ڈاکٹر طاہر اور وقار ملت

ڈاکٹر طاہر اور وقار ملت

وقار ملت، حضرت علامہ مفتی محمد وقارالدین قادری رضوی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے خواب دیکھا جس میں حضور اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم اگر پاکستان میں میرے میزبان بن جاؤ تو مَیں پاکستان میں کچھ دنوں کے لیے رُک سکتا ہوں- اُس شخص نے ایک رسالے میں یہی خواب بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ نے پاکستان میں مجھے اپنا مستقل میزبان مقرر کر دیا ہے- اس جملے پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں اور اِسے شان رسالت میں توہین بتاتے ہیں لہذا آپ سے درخواست ہے کہ شریعت کی روشنی میں فتوی صادر فرمائیں کہ کیا شخص مذکور کسی شرعی جرم کا مرتکب ہوا ہے یا نہیں؟

وقار ملت علیہ الرحمہ جواب میں لکھتے ہیں کہ طاہر القادری کا یہ خواب نواے وقت لاہور، تکبیر اور دیگر مختلف رسائل میں چھپا ہے- حقیقت یہ ہے کہ خواب انسان کے اختیار میں نہیں اور انسان خواب میں عجیب و غریب امور بھی دیکھتا ہے مگر کسی خواب کو اپنی فضیلت کے لیے چھاپنا اور بیان کرنا، یہ انسان کا اختیاری فعل ہے لہذا طاہر القادری کا خواب بیان کرتے ہوئے یہ کہنا کہ حضور ﷺ نے پاکستان میں مجھے اپنا مستقل میزبان مقرر کر دیا ہے اور واپسی کے ٹکٹ کا بھی مطالبہ کیا ہے اور بہت سی باتیں بیان کیں جن میں حضور ﷺ کے محتاج ہونے اور طاہر القادری سے مدد طلب کرنے اور ایک امتی کے مقابلے میں نبی ﷺ کی محتاجی کا اظہار ہوتا ہے لہذا یہ توہینِ نبی ﷺ ہے اور توہین کرنے والوں کی جو سزا ہے طاہر القادری اس سزا کا مستحق ہے-

(ملخصاً: وقار الفتاوی، ج1، ص324، 325)

وقار ملت علیہ الرحمہ سے دوسرے مقام پر سوال کیا گیا کہ پروفیسر طاہر القادری مسلک اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں؟ اور ہمیں ان کے بارے میں کیا رائے رکھنی چاہیے؟ ان کے بارے میں ایک رسالے میں پڑھا ہے کہ یہ دیوبندیوں کے پیچھے نماز کو جائز سمجھتے ہیں اور ان سے جو اختلافات ہیں اسے فروعی گردانتے ہیں تو اس کا واضح مطلب ہے کہ یہ گستاخان رسول ﷺ کو کافر نہیں سمجھتے اور یہ کہ ان کے نزدیک احترام رسول ﷺ بھی فروعی مسئلہ ہے، تو کیا یہ شخص "مَن شك فی کفره و عذابه فقد کفر” (جو ان گستاخان رسول کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے) کے تحت آئے گا یا نہیں؟

آپ علیہ الرحمہ جواب میں لکھتے ہیں کہ پروفیسر طاہر القادری کا کہنا یہی ہے کہ یہ اختلافات فروعی ہیں- مورخہ 28 ستمبر 1987ء کے جنگ اخبار میں یہ خبر چھپی ہے کہ انھوں نے ہوٹل میں عورتوں سے خطاب کیا؛ ایک خاتون نے جب ان سے سوال کیا کہ جب اسلام اتحاد کا درس دیتا ہے تو پھر اتنے فرقے کیوں؟

اس پر پروفیسر طاہر القادری صاحب نے جواب دیا کہ تمام فرقوں کی بنیاد ایک ہے، صرف جدا جدا طریقہ ہے اس لیے اتحاد متاثر نہیں ہوتا اور انھوں نے اپنے انٹرویو میں پہلے بھی کہا تھا کہ ان کے یہاں دو مدرس دیوبندی اور ایک شیعہ ہے لہذا اسی سے اندازہ کر لیجیے کہ ان کے خیال میں اور "ندوہ” والوں کے خیال و اعتقاد میں کیا فرق ہے-

(وقار الفتاوی، ج1، ص325، 326)

وقار ملت علیہ الرحمہ سے ایک اور مقام پر سوال کیا گیا کہ زید کہتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری ایک سچے عاشق رسول ہیں اور اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرنے والے ہیں- مجھے طاہر القادری کی اس بات (کہ دیوبندیوں کے پیچھے نماز جائز ہے) کے علاوہ تمام باتوں سے اتفاق ہے اور میں ان کے کاموں سے مطمئن ہوں اور انھیں بدمذہبوں کا چاہنے والا نہیں سمجھتا لہذا یہ ارشاد فرمائیں کہ:

(1) کیا زید کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟

(2) زید کے اور اہل سنت کے عقائد میں جو فرق ہے اسے واضح فرما دیں-

وقار ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں اسلام کا دعوی کرنے والے مختلف گروہ ہیں اور ہر ایک یہی دعوی کرتا ہے کہ میں عاشق رسول ہوں مگر کسی شخص کے اسٹیج پر (دیے گئے) بیانات سے اس کے عقائد کا پتا نہیں لگایا جا سکتا ہے- کسی شخص کے عقیدے اور مذہب کا پتا اس کی تحریروں سے چلتا ہے- طاہر القادری بہت زمانے سے اپنے مختلف انٹرویوز میں یہ کہتا رہا ہے کہ شیعہ، دیوبندی، غیر مقلد اور بریلوی چاروں مذاہب میں فروعی اختلافات ہیں! ان میں اصولی اختلاف نہیں-

اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا پر تہمت لگانا، حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالی عنھما کو خلیفۂ بر حق نہ جاننا، ان کی خلافت کا انکار کرنا، قرآن کریم کو بیاض عثمانی سمجھنا، یہ تمام باتیں پروفیسر صاحب کی نظر میں فروعی ہیں حالانکہ خلافت ابو بکر کے حق ہونے پر صحابۂ کرام کا اجماع ہے اور اجماع صحابہ کا منکر کافر ہے- حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت لگانے والا قرآن کا منکر ہے اور قرآن کو بیاض عثمانی کہنے والا بھی کافر ہے-

طاہر القادری نے اپنے اس عقیدے کی کھل کر تائید کر دی ہے- منہاج القرآن جو ان کا اپنا رسالہ ہے اس کے دسمبر 1990ء کے شمارے میں چھپا ہے:

موجودہ نازک حالات میں اہل تشیع کو کافر قرار دینے والے اور بھولے بھالے مسلمانوں میں اس کا پروپا گنڈا کرنے والے بعض خود پرست انتہا پسند مولوی صاحبان تو ہو سکتے ہیں اہل سنت و جماعت ہرگز نہیں ہو سکتے-

اس کے چند سطور بعد لکھا ہے:

اس حقیقت باہرہ اور برہان قاطعہ کے باوجود اہل تشیع کو بالمجموع کافر سمجھنا، کہنا یا قرار دینا مطلقاً باطل ہے، بالکل اسی نہج پر کوئی فرقہ یا کوئی فرد اہل سنت کو کافر سمجھے، کہے یا قرار دے وہ بھی قطعی طور پر باطل ہوگا-

در حقیقت حنفی، دیوبندی، بریلوی، شیعہ، مالکی، حنبلی، شافعی اور اہل حدیث سب کے سب مسلمان ہیں- ان فرقوں میں فروعی اختلافات تو بہر طور موجود ہیں مگر بنیادی اختلاف کوئی نہیں-

دیوبندیوں کی توہین نبی پر مشتمل وہ کتابیں جن پر علماے حرم، شام و مصر نے حکم تکفیر کیا اور یہ لکھا:

"مَن شك فی کفره و عذابه فقد کفر”

جو اس میں شک کرے وہ بھی کافر ہے (حسام الحرمين)

وہ کتابیں اب تک اسی طرح چھپ رہی ہیں- پروفیسر صاحب کہ نزدیک یہ بھی فروعی اختلافات ہیں-

ان چند مثالوں سے یہ ظاہر ہو گیا کہ پروفیسر صاحب کا ایک نیا مذہب ہے اور ان کے مذہب کے مطابق ان باطل فرقوں اور اہل سنت میں کوئی فرق نہیں ہے وہ سب کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز بھی جائز سمجھتے ہیں-

زید کا قول اگر ناواقفی کی بنا پر ہے تو اسے سمجھنا چاہیے اور ان کو عاشق رسول کے بجائے اسلام کا برباد کرنے والا کہنا چاہیے- اگر زید جان بوجھ کر ایسا کہتا ہے تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو علماے حرمین نے بیان کیا ہے لہذا اس کی امامت باطل و ناجائز ہے- مسلمانوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے-

(وقار الفتاوی، ج1، ص326 تا 328)

عبد مصطفی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.