اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ‌ ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 40

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ‌ ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا

ترجمہ:

بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عطا فرماتا ہے۔ (النساء : ٤٠) 

اللہ کے ظلم نہ کرنے کا معنی :

ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کے مخصوص محمل کے سوا ‘ کمی یا زیادتی کرکے کسی اور جگہ رکھنا سو اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ کسی کی نیکیوں کے ثواب میں کمی کرتا ہے نہ کسی کی برائیوں کے عذاب میں کمی کرتا ہے ‘ اس لئے بندوں کو چاہیے کہ انکو جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور جس کام سے منع کیا ہے اس سے رک جائیں۔ 

ظلم کا یہ معنی بھی ہے : غیر کی ملک میں تصرف کرنا ‘ اللہ کے سوا جو کچھ ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور مالک اپنی ملک میں جو تصرف بھی کرے وہ ظلم نہیں ہے۔ اگرچہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرے گا لیکن پھر بھی بفرض محال اگر وہ تمام مخلوق کو دوزخ میں ڈال دے تو یہ ظلم نہیں ہوگا کیونکہ سب اس کے مملوک ہیں اور وہ مالک علی الاطلاق ہے ہم نے بفرض محال اس لیے کہا ہے کہ وہ نیکی کرنے والوں کو اجر وثواب دینے کا وعدہ فرما چکا ہے اور اپنے وعدے کے خلاف کرنا اس کے حق میں محال ہے کیونکہ انعام کا وعدہ کرکے انعام نہ دینا عیب ہے اور عیب اللہ کے لیے محال ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کے اجروثواب بڑھانے کا معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر کوئی نیکی ہو تو وہ اس کو دگنا کردیتا ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ بندہ ایک نیکی پر دس گنے اجر کا مستحق ہے تو اللہ اس کو بیس گنا اجر عطا فرمائے گا یا تیس گنا اجر عطا فرمائے گا یا اس سے بھی زیادہ عطا فرمائیگا۔ 

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

زازان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس گیا انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اولین اور آخرین کو جمع فرمائیگا ‘ پھر اللہ کی طرف سے ایک منادی یہ ندا کرے گا کہ جس شخص نے اپنا حق لینا ہو آئے اور اپنا حق لے لے ‘ بخدا اگر بچے کا اپنے باپ پر یا کسی کا اپنے بیٹے پر یا اپنی بیوی پر جو بھی حق ہوگا وہ لے لے گا ‘ خواہ وہ چھوٹا حق ہو ‘ اور اس کا مصداق کتاب اللہ میں یہ آیت ہے : 

(آیت) ” فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسآء لون “۔ (المؤمنون : ١٠١) 

ترجمہ : پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان اس دن رشتے (باقی) نہیں رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھیں گے۔ 

ایک شخص سے کہا جائیگا ان لوگوں کے حقوق ادا کرو وہ شخص کہے گا اے رب ! دنیا تو گذر چکی ہے میں ان کے حقوق کہاں سے ادا کروں ؟ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیگا اس شخص نے نیک اعمال کو دیکھو ‘ اور مستحقین کو اس کی نیکیاں دید و ‘ پھر جب اس کی ایک ذرہ کے برابر نیکی رہ جائے گی تو فرشتے کہیں گے ‘ (حالانکہ اللہ کو خوب علم ہے) اے ہمارے رب ہم نے ہر حقدار کو اس کی نیکی دیدی اب اس کی صرف ایک نیکی رہ گئی ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیگا میرے اس بندہ کی نیکی کو دگنا چوگنا کردو ‘ اور اس کو میرے فضل اور رحمت سے جنت میں داخل کردو ‘ اور اس کا مصداق یہ آیت ہے ‘ اور اگر وہ بندہ شقی ہو اور اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں تو فرشتے عرض کریں گے کہ اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور اس کی صرف برائیاں رہ گئی ہیں اور لوگوں کے حقوق باقی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیگا حقداروں کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈال دو اور اس کے لئے جہنم کا پروانہ لکھ دو ۔ (نعوذ باللہ منہ) 

ابوعثمان النھدی بیان کرتے ہیں کہ میری حضرت ابوھریرہ (رض) سے ملاقات ہوئی میں نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ ایک نیکی کا اجر بڑھا کر ایک بڑھا کر ایک کروڑ درجہ کردیا جاتا ہے ‘ انہوں نے کہا تم کو اس پر کیوں تعجب ہے بہ خدا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو ہزار ضرب ہزار (ایک کروڑ) درجہ تک پہنچا دے گا۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٥٨۔ ٥٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے ‘ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ بندہ کا عمل اتنے اجر کا مقتضی نہیں ہے یہ اجر اللہ اپنے پاس سے عطا فرماتا ہے ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں کا اجر وثواب بڑھاتا ہے جس سے بندہ کو جنت میں جسمانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے جس سے بندہ کو روحانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور یہ روحانی لذتیں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے حاصل ہوتی ہے اور یہ جنت میں حاصل ہونے والی سب سے عظیم نعمت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 40

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.