صحابہ نے عمل سے کتابت حدیث کا ثبوت دیا

اولاً بعض صحابہ کرام کو کتابت حدیث میں تامل رہا ،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کتابت کی وجہ سے حفظ وضبط کا وہ اہتمام نہیں رہ سکے گا اور اسکی جانب وہ توجہ باقی نہ رہے گی ، اس طرح سفینوں کا علم سینوں کو خالی کردیگا ،آئندہ صرف تحریریں ہونگی جن پر اعتماد ہوگا اور انکے پیچھے حافظہ کی قوت نہ ہوگی کہ غلطیوں کی تصحیح ہوسکے ،لہذا حذف واضافہ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور تحریف کے دروازے کھل جائیں گے ، منافقین اور یہودونصاری کو روایات میں تغیروتبدل کا موقع مل جائے گا، اس طرح دین کی بنیادوں میں رخنہ اندازی شروع ہوسکتی ہے ،ان وجوہ کی بنا پر کچھ ایام بعض صحابہ کرام کو تذبذب رہا ،لیکن اسلام جب دور دور تک پھیل گیا ، اور خوب قوت حاصل ہوگئی تو مندرجہ بالا خدشات کی جانب سے اطمینان ہوگیا اورقرآن مجید کی طرح رفتہ رفتہ حدیث کی کتابت پر بھی سب متفق ہوگئے ۔ ہاں مگر ان حضرات صحابہ کے درمیان یہ طریقہ بھی رائج تھا کہ کتابیں دیکھ دیکھ کر احادیث بیان نہیں کی جاتی تھیں ، اسی وجہ سے ان تحریری مجموعوں کو کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوسکی پھر کافی تعداد میں صحابہ کرام نے اس فریضہ کو انجام دیا جس کی قدرے تفصیل اس طرح ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو پہلے کتابت حدیث کے سخت مخالف تھے لیکن بعد میں وہ عملی طور پر اس میدان میں اتر آئے اور آخر میں ان کی مجالس کا یہ طریقہ تھا ۔

حضرت سعید بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔

کنت اکتب عند ابن عباس فی صحیفۃ (السنن للدارمی، ۹۶)

میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں اوراق پر احادیث لکھتاتھا۔

حضرت موسی بن عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ۔

وضع عندنا کریب حمل بعیر اوعدل بعیر من کتب ابن عباس ،قال :

فکان علی بن عبداللہ بن عباس اذا اراد الکتاب کتب الیہ ابعث علی بصحیفۃ کذاکذا ،قال : ینسخھا فیبعث الیہ احداہما ( کتاب العلل للترمذی، الطبقات الکبری لا بن سعد، ۵/۲۱۶)

حضرت کریب نے ہمارے پاس ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی کتابیں رکھیں ۔حضرت علی بن عبداللہ بن عباس جب کوئی کتاب چاہتے تو انہیں لکھدیتے کہ مجھے فلا ں صحیفہ بھیجدو ،وہ اسے نقل کرتے اور ان میں سے ایک بھیج دیتے۔

انکی یہ تصانیف انکی زندگی ہی میں دوردور تک پھیل گئی تھیں ،اس سلسلہ میں امام طحاوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ان کا بیان نقل کیا ہے ۔

عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان ناسا من اہل الطائف اتوہ بصحیفۃ من صحفہ لیقرء ھا علیہم ،فلما اخذہالم ینطلق فقال : انی لما ذھب بصری بلھت فاقرأوھاعلی ،ولایکن فی انفسکم من ذلک حرج ،فان قرأ تکم علی کقرأنی علیکم۔ (شرح معانی الآثار، للطحاوی، ۲/۳۸۴)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ طائف کے کچھ لوگ انکے پاس انکی کتابوں سے ایک کتاب لیکر آئے تاکہ وہ انہیں پڑھکر سنائیں ،حضرت ابن عباس نے جب وہ کتابیں لیں تو پڑھ نہ سکے ،فرمایا: جب سے میری نگاہ جاتی رہی میں بیکار ہوگیا ہوں ،تم لوگ خود میرے سامنے پڑھو اوراس میں کچھ حرج نہ سمجھو ،میرے سامنے تمہارا پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے کہ میں تمہارے سامنے پڑھوں ۔

تصانیف کی اس کثرت سے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیئے ،کیونکہ آپ نے علم حدیث کی تحصیل میں غیر معمولی کوشش اور محنت سے کام لیاتھا ۔اسکی تفصیل آپ گذشتہ پیغامات میں پڑھ چکے ہیں ۔