قضائے حاجت فرمارہے ہیں

حدیث نمبر :319

فرمایا شیخ امام محی السنۃ رحمۃ اﷲ علیہ نے کہ یہ حدیث جنگل کے متعلق ہے،لیکن آبادی میں کوئی حرج نہیں اس لیئے کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ کے گھر کی چھت پر کسی کام کے لیئے چڑھا تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قبلہ کو پیٹھ شام کی طرف منہ کئے قضائے حاجت فرمارہے ہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ امام محی السنۃ کے اس فرمان میں چند طرح گفتگو ہے:ایک یہ کہ ممانعت کی حدیث میں جنگل یا آبادی کی قید نہیں،مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا ضروری ہے۔حضرت ابن عمررضی اللہ عنھما کی یہ روایت حضور کا ایک فعل شریف بیان کررہی ہے اور جب فعل وقول میں،نیز ممانعت اور اباحت میں تعارض معلوم ہو توحدیث قولی کو فعلی پر اور ممانعت کو اباحت پر ترجیح ہوتی ہے،کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض افعال کریمہ آپ کی خصوصیت سے ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور کا یہ فعل شریف ممانعت سے پہلے کا ہوگا،لہذا یہ منسوخ ہے اور ممانعت کی حدیث ناسخ۔تیسرے یہ کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر کو دیکھنے میں غلطی لگی حضور تھوڑا سا قبلہ سے ہٹے ہوں گے جسے جلدی میں ابن عمر نہ دیکھ سکے،کیونکہ ایسے موقعہ پر انسان جلد ہی آنکھیں بندکرکے لوٹ جاتا ہےتحقیق اورغور سے دیکھتا نہیں۔چوتھے یہ کہ صحابۂ کرام کا بھی یہی مذہب تھا کہ آبادی میں بھی اس رخ کو پیشاب پاخانہ نہ کریں۔چنانچہ مسلم،ابوداؤد،احمد،بخاری،نسائی،ابن ماجہ،دارمی اور ترمذی نے حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کی کہ جب ہم شام میں پہنچے تو ہم نے وہاں کے پاخانوں کو قبلہ رخ بنا پایا تو ہم استغفار پڑھتے تھے اور ان میں مڑکر بیٹھتے تھے۔ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث احسن اور اصح ہے۔پانچویں یہ کہ قبلہ کے آداب آبادی اور جنگل میں یکساں ہیں۔قبلہ کی طرف تھوکنا،پاؤں پھیلانا جنگل میں بھی حرام ہے اور بستی میں بھی،تو چاہیئے کہ پیشاب پاخانہ کا حکم بھی دونوں جگہ یکساں ہو۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.