سستا حج حقائق کی نظر میں

دوربین

سستا حج حقائق کی نظر میں۔

گزشتہ چند دنوں سوشل میڈیا پر ایک شور بپا ہے کہ موجودہ حکومت نے قادیانیوں کو ان کے مذہبی مقام ربوہ جانے والے راستے سستے کر دئیے اور مسلمانوں کے لیے حج جیسی عبادت کو دوگنا مہنگا کر دیا اعتراض کرنے والوں کا اعتراض بلکل بجا ہے حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور و فکر کرتی کہ آخر سابقہ حکومت نے جو پانچ حج کروائے جو موجودہ رقم سے آدھی رقم پر تھے

کیا ان کے جہاذ پٹرول کے بجائے پانی پر چلتے تھے؟

کیا سعودی عرب میں ٹرانسپوٹیشن کے لیے بسوں کی جگہ گدھا ریڑیاں استعمال کی جاتی تھیں ؟

کیاحجاج کرام کو کھانا لنگر سے کھلایا جاتا رہا ؟

کیا حجاج کرام کی رہاش کے لیے اچھے ہوٹلز کے بجائے ٹنٹ استعمال کیئے گے؟

جو حج کے اخراجات کو سابقہ ادوار کے مقابلہ میں نصف تک لے آئے لیکن افسوس ہے کہ کوئی سچ سنتا ہے نہ سننا چاہتا ہے ہر چیز کی بنیاد جھوٹ پر رکھی ہوئی ہے

جب ہیلی کاپٹر کی بات چلی تو چوہدری فواد جھوٹ بولنے آ گیا کہ یہ 55 روپے فی کلو میٹر سفر طے کرتا ہے

ساہیوال میں بے گناہ فیملی قتل ہوئی تو کہا گیا یہ دہشت گرد تھے

حج کے مہنگا کرنے پر سوال ہوا تو جواب آیا سابقہ حکومت سبسڈڈی دیتی رہی

الغرض ان لوگوں نے جھوٹوں میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے پھر کبھی اس موضوع پر قلم کو جنبش دینے کی کوشش کروں گا

آج صرف سابقہ حج کے بارے میں کچھ حقائق ہیں جو عرض کرنا چاہتا ہوں۔آخر سابقہ حکومت کے وزارت مذہبی امور جناب پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب اور دوسرے وزیر سردار یوسف صاحب کے پاس کون سا اللہ دین کا چراغ آ گیا تھا کہ انہوں نے پاکستانیوں کو تاریخ کے سستے ترین حج کروائے

۔(راقم پر بنا پڑھے لعنتیں بھیجنے کے بجائے پہلے ساری تحریر کو پڑھیے گا شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔)

حقائق کچھ یوں ہیں سابقہ دور حکومت میں کوئی بھی وزیر وزارت حج کو لینے پر تیار نہیں تھا کیونکہ یہ بدنام زمانہ وزارت بن چکی تھی اور پی پی پی کے وزیر مذہبی امور الزام کرپشن لگنے پر جیل میں کردہ یا ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے تھے ایسے عالم میں سابقہ وزیر اعظم نواز شریف نے جس شخص کو اس اہم ترین کام کی ذمہ داری سونپی وہ اللہ رب العزت کا سچا بندہ تھا ا ن کے پیش نظر نہ دنیا کی حرص تھی نہ عزت دار بننے کا خمار رب کائنات نے پہلے ہی سب کچھ عطا فرمایا ہوا ہے ۔انہوں نے اس بوجھ کو اٹھایا اور ہمت و حوصلہ و ایمانداری سے اس فریضہ کو نبھایا ۔ان سے پہلے حج کے مہنگا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حاجی سرکاری حج سکیم میں جانا پسند ہی نہیں کرتے تھے ہر سال حکومت کئی کئی سیٹیں خالی رہ جاتیں اور حجاج کرام پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعہ حج کرتے اور اس میں بھی لوگوں نے کیٹگریز رکھی ہوتی اور بہت زیادہ سہولیات لینے والے حجاج 10 لاکھ تک کا بھی حج کرتے تھے ۔ لوگوں کا سرکاری حج سکیم میں نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ سہولیات کا فقدان اور عدم مساوات تھی ایک طبقہ اشرافیہ تھا جو حکومت میں ہوتا تھا ان کے وزیروں ان کے دوستوں اور رشتہ داروں تک کو حج کی سہولیات وی آئی پی اور مفت میں ہوتی تھیں اور دیگر حاجی جو سرکاری حج سکیم میں پیسے دے کر جاتے انہیں سستے ہوٹلز میں رہاش دی جاتی ۔نون لیگ کے

وزراء مذہبی امور نے پہلی ہی میٹنگ میں واضح اعلان کر دیا کہ کوئی وزیر مشیر اور ان کا کوئی رشتہ دار حتی کے وزیر اعظم کا بھی کوئی رشتہ دار تعلق دار مفت میں حج نہیں کرے گا ۔( اور اس پر عمل بھی کیا وزیر مذہبی امور جناب پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب کی فیملی ساتھ حج کرنے گئی انہوں نے اپنی فیملی کے اخراجات وزارت حج کے پیسے پر نہیں بلکہ اپنے ذاتی اکاونٹ سے ادا کیئے

1 ۔گویا سرکاری کوٹہ کے حج کو ختم کیا گیا ۔

2۔حجاج کرام کے لیے وی آئی پی اور عام حاجی کی تفریق ختم کی گئی تمام حجاج کو ایک ہی قسم کی رہاش اور کھانے پیش کرنے کا اہتمام کیا گیا حتی کی دونوں ذمہ دار وزراء جناب پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب اور سردار یوسف صاحب نے اپنی رہاش اور کھانا اپنے لیے اسی جگہ اور وہی رکھا جو عام حاجیوں کا تھا۔

3۔سابقہ دور حکومت سے پہلے وی آئی پی حجاج کے لیے وی وی آئی پی ہوٹلز اور عام حجاج کے لیے حرم شریف کے قریب پرانی عمارات میں رہاش رکھی جاتی تاکہ حاجی حرم شریف کے قریب رہیں اور کئی گنا زیادہ کرایہ پرانی بلڈنگز کا دیا جاتا جن میں سہولیات کا بھی فقدان ہوتا

سابق وزراء مذہبی امور نے سب سے پہلے قریب کی مہنگی اور پرانی عمارات کے بجائے حرم شریف سے دور نئی عمارات کرایہ پر حاصل کیں جن میں تمام سہولیات میسر ہوں خاص طور پر لفٹ کی سہولت میسر ہو حجاج کے لیے ہر فلور پر واشنگ مشین اور استری تک کا اہتمام کیا ۔

4۔ حکومت نے بسیں کرایہ پر لیں اور جن کو آڈر یہ تھا کہ وہ 24 گھنٹے مسلسل اپنا سفر جاری رکھیں گی اور ہر 10 منٹ بعد ہر ہوٹل کے دروازے کے سامنے سے بس حجاج کو حرم شریف اور حرم شریف سے ہوٹل تک منتقل کرے گی ۔

5۔ہوٹلز مالکان سے تمام حجاج کرام کے لیے نئے میٹرس کا اہتمام کیا جو مکمل طور پر آرام دے تھے ۔

5۔تمام حجاج کرام کے لیے کھانے کا بہترین انتظام کیا اور ہر حاجی کو کھانا اس کے کمرہ میں ملتا تھا۔ تاکہ حجاج کرام باسی کھانا کھانے کی وجہ سے بیمار نہ ہوں ۔

6 طبی امداد تمام حجاج کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیمیں ہمہ وقت مصروف عمل رہتیں ۔

یہ وہ انقلابی اقدامات تھے جن کی وجہ سے گورنمنٹ کی وہ حج سکیم جس کے لیے اشتہار بازی کے باوجود لوگ مہنگا داموں پرائیویٹ حج کرتے لیکن گورنمنٹ کو پیسہ نہ دیتے آخر وہ وقت بھی آیا کہ حکومت کے پاس اتنی درخواستیں آئیں کہ حکومت کو پرائیویٹ کمپنیوں کو حجاج دینے پڑے ۔

6 -پاکستان کی تاریخ میں یہ منظر بھی قوم نے دیکھا کہ سرکار نے حج کے بعد لوگوں کے اخراجات سے بچے ہوئے پیسے واپس کیئے۔

اس سارے عمل کو صاف و شفاف رکھنے میں متعلقہ دونوں وزراء جناب پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب اور سردار یوسف صاحب نے اہم کردار ادا کیا اس میں کامیابی کی سب سے بڑی وجہ پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب کا حجاج کرام کی تکالیف کا ادراک تھا کیونکہ وہ زمانہ طالب علمی میں سعودی عرب قیام کے دوران حجاج کرام کی خدمت کرتے رہے

یہ وہ سبسٹڈی تھیں جو نواز شریف کی حکومت نے مدبر وزراء کے کہنے پر دی اور ملک تاریخ کے سستے ترین حج کروائے ۔یہ صرف وہ باتیں ہیں جو راقم کے ذہن میں محفوظ رہیں جو سابقہ وزیر مذہبی امور پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب سے برائے راست سنی اس کے علاوہ اور بھی بہت سے انقلابی اقدامات تھے جس کا ذکر حجاج کرام نے واپسی پر کیا ۔اور اس حج انتظامات کے صاف و شفاف ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہے کہ جو میڈیا بال کی کھال اتارتا ہے وہ بھی اعتراف کرتا رہا کہ سب سے بہترین حج ہوئے۔

رہا یہ سوال کہ حج صاحب استطاعت اور مالداروں پر فرض ہے اس لیے انہیں لوٹا جائے یہ نہ دین ہے نہ انسانیت صاحب استطاعت کا معنی یہ نہیں کہ وہ فیکٹریوں کا مالک ہو آیت فرضیت حج کی تشریع پڑھ کر یہ تبصرہ فرمائیں کہ اس شخص پر حج نہیں جو فیکٹریوں کا مالک نہ ہو ۔

اس لیے قوم یوتھ سے ادبا گزارش ہے جتنا زور اور خرچہ جھوٹ کی اشاعت پر کرتے ہیں اس کا نصف بھی اگر سچائی پر لگائیں اللہ کریم عزت بھی دے گا اور ثواب بھی۔

(طارق محمود میر کاشمیری)

حال مقیم دبئی)

دل کی دنیا بدل گئی

حکایت نمبر146: دل کی دنیا بدل گئی

حضرت سیدنا حسن بن حضر علیہ رحمۃ اللہ الاکبر فرماتے ہیں، مجھے بغداد کے ایک شخص نے بتا یا کہ حضرت سیدنا ابو ہاشم علیہ رحمۃ اللہ الدائم نے بیان فرمایا:” ایک مرتبہ میں نے بصرہ جانے کا ارادہ کیا۔چنانچہ میں ساحل پر آیا تا کہ کسی کشتی میں سوار ہو کر جانبِ منزل روانہ ہوجاؤں،جب وہا ں پہنچا تو دیکھا کہ ایک کشتی موجود ہے اور اس میں ایک لونڈی اور اس کا مالک سوار ہے ۔ میں نے بھی کشتی میں سوار ہونا چاہا تو لونڈی کے مالک نے کہا :” اس کشتی میں ہمارے علاوہ کسی اور کے لئے جگہ نہیں ،ہم نے یہ ساری کشتی کرایہ پر لے لی ہے لہٰذا تم کسی اور کشتی میں بیٹھ جاؤ۔” لونڈی نے جب یہ بات سنی تو اس نے اپنے آقا سے کہا :” اس مسکین کو بٹھا لیجئے۔” چنا نچہ اس لونڈی کے مالک نے مجھے بیٹھنے کی اجازت دے دی اور کشتی جھومتی جھومتی بصرہ کی جانب سطحِ سمند ر پر چلنے لگی، موسم بڑا خوشگوار تھا۔ میں ان دونوں سے الگ تھلگ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ دونوں خوش گپیوں میں مشغول خوشگوار موسم سے خوب لُطف اَندو ز ہو رہے تھے ۔

پھر اس لونڈی کے مالک نے کھانا منگوایا اور دستر خوان بچھا دیا گیا۔ جب وہ دونوں کھانے کے لئے بیٹھے تو انہوں نے مجھے آواز دی:” اے مسکین !تم بھی آجاؤ اور ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ ۔” مجھے بہت زیادہ بھوک لگی تھی اور میرے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا چنانچہ میں ان کی دعوت پر ان کے ساتھ کھانے لگا ۔

جب ہم کھانا کھا چکے تو اس شخص نے اپنی لونڈی سے کہا:” اب ہمیں شراب پلاؤ۔” لونڈی نے فوراً شراب کا جام پیش کیا اور وہ شخص شراب پینے لگاپھر اس نے حکم دیاکہ اس شخص کو بھی شراب پلاؤ ۔ میں نے کہا:”اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے، میں تمہارا مہمان ہوں او ر تمہارے ساتھ کھانا کھا چکاہوں،اب میں شراب ہرگز نہیں پیوں گا ۔” اس نے کہا:” ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔” پھر جب وہ شراب کے نشے میں مست ہوگیا تو لونڈی سے کہا :”سارنگی (یعنی باجا) لاؤ او رہمیں گا نا سناؤ ۔” لونڈی سارنگی لے کر آئی اور اپنی پُر کشش آواز میں گانے لگی ، اس کا مالک گانے سنتا رہا اور جھومتا رہا ، لونڈی بھی سارنگی بجا تی رہی اور پُرکشش آواز سے اپنے مالک کا دل خوش کرتی رہی ۔ 

یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا وہ دونوں اپنی ان رنگینیوں میں بدمست تھے اورمَیں اپنے رب عزوجل کے ذکر میں مشغول رہا۔ جب کافی دیر گزر گئی اور اس کا نشہ کچھ کم ہوا تو وہ میری طر ف متوجہ ہوا او رکہنے لگا:” کیاتُونے پہلے کبھی اس سے اچھاگانا سنا ہے؟ دیکھو!کتنے پیارے انداز میں اس حسینہ نے گانا گایا ہے،کیا تم بھی ایساگا سکتے ہو ؟ ” میں نے کہا :” میں ایک ایسا کلام آپ کو سنا سکتا ہو ں جس کے مقابلے میں یہ گانا کچھ حیثیت نہیں رکھتا ۔” اس نے حیران ہوکر کہا :”کیا گانوں سے بہتر بھی کوئی کلام ہے؟” میں نے کہا :”ہاں! اس سے بہت بہتر کلام بھی ہے۔” اس نے کہا:” اگر تمہارا دعوی درست ہے تو سناؤ ذرا ہم بھی تو سنیں کہ گانوں سے بہتر کیا چیز ہے؟”تو مَیں نے سُوْرَۃُ التَّکْوِیْر کی تلاوت شروع کردی :

اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ۪ۙ﴿۱﴾وَ اِذَا النُّجُوۡمُ انۡکَدَرَتْ ۪ۙ﴿۲﴾وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ ۪ۙ﴿۳﴾

ترجمہ کنزالایمان:جب دھوپ لپیٹی جائے اورجب تارے جھڑپڑیں اور جب پہاڑچلائے جائیں۔(پ30،التکویر:1تا3)

میں تلاوت کرتا جارہا تھا او راس کی حالت تبدیل ہوتی جارہی تھی۔اس کی آنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہوگیا ۔بڑی توجہ وعاجزی کے ساتھ وہ کلامِ الٰہی عزوجل کو سنتا رہا ۔ایسا لگتا تھا کہ کلام ِالٰہی عزوجل کی تجلیاں اس کے سیاہ دل کو منور کر چکی ہیں اور یہ کلام تاثیر کا تیر بن اس کے دل میں اُتر چکا ہے،اب اسے عشقِ حقیقی کی لذت سے آشنائی ہوتی جارہی تھی۔تلاوت کر تے ہوئے جب میں اس آیت مبارکہ پر پہنچا :’ ‘وَاِذَاالصُّحُفُ نُشِرَتْ 0 ترجمہ کنز الایمان:اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں گے۔(پ۳۰،التکریر:۱۰)”تو اس نے اپنی لونڈی سے کہا:”جا !میں نے تجھے اللہ عزوجل کی خاطر آزاد کیا ۔”پھر اس نے اپنے سامنے رکھے ہوئے شراب کے سارے برتن سمندر میں انڈیل دئیے۔ سارنگی ، باجا اور آلات لہو ولعب سب تو ڑ ڈالے پھر وہ بڑے مؤ دبانہ اَنداز میں میرے قریب آیا اور مجھے سینے سے لگا کر ہچکیاں لے لے کر رونے لگا او رپوچھنے لگا:”اے میرے بھائی! مَیں بہت گناہگار ہوں، مَیں نے ساری زندگی گناہوں میں گزاردی اگر میں اب توبہ کرو ں تو کیا اللہ عزوجل میری تو بہ قبول فرمالے گا ؟”

مَیں نے اسے بڑی محبت دی اور کہا:” بے شک اللہ عزوجل تو بہ کرنے والوں اور پاکیزگی حاصل کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے ،وہ تو تو بہ کرنے والوں سے بہت خوش ہوتا ہے، اللہ عز وجل کی بارگاہ سے کوئی مایوس نہیں لوٹتا، تم اس سے تو بہ کرو وہ ضرور قبول فرمائے گا ”

چنانچہ اس شخص نے میرے سامنے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے تو بہ کی اور خوب رو رو کر معافی مانگتا رہا۔ پھر ہم بصرہ پہنچے اور دونوں نے اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے دوستی کرلی۔ چالیس سال تک ہم بھائیوں کی طرح رہے چالیس سال بعد اس مردِ صالح کا اِنتقال ہوگیا ۔مجھے اس کا بہت غم ہوا ،پھرایک رات میں نے اسے خواب میں دیکھا تو پوچھا:” اے میرے بھا ئی! دنیا سے جانے کے بعد تمہارا کیا ہوا تمہا را ٹھکانہ کہا ں ہے ؟” اس نے بڑی دِلربا اورشیریں آواز میں جواب دیا: ”دنیا سے جانے کے بعد مجھے میرے رب عزوجل نے جنت میں بھیج دیا ۔”

میں نے پوچھا:” اے میرے بھائی !تمہیں جنت کس عمل کی وجہ سے ملی؟ ” اس نے جواب دیا :”جب تم نے مجھے یہ آیت سنائی تھی:

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴿۪ۙ10﴾

ترجمہ کنز الایمان:اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں گے۔ (پ30،التکویر:10)

تواسی آیت کی برکت سے میری زندگی میں انقلاب آگیا تھا۔اسی وجہ سے میری مغفرت ہوگئی اور مجھے جنت عطاکر دی گئی۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)

(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قرآنِ پاک ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ اس کو سن کر نہ جانے کتنے ایسے سیاہ دل روشن ہوگئے جو گناہو ں کے تاریک گڑھے میں گر چکے تھے ، کتنے ہی مردہ دلوں کو قرآن کریم نے جِلا بخشی ،بڑے بڑے مجرموں نے جب اسے سنا تو ان کے دل خوفِ خداوندی عزوجل سے لرز اٹھے اور وہ تمام سابقہ گناہوں سے تو بہ کر کے صلوٰۃ وسنت کی راہ پر گامزن ہوگئے۔ کلام الٰہی عزوجل ایسا بابرکت کلام ہے کہ جس نے بڑے بڑے کفار کو کفر کے ظلمت کدوں سے نکال کر ایسی عظمتیں عطا کیں کہ وہ آفتا ب ِہدایت بن کر لوگو ں کے ہادی ومقتدا بن گئے او راپنے جلوؤں سے دنیا کو منور کرنے لگے اور جو اِن کے دامن سے وابستہ ہوگیا وہ بھی منور ہوگیا ۔اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل !ہمیں قرآن کریم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اوراس کی تعلیم عام کرنے کی تو فیق عطا فرما ۔) 

؎ یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام ہوجائے ہر ایک پر چم سے اُونچا پرچمِ اسلام ہوجائے

آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم 

اے اﷲ میں خبیث جنات اور خبیثہ جناتنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

حدیث نمبر :321

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو فرماتے کہ اے اﷲ میں خبیث جنات اور خبیثہ جناتنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ دعاپاخانے میں داخل ہونے سے پہلے پڑھ لی جائے،کیونکہ گندی جگہ پر اﷲ کا ذکرممنوع ہے اور ننگے ہو کر تو بات کرنا ہی منع ہے۔چونکہ پاخانہ میں گندے جنات رہتے ہیں،اس لیے یہ دعا پڑھنی چاہیئے۔خبیث اور خبائث کے بہت معنی ہیں یہاں وہ ہی معنے مناسب ہیں جو ہم نے کئے۔

اس سے منع فرمایا کہ

حدیث نمبر :320

روایت ہے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم کورسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کو منہ کریں یا داہنے ہاتھ سے استنجاءکریں یا تین پتھروں سے کم سے استنجاء کریں ۲؎ یا گوبر یا ہڈی سے استنجاء کریں ۳؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابوعبداللہ ہے،ایران کے شہر اصفہان کے مضافات میں بستی”ہاجن”کے رہنے والے تھے،دین کی تلاش میں پھرتے تھے،۱۴ جگہ فروخت ہوئے،یہاں تک کہ جوئندہ یا بندہ حضور تک مدینہ میں پہنچ گئے۔ساڑھے تین سو ۳۵۰ سال عمر پائی،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تابعی اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ۵۳ھ؁ مقام مدائن میں وفات پائی۔(مرقاۃ)بعض مورّخین نے لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں سے آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کریمہ سنے تو آپ کی تلاش میں نکلے۔

۲؎ خیال رہے کہ قبلہ کو منہ کرکے پیشاب پاخانہ کرنا مکروہ تحریمہ ہے،داہنے ہاتھ سے چھوٹا یا بڑا استنجاء مکروہ تنزیہی،اورتین ڈھیلے بڑے استنجے کے لیے عام حالات میں مستحب ہے،اگر اس سے کم و بیش میں صفائی ہو تو کرلے۔یہی مذہب حنفی ہے،امام شافعی کے یہاں تین ڈھیلے واجب ہیں۔

۳؎ کیونکہ ہڈی جنات کی غذا ہے اور گوبر ان کے جانوروں کی،نیزگوبرخودنجس ہے،تو اس سے پاکی کیسے حاصل ہو گی اور ہڈی کہیں نوکیلی کہیں چکنی ہوتی ہے،چکنی طرف سے صفائی نہ ہوگی نوک کی طرف سے زخم کا اندیشہ ہے۔

قضائے حاجت فرمارہے ہیں

حدیث نمبر :319

فرمایا شیخ امام محی السنۃ رحمۃ اﷲ علیہ نے کہ یہ حدیث جنگل کے متعلق ہے،لیکن آبادی میں کوئی حرج نہیں اس لیئے کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ کے گھر کی چھت پر کسی کام کے لیئے چڑھا تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قبلہ کو پیٹھ شام کی طرف منہ کئے قضائے حاجت فرمارہے ہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ امام محی السنۃ کے اس فرمان میں چند طرح گفتگو ہے:ایک یہ کہ ممانعت کی حدیث میں جنگل یا آبادی کی قید نہیں،مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا ضروری ہے۔حضرت ابن عمررضی اللہ عنھما کی یہ روایت حضور کا ایک فعل شریف بیان کررہی ہے اور جب فعل وقول میں،نیز ممانعت اور اباحت میں تعارض معلوم ہو توحدیث قولی کو فعلی پر اور ممانعت کو اباحت پر ترجیح ہوتی ہے،کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض افعال کریمہ آپ کی خصوصیت سے ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور کا یہ فعل شریف ممانعت سے پہلے کا ہوگا،لہذا یہ منسوخ ہے اور ممانعت کی حدیث ناسخ۔تیسرے یہ کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر کو دیکھنے میں غلطی لگی حضور تھوڑا سا قبلہ سے ہٹے ہوں گے جسے جلدی میں ابن عمر نہ دیکھ سکے،کیونکہ ایسے موقعہ پر انسان جلد ہی آنکھیں بندکرکے لوٹ جاتا ہےتحقیق اورغور سے دیکھتا نہیں۔چوتھے یہ کہ صحابۂ کرام کا بھی یہی مذہب تھا کہ آبادی میں بھی اس رخ کو پیشاب پاخانہ نہ کریں۔چنانچہ مسلم،ابوداؤد،احمد،بخاری،نسائی،ابن ماجہ،دارمی اور ترمذی نے حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کی کہ جب ہم شام میں پہنچے تو ہم نے وہاں کے پاخانوں کو قبلہ رخ بنا پایا تو ہم استغفار پڑھتے تھے اور ان میں مڑکر بیٹھتے تھے۔ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث احسن اور اصح ہے۔پانچویں یہ کہ قبلہ کے آداب آبادی اور جنگل میں یکساں ہیں۔قبلہ کی طرف تھوکنا،پاؤں پھیلانا جنگل میں بھی حرام ہے اور بستی میں بھی،تو چاہیئے کہ پیشاب پاخانہ کا حکم بھی دونوں جگہ یکساں ہو۔

وَمَاذَا عَلَيۡهِمۡ لَوۡ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِهِمۡ عَلِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 39

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاذَا عَلَيۡهِمۡ لَوۡ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِهِمۡ عَلِيۡمًا

ترجمہ:

آخر ان پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ پر اور قیامت پر ایمان لے آتے اور اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے اور اللہ انہیں خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : آخر ان پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتے اور اللہ کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرتے اور اللہ انہیں خوب جاننے والا ہے۔ (النساء : ٣٩) 

جبریہ کا رد اور ایمان میں تقلید کا کافی ہونا :

اس آیت سے یہ مقصود نہیں ہے کہ اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے میں کیا نقصان ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اس میں کوئی نقصان نہیں ہے بلکہ سراسر فائدہ ہے ‘ اس سے ان منافقوں کو زجر وتوبیخ اور ان کو ملامت کرنا اور ان کی مذمت کرنا مقصود ہے۔ 

اس آیت میں جبریہ کا رد اور ابطال ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ بندوں کو کسی چیز کا اختیار نہیں ہے ‘ اگر بندے مجبور محض ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ایمان نہ لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے پر ملامت نہ فرماتا ‘ آج کل بھی بہت سے پڑھے لکھے لوگ گناہ کرنے کے بعد کہتے ہیں ہم نے وہی کیا جو ہمارے لئے مقدور ہوچکا تھا اگر اللہ چاہتا تو ہم یہ گناہ نہ کرتے ‘ حالانکہ انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اللہ کے دیئے ہوئے اختار سے کرتا ہے اس کو کسب کہتے ہیں اور جس چیز کا وہ کسب کرتا ہے اللہ اسکو پیدا کردیتا ہے ‘ اسی لئے کہتے ہیں کہ بندہ کا سب اور اللہ خالق ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان لانا بہت آسان اور سہل ہے ‘ اسی وجہ سے مقلد کا ایمان لانا معتبر ہے ‘ کیونکہ اللہ کی الوہیت اور وحدانیت پر دلائل قائم کرنا اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور امور آخرت پر دلائل قائم کرنا آسان اور سہل نہیں ہے ‘ عام لوگ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں اور ماں باپ کے اسلام کی وجہ سے ان کی تقلید میں مسلمان ہوتے ہیں اور ہر شخص ان دلائل میں غور وفکر کرنے کا اہل نہیں ہوتا اس سے معلوم ہوا کہ صحت ایمان کے لیے تقلید کافی ہے اور استدلال ضروری نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 39