

أحاديث الأحكام:

الحجة على أهل المدينة لإمام محمد

الحجة الصغيرة لعيسى بن أبان

الآثاران للقاضي أبي يوسف ومحمد

شرح معاني الاثار للطحاوي

شرح مسند الإمام أبي حنيفة ملا علي قاري

عقود الجواہر المنیفہ فی أدلۃ مذہب الامام أبی حنیفہ للزبیدی

اللباب في الجمع بين الكتاب والسنة لأبي محمد المنبجي

إعلاء السنن للتهانوي

یہ من حیث القصر نہیں بلکہ من حیث التوضیح ہیں۔

غلبہ اسلام کیلئے اصل ہتھیار کیا ہونا چاہئیے؟

غلبہ اسلام کیلئے اصل ہتھیار کیا ہونا چاہئیے؟

تاریخ تو یہ کہتی ہے کہ ٹیکنالوجی جہاں بھی گئی وہاں سے مذہب، روایت، اخلاقیات اور باہمی ایثار و قربانی کے جذبات کا جنازہ اٹھ گیا۔۔۔اِدھر ہمارے دیسی افلاطون یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہم سائنس و ٹیکنالوجی کی "پوجا” محض اس لئے کر رہے ہیں تاکہ اسلام کو غالب لایا جا سکے!!!

یاد رکھئیے جدید سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی اور مذہب بالعکس متناسب ہیں، ان دونوں کا باہمی تعلق تعاون کا نہیں بلکہ بیخ کنی کا ہے۔ میں یہ بات پہاڑ میں کندہ تک کروا دینے کیلئے تیار ہوں کہ جدید ٹیکنالوجی اور مذہب ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان دونوں کی فطرت یکسر مختلف ہے۔ مذہب تسخیر ذات کا داعی ہے جبکہ جدید سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی تسخیر ذات کے تصور کو جڑ سے اکھاڑ کر تسخیر کائنات کا ٹُول ہے!

یہ بھی ذہن نشین فرما لیجئیے کہ مغرب سے جنگ کا اصل میدان ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایپسٹیمولوجی ہے! ہم مسلمانوں کو اپنی علمیت یعنی دین اور نظرئیے کے ساتھ مخلص ہونا ہو گا تبھی ہم مغرب پر غلبہ پا سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی میں ترقی سے مغرب کو کبھی بھی ہرایا نہیں جا سکتا۔۔۔کیونکہ ہماری تو ساری کی ساری ٹیکنالوجی مغرب ہی کی جُوٹھی ہے! مجھے آپ بتائیے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے پاس کون سی افرادی قوت تھی! کون سی ٹیکنالوجی تھی جو وہ مشرکین اور قیصر و کسریٰ سے ٹکرا گئے؟؟؟ تاتاریوں کے پاس کون سی ٹیکنالوجی تھی کہ وہ آدھی دنیا کے مسلمان حاکم کو روندتے چلے گئے؟؟؟ زیادہ دور مت جائیے، افغانستان کے پاس کون سی ٹیکنالوجی ہے جو اس نے روس و امریکہ کو کتے کی موت مارا ہے؟؟؟

تو حق یہی ہے کہ ہمیں اگر واقعی غلبہ اسلام مطلوب ہے تو بجاے ٹیکنالوجی ہمیں اپنے "تصور خیر(دین)” سے مخلص ہونا ہو گا۔کوئی قوم بھی غالب صرف اسی صورت میں آتی ہے جب اس کی علمیت غالب آئے، تلواروں توپوں سے کچھ نہیں ہوتا! تاریخ میں جس بھی قوم نے عروج حاصل کیا اس کے پیچھے اس کا اپنے نظرئیے سے خلوص شامل تھا ناکہ ٹیکنالوجی!

اقبال نے اسی مضمون کو کیا خوب باندھا کہ

فضاے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

اور

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ

مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

فیصل ریاض شاہد

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ‌ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ‌ ؕ وَالّٰتِىۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ فَعِظُوۡهُنَّ وَاهۡجُرُوۡهُنَّ فِى الۡمَضَاجِعِ وَاضۡرِبُوۡهُنَّ‌ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَيۡهِنَّ سَبِيۡلًا‌ ؕاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيۡرًا‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 34

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ‌ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ‌ ؕ وَالّٰتِىۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ فَعِظُوۡهُنَّ وَاهۡجُرُوۡهُنَّ فِى الۡمَضَاجِعِ وَاضۡرِبُوۡهُنَّ‌ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَيۡهِنَّ سَبِيۡلًا‌ ؕاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيۡرًا‏

ترجمہ:

مرد عورتوں کے منتظم اور کفیل ہیں کیوں کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ‘ اور اس لیے (بھی) کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے سو نیک عورتیں فرماں بردار ہیں۔ مردوں کے پس پشت اللہ کی توفیق سے حفاظت کرنے والی ہیں۔ اور تم کو جن عورتوں کی نافرمانی کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں پر اکیلا چھوڑ دو ، اور ان کو (تادیبا) مارو ‘ پس اگر وہ تمہاری فرماں برداری کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو ‘ بیشک اللہ نہایت بلند بہت بڑا ہے، A

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ 

قرآن مجید سے عورتوں کی حاکمیت کا عدم جواز : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اور تم اس چیز کی تمنا نہ کرو جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض فضیلت دی ہے اور اس شان نزول یہ تھا کہ بعض عورتوں نے یہ کہا تھا کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے وراثت میں ان کا حصہ دگنا رکھا گیا حالانکہ ہم صنف ضعیف ہیں اس لئے ہمارا زیادہ حصہ ہونا چاہیے تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے آیت میں اس کا جواب دیا ہے کہ مرد عورتوں کے منتظم اور کفیل ہیں اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت ہے اور اس لئے (بھی) کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے۔ 

قوام کا معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

قوام کا معنی ہے کسی چیز کو قائم کرنے والا اور اس کی حفاظت کرنے والا۔ (مفردات الفاظ القرآن ص ٤١٦‘ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ایران) 

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور افریقی مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں : 

مرد عورت کا قوام ہے یعنی اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اور اس کا خرچ برداشت کرتا ہے۔ (لسان العرب ج ١٢ ص ٥٠٣‘ مطبوعہ نشرادب الحوذۃ ایران ‘ ١٤٠٥ ھ تاج العروس ج ٩ ص ٣٥) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

الرجال قوامون کا معنی یہ ہے کہ جس طرح حاکم رعایا پر اپنے احکام نافذ کرتا ہے اسی طرح مرد عورتوں پر احکام نافذ کرتے ہیں ‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ نبوت ‘ رسالت حکومت ‘ امامت ‘ اذان اقامت اور تکبیرات تشریق وغیرہ مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ (روح المعانی ج ٥ ص ٢٣‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

عورتوں کی حاکمیت کے عدم جواز میں احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایام جمل میں ہوسکتا تھا کہ میں اصحاب جمل کے ساتھ لاحق ہوجاتا اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کرتا ‘ اس موقع پر مجھے اس حدیث نے فائدہ پہنچایا جس کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا جب اہل فارس نے کسری کی بیٹی کو اپنا حاکم بنا لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ قوم ہرگز فلاح (اخروی) نہیں پاسکتی جس نے اپنے معاملات میں ایک عورت کو حاکم بنا لیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٤٢٥‘ ٧٠٩٩‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٢٦٩‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٤٠٣‘ صحیح ابن حبان ج ١٠ ص ٤٥١٦‘ مسند احمد ج ٥ ص ٥١‘ ٤٧‘ ٤٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ١٠ ص ١١٨۔ ١١٧ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥ ص ٢٦٦‘ شرح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٦‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث : ٨٧٨‘ المستدرک ج ٤ ص ٥٢٥۔ ٥٢٤‘ مجمع الزوائد ج ٥ ص ٢٠٩) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے حکام نیک ہوں ‘ تمہارے اغنیاء سخی ہوں ‘ اور تمہاری حکومت باہمی مشورہ سے ہو ‘ تو تمہارے لئے زمین کے اوپر کا حصہ اس کے نچلے حصہ سے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدکار ہوں ‘ اور تمہارے اغنیاء بخیل ہوں ‘ اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو تمہارے لئے زمین کا نچلا حصہ اس کے اوپر کے حصہ سے بہتر ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٢٧٣) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ کو فتح کی خوش خبری سنائی اور یہ بھی بتایا کہ دشمن کی سربراہی ایک عورت کر رہی تھی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب مرد عورتوں کی اطاعت کرنے لگیں تو وہ تباہ اور برباد ہوجائیں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (حافظ ذہبی نے بھی اس حدیث کو صحیح الاسناد کہا ہے۔ ) (المستدرک ج ٤ ص ٢٩١) 

عورتوں کی حاکمیت کے عدم جواز میں فقہاء اسلام کی آراء :

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ عورت خلیفہ نہیں ہوسکتی۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٣ ص ١٨٣‘ مطبوعہ ایران) 

امام حسین بن مسعود بغوی شافعی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں : 

امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت حکومت یا انتظامیہ کی سربراہ یا قاضی نہیں بن سکتی ‘ کیونکہ سربراہ مملکت کو جہاد قائم کرنے اور مسلمانوں کے معاملات نمٹانے کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت پڑتی ہے اور قاضی کو مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لئے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور عورت واجب الستر ہے اس کا گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ (شرح السنۃ ج ١٠ ص ٧٧‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٠ ھ) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

جمہور فقہاء اسلام نے حضرت ابوبکرہ کی حدیث کی بناء پر عورت کے قاضی بنانے کو ممنوع قرار دیا ہے ‘ علامہ طبری نے جمہور کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ جن معاملات میں عورت شہادت دے سکتی ہے وہ قضاء بھی کرسکتی ہے اور بعض مالکیہ نے عورت کی قضاء کو مطلقا جائز کہا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢٤ ص ‘ ٢٠٤ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

علامہ ابن التین نے کہا ہے کہ جمہور فقہاء اسلام نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کو منصب قضاء سونپنا جائز نہیں ہے اور علامہ طبری نے جمہور کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ جن امور میں عورت گواہی دے سکتی ہے ان میں وہ قضاء بھی کرسکتی ہے اور بعض مالکیہ نے کہا ہے کہ عورت کی قضاء مطلقا جائز ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ٥٦‘ مطبوعہ لاہور) 

ہر چند کہ علامہ عینی اور علامہ عسقلانی نے یہ لکھا ہے کہ علامہ طبری نے بعض امور میں اور بعض مالکیہ نے عورت کی قضاء کو مطلقا جائز قرار دیا ہے لیکن اول تو یہ ثابت نہیں ‘ اور ثانیا ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی نصوص قطعیہ ‘ احادیث صحیحہ ‘ اسلام کے عمومی احکام اور جمہور فقہاء اسلام کی تصریحات کے سامنے ان اقوال کی کوئی وقعت نہیں ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ علامہ طبری اور بعض مالکیہ نے عورت کی عمومی سربراہی کو جائز نہیں کہا بلکہ بعض امور میں عورت کی صرف قضاء کو جائز کہا ہے۔ 

علامہ عینی اور علامہ عسقلانی نے بغیر کسی ثبوت کے علامہ طبری اور بعض مالکیہ کی طرف عورت کی قضاء کے جواز کی نسبت کردی ‘ حقیقت یہ ہے کہ علامہ طبری اور مالکی فقہاء دونوں اس تہمت سے بری ہیں ‘ علامہ ابوبکر ابن العربی مالکی اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ 

حضرت ابوبکرہ کی روایت کردہ حدیث میں تصریح ہے کہ عورت خلیفہ نہیں ہوسکتی اور اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے البتہ علامہ محمد بن جریر طبری سے یہ منقول ہے کہ ان کے نزدیک عورت کا قاضی ہونا جائز ہے لیکن انکی طرف اس قول کی نسبت صحیح نہیں ہے۔ ان کی طرف اس قول کی نسبت ایسے ہی غلط ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ کی طرف یہ غلط منسوب کردیا گیا ہے کہ جن امور میں عورت گواہی دے سکتی ہے ان میں وہ فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔ نیز 

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ بن العربی مالکی متوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں : 

عورت سربراہی کی اس لئے اہل نہیں ہے کہ حکومت اور سربراہی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کی جائے قومی معاملات کو سلجھایا جائے ملت کی جائے اور مالی محاصل حاصل کرکے ان کی مستحقین میں تقسیم کیا جائے اور یہ تمام امور مرد انجام دے سکتا ہے عورت یہ کام انجام نہیں دین سکتی کیونکہ عورت کے لئے مردوں کی مجالس میں جانا اور ان سے اختلاط کرنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ اگر وہ عورت جوان ہے تو اس کی طرف دیکھنا اور اس سے کلام کرنا حرام ہے اور اگر وہ سن رسیدہ عورت ہے تب بھی اس کا بھیڑ بھاڑ میں جانا مخدوش ہے۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ١٤٥٨‘ ملخصا ‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت) 

ملکہ بلقیس کی حکومت سے استدلال کا جواب : 

قرآن کریم میں ملکہ بلقیس کے واقعے کا جس قدر ذکر ہے اس میں اس کی حکومت کے خاتمہ کا ذکر ہے ‘ اسلام قبول کرنے کے بعد پھر اس کی حکومت کے تسلسل کا ذکر نہیں ہے لہذا اس واقعہ میں عورت کی سربراہی کا ادنی جواز بھی موجود نہیں ہے اور اگر بالفرض بلقیس کے اسلام لانے کے بعد اس کی حکومت کو ثبوت ہو بھی تو وہ شریعت سابقہ ہے ہم پر حجت نہیں ہے۔ 

جنگ جمل کے واقعہ سے عورت کی سربراہی پر استدلال کا جواب : 

بعض متجدد علماء جنگ جمل میں حضرت عائشہ (رض) کی شرکت سے عورت کی سربراہی کے جواز پر استدلال کرتے ہیں لیکن یہ استدلال قطعا باطل ہے اول تو حضرت عائشہ (رض) امارت اور خلافت کی مدعیہ نہیں تھیں ہاں وہ امت میں اصلاح کے قصد سے اپنے گھر سے باہر نکلیں لیکن یہ ان کی اجتہادی خطا تھی اور وہ اس پر تاحیات نادم رہیں ‘ امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ نے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عائشہ (رض) (آیت) ” وقرن فی بیوتکن “ تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو “ کی تلاوت کرتیں تو اس قدر روتیں کہ آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے بھیگ جاتا۔ (طبقات کبری ج ٨ ص ٨١‘ مطبوعہ دار صادر بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 34