باب آداب الخلاء

پاخانے کے آداب کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ خلاء لغت میں خالی جگہ کو کہتے ہیں۔اصطلاح میں آبدست کو،چونکہ یہ کام تنہائی میں ہوتا ہے اس لئے اسے خلاکہاجاتاہے۔

حدیث نمبر :318

روایت ہے ابو ایوب انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم پاخانہ جاؤ تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ لیکن یا تو پورب کی طرف ہوجاؤ یا پچھم کی طرف ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ کا نام خالدابن زیدہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،بیعت عقبہ میں موجود تھے،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،حضور نے ہجرت کے دن اولًا انہی کے گھر قیام فرمایا،صحابہ رضی اللہ عنھم کے اختلاف کے وقت حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ تمام جنگوں میں شامل رہے،یزید ابن معاویہ کی سرکردگی میں جو روم پر جہاد ہوئے ان میں آپ غازیانہ شان سے شامل تھے،قسطنطنیہ پر حملہ کے وقت بیمارہوگئے،وصیت کی کہ اس جہاد میں میری میت اپنے ساتھ رکھنا،اور قسطنطنیہ فتح ہوجائے تومجاہدین کے قدموں کے نیچے مجھے دفن کرنا،چنانچہ آپ قسطنطنیہ کی فصیل کے نیچے مدفون ہیں،آپ کی قبر زیارت گاہ خواص و عام ہے۔بیماران کی قبر کی مٹی سے شفا پاتے ہیں۔(مرقاۃ و اکمال)

۲؎ یعنی پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کو منہ یا پیٹھ کرنا حرام ہے۔چونکہ مدینہ منورہ میں قبلہ جانب جنوب ہے اور شام یعنی بیت المقدس جانب شمال،وہاں کے لحاظ سےفرمایا گیا کہ شرق یاغرب کو منہ کرلو۔چونکہ ہمارے ہاں قبلہ جانب مغرب ہے لہذا ہم لوگ جنوب یا شمال کو منہ کریں گے۔خیال رہے کہ اس حدیث میں جنگل یا آبادی کی کوئی قید نہیں۔بہرحال کعبہ کو منہ یا پیٹھ کرکے استنجا کرنا حرام ہے۔حنفیوں کا یہی مذہب ہے۔