وَمَاذَا عَلَيۡهِمۡ لَوۡ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِهِمۡ عَلِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 39

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاذَا عَلَيۡهِمۡ لَوۡ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِهِمۡ عَلِيۡمًا

ترجمہ:

آخر ان پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ پر اور قیامت پر ایمان لے آتے اور اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے اور اللہ انہیں خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : آخر ان پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتے اور اللہ کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرتے اور اللہ انہیں خوب جاننے والا ہے۔ (النساء : ٣٩) 

جبریہ کا رد اور ایمان میں تقلید کا کافی ہونا :

اس آیت سے یہ مقصود نہیں ہے کہ اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے میں کیا نقصان ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اس میں کوئی نقصان نہیں ہے بلکہ سراسر فائدہ ہے ‘ اس سے ان منافقوں کو زجر وتوبیخ اور ان کو ملامت کرنا اور ان کی مذمت کرنا مقصود ہے۔ 

اس آیت میں جبریہ کا رد اور ابطال ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ بندوں کو کسی چیز کا اختیار نہیں ہے ‘ اگر بندے مجبور محض ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ایمان نہ لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے پر ملامت نہ فرماتا ‘ آج کل بھی بہت سے پڑھے لکھے لوگ گناہ کرنے کے بعد کہتے ہیں ہم نے وہی کیا جو ہمارے لئے مقدور ہوچکا تھا اگر اللہ چاہتا تو ہم یہ گناہ نہ کرتے ‘ حالانکہ انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اللہ کے دیئے ہوئے اختار سے کرتا ہے اس کو کسب کہتے ہیں اور جس چیز کا وہ کسب کرتا ہے اللہ اسکو پیدا کردیتا ہے ‘ اسی لئے کہتے ہیں کہ بندہ کا سب اور اللہ خالق ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان لانا بہت آسان اور سہل ہے ‘ اسی وجہ سے مقلد کا ایمان لانا معتبر ہے ‘ کیونکہ اللہ کی الوہیت اور وحدانیت پر دلائل قائم کرنا اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور امور آخرت پر دلائل قائم کرنا آسان اور سہل نہیں ہے ‘ عام لوگ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں اور ماں باپ کے اسلام کی وجہ سے ان کی تقلید میں مسلمان ہوتے ہیں اور ہر شخص ان دلائل میں غور وفکر کرنے کا اہل نہیں ہوتا اس سے معلوم ہوا کہ صحت ایمان کے لیے تقلید کافی ہے اور استدلال ضروری نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 39

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.