*درس 025: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَالْكَلَامُ فِي الِاسْتِنْجَاءِ) فِي مَوَاضِعَ فِي بَيَانِ صِفَةِ الِاسْتِنْجَاءِ، وَفِي بَيَانِ مَا يُسْتَنْجَى بِهِ، وَفِي بَيَان مَا يُسْتَنْجَى مِنْهُ.

استنجاء کے حوالے سے گفتگو کچھ حصوں پرمشتمل ہے، استنجاءکی شرعی حیثیت، کن چیزوں سے استنجاء کیا جاسکتا ہے اور کن ناپاکیوں سے استنجاء کیا جاتا ہے۔

أَمَّا الْأَوَّلُ: فَالِاسْتِنْجَاءُ سُنَّةٌ عِنْدَنَا، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ فَرْضٌ

استنجاء کی شرعی حیثیت: ہم احناف کے نزدیک استنجاء سنت (موکدہ) ہے، اور امام شافعی کے نزدیک فرض ہے۔

حَتَّى لَوْ تَرَكَ الِاسْتِنْجَاءَ أَصْلًا جَازَتْ صَلَاتُهُ عِنْدَنَا، وَلَكِنْ مَعَ الْكَرَاهَةِ، وَعِنْدَهُ لَا يَجُوزُ

لہذا اگر کسی نے بالکل بھی استنجاء نہیں کیا تو ہمارے نزدیک اسکی نماز کراہت کے ساتھ جائز ہے، اور امام شافعی کے نزدیک جائز نہیں ہے۔

وَالْكَلَامُ فِيهِ رَاجِعٌ إلَى أَصْلٍ نَذْكُرُهُ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَهُوَ أَنَّ قَلِيلَ النَّجَاسَةِ الْحَقِيقِيَّةِ فِي الثَّوْبِ وَالْبَدَنِ عَفْوٌ فِي حَقِّ جَوَازِ الصَّلَاةِ عِنْدَنَا، وَعِنْدَهُ لَيْسَ بِعَفْوٍ

اور اس مسئلہ میں اصل کلام جسے ان شاء اللہ ہم ذکر کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم احناف کے نزدیک نمازدرست ہونے کے سلسلے میں نجاستِ حقیقیہ کی قلیل (تھوڑی) مقدار کا کپڑے یا بدن پر لگ جانا معاف ہے، جبکہ امام شافعی کے نزدیک معاف نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

استنجاء پر گفتگو کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ بھی معلوم ہوچکا ہے سبیلین (اگلے اور پچھلے مقام) سے خارج ہونے والی گندگی سے طہارت حاصل کرنے کو استنجاء کہتے ہیں۔

علامہ کاسانی نے فرمایا کہ ہم احناف کے نزدیک استنجاء سنت ہے، اس سے سنتِ موکدہ مراد ہے۔

*استنجاءسنت ہے فرض کیوں نہیں۔۔۔؟*

ہم کئی کتب میں موجود ابحاث کوکچھ تفصیل کچھ اختصار کے ساتھ بیان کررہے ہیں ۔۔!

اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب انسان کے پچھلے مقام سے نجاست خارج ہوتی ہے تو اس کے *مقعد*(یعنی نجاست نکلنے کی جگہ) پر کچھ نجاست لگ جاتی ہے اور وہ اتنی قلیل ہوتی ہے کہ بغیر اہتمام کے نجاست کا مکمل ازالہ بہت مشکل ہوتا ہے، نیز نجاست کی قلیل مقدار کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو اسکے معاف ہونے پر فقہاء کا اجماع ہے، پھر جلیل القدر صحابہ کرام حضرت عمر فاروق، حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایات موجود ہیں کہ وہ درہم جتنی قلیل نجاست کو قابلِ معافی قرار دیتے تھے۔

اور اصول یہ ہے کہ *مقدار* ان اشیاء میں سے ہے جس پر اجتہادی رائے نہیں چلتی لہذا صحابہ کرام علیہم الرضوان کا کسی شے کی مقدار بیان کرنا اس بات پر محمول ہوتا ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس سے متعلق سن کر ہی عمل کیا ہوگا۔

یہ اصول *کتبِ اصول* میں موجود ہے۔ علامہ شامی نے بھی یہی بات لکھی ہے: وَهُوَ مِمَّا لَا يُعْرَفُ بِالرَّأْيِ فَيُحْمَلُ عَلَى السَّمَاعِ

(اس سے علماء نے داڑھی کی مقدار پر بھی استدلال کیا ہے کہ ایک مشت ہے)

لہذا *مقعد* پر جتنی نجاست لگتی ہے اتنی نجاست کو نماز درست ہونے کے لئے معاف رکھا گیا۔۔لیکن بدن پر اتنی نجاست کا بھی لگا رہنا کامل طہارت کے خلاف ہے لہذا اسے فرض تو قرار نہیں دیا گیا مگر خلافِ سنت قرارد دیا گیا اور اس سے طہارت حاصل کرنا سنت قرار پایا، نیز اس کا فرض نہ ہونا حدیث شریف سے بھی ثابت ہے جیسا کہ اگلے درس میں دلیل آئے گی۔

لہذا ثابت ہوا کہ استنجاء کرنا سنت ہے لیکن سنت اسی وقت ہے جب نجاست مقعد پر موجود ہو اگر مقعد سے تجاوز کرجائے یعنی آس پاس جگہ پھیل جائے تو اب پانی سے دھونا فرض ہے۔

*مقعد یا درہم*

مختلف کتب فقہ میں لکھا ہے کہ نجاست کی قلیل مقدار معاف ہونے کے لئے *درہم* کی جو مقدار ذکر کی گئی ہے دراصل یہ *مقعد* کی جگہ ہے اور مقعد وہ جگہ ہے جہاں سے نجاست خارج ہوتی ہے، ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنی مجلسوں میں *مقعد* کا لفظ بار بار استعمال کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے تو انہوں نے اشارۃ کنایۃ *درہم* کا لفظ استعمال شروع کردیا ۔

*درہم کی پیمائش*

گاڑھی نجاست جیسے پاخانہ تو اسکی پیمائش 4.375 گرام ہے۔۔ اتنی مقدار درہم شمار ہوگی۔

درہم کی مقدار جو دراصل مقعد پر لگنے والی نجاست کی پیمائش ہے ۔۔ طہارت کے دیگر مسائل میں بنیاد فراہم کرتی ہے۔

رہی یہ بات کہ امام شافعی کے نزدیک نماز جائز نہیں ہے تو ان کے ہاں بھی قلیل مقدار معاف ہے جس کی تفصیل علامہ کاسانی خود آگے بیان کریں گے۔

ہم نے مذکورہ تمام گفتگو کتبِ معتبرہ کے ملاحظہ کے بعد نقل کی ہے، جنہیں حوالہ درکار ہو پرسنل پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

*ابو محمد عارفین القادری*