سستا حج حقائق کی نظر میں

دوربین

سستا حج حقائق کی نظر میں۔

گزشتہ چند دنوں سوشل میڈیا پر ایک شور بپا ہے کہ موجودہ حکومت نے قادیانیوں کو ان کے مذہبی مقام ربوہ جانے والے راستے سستے کر دئیے اور مسلمانوں کے لیے حج جیسی عبادت کو دوگنا مہنگا کر دیا اعتراض کرنے والوں کا اعتراض بلکل بجا ہے حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور و فکر کرتی کہ آخر سابقہ حکومت نے جو پانچ حج کروائے جو موجودہ رقم سے آدھی رقم پر تھے

کیا ان کے جہاذ پٹرول کے بجائے پانی پر چلتے تھے؟

کیا سعودی عرب میں ٹرانسپوٹیشن کے لیے بسوں کی جگہ گدھا ریڑیاں استعمال کی جاتی تھیں ؟

کیاحجاج کرام کو کھانا لنگر سے کھلایا جاتا رہا ؟

کیا حجاج کرام کی رہاش کے لیے اچھے ہوٹلز کے بجائے ٹنٹ استعمال کیئے گے؟

جو حج کے اخراجات کو سابقہ ادوار کے مقابلہ میں نصف تک لے آئے لیکن افسوس ہے کہ کوئی سچ سنتا ہے نہ سننا چاہتا ہے ہر چیز کی بنیاد جھوٹ پر رکھی ہوئی ہے

جب ہیلی کاپٹر کی بات چلی تو چوہدری فواد جھوٹ بولنے آ گیا کہ یہ 55 روپے فی کلو میٹر سفر طے کرتا ہے

ساہیوال میں بے گناہ فیملی قتل ہوئی تو کہا گیا یہ دہشت گرد تھے

حج کے مہنگا کرنے پر سوال ہوا تو جواب آیا سابقہ حکومت سبسڈڈی دیتی رہی

الغرض ان لوگوں نے جھوٹوں میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے پھر کبھی اس موضوع پر قلم کو جنبش دینے کی کوشش کروں گا

آج صرف سابقہ حج کے بارے میں کچھ حقائق ہیں جو عرض کرنا چاہتا ہوں۔آخر سابقہ حکومت کے وزارت مذہبی امور جناب پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب اور دوسرے وزیر سردار یوسف صاحب کے پاس کون سا اللہ دین کا چراغ آ گیا تھا کہ انہوں نے پاکستانیوں کو تاریخ کے سستے ترین حج کروائے

۔(راقم پر بنا پڑھے لعنتیں بھیجنے کے بجائے پہلے ساری تحریر کو پڑھیے گا شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔)

حقائق کچھ یوں ہیں سابقہ دور حکومت میں کوئی بھی وزیر وزارت حج کو لینے پر تیار نہیں تھا کیونکہ یہ بدنام زمانہ وزارت بن چکی تھی اور پی پی پی کے وزیر مذہبی امور الزام کرپشن لگنے پر جیل میں کردہ یا ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے تھے ایسے عالم میں سابقہ وزیر اعظم نواز شریف نے جس شخص کو اس اہم ترین کام کی ذمہ داری سونپی وہ اللہ رب العزت کا سچا بندہ تھا ا ن کے پیش نظر نہ دنیا کی حرص تھی نہ عزت دار بننے کا خمار رب کائنات نے پہلے ہی سب کچھ عطا فرمایا ہوا ہے ۔انہوں نے اس بوجھ کو اٹھایا اور ہمت و حوصلہ و ایمانداری سے اس فریضہ کو نبھایا ۔ان سے پہلے حج کے مہنگا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حاجی سرکاری حج سکیم میں جانا پسند ہی نہیں کرتے تھے ہر سال حکومت کئی کئی سیٹیں خالی رہ جاتیں اور حجاج کرام پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعہ حج کرتے اور اس میں بھی لوگوں نے کیٹگریز رکھی ہوتی اور بہت زیادہ سہولیات لینے والے حجاج 10 لاکھ تک کا بھی حج کرتے تھے ۔ لوگوں کا سرکاری حج سکیم میں نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ سہولیات کا فقدان اور عدم مساوات تھی ایک طبقہ اشرافیہ تھا جو حکومت میں ہوتا تھا ان کے وزیروں ان کے دوستوں اور رشتہ داروں تک کو حج کی سہولیات وی آئی پی اور مفت میں ہوتی تھیں اور دیگر حاجی جو سرکاری حج سکیم میں پیسے دے کر جاتے انہیں سستے ہوٹلز میں رہاش دی جاتی ۔نون لیگ کے

وزراء مذہبی امور نے پہلی ہی میٹنگ میں واضح اعلان کر دیا کہ کوئی وزیر مشیر اور ان کا کوئی رشتہ دار حتی کے وزیر اعظم کا بھی کوئی رشتہ دار تعلق دار مفت میں حج نہیں کرے گا ۔( اور اس پر عمل بھی کیا وزیر مذہبی امور جناب پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب کی فیملی ساتھ حج کرنے گئی انہوں نے اپنی فیملی کے اخراجات وزارت حج کے پیسے پر نہیں بلکہ اپنے ذاتی اکاونٹ سے ادا کیئے

1 ۔گویا سرکاری کوٹہ کے حج کو ختم کیا گیا ۔

2۔حجاج کرام کے لیے وی آئی پی اور عام حاجی کی تفریق ختم کی گئی تمام حجاج کو ایک ہی قسم کی رہاش اور کھانے پیش کرنے کا اہتمام کیا گیا حتی کی دونوں ذمہ دار وزراء جناب پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب اور سردار یوسف صاحب نے اپنی رہاش اور کھانا اپنے لیے اسی جگہ اور وہی رکھا جو عام حاجیوں کا تھا۔

3۔سابقہ دور حکومت سے پہلے وی آئی پی حجاج کے لیے وی وی آئی پی ہوٹلز اور عام حجاج کے لیے حرم شریف کے قریب پرانی عمارات میں رہاش رکھی جاتی تاکہ حاجی حرم شریف کے قریب رہیں اور کئی گنا زیادہ کرایہ پرانی بلڈنگز کا دیا جاتا جن میں سہولیات کا بھی فقدان ہوتا

سابق وزراء مذہبی امور نے سب سے پہلے قریب کی مہنگی اور پرانی عمارات کے بجائے حرم شریف سے دور نئی عمارات کرایہ پر حاصل کیں جن میں تمام سہولیات میسر ہوں خاص طور پر لفٹ کی سہولت میسر ہو حجاج کے لیے ہر فلور پر واشنگ مشین اور استری تک کا اہتمام کیا ۔

4۔ حکومت نے بسیں کرایہ پر لیں اور جن کو آڈر یہ تھا کہ وہ 24 گھنٹے مسلسل اپنا سفر جاری رکھیں گی اور ہر 10 منٹ بعد ہر ہوٹل کے دروازے کے سامنے سے بس حجاج کو حرم شریف اور حرم شریف سے ہوٹل تک منتقل کرے گی ۔

5۔ہوٹلز مالکان سے تمام حجاج کرام کے لیے نئے میٹرس کا اہتمام کیا جو مکمل طور پر آرام دے تھے ۔

5۔تمام حجاج کرام کے لیے کھانے کا بہترین انتظام کیا اور ہر حاجی کو کھانا اس کے کمرہ میں ملتا تھا۔ تاکہ حجاج کرام باسی کھانا کھانے کی وجہ سے بیمار نہ ہوں ۔

6 طبی امداد تمام حجاج کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیمیں ہمہ وقت مصروف عمل رہتیں ۔

یہ وہ انقلابی اقدامات تھے جن کی وجہ سے گورنمنٹ کی وہ حج سکیم جس کے لیے اشتہار بازی کے باوجود لوگ مہنگا داموں پرائیویٹ حج کرتے لیکن گورنمنٹ کو پیسہ نہ دیتے آخر وہ وقت بھی آیا کہ حکومت کے پاس اتنی درخواستیں آئیں کہ حکومت کو پرائیویٹ کمپنیوں کو حجاج دینے پڑے ۔

6 -پاکستان کی تاریخ میں یہ منظر بھی قوم نے دیکھا کہ سرکار نے حج کے بعد لوگوں کے اخراجات سے بچے ہوئے پیسے واپس کیئے۔

اس سارے عمل کو صاف و شفاف رکھنے میں متعلقہ دونوں وزراء جناب پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب اور سردار یوسف صاحب نے اہم کردار ادا کیا اس میں کامیابی کی سب سے بڑی وجہ پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب کا حجاج کرام کی تکالیف کا ادراک تھا کیونکہ وہ زمانہ طالب علمی میں سعودی عرب قیام کے دوران حجاج کرام کی خدمت کرتے رہے

یہ وہ سبسٹڈی تھیں جو نواز شریف کی حکومت نے مدبر وزراء کے کہنے پر دی اور ملک تاریخ کے سستے ترین حج کروائے ۔یہ صرف وہ باتیں ہیں جو راقم کے ذہن میں محفوظ رہیں جو سابقہ وزیر مذہبی امور پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب سے برائے راست سنی اس کے علاوہ اور بھی بہت سے انقلابی اقدامات تھے جس کا ذکر حجاج کرام نے واپسی پر کیا ۔اور اس حج انتظامات کے صاف و شفاف ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہے کہ جو میڈیا بال کی کھال اتارتا ہے وہ بھی اعتراف کرتا رہا کہ سب سے بہترین حج ہوئے۔

رہا یہ سوال کہ حج صاحب استطاعت اور مالداروں پر فرض ہے اس لیے انہیں لوٹا جائے یہ نہ دین ہے نہ انسانیت صاحب استطاعت کا معنی یہ نہیں کہ وہ فیکٹریوں کا مالک ہو آیت فرضیت حج کی تشریع پڑھ کر یہ تبصرہ فرمائیں کہ اس شخص پر حج نہیں جو فیکٹریوں کا مالک نہ ہو ۔

اس لیے قوم یوتھ سے ادبا گزارش ہے جتنا زور اور خرچہ جھوٹ کی اشاعت پر کرتے ہیں اس کا نصف بھی اگر سچائی پر لگائیں اللہ کریم عزت بھی دے گا اور ثواب بھی۔

(طارق محمود میر کاشمیری)

حال مقیم دبئی)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.