يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡـثًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 42

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡـثًا

ترجمہ:

جن لوگوں نے کفر کیا اور رسول اللہ کی نافرمانی کی ‘ اس دن وہ تمنا کریں گے کہ کاش (ان کو دفن کرکے) ان پر زمین برابر کردی جائے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہ سکیں گے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کافر اور رسول کی نافرمانی کرنے والے اس دن یہ تمنا کریں گے کہ کاش (ان کو دفن کرکے) ان پر زمین برابر کردی جائے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے۔ (النساء : ٤٢) 

قیامت کے دن کفار کے مختلف احوال :

اس آیت میں رسول اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کا کافروں پر عطف کیا گیا ہے اور عطف مغائرت کو چاہتا ہے ‘ اس سے یہ واضح ہوا کہ کفر الگ گناہ ہے اور رسول اللہ کی نافرمانی کرنا الگ گناہ ہے اور کافروں کو کفر کی وجہ سے بھی عذاب ہوگا ‘ اور کافروں کو رسول کی نافرمانی کی وجہ سے اسی وقت عذاب ہوگا جب یہ مانا جائے کہ کافر فروعی احکام کے بھی مخاطب ہیں۔ نیز اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اس روز کافر یہ تمنا کریں گے کہ ان پر زمین برابر کردی جائے اس کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ تمنا کریں گے کہ ان کو زمین میں دفن کردیا جائے ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کو دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا اور وہ اسی طرح زمین مدفون رہتے ‘ تیسرا معنی یہ ہے کہ جب وہ دیکھیں گے کہ جانوروں کو مٹی بنادیا گیا ہے تو وہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کو بھی مٹی بنادیا جائے۔ 

پھر فرمایا اور وہ اللہ سے کسی بات کو نہیں چھپا سکیں گے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن جب مشرکین دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما رہا ہے جنہوں نے شرک نہیں کیا تو وہ کہیں گے۔ (آیت) ” واللہ ربنا ماکنا مشرکین “۔ (الانعام : ٢٣) ” ہمیں اپنے پروردگار کی قسم ہم شرک کرنے والے نہیں تھے “ اس وقت ان کے منہ اور ہاتھ اور پیر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سورة الانعام میں یہ مذکور ہے کہ کفار یہ کہیں گے کہ ہم شرک کرنے والے نہیں تھے اور اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے اور یہ تعارض ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن مختلف احوال ہوں گے ‘ ایک وقت میں وہ کہیں گے کہ (آیت) ” ماکنا نعمل من سوء “۔ (النحل : ٢٨) ” ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے “ اور کہیں گے کہ ہم شرک کرنے والے نہیں تھے اور ایک وقت ہوگا کہ (آیت) ” شہد علیہم سمعھم وابصارھم وجلودھم بما کانوا یعملون “۔ (حم السجدہ : ٢٠) ” ان کے کان ‘ انکی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے “ اس وقت وہ کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان پر زمین برابر کردی جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 42

فَكَيۡـفَ اِذَا جِئۡـنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ ۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡـنَا بِكَ عَلٰى هٰٓؤُلَاۤءِ شَهِيۡدًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 41

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡـفَ اِذَا جِئۡـنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ ۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡـنَا بِكَ عَلٰى هٰٓؤُلَاۤءِ شَهِيۡدًا

ترجمہ:

تو اس وقت کیسا سماں ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے رسول مکرم) ہم آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تو اس وقت کیسا سماں ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور اے (رسول مکرم) ہم آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ (النساء : ٤١) 

تمام نبیوں کے صدق پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اللہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا یعنی کافر کو جو عذاب دے گا وہ ظلم نہیں ہوگا ‘ اور مومنوں کو بشارت دی تھی کہ ان کی نیکیوں کے اجر کو بڑھا دے گا ‘ اب اس آیت میں فرمایا ہے کہ یہ جزا اور سزا نبیوں اور رسولوں کی گواہی پر مترتب ہوگی جس کے خلاف وہ گواہی دیں گے اس کو سزا ملے گی اور جس کے حق میں گواہی دیں گے اس کو اجر وثواب بیش از بیش ملے گا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے سامنے قرآن پڑھو ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کو قرآن سناؤں حالانکہ آپ پر تو خود قرآن مجید نازل ہوا ہے ‘ آپ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ میں کسی اور سے قرآن سنوں ‘ میں نے سورة النساء پڑھی جب میں آیت پر پہنچا (آیت) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید وجئنا بک علی ھؤلاء شھیدا (النساء : ٤١) 

میں نے سر اٹھا کر دیکھا یا کسی نے میرے پہلو میں ٹہوکا دیا اور میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٨٠٠) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رونا خوف خدا کے غلبہ سے تھا کیونکہ اس سے پہلی آیت میں ہے اللہ تعالیٰ کسی پر ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں فرمائیگا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت دینے کا معنی یہ ہے کہ آپ انبیاء صادقین (علیہم السلام) کے صدق پر گواہی دین گے ‘ یا انبیاء سابقین کی تقویت کے لئے ان کی امت کے کافروں کے خلاف شہادت دیں گے ‘ اور اس میں ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظیم فضیلت ہے کیونکہ تمام نبیوں اور رسولوں کی شہادت آپ کی شہادت سے مانی جائے گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 41

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ‌ ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 40

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ‌ ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا

ترجمہ:

بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عطا فرماتا ہے۔ (النساء : ٤٠) 

اللہ کے ظلم نہ کرنے کا معنی :

ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کے مخصوص محمل کے سوا ‘ کمی یا زیادتی کرکے کسی اور جگہ رکھنا سو اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ کسی کی نیکیوں کے ثواب میں کمی کرتا ہے نہ کسی کی برائیوں کے عذاب میں کمی کرتا ہے ‘ اس لئے بندوں کو چاہیے کہ انکو جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور جس کام سے منع کیا ہے اس سے رک جائیں۔ 

ظلم کا یہ معنی بھی ہے : غیر کی ملک میں تصرف کرنا ‘ اللہ کے سوا جو کچھ ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور مالک اپنی ملک میں جو تصرف بھی کرے وہ ظلم نہیں ہے۔ اگرچہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرے گا لیکن پھر بھی بفرض محال اگر وہ تمام مخلوق کو دوزخ میں ڈال دے تو یہ ظلم نہیں ہوگا کیونکہ سب اس کے مملوک ہیں اور وہ مالک علی الاطلاق ہے ہم نے بفرض محال اس لیے کہا ہے کہ وہ نیکی کرنے والوں کو اجر وثواب دینے کا وعدہ فرما چکا ہے اور اپنے وعدے کے خلاف کرنا اس کے حق میں محال ہے کیونکہ انعام کا وعدہ کرکے انعام نہ دینا عیب ہے اور عیب اللہ کے لیے محال ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کے اجروثواب بڑھانے کا معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر کوئی نیکی ہو تو وہ اس کو دگنا کردیتا ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ بندہ ایک نیکی پر دس گنے اجر کا مستحق ہے تو اللہ اس کو بیس گنا اجر عطا فرمائے گا یا تیس گنا اجر عطا فرمائے گا یا اس سے بھی زیادہ عطا فرمائیگا۔ 

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

زازان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس گیا انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اولین اور آخرین کو جمع فرمائیگا ‘ پھر اللہ کی طرف سے ایک منادی یہ ندا کرے گا کہ جس شخص نے اپنا حق لینا ہو آئے اور اپنا حق لے لے ‘ بخدا اگر بچے کا اپنے باپ پر یا کسی کا اپنے بیٹے پر یا اپنی بیوی پر جو بھی حق ہوگا وہ لے لے گا ‘ خواہ وہ چھوٹا حق ہو ‘ اور اس کا مصداق کتاب اللہ میں یہ آیت ہے : 

(آیت) ” فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسآء لون “۔ (المؤمنون : ١٠١) 

ترجمہ : پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان اس دن رشتے (باقی) نہیں رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھیں گے۔ 

ایک شخص سے کہا جائیگا ان لوگوں کے حقوق ادا کرو وہ شخص کہے گا اے رب ! دنیا تو گذر چکی ہے میں ان کے حقوق کہاں سے ادا کروں ؟ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیگا اس شخص نے نیک اعمال کو دیکھو ‘ اور مستحقین کو اس کی نیکیاں دید و ‘ پھر جب اس کی ایک ذرہ کے برابر نیکی رہ جائے گی تو فرشتے کہیں گے ‘ (حالانکہ اللہ کو خوب علم ہے) اے ہمارے رب ہم نے ہر حقدار کو اس کی نیکی دیدی اب اس کی صرف ایک نیکی رہ گئی ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیگا میرے اس بندہ کی نیکی کو دگنا چوگنا کردو ‘ اور اس کو میرے فضل اور رحمت سے جنت میں داخل کردو ‘ اور اس کا مصداق یہ آیت ہے ‘ اور اگر وہ بندہ شقی ہو اور اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں تو فرشتے عرض کریں گے کہ اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور اس کی صرف برائیاں رہ گئی ہیں اور لوگوں کے حقوق باقی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیگا حقداروں کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈال دو اور اس کے لئے جہنم کا پروانہ لکھ دو ۔ (نعوذ باللہ منہ) 

ابوعثمان النھدی بیان کرتے ہیں کہ میری حضرت ابوھریرہ (رض) سے ملاقات ہوئی میں نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ ایک نیکی کا اجر بڑھا کر ایک بڑھا کر ایک کروڑ درجہ کردیا جاتا ہے ‘ انہوں نے کہا تم کو اس پر کیوں تعجب ہے بہ خدا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو ہزار ضرب ہزار (ایک کروڑ) درجہ تک پہنچا دے گا۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٥٨۔ ٥٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے ‘ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ بندہ کا عمل اتنے اجر کا مقتضی نہیں ہے یہ اجر اللہ اپنے پاس سے عطا فرماتا ہے ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں کا اجر وثواب بڑھاتا ہے جس سے بندہ کو جنت میں جسمانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے جس سے بندہ کو روحانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور یہ روحانی لذتیں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے حاصل ہوتی ہے اور یہ جنت میں حاصل ہونے والی سب سے عظیم نعمت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 40