کیا افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے ؟

کیا افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے ؟

آج کل پوری دنیا اور خاص طور پر ہمارے وطنِ عزیز اور گردوپیش کے خطے میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا ”افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے ‘‘‘ اس کا حقیقت پسندانہ جواب یہ ہے :”ہنوز دلی دور است ‘‘۔ انگریزی کا محاورہ ہے: ”There are many slips between the cup and the lips‘‘‘کسی نے اس کاخوب ترجمہ کیا ہے:”ہزاروں لغزشیں حائل ہیں لب تک جام آنے میں ‘‘۔غالب نے کہا ہے :

دامِ ہر موج میں ہے حلقہء صد کام نہنگ

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

اگرچہ ہماری مخلصانہ دعا ہے کہ کل کی بجائے آج اور آج کی بجائے ابھی یہ مسئلہ حل ہوجائے ‘ کیونکہ یہ مسئلہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور افغانستان کے لیے جتنا اہم ہے ‘اتنا ہی پاکستان کے لیے اہم ہے ۔1979ء میں افغانستان میں سوویت یونین کی در اندازی سے لے کر اس کے انخلا اور پھر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دراندازی سے لے کر آج تک پاکستان نے اس کی بھاری قیمت چکائی ہے ‘ دوستوں کے اعتماد کو زک پہنچائی اور جن کے لیے یہ سب کچھ کیا‘اُن کی طرف سے بے اعتمادی ‘ دھوکہ دہی ‘ منافقت اور دروغ گوئی کے طعنے ملے ۔

یہ ایسا کمبل ہے ‘جس سے جان چھڑانا ہمارے لیے آسان نہیں ہے ‘ہم الگ تھلگ ہوکر گوشۂ عافیت میں بیٹھنا بھی چاہیں ‘تب بھی ہمارے لیے جائے امان نہیں ہے ‘کیونکہ اس مسئلے میں افغانستان ‘ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سمیت ‘روس ‘ایران ‘ ہندوستان اور گردوپیش کے دیگر ممالک بھی ملوث ہیں اور اب سی پیک کی وجہ سے پرامن افغانستان چین کی بھی ضرورت ہے ‘ کیونکہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوجاتا ‘ اس وقت تک گوادر پورٹ کو سنٹرل ایشیا کے راستے یورپ سے منسلک کرنے کے خواب کو تعبیر نہیں مل سکتی ۔ گوادر پورٹ اگرمنصوبے کے مطابق فعال اور متحرک ہوجاتی ہے تواس کے دبئی کی مرکزیت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے ‘ لہٰذا اُن کی بھی اس پر گہری نظر ہے۔ چین کے صوبۂ سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کا مسئلہ بھی جہادی فکر سے جڑا ہوا ہے اورچین سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں حقیقی معنی میں امن قائم ہوجائے تو پھر اس خطے میں جہادیوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گی اور چین کی مشکلات آسان ہوجائیں گی۔ 

یہ درست ہے کہ امریکہ سترہ سالہ جنگ ‘جدید سامانِ حرب اور اپنے اتحادیوں کی پوری حمایت کے باوجود افغانستان میں اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکام رہا ‘جبکہ اس عرصے میں اس کے جنگی اخراجات کا تخمینہ ٹریلینز یعنی سینکڑوں ارب ڈالرمیں ہے ‘اب امریکہ کو اس جنگ سے نکلنے کے لیے کوئی آبرومندانہ راستہ چاہیے ۔ صدر ٹرمپ کی خواہش اپنی جگہ ‘ لیکن امریکہ کے انٹیلی جنس ادارے اور پینٹا گون افغانستان سے مکمل طور پر اپنے اڈے ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں ۔ 

تحریکِ طالبانِ افغانستان ماضی میں حامد کرزئی اور اب اشرف غنی کی حکومت کو اپنا حریف ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ‘ وہ انہیں امریکہ کا کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں اور یہ کہ امریکہ کی آشیر باد کے بغیر ان کو افغانستان میں قرار ودوام نہیں مل سکتا اور ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘تحریکِ طالبانِ افغانستان کا بنیادی مطالبہ غیر ملکی قابض افواج کا انخلا ہے ‘ کیونکہ قانونِ بین الاقوام اور مسلّمہ جمہوری اقدارکی رو سے ان کے لیے یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے‘ لیکن خود امریکہ کے اندر بھی افواج کے مکمل انخلا اور اپنے فوجی اڈے ختم کرنے کے حوالے سے کوئی اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے۔ تاہم سترہ سال بعد پہلی مرتبہ امریکہ کا طالبان کواپنا حقیقی حریف مان کر چھ روز تک اُن سے براہِ راست سنجیدہ مذاکرات کرنا اور کسی حد تک انہیں خوش آئند قرار دینا ‘یہ طالبان کی بہت بڑی کامیابی ہے‘ کیونکہ ماضی میں امریکہ طالبان کوصرف ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا رہا ہے ‘مگر اب وہ انہیں مسئلۂ افغانستان کا اصل سٹیک ہولڈر ماننے کے لیے عملاً آمادہ ہوگیا ہے‘ یہ امریکہ کی طرف سے اپنے سابق موقف میں لچک اور جھکائو کاواضح ثبوت ہے۔ بھارت اور ایران اس صورتحال پر متفکر اور جِزبِز ہوں گے اور وہ بھی اپنے مہرے تیار کرنے اور نئی چالیں چلنے کیلئے کوئی نہ کوئی منصوبہ بندی یقینا کر رہے ہوں گے۔ روس کی بھی خواہش ہوگی کہ امریکہ افغانستان میں اُس جیسے انجام سے دوچار ہو اور اس حوالے سے امریکہ کی برتری کا تاثّر ختم ہوجائے ‘ لہٰذا اُس کا بھی طالبان سے یقینا کسی نہ کسی سطح پر رابطہ ہوگا اور کوئی بعید نہیں کہ وہ انہیں کسی نہ کسی طریقے سے سامانِ حرب بھی فراہم کرتا ہو‘ چین بھی طالبان کے ساتھ روابط قائم کیے ہوئے ہے ‘کیونکہ اب اس خطے میں اُس کے اقتصادی مفادات اور مستقبل کے امکانات بہت زیادہ ہیں ‘لہٰذا وہ بھی اپنے آپ کو ایک اہم سٹیک ہولڈر سمجھتا ہے۔لیکن اُسے جنگ میں مبتلا افغانستان کے بجائے ایک پر امن افغانستان زیادہ مطلوب ہے‘ اُسے سنٹرل ایشیا اور آگے روس اور یورپ تک پر امن تجارتی راہداری درکارہے ‘ وہ اُس پورے خطے کو اپنی تجارتی منڈی بنانا چاہتا ہے ۔ اس وقت چین جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں ارتقا کے مرحلے سے گزر رہا ہے ‘ وہ اپنے آپ کو فضائوں میں اور عالمی سمندروں میں امریکہ کے مقابل فوجی قوت بنانے میںمصروف ہے ‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے آپ کو ایک برتر عالمی اقتصادی قوت بھی بنارہا ہے‘ کیونکہ سوویت یونین کے زوال سے اُس نے یہ سبق حاصل کیا کہ اقتصادی قوت کے بغیر محض سامانِ حرب کے بل پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ 

امریکہ کی خواہش ہے کہ اگلے مرحلے میں طالبان اشرف غنی حکومت کے ساتھ بھی براہِ راست مذاکرات کریں ‘ افغانستان کے واحد سٹیک ہولڈر نہ بنیں‘ بلکہ آئین وقانون یعنی امریکہ کے قائم کردہ نظمِ اجتماعی اور ہیئتِ مقتدرہ کو تسلیم کرتے ہوئے اُس میں حصہ بقدرِ جُثّہ کے مطابق حصے دار بنیں ۔ اس مطالبے پر اترنا طالبان کے لیے آسان نہیں ہے‘ کیونکہ اس صورت میں انہیںاپنی بالادستی اور برتر حیثیت کو قربان کرنا پڑے گا اور یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف طویل جنگ کے مقاصد اور جواز کی نفی کے مترادف ہوگا۔ حزبِ اسلامی کے سربراہ انجینئر گلبدین حکمت یار نے یہی حکمتِ عملی اختیار کی ‘ لیکن ظاہر ہے کہ اب اُن کی وہ حیثیت نہیں ہے ‘ امریکہ تحریکِ طالبان کو افغانستان کا بالادست سٹیک ہولڈر اور اپنا حریف ماننے پر مجبور ہوگیا ہے‘ اُس نے گلبدین حکمت یار کو یہ حیثیت کبھی نہیں دی ‘ جنابِ حکمت یار اشرف غنی حکومت کے ساتھ براہِ راست معاہدہ کر کے افغانستان میں منظر عام پر آئے اور اب آنے والے ممکنہ صدارتی انتخابات میں اُن کی حیثیت کا تعین ہوگا‘ جبکہ طالبان شاید ہی اُن کے دستوری ڈھانچے کو قبول کرنے پر آمادہ ہوں ‘اُن کا موقف یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے نکل جائیں ‘بعد میں افغانوں کے تمام فریق اپنے معاملات کو خود طے کریں۔ 

ہمارے ہاں کے صحافتی و دانشور حلقے اور تجزیہ نگار تحریکِ طالبانِ افغانستان کی حقیقی قوت کا ادراک کرنے میں شاید غلط فہمی کا شکارہیں ‘کیونکہ اُن کے نزدیک یہ ایک مذہبی طبقہ ہے اور یہ ملک کو ماضی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ‘یہ قدامت پسند اور دقیانوسی ہیں‘ یہ جدید عہد کے ساتھ چلنے کے اہل نہیں ہیں ۔اُن کی خدمت میں گزارش ہے کہ اگرچہ طالبان کی قیادت علما کے پاس رہی ہے ‘ لیکن اس کے اثرات پورے معاشرے پر محیط ہیں ‘ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک پختون اسلامک موومنٹ ہے ‘ جس میں تقریباً سارے پشتون قبائل شامل ہیں اور یہ اُن کی قومی آزادی کی تحریک ہے ۔ یہی سبب ہے کہ انہیں وسیع پیمانے پر مقامی آبادی کی حمایت حاصل ہوتی ہے ‘ وہ انہیں محفوظ پناہ گاہیں بھی فراہم کرتے ہیں اور شاید ان کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں ۔ نیز یہ تیر و کمان اور تلوار سے جنگ نہیں کر رہے ‘بلکہ جدید سامانِ حرب سے دنیا کی جدید ترین حربی طاقت کا مقابلہ کر رہے ہیں‘ ان کے پاس جدید اسلحے کو استعمال کرنے کی تکنیک بھی ہے ۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے جدید ترین حساس سیٹلائٹ کیمروں کے ذریعے زمین پر چند سنٹی میٹر کی چیز کو بھی تلاش کرلیتے ہیں‘ لیکن اس کے باوجود طالبان ایسی جنگی چالیں اور تدابیر اختیار کرنے میں کامیاب ہیں کہ اُن سے بچ بچا کر اپنے ہدف کو نشانہ بنا لیتے ہیں ۔ نیز جنگِ افغانستان نے ثابت کیا ہے کہ جدید سائنسی اسلحہ وتکنیک بہت کچھ ہے ‘لیکن سب کچھ نہیں ہے اور بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ جذبۂ قربانی کا متبادل نہیں ہے ۔ 

گوریلا جنگ لڑنے والوں کی برتری کا مدار ہی اس پر ہے کہ وہ آمنے سامنے کی میدانی جنگ نہیں لڑتے کہ میدانِ جنگ میں آر یا پار کی طرح فتح وشکست کا فیصلہ ہوجائے ‘ اس جنگ میں پہل کاموقع اُن کے پاس ہوتا ہے ‘وہی ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتے ہیں ‘ وہ اپنی سہولت کے مطابق اپنے ہدف کا تعیّن کرتے ہیں ‘اُس کے لیے موقع ومحل کی مناسبت سے تیاری کرکے اچانک حملہ آور ہوجاتے ہیں ‘ گویا یہ دشمن کو تھکا تھکا کر مارتے ہیں ‘ یہ بھاری جانی قیمت بھی چکاتے ہیں ‘ جب کہ دشمن کے لیے یہی سب سے مشکل کام ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی زیادہ سے زیادہ موت سے ڈرا سکتے ہیں ‘لیکن جو لوگ موت کو اپنی آرزو بنا لیں ‘ انہیں کس چیز سے ڈرائیں گے ۔قرآنِ کریم نے موت کے خوف کو ہی بنی اسرائیل کی سب سے بڑی کمزوری قرار دیا ہے ‘اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (اے رسول!) کہہ دیجیے! اگر دارِ آخرت دوسرے لوگوں کے بجائے خالص تمہارے لیے ہے ‘ تو اگر اپنے اس دعوے میں تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو‘ اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے ‘ وہ اپنے پچھلے کرتوتوں کے سبب ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے ‘ اور آپ انہیں ضرور سب لوگوں اور مشرکوں سے بھی زندگی کازیادہ حریص پائیں گے ‘ ان میں سے ہر ایک کی آرزو ہے : ”کاش کہ وہ ہزار سال تک جیے‘‘اور یہ (ہزار سالہ زندگی) بھی انہیں عذاب سے نہیں بچاسکے گی اور اللہ اُن کے تمام کرتوتوں کو خوب دیکھ رہا ہے‘ (البقرہ:94-96)‘‘۔ اسی مضمون کو سورۂ جمعہ آیات : 6تا 8میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

اللہ عزوجل کا ہرولی زندہ ہے

حکایت نمبر145: اللہ عزوجل کا ہرولی زندہ ہے

حضرت سیدنا احمد بن منصور علیہ رحمۃ اللہ الغفور فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اُستاذ حضرت سیدنا ابو یعقوب السوسی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ میرا ایک شاگرد میرے پاس مکہ مکرمہ آیا اور کہنے لگا:” اے اُستادِ محترم !کل ظہر کی نماز کے بعد میں اپنے خالق حقیقی عزوجل سے جاملوں گا ۔ آپ یہ چند درہم لے لیجئے، ان سے گورکن (یعنی قبرکھودنے والے) کی اُجرت ادا کردینا اور بقیہ درہموں کی خوشبو منگوالینا اور مجھے میرے انہیں کپڑو ں میں دفن کر دینا، یہ بالکل پاک وصاف ہیں ۔” اس کی یہ باتیں سن کر میں سمجھاکہ شایدبھوک کی و جہ سے اس کی یہ حالت ہوگئی ۔مجھے اس کی با توں پر تعجب بھی ہو رہا تھا بہر حال میں نے اس پرتوجہ رکھی ۔دو سرے دن جب نمازِ ظہر کا وقت ہوا تواس نے نماز ادا کی اورخانہ کعبہ کو دیکھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ زمین پر گر پڑا۔ مَیں دوڑ کر اس کے قریب گیا اور اسے ہلا جُلا کر دیکھا تو اس کا جسم بے جان ہوچکا تھا اور خانہ کعبہ کا جلوہ دیکھتے دیکھتے اس کی رُوح قَفَسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ 

یہ صورت حال دیکھ کر میں نے دل میں کہا:” میرا پر وردگار عزوجل بڑا بے نیاز ہے، جسے چاہے جو مقام عطا فرمائے ،اس کی حکمتیں وہی جانے ،وہ جسے چاہے اپنی معرفت عطا کرے۔ وہ ذات پاک ہے جس نے میرے شاگر د کو اِتنا مرتبہ عطا فرمایاکہ موت سے پہلے ہی اسے حقیقت سے آگا ہی عطا فرمادی اور مَیں ایسی باتیں نہیں جانتا حالانکہ میں اس کا اُستا د ہوں۔ یہ اس کی نعمتیں ہیں جسے چاہے عطا کرے ۔” مجھے اپنے اس شاگرد کی موت کا بہت غم ہوا ، بہر حال ہم نے اسے تختہ پر لٹایا اور غسل دینا شرو ع کیا جب میں نے اسے وضو کرایا تو اچانک اس نے آنکھیں کھول دیں ۔یہ دیکھ کر میں بڑا حیران ہوا اور اس سے پوچھا:”اے میرے بیٹے !کیا تُو مرنے کے بعد دو بارہ زندہ ہوگیا ؟” اس نے بڑی فصیح وبلیغ زبان میں جواب دیا : ”(اے اُستادِ محترم)! میں موت کے بعد زندہ ہوگیا ہوں اور موت کے بعد اپنی قبر وں میں اللہ تعالیٰ کے تمام ولی زندہ ہوتے ہیں ۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ

باب آداب الخلاء

پاخانے کے آداب کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ خلاء لغت میں خالی جگہ کو کہتے ہیں۔اصطلاح میں آبدست کو،چونکہ یہ کام تنہائی میں ہوتا ہے اس لئے اسے خلاکہاجاتاہے۔

حدیث نمبر :318

روایت ہے ابو ایوب انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم پاخانہ جاؤ تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ لیکن یا تو پورب کی طرف ہوجاؤ یا پچھم کی طرف ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ کا نام خالدابن زیدہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،بیعت عقبہ میں موجود تھے،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،حضور نے ہجرت کے دن اولًا انہی کے گھر قیام فرمایا،صحابہ رضی اللہ عنھم کے اختلاف کے وقت حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ تمام جنگوں میں شامل رہے،یزید ابن معاویہ کی سرکردگی میں جو روم پر جہاد ہوئے ان میں آپ غازیانہ شان سے شامل تھے،قسطنطنیہ پر حملہ کے وقت بیمارہوگئے،وصیت کی کہ اس جہاد میں میری میت اپنے ساتھ رکھنا،اور قسطنطنیہ فتح ہوجائے تومجاہدین کے قدموں کے نیچے مجھے دفن کرنا،چنانچہ آپ قسطنطنیہ کی فصیل کے نیچے مدفون ہیں،آپ کی قبر زیارت گاہ خواص و عام ہے۔بیماران کی قبر کی مٹی سے شفا پاتے ہیں۔(مرقاۃ و اکمال)

۲؎ یعنی پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کو منہ یا پیٹھ کرنا حرام ہے۔چونکہ مدینہ منورہ میں قبلہ جانب جنوب ہے اور شام یعنی بیت المقدس جانب شمال،وہاں کے لحاظ سےفرمایا گیا کہ شرق یاغرب کو منہ کرلو۔چونکہ ہمارے ہاں قبلہ جانب مغرب ہے لہذا ہم لوگ جنوب یا شمال کو منہ کریں گے۔خیال رہے کہ اس حدیث میں جنگل یا آبادی کی کوئی قید نہیں۔بہرحال کعبہ کو منہ یا پیٹھ کرکے استنجا کرنا حرام ہے۔حنفیوں کا یہی مذہب ہے۔

ڈاکٹر طاہر اور وقار ملت

ڈاکٹر طاہر اور وقار ملت

وقار ملت، حضرت علامہ مفتی محمد وقارالدین قادری رضوی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے خواب دیکھا جس میں حضور اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم اگر پاکستان میں میرے میزبان بن جاؤ تو مَیں پاکستان میں کچھ دنوں کے لیے رُک سکتا ہوں- اُس شخص نے ایک رسالے میں یہی خواب بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ نے پاکستان میں مجھے اپنا مستقل میزبان مقرر کر دیا ہے- اس جملے پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں اور اِسے شان رسالت میں توہین بتاتے ہیں لہذا آپ سے درخواست ہے کہ شریعت کی روشنی میں فتوی صادر فرمائیں کہ کیا شخص مذکور کسی شرعی جرم کا مرتکب ہوا ہے یا نہیں؟

وقار ملت علیہ الرحمہ جواب میں لکھتے ہیں کہ طاہر القادری کا یہ خواب نواے وقت لاہور، تکبیر اور دیگر مختلف رسائل میں چھپا ہے- حقیقت یہ ہے کہ خواب انسان کے اختیار میں نہیں اور انسان خواب میں عجیب و غریب امور بھی دیکھتا ہے مگر کسی خواب کو اپنی فضیلت کے لیے چھاپنا اور بیان کرنا، یہ انسان کا اختیاری فعل ہے لہذا طاہر القادری کا خواب بیان کرتے ہوئے یہ کہنا کہ حضور ﷺ نے پاکستان میں مجھے اپنا مستقل میزبان مقرر کر دیا ہے اور واپسی کے ٹکٹ کا بھی مطالبہ کیا ہے اور بہت سی باتیں بیان کیں جن میں حضور ﷺ کے محتاج ہونے اور طاہر القادری سے مدد طلب کرنے اور ایک امتی کے مقابلے میں نبی ﷺ کی محتاجی کا اظہار ہوتا ہے لہذا یہ توہینِ نبی ﷺ ہے اور توہین کرنے والوں کی جو سزا ہے طاہر القادری اس سزا کا مستحق ہے-

(ملخصاً: وقار الفتاوی، ج1، ص324، 325)

وقار ملت علیہ الرحمہ سے دوسرے مقام پر سوال کیا گیا کہ پروفیسر طاہر القادری مسلک اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں؟ اور ہمیں ان کے بارے میں کیا رائے رکھنی چاہیے؟ ان کے بارے میں ایک رسالے میں پڑھا ہے کہ یہ دیوبندیوں کے پیچھے نماز کو جائز سمجھتے ہیں اور ان سے جو اختلافات ہیں اسے فروعی گردانتے ہیں تو اس کا واضح مطلب ہے کہ یہ گستاخان رسول ﷺ کو کافر نہیں سمجھتے اور یہ کہ ان کے نزدیک احترام رسول ﷺ بھی فروعی مسئلہ ہے، تو کیا یہ شخص "مَن شك فی کفره و عذابه فقد کفر” (جو ان گستاخان رسول کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے) کے تحت آئے گا یا نہیں؟

آپ علیہ الرحمہ جواب میں لکھتے ہیں کہ پروفیسر طاہر القادری کا کہنا یہی ہے کہ یہ اختلافات فروعی ہیں- مورخہ 28 ستمبر 1987ء کے جنگ اخبار میں یہ خبر چھپی ہے کہ انھوں نے ہوٹل میں عورتوں سے خطاب کیا؛ ایک خاتون نے جب ان سے سوال کیا کہ جب اسلام اتحاد کا درس دیتا ہے تو پھر اتنے فرقے کیوں؟

اس پر پروفیسر طاہر القادری صاحب نے جواب دیا کہ تمام فرقوں کی بنیاد ایک ہے، صرف جدا جدا طریقہ ہے اس لیے اتحاد متاثر نہیں ہوتا اور انھوں نے اپنے انٹرویو میں پہلے بھی کہا تھا کہ ان کے یہاں دو مدرس دیوبندی اور ایک شیعہ ہے لہذا اسی سے اندازہ کر لیجیے کہ ان کے خیال میں اور "ندوہ” والوں کے خیال و اعتقاد میں کیا فرق ہے-

(وقار الفتاوی، ج1، ص325، 326)

وقار ملت علیہ الرحمہ سے ایک اور مقام پر سوال کیا گیا کہ زید کہتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری ایک سچے عاشق رسول ہیں اور اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرنے والے ہیں- مجھے طاہر القادری کی اس بات (کہ دیوبندیوں کے پیچھے نماز جائز ہے) کے علاوہ تمام باتوں سے اتفاق ہے اور میں ان کے کاموں سے مطمئن ہوں اور انھیں بدمذہبوں کا چاہنے والا نہیں سمجھتا لہذا یہ ارشاد فرمائیں کہ:

(1) کیا زید کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟

(2) زید کے اور اہل سنت کے عقائد میں جو فرق ہے اسے واضح فرما دیں-

وقار ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں اسلام کا دعوی کرنے والے مختلف گروہ ہیں اور ہر ایک یہی دعوی کرتا ہے کہ میں عاشق رسول ہوں مگر کسی شخص کے اسٹیج پر (دیے گئے) بیانات سے اس کے عقائد کا پتا نہیں لگایا جا سکتا ہے- کسی شخص کے عقیدے اور مذہب کا پتا اس کی تحریروں سے چلتا ہے- طاہر القادری بہت زمانے سے اپنے مختلف انٹرویوز میں یہ کہتا رہا ہے کہ شیعہ، دیوبندی، غیر مقلد اور بریلوی چاروں مذاہب میں فروعی اختلافات ہیں! ان میں اصولی اختلاف نہیں-

اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا پر تہمت لگانا، حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالی عنھما کو خلیفۂ بر حق نہ جاننا، ان کی خلافت کا انکار کرنا، قرآن کریم کو بیاض عثمانی سمجھنا، یہ تمام باتیں پروفیسر صاحب کی نظر میں فروعی ہیں حالانکہ خلافت ابو بکر کے حق ہونے پر صحابۂ کرام کا اجماع ہے اور اجماع صحابہ کا منکر کافر ہے- حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت لگانے والا قرآن کا منکر ہے اور قرآن کو بیاض عثمانی کہنے والا بھی کافر ہے-

طاہر القادری نے اپنے اس عقیدے کی کھل کر تائید کر دی ہے- منہاج القرآن جو ان کا اپنا رسالہ ہے اس کے دسمبر 1990ء کے شمارے میں چھپا ہے:

موجودہ نازک حالات میں اہل تشیع کو کافر قرار دینے والے اور بھولے بھالے مسلمانوں میں اس کا پروپا گنڈا کرنے والے بعض خود پرست انتہا پسند مولوی صاحبان تو ہو سکتے ہیں اہل سنت و جماعت ہرگز نہیں ہو سکتے-

اس کے چند سطور بعد لکھا ہے:

اس حقیقت باہرہ اور برہان قاطعہ کے باوجود اہل تشیع کو بالمجموع کافر سمجھنا، کہنا یا قرار دینا مطلقاً باطل ہے، بالکل اسی نہج پر کوئی فرقہ یا کوئی فرد اہل سنت کو کافر سمجھے، کہے یا قرار دے وہ بھی قطعی طور پر باطل ہوگا-

در حقیقت حنفی، دیوبندی، بریلوی، شیعہ، مالکی، حنبلی، شافعی اور اہل حدیث سب کے سب مسلمان ہیں- ان فرقوں میں فروعی اختلافات تو بہر طور موجود ہیں مگر بنیادی اختلاف کوئی نہیں-

دیوبندیوں کی توہین نبی پر مشتمل وہ کتابیں جن پر علماے حرم، شام و مصر نے حکم تکفیر کیا اور یہ لکھا:

"مَن شك فی کفره و عذابه فقد کفر”

جو اس میں شک کرے وہ بھی کافر ہے (حسام الحرمين)

وہ کتابیں اب تک اسی طرح چھپ رہی ہیں- پروفیسر صاحب کہ نزدیک یہ بھی فروعی اختلافات ہیں-

ان چند مثالوں سے یہ ظاہر ہو گیا کہ پروفیسر صاحب کا ایک نیا مذہب ہے اور ان کے مذہب کے مطابق ان باطل فرقوں اور اہل سنت میں کوئی فرق نہیں ہے وہ سب کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز بھی جائز سمجھتے ہیں-

زید کا قول اگر ناواقفی کی بنا پر ہے تو اسے سمجھنا چاہیے اور ان کو عاشق رسول کے بجائے اسلام کا برباد کرنے والا کہنا چاہیے- اگر زید جان بوجھ کر ایسا کہتا ہے تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو علماے حرمین نے بیان کیا ہے لہذا اس کی امامت باطل و ناجائز ہے- مسلمانوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے-

(وقار الفتاوی، ج1، ص326 تا 328)

عبد مصطفی

وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 36

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا

ترجمہ:

اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلاموں کے ساتھ (نیکی کرو) بیشک اللہ مغرور متکبر کو پسند نہیں کرتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ (نیکی کرو) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر کے ساتھ نیکی کرو۔ (النساء : ٣٦) 

اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے ساتھ شریک نہ کرنے کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں دراز گوش پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا : اے معاذ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں ‘ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کرے وہ اس کو عذاب نہ دے ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دوں ؟ آپ نے فرمایا ان کو خوش خبری نہ دو ورنہ وہ اسی پر توکل کرکے بیٹھ جائیں گے (عمل نہیں کریں گے) (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٠‘ سنن ترمذی : ٢٦٥٢‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٢٩٦‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٢١٠‘ مسند ابوعوانہ : ج ١ ص ١٧) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو اللہ پر بندوں کے حق کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل اور کرم سے شرک نہ کرنے والوں کے لئے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے ورنہ عمل کی وجہ سے کسی بندہ کا اللہ پر کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یہ حدیث بیان کرنے سے منع فرمایا تھا لیکن بعد میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بشارت دے دی تو حضرت معاذ (رض) نے موت سے پہلے اس حدیث کو بیان فرمادیا تاکہ علم کو چھپانے پر جو وعید ہے اس میں داخل نہ ہوں۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا اس نے کہا اے اللہ کے نبی مجھ کو وصیت کیجئے آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا جلا دیا جائے اور کسی وقت کی نماز ترک نہ کرو اور شراب نہ پیو کیونکہ وہ برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٠٣٤‘ الترغیب والترہیب ج ١ ص ١٩٥‘ مجمع الزوائد : ج ٤ ص ٢١٧۔ ٢١٦) 

ماں باپ کے حقوق اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

(آیت) ” ووصیناالانسان بوالدیہ، حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عامین ان ش کرلی ولوالدیک الی المصیر “۔ (لقمان : ١٤) 

ترجمہ : ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں اٹھایا اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے (اور ہم نے یہ حکم دیا کہ) میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو میری طرف لوٹنا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کون لوگ میرے اچھے سلوک کے مستحق ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا پھر تمہاری ماں ‘ کہا پھر فرمایا تمہارا باپ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٩‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٠٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٠٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٥٤١‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٥٩٧١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ٢ شرح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٣٤١٦) 

قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور اپنے شکر کے بعد ماں باپ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ انسان کے حق میں سب سے بڑی نعمت اس کا وجود اور اس کی تربیتت اور پرورش ہے اور اس کے وجود کا سبب حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہری سبب اس کے والدین ہیں ‘ اسی طرح اس کی تربیت اور پرورش میں حقیقی سبب اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہری سبب اس کے والدین ہیں۔ نیز جس طرح اللہ بندے کو نعمتیں دے کر اس سے اس کا عوض نہیں چاہتا اسی طرح ماں باپ بھی اولاد کو بلاعوض نعمتیں دے دیتے ہیں ‘ اور جس طرح اللہ بندہ کو نعمتیں دینے سے تھکتا اور اکتاتا نہیں والدین بھی اولاد کو نعمتیں دینے سے تھکتے اور اکتاتے نہیں ‘ اور جس طرح بندے گنہ گار ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کا دروازہ بند نہیں کرتا ‘ اسی طرح اگر اولاد نالائق ہو پھر بھی ماں باپ اس کو اپنی شفقت سے محروم نہیں کرتے ‘ اور جس طرح اللہ اپنے بندوں کو دائمی ضرر اور عذاب سے بچانے کے لئے ہدایت فراہم کرتا ہے ماں باپ بھی اپنی اولاد کو ضرر سے بچانے کے لئے نصیحت کرتے رہتے ہیں۔ 

ماں باپ کے ساتھ اہم نیکیاں یہ ہیں کہ انسان ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہے ‘ ان کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے ‘ ان کے ساتھ سختی سے بات نہ کرے ‘ ان کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کرے ‘ اپنی حیثیت اور وسعت کے مطابق ان پر اپنا مال خرچ کرے ‘ ان کے ساتھ عاجزی اور تواضع کے ساتھ رہے ‘ ان کی اطاعت کرے اور ان کو راضی رکھنے کی کوشش کرے خواہ اس کے خیال میں وہ اس پر ظلم کر رہے ہوں ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دے ‘ ماں کے بلانے پر نفل نماز توڑ دے البتہ فرض نماز کسی کے بلانے پر نہ توڑے اگر اس کا باپ یہ کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو اس کو طلاق دے دے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا اور حضرت عمر (رض) اس کو ناپسند کرتے تھے انہوں نے مجھ سے کہا اس کو طلاق دے دو ۔ میں نے انکار کیا پھر حضرت عمر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو طلاق دے دو ۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٨‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣، سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٠٨٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥٣‘ ٤٢‘ ٢٠) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک شخص نے کہ میری ایک بیوی ہے اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے۔ حضرت ابودرداء (رض) نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے کہ والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے ‘ تم چاہو تو اس کو ضائع کردو اور تم چاہو تو اس کی حفاظت کرو ‘ سفیان کی ایک روایت میں ماں کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں باپ کا ذکر ہے ‘ یہ حدیث صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٠٦) 

حافظ عبدالعظیم بن عبد القوی لکھتے ہیں : 

سب سے پہلے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دیا تھا اور بیٹے کی باپ کے ساتھ نیکی یہی ہے کہ جس کو باپ ناپسند کرے اس کو بیٹا بھی ناپسند کرے اور جس سے اس کا باپ محبت کرتا ہو اس سے محبت کرے خواہ اس کو وہ ناپسند ہو ‘ یہ اس وقت واجب ہے جب اس کا باپ مسلمان ہو ‘ ورنہ مستحب ہے۔ (مختصر سنن ابو داؤد ج ٨ ص ٣٥) 

نیز باپ کے ساتھ یہ بھی نیکی ہے کہ باپ کے دوستوں کے ساتھ نیکی کرے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ (رض) کی سہیلیوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے اور ان کو تحائف بھیجتے تھے ‘ جب بیویوں کی سہیلیوں کا یہ درجہ ہے تو باپ کے دوستوں کا مقام اس سے زیادہ بلند ہے ‘ نیز ماں باپ کی وفات کے بعد ان کے لئے استغفار کرنا بھی ان کے ساتھ نیکی ہے ‘ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور پوچھا ماں باپ کے فوت ہونیکے بعد میں ان کے ساتھ کس طرح نیکی کروں ؟ آپ نے فرمایا انکی نماز جنازہ پڑھو ‘ ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو ‘ انہوں نے لوگوں سے جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کرو ‘ انکے دوستوں کی عزت کرو اور جن کے ساتھ وہ صلہ رحم کرتے تھے انکے ساتھ صلہ رحم کرو۔ (عارضۃ الاحوذی ج ٨ ص ٩٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) 

پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

جو پڑوسی رشتہ دار ہو اس کا ایک حق اسلام ہے اور ایک رشتہ داری کا حق ہے اور ایک پڑوسی کا حق ہے ‘ اور جو پڑوسی اجنبی ہو اس کے ساتھ اسلام اور پڑوسی کا حق ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے گھر ایک بکری ذبح کی گئی تو انہوں نے دوبارہ پوچھا تم نے ہمارے یہودی پڑوسی کے لئے ہدیہ بھیجا یا نہیں ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جبرائیل مجھ کو ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے حتی کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو میرا وارث کر دے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٩‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠١٤‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٦٢٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧٣) 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے دوستوں کے نزدیک اچھا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے ‘ اور جو شخص اپنے پڑوسیوں کے نزدیک اچھا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥١‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ١١٥‘ سنن دارمی ‘ ج ٢ ص ٢١٥) 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں ‘ میں ان میں سے کس کے ساتھ ابتداء کروں ‘ فرمایا جس کا دروازہ تمہارے دروازہ کے زیادہ قریب ہو۔ اس حدیث کو امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ (الوسیط ج ٤ ص ٥٠‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠٢٠) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاویہ بن حیدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر وہ بیمار ہو تو تم اس کی عیادت کرو ‘ اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ‘ اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو ‘ اگر وہ بدحال ہو تو اس پر ستر کرو ‘ اگر اس کو کوئی اچھائی پہنچے تو اس کو مبارک باد دو ‘ اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کرو ‘ اپنے گھر کی عمارت اس کی عمارت سے بلند نہ کرو کہ اس کی ہوا رک جائے۔ (المعجم الکبیر : ج ١٩ ص ٤١٩) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سالن پکائے تو اس میں شوربا زیادہ کرے۔ پھر اپنے پڑوسی کو بھی اس میں سے دے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٣٦١٥‘ کشف الاستار عن زوائد ‘ رقم الحدیث : ١٩٠١‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ١٣٦٨) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص پیٹ بھر کر رات گذارے اور اس کو علم ہو کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہے اس کا مجھ پر ایمان نہیں ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٧٥١‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١١٩) 

علامہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ نے لکھا ہے کہ جس شخص کا گھر یا دکان تمہارے گھر یا دکان سے متصل ہو وہ تمہارا پڑوسی ہے ‘ بعض علماء نے چالیس گھروں تک اتصال کا اندازہ کیا ہے۔ (اکمال اکمال المعلم) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنے غلاموں کے ساتھ نیکی کرو۔ 

غلاموں اور خادموں کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (یہ) تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کردیا ہے۔ سو جو تم کھاتے ہو وہ ان کو کھلاؤ اور جو تم پہنتے ہو وہ ان کو پہناؤ اور ان کے ذمہ ایسا کام نہ لگاؤ جو ان پر بھاری ہو اور اگر تم ان کے ذمہ ایسا کام لگاؤ تو تم ان کی مدد کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٤٣٨٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٠)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم نبی التوبہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے غلام کو تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر حد قائم کرے گا ‘ سوا اس کے کہ وہ بات صحیح ہو ‘ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

(سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٤‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٨٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٠‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٦٥) 

حضرت ابو مسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا میں نے سنا کوئی شخص میرے پیچھے کھڑا یہ کہہ رہا تھا ابو مسعود تحمل کرو ‘ ابو مسعود تحمل کرو ‘ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے ‘ آپ نے فرمایا جتنا تم اس پر قادر ہو اللہ تم پر اس سے زیادہ قادر ہے۔ سنن ابوداؤد میں یہ اضافہ ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ اللہ کے لئے آزاد ہے ‘ آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتے تو دوزخ میں جاتے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦٥٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥٩) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنے خادم کو دن میں کتنی بار معاف کروں ‘ آپ نے فرمایا ہر دن میں ستر بار۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٦) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے خادم کو مارے اور اس کو خدا یاد آجائے تو اس کو مارنا چھوڑ دے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٧ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے ایک غلام کو آزاد کردیا وہ ایک تنکے سے زمین کرید رہے تھے انہوں نے کہا اس عمل میں ایک تنکے کے برابر بھی اجر نہیں ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا یا پیٹا اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کردے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٦٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے غلام آزاد کیا اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلہ میں اس کو عضو دوزخ سے آزاد کر دے گا حتی کہ اس کی فرج کے بدلہ میں اس کی فرج آزاد کردے گا۔ 

اسلام میں غلامی کو ختم کرنے کے لئے بہت سے طریقے مقرر کیے گئے قتل خطا کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ‘ قسم توڑنے کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ظہار کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے ‘ عمدا روزہ توڑنے کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے اور جس کے پاس غلام نہ ہوں تو وہ کفارہ قسم میں تین دن روزے رکھے گا ‘ اور باقی صورتوں میں دو ماہ کے روزے رکھے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 36

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ ۚ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 35

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ ۚ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا

ترجمہ:

اور (اے مسلمانو) اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑنے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کی طرف سے مقرر کرو ‘ اگر وہ دونوں منصف صلح کرانے کا ارادہ کریں تو اللہ ان دونوں (زن وشو) کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا بیشک اللہ بڑا جاننے والا بہت خبر رکھنے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم کو جن عورتوں کی نافرمانی کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں پر اکیلا چھوڑ دو اور ان کو (تادیبا) مارو پس اگر وہ تمہاری فرمانبرداری کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو۔ (النساء : ٣٤) 

بیویوں کو مارنے کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا : اے لوگو ! عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے ان کو اللہ کی امان میں حاصل کیا ہے اور اللہ کی اجازت سے ان کے جسموں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے اور تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر اس شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کو اس طرح مارو کہ چوٹ کانشان نہ پڑے اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کو دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دو ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٢١٨) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سلیمان بن عمرو اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ والوداع میں تھے آپ نے اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : سنو عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو وہ تمہارے پاس تمہاری قید میں ہیں تم اس کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو ‘ ہاں اگر وہ کھلی بےحیائی کریں تو ان کو ان کے بستروں میں اکیلا چھوڑ دو اور ان کو اس طرح مارو کہ چوٹ کا اثر ظاہر نہ ہو اور اگر وہ تمہاری اطاعت کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ تلاش نہ کرو سنو تمہاری عورتوں پر تمہارا حق ہے اور تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے ‘ تمہاری عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو نہ آنے دیں اور جن کو تم ناپسند کرتے ہو ان کو تمہارے گھروں میں آنے نہ دیں ‘ اور سنو تمہاری عورتوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کو اچھا پہناؤ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (النساء :) (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٦٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٥١) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن زیاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو مارا نہ کرو ‘ پھر حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : عورتیں اپنے خاوندوں کے ساتھ بدخلقی اور بدزبانی کرتی ہیں ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مارنے کی اجازت دی پھر بہت ساری عورتوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر جا کر اپنے خاوندوں کی شکایت کی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بہت ساری عورتوں نے اپنے خاوندوں کی شکایت کی ہے اور یہ لوگ تمہارے اچھے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص سے اس پر باز پرس نہیں ہوگی کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن زمعہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے نہ مارے پھر دن گزرنے کے بعد اس سے جماع کرے۔ (صحیح البخاری :‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤) 

بیویوں کو مارنے کے متعلق فقہاء کا نظریہ : 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے اصحاب (احناف) نے یہ تصریح کی ہے کہ چار صورتوں میں مرد عورت کو مار سکتا ہے۔

(١) جب خاوند چاہتا ہو کہ بیوی بناؤ سنگھار کرے اور بیوی میک اپ نہ کرے۔ 

(٢) خاوند بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے۔ 

(٣) جب وہ نماز نہ پڑھے ایک قول یہ ہے کہ جب وہ غسل نہ کرے۔ 

(٤) جب وہ بغیر عذر شرعی کے گھر سے باہر نکلے ‘ ایک قول ہے کہ جب وہ خاوند کو ناراض کرے ‘ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت زبیر بن العوام کی چوتھی بیوی تھی جب وہ کسی بیوی سے ناراض ہوتے تو وہ اس کو کھونٹی کی لکڑی سے مارتے حتی کہ وہ لکڑی ٹوٹ جاتی ‘ واضح رہے کہ بیوی کی اذیتوں کو برداشت کرنا اور ان پر صبر کرنا اس کو مارنے سے افضل ہے الا یہ کہ کوئی ناقابل برداشت معاملہ ہو۔ (روح المعانی ج ٥ ص ‘ ٢٥‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مسلمانو ! ) اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کی طرف سے مقرر کرو اگر وہ دونوں منصف صلح کرانے کا ارادہ کریں تو اللہ ان دونوں (زن وشوہر) کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا۔ 

اختلاف زن و شوہر میں دونوں جانب سے مقرر کردہ منصف آیا حاکم ہیں یا وکیل : 

امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک یہ منصف حاکم ہیں اور ان منصفوں کو از خود یہ اختیار ہے کہ وہ مناسب جانیں تو خاوند اور اس کی بیوی کو نکاح پر برقرار رکھیں یا ان میں سے کسی ایک کے ذمہ کسی چیز کی ادائیگی لازم کردیں یا مناسب جانیں تو ان کا نکاح فسخ کردیں ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک یہ منصف وکیل ہیں اور ان کو اختیار نہیں ہے الا یہ کہ زوجین ان کو فسخ نکاح کا اختیار بھی تفویض کردیں۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اور مرد کی طرف سے جو دو شخص مقرر کئے جائیں وہ ان کے وکیل ہوں گے اور بہ حیثیت وکیل کے ان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان کے حکم کے بغیر از خود ان کا نکاح فسخ کردیں۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ١٩٠ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی لکھتے ہیں : 

یہ دونوں حاکم زوجین کے وکیل ہیں اور ان کے فیصلہ میں ان دونوں کی رضا کا اعتبار ہوگا یہ امام احمد ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا قول ہے ‘ اور امام مالک اور امام شافعی کا قول یہ ہے کہ حاکموں کے فیصلہ کے لئے زوجین کی رضا کی ضرورت نہیں ہے۔ 

(زادالمیسر ج ٢ ص ‘ ٧٨۔ ٧٧ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

علامہ ابوالحسن علی بن محمد ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ لکھتے ہیں : 

جن دو شخصوں کو بھیجا جائے گا اس کے متعلق دو قول ہیں وہ وکیل ہیں اور ان کو از خود زوجین میں تفریق کا اختیار نہیں ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حاکم ہیں اور ان کا اختیار ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٤٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھا ہے کہ زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ یہ وکیل ہیں۔ (روضۃ الطالبین ج ٥ ص ٦٧٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی مالکی لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) سے صحیح روایت یہ ہے کہ یہ دونوں شخص حاکم ہیں اور جب یہ دونوں شخص زوجین کے درمیان تفریق کردیں تو تفریق واقع ہوجائے گی۔ کیونکہ نکاح سے مقصود الفت اور حسن معاشرت ہے اور وہ ان کے نزدیک نہیں پائی گئی (الی قولہ) ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اگر خاوند کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور اگر عورت کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو ہم عورت کو مرد کا تابع کریں گے اور اگر دونوں کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو بھی ان میں تفریق کردی جائے گی اور مرد کو بعض مہر ادا کرنا ہوگا نہ کہ پورا۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٥٤١۔ ٥٤٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جہاں دونوں حاکم زوجین کے درمیان تفریق کردیں گے تو یہ طلاق بائن کے قائم مقام ہے اور حاکموں کا منصب طلاق واقع کرنا ہے وکالت کرنا نہیں ہے ‘ امام مالک ‘ امام اوزاعی اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ حضرت عثمان ‘ حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مروی ہے اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے (آیت) ” فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا “۔ ” ایک حاکم مرد کی طرف سے بھیجو اور ایک حاکم عورت کی طرف سے بھیجو “ یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ یہ دونوں قاضی اور حاکم ہیں وکیل یا شاہد نہیں ہیں ‘ اور وکیل کی شریعت میں اور تعریف ہے اور حاکم کی شریعت میں اور تعریف ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی تعریف الگ الگ بیان کردی ہے تو کسی شخص یا عالم کے لئے یہ کس طرح جائز ہوگا کہ وہ ایک لفظ کی تعریف کو دوسرے لفظ میں محمول کردے (اس کے بعد علامہ قرطبی نے اپنے موقف پر سنن دارقطنی سے حدیث پیش کی) (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٧٦‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران) 

فقہاء مالکیہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

عبیدہ سلمانی بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت حاضر تھا جب حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کے ایک عورت اور اس کا خاوند آئے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی ان لوگوں نے عورت کی طرف سے بھی ایک حاکم پیش کیا اور مرد کی طرف سے بھی ایک حاکم پیش کیا۔ حضرت علی (رض) نے ان دونوں حاکموں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ تم دونوں پر کیا فرض ہے ؟ اگر تمہاری رائے میں ان دونوں میں تفریق ہونی چاہیے تو تم ان میں تفریق کردو اور اگر تمہاری رائے میں ان کو اکٹھا ہونا چاہیے تو تم ان کو اکٹھا کردو خاوند نے کہا رہی فرقت تو میں اس کو اجازت نہیں دیتا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا بخدا تم یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤ گے جب تک تم اپنے متعلق کتاب اللہ سے راضی نہ ہوجاؤ وہ تمہارے حق میں ہو یا تمہارے خلاف ‘ عورت نے کہا میں اپنے متعلق کتاب اللہ سے راضی ہوں خواہ وہ میرے حق میں ہو یا میرے خلاف۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١١٨٨٣‘ جامع البیان : ج ٥ ص ٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٦۔ ٣٠٥) 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ اس حدیث کے جواب میں لکھتے ہیں : 

اس حدیث میں حضرت علی (رض) نے خبر دی ہے کہ حاکموں کا فیصلہ اس وقت تک معتبر نہیں ہوگا جب تک کہ دونوں فریق اس فیصلہ پر راضی نہ ہوجائیں ‘ اسی لئے ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ حاکموں کا تفریق کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کہ خاوند اس پر راضی نہ ہوجائے کیونکہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ اگر خاوند اس کا اقرار کرلے کہ وہ بیوی کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو ان کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی اور نہ قاضی جانبین سے حاکم بنانے سے پہلے اس کو طلاق پر مجبور کرے گا ‘ اسی طرح سے اگر عورت خاوند کی نافرمانی کا اقرار کرلے تو قاضی اس کو خلع پر مجبور کرے گا نہ مہر واپس کرنے پر ‘ اور جب جانبین سے حاکم مقرر کرنے سے پہلے یہ حکم ہے تو جانبین سے حاکم مقرر کرنے کے بعد بھی یہی حکم ہوگا اور خاوند کی مرضی کے بغیر ان حاکموں کا اس کی بیوی کو طلاق دینا صحیح نہیں ہوگا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ١٩١‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

امام مالک کی طرف سے یہ جواب دیا جائے گا کہ حضرت علی (رض) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو بیوی اور خاوند کے جھگڑے میں حاکم بنانے کا معنی ہی یہ ہے کہ یہ اختیار ہے کہ فریقین کے بیان لینے کے بعد وہ اپنی صوابدید سے فیصلہ کرے خواہ نکاح برقرار رکھے خواہ نکاح و فسخ کردے ‘ اور حاکم بنائے جانے کے بعد بھی ان کو یہ اختیار نہ ہو اور طلاق دینے کا اختیار خاوند کے پاس ہی رہے تو پھر ان کی حیثیت حاکم کی نہیں وکیل کی ہوگی ‘ حالانکہ قرآن مجید نے ان کو حاکم فرمایا ہے نیز حسب ذیل آثار بھی امام مالک کے موید ہیں : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو سلمہ بن عبدالرحمان کہتے ہیں کہ اگر دونوں حاکم میں تفریق کرنا چاہیں تو تفریق کردیں اور اگر ان کو ملانا چاہیں تو ان کو ملا دیں۔ 

شعبی کہتے ہیں کہ اگر دونوں حاکم چاہیں تو ان میں تفریق کردیں اور اگر چاہیں تو ان کو ملا دیں۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے اور حضرت معاویہ (رض) دونوں کو حاکم بنایا گیا ‘ ہم سے کہا گیا کہ اگر تمہاری رائے ان کو جمع کرنا ہو تو ان کو جمع کردو اور اگر تمہارے رائے ان میں تفریق کرنا ہو تو ان میں تفریق کردو ‘ معمر نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ان دونوں کو حضرت عثمان (رض) نے بھیجا تھا۔ (المصنف رقم الحدیث : ٥١٢۔ ٥١١‘ جامع البیان ج ٥ ص ٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٦) 

اگر خاوند اور بیوی کے درمیان اختلاف کو دونوں طرف کے وکیل یا منصف ختم کرا سکیں تو جو فریق مظلوم ہو اس کو داد رسی کے لئے عدالت میں جانا چاہیے۔ 

اگر شوہر ‘ بیوی کو خرچ دے نہ طلاق تو آیا عدالت اس کا نکاح فسخ کرسکتی ہے یا نہیں ؟ 

ہمارے زمانہ میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر بیوی کا خرچ نہیں دیتا اور نہ اس کو طلاق دیتا ہے بیوی عدالت میں مقدمہ دائر کردیتی ہے شوہر عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور عدالت گواہوں کی بنیاد پر یک طرفہ فیصلہ کرکے اس نکاح کو فسخ کردیتی ہے اور اس کو موجودہ مجسٹریٹ اپنی اصطلاح میں خلع سے تعبیر کرتے ہیں ‘ اب سوال یہ ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ از روئے شرع قابل عمل ہے یا نہیں۔ 

امام دارقطنی متوفی ٢٨٥ ھ روایت کرتے ہیں۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے عیال کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری بیوی جو کہتی ہے مجھ کو کھلاؤ مجھ و علیحدہ کردو۔ (سنن دارقطنی ج ٣ ص ٢٩٧۔ ٢٩٦‘ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان) 

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

جو شخص بیوی کا نفقہ ادا کرنے سے عاجر ہو اس کے بارے میں امام مالک ‘ امام شافعی اور احمد کا مذہب یہ ہے کہ ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی امام ابوحنیفہ یہ کہتے ہیں کہ ان میں تفریق نہیں کی جائے گی جمہور کی دلیل یہ ہے کہ جب شوہر نامرد ہو تو بالاتفاق ان میں تفریق کردی جاتی ہے اور جب کہ نفقہ نہ دینے کا ضرر مباشرت نہ کرنے کے ضرر سے زیادہ ہے تو اس میں بہ طریق اولی تفریق ہونی چاہیے (کیونکہ شوہر کے جماع نہ کرنے پر تو صبر ہوسکتا ہے لیکن بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا ) ۔ (بدایۃ المجتہد ج ٣ ص ٣٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ المہذب مع شرح المہذب ج ١٨ ص ٢٦٧‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ ابو البرکات سیدی احمد دردیر مالکی لکھتے ہیں : 

جب عورت فسخ نکاح کا ارادہ کرے اور حاکم کے پاس مقدمہ پیش کرے تو اگر کا خاوند کا افلاس ثابت نہ ہو تو حاکم خاوند کو کھانے کا خرچ اور کپڑے دینے کا حکم دے جبکہ عورت نے نفقہ نہ دینے کی شکایت کی ہو یا اس کو طلاق دینے کا حکم دے یا کہے کہ یا تو تم بیوی کو خرچ دو یا اس کو طلاق دو ورنہ حاکم اپنے اجتہاد سے ایک یا دو دن انتظار کرنیکے بعد اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے گا۔ (الشرح الکبیر علی ہامش الدسوقی ج ٢ ص ٥١٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

اب رہا یہ سوال کہ ائمہ ثلاثہ کے مذہب کے مطابق جو اقول پیش کئے گئے ہیں ان میں خاوند عدالت میں حاضر ہوتا ہے اور ہمارے زیر بحث جو صورت ہے اس میں خاوند عدالت میں حاضر نہیں ہوتا اور غائب ہوتا ہے تو غائب کے خلاف جو فیصلہ کیا جائے گا وہ کیسے نافذ ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ۔ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

اگر غائب کے خلاف دلیل قائم کردی گئی اور قاضی گمان غالب یہ ہے کہ یہ حق ہے جھوٹ نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی حیلہ ہے تو غائب کے خلاف یا اس کے حق میں فیصلہ کردینا چاہیے اسی طرح مفتی بھی یہ فتوی دے سکتا ہے تاکہ حرج نہ ہو اور لوگوں کے حقوق ضائع نہ ہوں ‘ اور اس میں ضرورت ہے علاوہ ازیں یہ مسئلہ مجہتدفیہ ہے ‘ ائمہ ثلاثہ کا یہی مذہب ہے اور ہمارے اصحاب کے بھی اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب کی طرف سے ایک وکیل کرلیا جائے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ غائب کی رعایت کرے گا اور اس کے حق میں کمی نہیں کرے گا ‘ نور العین میں اس کو برقرار رکھا گیا ہے اور عنقریب مسخر میں اس کا ذکر ہوگا اسی طرح فتح القدیر کے باب المفقود میں ہے کہ جب قاضی غائب کے خلاف یا اس کے حق میں کوئی مصلحت دیکھے تو اس کے مطابق فیصلہ کردے گا اور اس کا حکم نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے (علامہ شامی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ خواہ قاضی حنفی ہو اور خواہ ہمارے زمانہ میں ہو اور یہ قاعدہ پہلے قاعدہ کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اس قاعدہ کو ضرورت اور مصلحت کی بناء پر جائز قرار دیا گیا ہے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٣٣٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

عدالت کے فسخ نکاح پر اعتراضات کے جوابات : 

کسی مظلوم اور نان ونفقہ سے محروم عورت کے حق میں جب عدالت فسخ نکاح کردیتی ہے اور اس کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت دے دیتی ہے تو اس پر بعض علماء کرام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر عدالت کے فیصلہ کی بناء پر اس نکاح کے جواز کا دروازہ کھول دیا جائے تو جو عورت بھی اپنے خاوند سے نجات حاصل کرنا چاہے گی وہ عدالت میں جھوٹا دعوی دائر کر کے اپنے حق میں فیصلہ کرا لے گی۔ اس اعتراض کے جواب میں پہلے یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجرہ کے دروازہ پر کچھ لوگوں کے جھگڑنے کی آواز سنی آپ ان کے پاس باہر گئے اور فرمایا میں صرف بشر ہوں (خدا نہیں ہوں) میرے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنا فوقف زیادہ وضاحت سے پیش کرے اور میں اس کو سچا گمان کرکے اس کے حق میں فیصلہ کردوں سو (بفرض محال) اگر میں کسی شخص کو کسی مسلمان کا حق دے دوں تو وہ صرف آگ کا ٹکڑا ہے وہ اس کو لے یا ترک کردے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٤٥٨‘ ٧١٨١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٣) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

یعنی میں (ازخود) غیب اور مخفی امور کو نہیں جانتا جیسا کہ حالت بشریہ کا تقاضا ہے اور آپ صرف ظاہر کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے اور مخفی چیزیں اللہ کی ولایت میں تھیں ‘ اور اگر اللہ چاہتا تو آپ کو مخفی امور پر مطلع فرما دیتا حتی کہ آپ (صورت واقعیہ کے مطابق) یقین کے ساتھ فیصلہ فرماتے لیکن اللہ نے آپ کی امت کو آپ کی اقتداء کا حکم دیا اس لئے آپ نے ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ فرمایا تاکہ امت کو آپ کی اتباع کرنے میں آسانی اور اطمینان ہو۔ (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ٥) 

اسی طرح حافظ ان حجر شافعی ٨٥٢ ھ نے لکھا ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ١٧٥) 

اس حدیث اور اس کی شرح سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی عورت خاوند کے خلاف جھوٹے گواہ پیش کرکے اپنے حق میں فیصلہ کرا لیتی ہے تو عدالتتو بہرحال ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ کرے گی لیکن اس جھوٹ کا وبال اس عورت کے سر پر ہوگا۔ ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ کرنے کے متعلق ایک اور حدیث یہ ہے : جو لوگ غزوہ تبوک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے تھے آپ نے واپس آکر ان سے باز پرس کی تو اسی (٨٠) سے کچھ زیادہ لوگ (منافقین) آئے انہوں نے مختلف بہانے کئے اور قسمیں کھائیں سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ظاہر کردہ بہانوں کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے استغفار کیا اور ان کے باطنی امور کو اللہ کے سپرد کردیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٤١٨) 

دوسرا جواب یہ ہے کہ فقہاء احناف کے نزدیک صرف حجت ظاہریہ کا اعتبار ہے : 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

جھوٹے گواہوں کے ساتھ ظاہرا و باطنا عقود اور فسوخ میں قضا نافذ ہوجاتی ہے بہ شرطی کہ قضا کے محل میں اسی قضا کی صلاحیت ہو اور قاضی کو گواہوں کے جھوٹے ہونے کا علم نہ ہو۔ (درمختار علی ہامش ردالمختار ج ٤ ص ٣٣٣) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

فسوخ سے مراد ایسافیصلہ ہے جو عقد حکم کو فسخ کردے ‘ لہذایہ طلاق کو بھی شامل ہے اور اس کی فروع میں سے یہ ہے کہ ایک عورت نے دعوی کیا کہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور خاوند اس کا منکر ہو اور اس عورت نے اپنے دعوی پر دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے اور قاضی نے ان میں علیحدگی کا فیصلہ کردیا ‘ اس عورت عدت کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرلیا۔ تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا اس عورت سے مباشرت کرنا جائز ہے خواہ اس کو حقیقت حال کا علم ہو اور ان دو گواہوں میں سے بھی اگر کوئی اس عورت سے نکاح کرے تو عدت کے بعد اس عورت سے نکاح اور مباشرت کرنا جائز ہے اور اس کے پہلے خاوند کا اس عورت سے مباشرت کرنا جائز نہیں ہے اور اس عورت کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو وطی کرنے کا موقع دے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٣٣٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جس عورت پر اس کا خاوند ظلم کرے اس کو نہ گھر میں رکھے اور نہ کھانے پینے اور کپڑوں کا خرچ دے اور نہ اس کو طلاق دے اور وہ عورتت جوان ہو وہ اپنے معاش کے حصول کے لئے محنت مزدوری یا ملازمت کرے تو اس کو اپنی عزت اور عفت کے لٹ جانے کا بھی خطرہ ہو (اور ایسے واقعات ہمارے ہاں ہوتے رہتے ہیں) تو اس صورت حال کے مطابق اگر عدالت اس کے فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے تو یہ ائمہ ثلاثہ کے مطابق ایک جائز عمل ہے ‘ اب اگر کوئی عورت اس قانون سے فائدہ اٹھا کر گواہوں کے ذریعہ شوہر کے آباد نہ کرنے کی فرضی داستان سنا کر اپنے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ کرا لے تو اس کا وبال اس عورت کے سر ہوگا اور اس کے اس جھوٹ کی وجہ سے اس جائز طریقہ کو ترک نہیں کیا جائے گا اس کی نظر یہ ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابن حجر نے کہا ہے کہ زیارت قبور کو اس لئے ترک نہیں کیا جائے گا کہ زیارت قبور میں بہت سے منکرات اور مفاسد (ناجائز اور برے کام) مثلا مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور دوسرے امور (مثلا قبروں پر سجدہ کرنا) داخل ہوگئے ہیں کیونکہ عبادات کو ان کاموں کی وجہ سے ترک نہیں کیا جائے گا بلکہ انسان پر لازم ہے کہ ان عبادات کو بجا لائے اور ان غلط کاموں کا رد کرے اور حسب استطاعت ان بدعات کو زائل کرے (رد المختار ج ١ ص ‘ ٦٠٤ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ) 

ثانیا : یہ کہ جھوٹے گواہ پیش کرکے اپنے حق میں عدالت سے فیصلہ کرانا صرف فسخ نکاح کے عقد کے ساتھ تو مخصوص نہیں ہے۔ ہر قسم کے دیوانی اور فوجداری مقدمات میں پیشہ ور جھوٹے گواہ عدالت کے باہر مل جاتے ہیں اور ان کی بناء پر بہت سے مقدمات میں ظاہری شہادت کی بناء پر فیصلہ کردیا جاتا ہے تو اب اگر کسی مقدمہ میں ظاہری شہادت کی بناء پر عدالت کے فیصلہ کو اس لئے معتبر نہ مانا جائے کہ یہ شہادت فی الواقع جھوٹی تھی تو پھر عدالت کا کوئی بھی فیصلہ معتبر نہیں رہے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ جھوٹی گواہی کی بناء پر ہو اور اس کا حل یہی ہے کہ عدالت کا کام ظاہری شہادت کی بناء پر فیصلہ کرنا ہے اگر کسی فریق نے جھوٹے شواہد پیش کئے ہیں تو اس کا گناہ اس کے ذمہ ہوگا اور حقیقت کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے۔ 

قضاء علی الغائب کے متعلق مذاہب ائمہ : 

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک غائب کے خلاف فیصلہ کرنا جائز ہے انہوں نے کہا جو دور دراز غائب ہو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا اور امام ابوحنیفہ نے کہا کہ غائب کے خلاف مطلقا فیصلہ نہیں کیا جائے گا (بدایۃ المجتہد ج ٢ ص ٣٥٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

جس طرح حاضر کے خلاف ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے اسی طرح غائب کے خلاف بھی ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے (روضۃ الطالبین ج ٨ ص ١٥٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٢ ھ) 

علامہ ابواسحق ابراہیم بن علی فیروزآبادی شافعی متوفی ٤٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

اگر ایک شخص قاضی کے سامنے پیش ہو اور شہر سے غائب شخص کے خلاف دعوی کرے یا شہر میں حاضر ہو لیکن بھاگ جائے یا شہر میں حاضر ہو اور چھپ جائے اور اس کو حاض کرنا مشکل ہو تو اگر مدعی کے پاس اس غائب کے خلاف گواہ نہ ہوں تو اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا کیونکہ اس دعوی کا سننا غیر مفید ہے ‘ اور اگر مدعی کے پاس اس غائب کے خلاف گواہ ہوں تو اس کا دعوی سنا جائے گا اور اس کے گواہوں کو بھی سنا جائے گا کیونکہ اگر ہم اس کے دعوی کو نہ سنیں تو اس مدعی علیہ کا غائب ہونا یا شہر میں چھپ جانا لوگوں کے حقوق ساقط کرنے کا سبب ہوگا جب کہ ان حقوق کی حفاظت کے لئے حاکم کو نصب کیا جاتا ہے۔ (المہذب ج ٢ ص ٣٠٣‘ مطبوعہ دارالکتب بیروت ‘ شرح المہذب ج ٢٠ ص ١٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

جس غائب شخص کے خلاف کوئی حق ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا (الی قولہ) غائب کے خلاف صرف آدمیوں کے حقوق میں فیصلہ کیا جائے گا البتہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ حدود میں اسقاط کی گنجائش ہے اگر کسی غائب شخص کے چوری کرنے پر گواہ قائم ہوں تو اس سے مال واپس لینے کا حکم دیا جائے گا اور اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں دیاجائے۔ (المغنی ج ١٠ ص ١٣٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠٥ ھ) 

شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ٤٥٦ ھ کی تحقیق یہ ہے کہ جو شخص مجلس عدالت سے غائب ہو یا اس شہر سے غائب ہو اور اس کے خلاف گواہ قائم ہوں تو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا خواہ اس مقدمہ کا تعلق آدمیوں کے حقوق سے ہو یا اللہ تعالیٰ کی حدود سے۔ (محلی ابن حزم ج ٩ ص ٣٦٦) 

قضاء علی الغائب کے متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہند نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ ابو سفیان ایک کم خرچ کرنے والے انسان ہیں اور مجھے ان کے مال سے خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس کے مال سے اتنی مقدار لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لئے دستور کے مطابق کافی ہو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧١٨٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٤) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت ابو سفیان (رض) اس مجلس سے غائب تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق فیصلہ فرمایا ‘ امام بخاری نے اس حدیث کا عنوان ہی یہ قائم کیا ہے باب القضاء علی الغائب۔ اس حدیث میں مالی معاملات میں غائب کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے اور حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے فسخ نکاح میں غائب کے خلاف فیصلہ کیا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام صنعانی متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن المسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے مفقود (لاپتہ) شخص کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ اس کی بیوی چار سال انتظار کرے اور اس کے بعد چار ماہ دس دن (عدت وفات گزارے) پھر اگر اس کا پہلا خاوند آجائے تو اس کو اپنے دئیے مہر اور بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ (المصنف ‘ رقم الحدیث : ١٢٣١٧) 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا : جس عورت کا خاوند لاپتہ ہوجائے اور اس کو معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ چار سال انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے پھر وہ حلال ہوجائے گی۔ 

امام مالک فرماتے ہیں کہ جب اس نے عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرلیا تو پہلے خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں رہا۔ 

امام مالک فرماتے ہیں ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ایک عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی اور وہ غائب ہوگیا اور اس حال میں اس نے اس طلاق سے رجوع کرلیا عورت کو طلاق کی خبر پہنچی اور اس کے رجوع کی خبر نہیں پہنچی اور اس نے دوسری جگہ شادی کرلی حضرت عمر (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا جب اس عورت نے نکاح کرلیا تو اب پہلے خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں رہا خواہ دوسرے خاوند نے اس سے دخول کیا ہو یا نہیں۔ (موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ١٢١٩) 

ان دو حدیثوں میں فسخ نکاح اور طلاق کے معاملہ میں قضاء علی الغائب کا ثبوت ہے۔ 

امام شافعی ‘ امام مالک ‘ اور امام احمد کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز نہیں ہے لیکن فقہاء احناف نے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر ضرورت کی بناء پر کوئی حنفی قاضی یا مفتی ائمہ ثلاثہ کے اس قول پر فتوی دے تو یہ جائز ہے اور جس عورت کو اس کا خاوند تنگ کرنے کے لئے نہ خرچ دیتا ہو نہ طلاق دیتا ہو اور اپنی عزت اور عصمت کی حفاظت کے ساتھ ملازمت کرکے اس کے لئے روٹی کمانا مشکل اور دشوار ہو اور اندریں صورت وہ عدالت میں اپنا کیس پیش کرے ‘ خاوند حاضر نہ ہو اور عدالت خاوند کے خلاف یک طرفہ ڈگری دے کر خلع کردے (یعنی نکاح فسخ کردے) تو یہ فیصلہ صحیح ہے اور عدت کے بعد اس عورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا صحیح ہے۔ 

دفع حرج ‘ مصلحت اور ضرورت کی بناء پرائمہ ثلاثہ کے مذہب پر فیصلہ اور فتوی کا جواز :

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

جو فقہاء احناف قضاء علی الغائب کو جائز کہتے ہیں وہ یہ فرق نہیں کرتے کہ حنفی قاضی یہ فیصلہ کرے یا غیر حنفی فیصلہ کرے ‘ قنیہ میں بھی مذکور ہے کہ اس فیصلہ کے لئے قاضی کا حنفی ہونا شرط نہیں ہے ‘ اس تصریح سے علامہ رملی اور علامہ مقدسی کا یہ کہنا غلط ہوجاتا ہے کہ اس فیصلہ کے لئے قاضی کا مجوزین میں سے ہونا شرط ہے اور یہی صاحب البحر الرائق کا نظریہ ہے ‘ صاحب البحر نے قضاء علی الغائب کو مفقود کے ساتھ خاص کیا ہے ‘ علامہ رملی نے ان کا رد کیا ہے اور لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ اس میں عموم ہے ‘ جامع الفصولین میں مذکور ہے کہ مسئلہ میں فقہاء کی آراء مضطرب ہیں پس میرے نزدیک یہ ظاہر ہے کہ تمام مقدمات میں غور وفکر کیا جائے اور احتیاط سے کام لیا جائے اور حرج اور ضرورت کا لحاظ رکھا جائے اور اگر جواز کا تقاضا ہو تو اس کو جائز کہا جائے ورنہ اس کو ناجائز کہا جائے ‘ مثلا ایک شخص نے اپنی بیوی کو چند نیک لوگوں کے سامنے طلاق دی پھر وہ شہر سے غائب ہوگیا اور اس کی جگہ کا پتہ نہیں یا پتہ تو ہے لیکن اس کو حاضر کرنا مشکل ہے یا عورت یا اس کے وکیل کا اس کے پاس جانا مشکل ہے کیونکہ وہ جگہ دور ہے یا کوئی اور مانع ہے ‘ اسی طرح اگر مقروض غائب ہوجائے اور اس کا شہر میں مال ہو ‘ اس قسم کی مثالوں میں اگر قاضی کے سامنے غائب کے خلاف گواہ پیش کردیئے جائیں اور قاضی کا ظن غالب یہ ہو کہ یہ گواہ سچے ہیں اور ان میں کوئی جھوٹ یا حیلہ نہیں ہے تو قاضی کو چاہیے کہ غائب کے خلاف فیصلہ کر دے اور مفتی کو بھی چائیے کہ حرج اور حاجت کو دور کرنے کے لئے اس کے جواز کا فتوی دے تاکہ لوگوں کے حقوق ضائع ہونے سے محفوظ رہیں جب کہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے ‘ ائمہ ثلاثہ اس کو جائز کہتے ہیں اور ہمارے اصحاب (احناف) کے بھی اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب کی جانب سے ایک ایسا وکیل کرلیا جائے جس کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ غائب کی جانب سے مکمل رعایت کرے گا اور اس کے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گا ‘ نور العین میں بھی اس کو برقرار رکھا ہے اسی طرح مسخر میں ہے اور فتح القدیر کے باب المفقود میں بھی یہی مذکور ہے کہ غائب کے خلاف قضاء جائز نہیں لیکن جب قاضی غائب کے حق میں اس کے خلاف فیصلہ کرنے میں مصلحت دیکھے تو فیصلہ کردے اور یہ فیصلہ نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے (علامہ شامی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ اس کا ظاہر معنی یہ ہے کہ خواہ قاضی حنفی ہو۔ (درالمختار علی الدر المختار ج ٤ ص ٣٣٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

جو شخص اپنی بیوی کو نہ خرچ دے نہ آزاد کرے اس کے متعلق شریعت کا حکم : 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارالتعتدوا “۔ (البقرہ : ٢٣١) 

ترجمہ : اپنی بیویوں کو حسن سلوک کے ساتھ رکھو ورنہ ان کو معروف طریقہ سے علیحدہ کردو اور ان پر زیادتی کرنے اور ضرر پہنچانے کی نیت سے ان کو اپنے پاس نہ رکھو۔ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

علماء کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ خاوند کے پاس جب بیوی کو نفقہ دینے کی طاقت نہ ہو تو اس کا چاہیے کہ وہ بیوی کو طلاق دے دے ‘ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ بیوی کو معروف طریقہ سے علیحدہ کرنے کی حد سے نکل گیا پھر حاکم کو چاہیے کہ وہ اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے ‘ کیونکہ جو شخص اس کو خرچ دینے پر قادر نہیں ہے اس کے نکاح میں رہنے سے اس عورت کو ضرر لاحق ہوگا اور بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام احمد ‘ اسحاق ‘ ابو ثور ‘ ابو عبید ‘ یحییٰ بن القطان اور عبدالرحمن بن مہدی کا یہی قول ہے ‘ اور صحابہ میں سے حضرت عمر (رض) ‘ حضرت علی (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) کا یہی قول ہے اور تابعین میں سے سعید بن مسیب نے کہا یہی سنت ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے : (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ١٥٥ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

علامہ دردیر مالکی لکھتے ہیں :

حاکم پر لازم ہے کہ وہ خاوند سے کہے یا تو تم بیوی کو خرچ دو یا اس کو طلاق دو ورنہ حاکم اپنے اجتہاد سے ایک یا دو دن انتظار کرنیکے بعد اس کی بیوی کو طلاق واقع کردے۔ (الشرح الکبیر علی ہامش الدسوتی ج ٢ ص ٥١٩‘ مطبوعہ بیروت) 

سو اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے خلاف یہ مقدمہ دائر کرے تو کہ اس کا خاوند اس کو خرچ دیتا ہے نہ اس کو طلاق دیتا ہے اور اس پر گواہ قائم کردے اور خاوند بلانے پر بھی عدالت میں پیش نہ ہو تو عدالت پر لازم ہے کہ وہ اس نکاح کو فسخ کر دے ‘ خواہ وہ قاضی حنفی ہو یا شافعی یا مالکی یا حنبلی : 

مفتی محمد عبدالسلام چاٹ گامی رئیس دارافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی لکھتے ہیں : 

ہاں شوہر کا ظلم و زیادتی اگر عدالت میں شرعی گواہوں سے ثابت ہوجائے اور شوہر شرعی طریقہ سے اسے آباد کرنے پر رضامند نہیں ہوتا نہ اسے طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع پر رضا مند ہوتا ہے تو ان مجبوریوں کے بعد عدالت گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر یک طرفہ فسخ نکاح کا اختیار رکھتی ہے۔ (جواہر الفتاوی ج ٣ ص ٣٢٣‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی) 

مفتی رشید احمد کراچی نے بھی اسی صورت میں عدالت کے فیصلہ کو نافذ العمل قرار دیا ہے۔ (احسن الفتاوی ج ٥ ص ٤١١۔ مطبوعہ کراچی) 

میں نے اس مسئلہ کو شرح صحیح مسلم میں بھی لکھا تھا اور یہاں مزید تحقیق کے ساتھ لکھا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں جب کوئی مظلوم عورت ہمارے زمانہ کے مفتیوں کے پاس جاتی ہے جس کو خاوند نہ خرچ دیتا ہے نہ طلاق ‘ خاوند عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور عدالت یک طرفہ ڈگری دے دیتی ہے تو ہمارے مفتی اس فیصلہ کو نہیں مانتے اور اس عورت کو عقد ثانی کی اجازت نہیں دیتے اور وہ عورت یہ کہتی ہے کہ اس کے مسئلہ کا اسلام میں کوئی حل نہیں ہے ‘ سو میں نے صرف اسلام کے دفاع کے جذبہ سے یہ تحقیق پیش کی ہے اور اللہ نیتوں کو جاننے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 35