ڈاکٹر طاہر القادری کا اعلی حضرت امام احمد رضا سے موازنہ؟

باسمہ تعالی و تقدس

ڈاکٹر طاہر القادری کی تصانیف کی واقعی حقیقت اور علمی حیثیت بتلانے والی سنجیدہ اور مدلل تحریر:

*ڈاکٹر طاہر القادری کا اعلی حضرت امام احمد رضا سے موازنہ؟*

تحریر:۔ *خالد ایوب مصباحی شیرانی* 

khalidinfo22@gmail.com

مسلمانوں کے جاہلانہ جذبات کا افسوس ناک پہلو ہے، وہ کسی کو ماننے یا نہ ماننے یعنی کسی کی خدمات کا اعتراف کرنے اور کسی کی خدمات کا دائرہ پہچاننے کا بھی سلیقہ نہیں رکھتے۔ دودھ میں کھیر کی آمیزش کرنے کا یہ وہ بھیانک مغالطہ ہے جو گاہے گاہے انسان کو فکری دیوالیہ اور ذہنی مریض بنا دیتا ہے۔ اس قسم کے جاہلانہ جذبات کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے افراد چوں کہ محض جذباتی ہوتے ہیں، جن کی نہ اپنی کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ ان کے پاس مطلوبہ علم، اس لیے کسی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں تو اتنا زیادہ کہ اب اس کے آگے کسی دوسرے کی خدمات کو نہ صرف نظر انداز کر جاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اہانت مومن کے بھی مرتکب ہو جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی کی تعظیم کے لیے کسی کی توہین یا کسی کی ستائش کے لیے کسی کی اہانت خلاف انسانیت ہی نہیں، بجائے خود ایک جرم بھی ہے۔ اسی طرح کسی کی خدمات کو نکارتے ہیں تو یوں جیسے اس کی اپنی واقعی خدمات بھی کالعدم ہیں۔ 

ماضی قریب میں مذہبی دنیا پر شخصیت پرستی کا یہ رنگ غالب رہا اور افسوس اس بات کا ہے جو طبقات یا افراد اس کے خلاف کھڑے ہوئے وہ بھی ایک شخصیت سے بھاگ کر دوسری شخصیت کے دامن میں جا چھپے گویا آسمان سے گرے بھی تو کھجور میں اٹکے کیوں کہ ایسے غیر سنجیدہ افراد کا مقدر آخر اٹکنا ہی تھا۔ اس تعداد میں بیشتر لوگ وہ ہوتے ہیں جن کا اپنا کوئی وجود یا کام نہیں ہوتا کیوں کہ جو خود با کار افراد ہوتے ہیں، انھیں اس بے برکتی کے دور میں اتنی فرصت کہاں کہ وہ ترازو لے کر گلی گلی چکر لگاتے پھریں اور اپنی قیمتی زندگی اسی بے کاری کے حوالے کر دیں۔ 

اعلی حضرت امام رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ (1272 ھ/ 1856 ء ۔ 1440 ھ/ 1921ء) چودہویں صدی کے مجدد، عظیم فقیہ ، سچے عاشق رسول ، بارگاہ رسالت پناہ ﷺ میں مقبول شخصیت اور عبقری عالم ربانی تھے۔ آپ نے بیک وقت علم و عمل، فکر و اعتقاد، فقہ و فتوی، دعوت و تبلیغ اور شخصیت سازی کے میدانوں میں نمایاں کار نامے انجام دیے۔آپ کا سب سے نمایاں کار نامہ احقاق حق اور ابطال باطل ہے جسے آپ نے قلمی جہاد کے طور پر انجام دیا۔ آپ کے قلم حق رقم نے تجدیدی شان کے ساتھ امت کے درمیان علمی وراثت تقسیم کی۔ فتنوں کی سرکوبی کی۔وہ گنجلک مسائل جن کی پیچیدگی کے آگے حضرت امام ابن عابدین شامی جیسے لوگ حیران نظر آتے ہیں، آپ نے بڑی آسانی سے حل کر دکھائے۔

آپ کے دار الافتا میں بیک وقت پانچ سو تک استفتا جمع ہوجاتے تھے اورتقریبا دس مفتیوں کے برابر کام ہوتا، لیکن آپ تنہا انجام دیتے۔آپ سے عوام و خواص کے علاوہ ریاست رام پور، خان پور کچہری اور چیف کورٹ بہاول پور کے ججوں نے بھی استفتا کیے اور آپ کے فتووں پر اپنے فیصلوں کی بنیاد رکھی۔ رَوسَر چینی، کاغذ کے نوٹ، منی آرڈر، فوٹو گرافی اورتاڑی سے خمیر شدہ آٹے کے احکام جیسے مشکل مسائل پر آپ نے تن تنہا جس عالی ہمتی کے ساتھ علمی تحقیق کی، یہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ کاغذ کے نوٹ کے تعلق سے جب علمائے مکہ مکرمہ پریشان ہوئے تو بات مفتی اعظم مکہ مکرمہ شیخ جمال بن عبد اللہ مکی علیہ الرحمہ تک پہنچی لیکن وہ بھی اس جدید مسئلے کاحل نہ کر سکے اور دیانت داری کے ساتھ لکھا: المسئلۃ حدیثۃ، والعلم امانۃ فی اعناق العلماء” مسئلہ نیا ہے اور علم علما کی گردنوں میں امانت ہے۔ 

1323ھ/ 1905ء میں جب اعلی حضرت علیہ الرحمہ دوسری بار زیارت حرمین شریفین کے لیے تشریف لے گئے تو مکہ مکرمہ کے علمائے کرام مولانا عبد اللہ احمد میردادامام مسجد حرام اور ان کے استاد مولانا حامد احمد محمد جداوی علیہما الرحمہ نے نوٹ سے متعلق بارہ سوالات پر مشتمل استفتا اعلی حضرت قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیا، آپ نے شنبہ 21/ محرم کو جواب شروع کیا اور دو شنبہ 23/ محرم کو چاشت کے وقت”کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم” کے نام سے مکمل کر دیا۔ درمیان میں بخار کی وجہ سے وقفہ بھی ہوتا رہا۔ (خلاصہ: خطبہ صدارت، از: علامہ محمد مصباحی، بموقع: 25/واں فقہی سیمینار منعقدہ 18۔20/ ربیع النور 1440)

اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی کی فقہی بصیرت اور عظیم فقہی خدمات کی شافی تفصیل کےلیے اس موضوع پر تحریر کردہ کتب سے مراجعت کرنی چاہیے۔جو بھی انصاف پسند آپ کی ان عظیم خدمات کو کھلے دل سے پڑھے گا، وہ آپ کی عبقریت ویسے ہی تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا، جیسے اب تک عرب و عجم کی کوئی درجنوں فتوحات کا سلسلہ آپ کے نام رہا ہے۔ 

فقہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کا سب سے نمایاں میدان تھا لیکن فقہ ہی آپ کا میدان تھا، ایسا نہیں۔ آپ کے علوم و معارف کا دائرہ حیران کن حد تک وسیع ہے جس کی جھلک خود آپ نے پچپن علوم کی شکل میں پیش کی ہے جبکہ جدید تقاضوں کے اعتبار سے علوم کی جو ذیلی شاخیں پھوٹی ہیں، اس نظر سے دیکھا جائے تو آج کےماڈرن ایج میں آپ کے ان علوم و معارف کی فہرست میں دنیا جہان کے ایک سو بیس علوم سمو آتے ہیں۔ 

کسی شخصیت کا بیک وقت اتنے علوم و فنون کا حاصل کر لینا بجائے خود ایک کرشمہ ہے، ان کا ماہر ہو پانا اور پھر اپنی مہارت کے آثار پیش کر دینا واقعتاً بہت بڑی کرامت ہے لیکن اعلی حضرت امام احمد رضا خاں کی عبقریت یہ ہے کہ آپ نےممکنہ اعتراضات کا قلع قمع کرتے ہوئے ان پچپن علوم میں اپنے یادگار اور حیران کن علمی اور قلمی نقوش بھی چھوڑے ہیں۔ پہلے آپ کے مطابق ان پچپن علوم کی فہرست دیکھیے:

(١) علم القران (٢) حدیث (٣) اصول حدیث (٤) فقہ حنفی (٥) کتب فقہ جملہ مذاہب (٦) اصولِ فقہ (٧) جدل مہذب (٨) علم تفسیر (٩) عقائد و کلام (١٠) نحو (١١) صرف (١٢)معانی (١٣) بیان (١٤) بدیع (١٥) منطق (١٦) مناظرہ (١٧) فلسفہ (١٨) تکسیر (١٩) ہیئت (٢٠) حساب (٢١) ہندسہ (٢٢) قرأت (٢٣) تجوید (٢٤) تصوف (٢٥) سلوک (٢٦) اخلاق (٢٧) اسماء الرجال (٢٨) سیر (٢٩) تاریخ (٣٠) لغت (٣١) ادب معہ جملہ فنون (٣٢) ارثما طیقی (٣٣) جبر و مقابلہ (٣٤) حساب سینی (٣٥) لوگارثمات (٣٦) توقیت (٣٧) مناظرہ مرایا (٣٨) علم الاکر (٣٩) زیجات (٤٠) مثلث کروی (٤١) مثلث سطح (٤٢) ہیئت جدیدہ (٤٣) مربعات (٤٤) جفر (٤٥) زائرچہ (٤٦) نظم عربی (٤٧) نظم فارسی (٤٨) نظم ہندی (٤٩) نثر عربی (٥٠) نثر فارسی (٥١) نثر ہندی (٥٢) خط نسخ (٥٣) نستعلیق (٥٤) تجوید (٥٥) علم الفرائض ۔(اعلی حضرت امام احمد رضا کے تجدیدی کارنامے اور علوم و فنون کی فہرست، بحوالہ: الاجازۃ الرضویہ۔ از: علامہ نسیم احمد صدیقی)

یہ وہ فہرست ہے جو اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے حافظ کتب حرم شیخ اسماعیل خلیل مکی کو سند اجازت دیتے وقت ذکر کی ہے۔ اس فہرست میں وہ کئی علوم نظر نہیں آئیں گے جنھیں آج ہمارے بچے پڑھتے ہیں کیوں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی تیار کردہ یہ فہر ست بھی بہت جامع ہے۔ اس میں ذکر کردہ کچھ علوم وہ ہیں جن سے بعد میں کئی شاخیں نکلی ہیں اور جن کی شناخت کے لیے دور جدید کے ماہرین تعلیم نے الگ الگ عنوانات مختص کیے ہیں ۔ اسی وجہ سے دور حاضر کے اعتبار سے اس فہرست کو پھیلایا جائے تو یہ اب تقریبا ایک سو بیس علوم و فنون پر مشتمل ہوتی ہے ۔ان دعووں کے مدلل نقوش دیکھنے کے لیے ماہ نامہ ” پیغام شریعت” دہلی کا ” مصنف اعظم نمبر” دیکھنا چاہیے۔

"المیزان” بمبئی کے ایڈیٹر سید محمد جیلانی بن سید محامد اشرف نے سچ لکھا ہے:

”اگر ہم ان کی علمی و تحقیقی خدمات کو ان کی 66 سالہ زندگی کے حساب سے جوڑیں تو ہر 5 گھنٹے میں امام احمد رضا ایک کتاب ہمیں دیتے نظر آتے ہیں ، ایک متحرک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا جو کام تھا ،امام احمد رضانے تن تنہا انجام دے کر اپنی جامع شخصیت کے زندہ نقوش چھوڑے۔ (المیزان، امام احمد رضا نمبر مارچ ١٩٧٦)

علمی مہارتیں، قلمی جہاد اور فکری محاذ آرائیاں اعلی حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کا وہ سدا بہار گلشن ہے جس کی تحقیق کر کر کے اب تک کئی درجن لوگ پی ایچ ڈی ہولڈر بن چکے ہیں لیکن آپ علیہ الرحمہ کا کل کار نامہ یہی نہیں، شخصیت سازی بھی آپ کی محیر العقول شخصیت کا نہایت نمایاں پہلو ہے۔

آپ کے تلامذہ اور خلفا کی فہرست پر نظر ڈالنے والا ہر انصاف پسند اس بات کا اعتراف کرے گا کہ آپ گویا شمع معرفت ہیں جس کے پروانوں میں سے ہر پروانے کی اپنی جدا شان ہے اور آپ کے علمی بوستان سے مہکنے والے ہر گل کی جدا رنگت، جدا بو۔ اس اجمال کی تفصیل کی جائے تو بات بڑی لمبی ہو جائے گی، اس لیے اس اشارے کو کافی سمجھا جائے۔ 

سر دست اس تعارف کی ضرورت یوں پیش آئی کہ ادھر کچھ عرصے سے کچھ جذبات سے مغلوب دیوانےہوش و خرد ہی نہیں دیانت و عدالت بالائے طاق رکھ کر اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی نابغہ روزگار شخصیت کا موازنہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری سے کر رہے ہیں اور ڈاکٹر صاحب موصوف کی بے جا بجا تصانیف نما کتابوں کی چکاچوند کے پیچھے چھپے حقائق کا گلہ گھونٹ رہے ہیں۔ آئیے! حقائق تک رسائی کے لیے ڈاکٹر صاحب پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں: 

ڈاکٹر محمد طاہر القادری بن ڈاکٹر فرید الدین قادری 19/ فروری 1951ء کو پاکستان کے ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔1955ء سے 1986ء تک علمی مراحل طے کیے۔ آپ کی تعلیمی صلاحیتوں میں درس نظامی کورس، اسلامیات میں ایم اے، اسلامی فلسفہ عقوبات میں پی ایچ ڈی اور قانون کی تعلیم ہے۔ 1974ء سے 1988ء تک آپ مختلف تعلیمی اداروں کی تدریس سے وابستہ رہے اور اسی دوران شعبہ وکالت سے بھی وابستہ رہے۔ 1980ء میں آپ نے "ادارہ منہاج القرآن ” کی بنیاد رکھی اور یہی آپ کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ 

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ادارہ منہاج القرآن اور اس کے بانی ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے دعوت دین کے میدان میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ جدید ذرائع ابلاغ کا دینی کاز کے لیے جتنے سلیقے سے اس ادارہ نے استعمال کیا ہے، بہت کم دینی تحریکوں اور اداروں نے کیا یا بہت دیر بعد کیا۔یہ بھی تسلیم کہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے خطبات اور کتابوں نے نئی نسل کی بڑی دینی ضرورتیں پوری کیں اور یہ بھی بجا کہ ڈاکٹر صاحب کی پوری شناخت ان کے یہی کارنامے ہیں۔ لیکن جس طرح ان واقعی خوبیوں کا اعتراف نہ کرنا، تعصب ہوگا، اسی طرح ڈاکٹر صاحب کو ان کے قد سے کئی گنا بڑا مرتبہ دینا یا ان کے گم راہ نظریات کی بھی تائید و حمایت کرنا اسلامی مزاج کے سراسر خلاف ہے کیوں کہ اسلامی نقطہ نظر سے کوئی بھی شخصیت اسی وقت قابل قبول ہو سکتی ہے جب وہ ایمان و عقیدے کی سلامتی کے تمام معیارات پر کھری اترے، عقیدے کے ساتھ سمجھوتے کر لینے والی یا اپنے عقائد حقہ میں باطل نظریات کی آمیزش کرنے والی ہر بڑی سے بڑی شخصیت کو اسلام بحیثیت اسلام محترم نہیں قرار دے سکتا۔

اسی طرح کسی شخصیت کا اسلامی خدمات انجام دینا، اس کی حقانیت کی دلیل نہیں ہو سکتا کیوں کہ اللہ رب العزت حکیم و قدیر ہے، وہ اپنے دین کی خدمت کسی سے بھی لے سکتا ہے۔ مختار ثقفی کے کار نامے اور اس کا انجام اس کی بڑی دلیل ہے، حال میں بھی اس کی بہت مثالیں ہیں۔ یہ وہ بنیادی غلط فہمی ہے جس کے کئی لوگ شکار ہیں۔ 

اوپر جس شخصیت پرستی کا ذکر ہوا، ڈاکٹر صاحب کے چاہنے والوں کو بھی ان کی محبتوں کا کچھ ایسا فوبیا ہے کہ وہ ان کی چاہت میں علمی دیانتوں کے تمام تقاضے فراموش کر گئے۔ اس وقت حد ہو گئی جب کچھ دیوانوں نے ڈاکٹر صاحب کا اعلی حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ سے موازنہ شروع کر دیا اور کھلے بندوں یہ کہنے لگے: اعلی حضرت محض ایک مفتی تھے، جبکہ ڈاکٹر صاحب عظیم مصنف ہیں، ان کی تصانیف کی تعداد اتنی اتنی ہے۔ 

اگر دنیا میں انصاف زندہ ہے تو ہمیں یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنی تمام تر علمی اور معنوی خوبیوں کے باوجود نہایت شاطر دماغ، استحصال مزاج اور علمی طور پر دیانتوں کا خون کرنے والا شخص ہے۔ یہ محض ایک دعوی نہیں، اس کے پیچھے درج ذیل دلائل کے انبار بھی ہیں۔ 

ڈاکٹر صاحب کے ادارہ منہاج القرآن کا علمی، تحقیقی اور تصنیفی شعبہ ہے ” فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ” جس کی بنیاد 7/ دسمبر 1987 میں رکھی گئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ شعبہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے والد سے منسوب ہے۔ اس شعبے کے مقاصد اور ذیلی شعبہ جات کیا کچھ ہیں، ادارہ کے ویکی پیڈیا پیج پر یوں پیش کیے گئے ہیں: 

(1) شعبہ تحقیق و تدوین (2) ریسرچ ریویو کمیٹی (3) مرکزی لائبریری(4) شعبہ ترجمہ (5) شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (6) شعبہ کمپوزنگ (7) شعبہ نقل نویسی (8) شعبہ خطاطی (9) شعبہ مسودات و مقالہ جات (10) شعبہ ادبیات (11) دار الافتا (12) شعبہ تحقیقی تربیت

فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے وقت اس کے درج ذیل مقاصد متعین کیے گئے:

اسلام کے حقیقی پیغام کی تبلیغ و اشاعت۔تحریک منہاج القرآن کی فکر کی ترویج۔نئی نسل کو بے یقینی، اخلاقی زوال اور غیر مسلم اقوام کی ذہنی غلامی سے نجات دلانے کے لیے اسلامی تعلیمات کی جدید ضروریات کے مطابق اشاعت۔مذہبی اذہان کو علم کے میدان میں ہونے والی جدید تحقیقات سے روشناس کرانا۔راہ حق سے بھٹکے ہوئے مسلمانوں کو اپنا صحیح ملی تشخص باور کرانا۔مسلم امہ کو درپیش مسائل کا مناسب حل تلاش کرنا۔نوجوان نسل کو دین کی طرف راغب کرنا۔تحریک منہاج القرآن سے وابستہ افراد کی علمی و فکری تربیت کا نظام وضع کرنا اور تربیتی نصاب مدون کرنا۔ (( تحریک منہاج القرآن سے وابستہ تمام اہل قلم کو مجتمع کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو تحریک کے پلیٹ فارم پر جہاد بالقلم کے لیے بروئے کار لانا))۔ملکی و بین الاقوامی سطح پر تمام اہل قلم تک تحریک کی دعوت بذریعہ قلم پہنچانا اور انہیں مصطفوی مشن کے اس پلیٹ فارم پر جمع کرنا۔تحریک کی دعوت بذریعہ قلم پھیلانے کے لیے اس کے اساسی و فکری موضوعات پر مضامین اور تحقیقی مقالات تیار کرنا اور انہیں ذرائع ابلاغ تک پہنچانا۔تحریک کی دعوت بذریعہ قلم پھیلانے کے لیے علمی اور فکری موضوعات پر کتب تصنیف کرنا اور تحقیقی ضروریات پورا کرنا۔((قائد تحریک کے مختلف دینی، سماجی، اقتصادی، سیاسی و سائنسی، اور اخلاقی و روحانی موضوعات پر فکر انگیز ایمان افروز خطابات کو کتابی صورت میں مرتب کروانا))۔ ریسرچ اسکالرز سے اہم موضوعات پر تحقیقی مواد تیار کروانا اور اسے شائع کروانا۔جدید اسلوب تحقیق اور عصری تقاضوں کے مطابق اسلامی ورثہ کو نسل نو کی طرف منتقل کرنا۔(ویکی پیڈیا پیج:فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ)

ہم اس میں کوئی شک نہیں کرتے کہ ان مقاصد میں سے ہر مقصد میں خلوص رہا ہوگا لیکن اس عبارت کا پہلا جملہ ہی بتا رہا ہے، یہ مقاصد متعین تھے، پورے نہیں ہوئے، بارہ شعبہ جات نے مل کر اوپر ڈبل قوسین کے درمیان ذکر کردہ دو مقاصد کی تکمیل پر زور رکھا اور تحریک سے جڑے تمام سادہ لوح اور جذباتی لوگوں کی صلاحیتوں کو نچوڑ کر قائد تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کے مختلف دینی، سماجی، اقتصادی، سیاسی و سائنسی، اور اخلاقی و روحانی موضوعات پر دیے گئے خطابات کو کتابی صورت میں مرتب کرنے پر محنت کی اور آج ڈاکٹر صاحب کی کئی سو کتابیں اسی استحصال کا نتیجہ ہیں۔ 

قارئین! یقین کریں! ڈاکٹر صاحب کی تصانیف کا بنیادی راز یہی ہے۔ ان کی تصانیف نما ضخامتوں کے پیچھے بارہ تنخواہ یافتہ شعبہ جات کام کر رہے ہیں اور سچ یہ ہے کہ ان مطبوعہ کتابوں کے ٹائٹل پر ” شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری” کا سنہرا نام ضرور رہتا ہے لیکن در اصل آں جناب کا اپنی ایسی تصانیف میں کوئی خاطر خواہ کردار نہیں ہوتا۔ یقین نہ ہو تو ڈاکٹر صاحب کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق دیکھیے کہ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف کے پیچھے کن بے چارے اور مظلوم کرائے داروں کی محنتیں کام کر رہی ہیں۔ 

ویکی پیڈیا کے مطابق فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے الگ الگ شعبہ جات میں صرف اہم ذمہ داروں کے طور پر اب تک جو لوگ کام کر چکے ہیں، ان کی اجمالی فہرست یہ ہے: (1)لیکچرر محمد صدیق قمر، (2) علامہ ظہور الہٰی،(3) علامہ محمد امین مدنی (4) پروفیسر مستنیر علوی (5) ڈاکٹر علی اکبر ازہری (6) رانا جاوید مجید قادری، (7)پروفیسر محمد اشرف چودھری، (8) پروفیسر محمد رفیق نقشبندی، (9) ڈاکٹر نعیم انور نعمانی، (10) ریاض حسین چودھری، (11) ناصر اقبال ایڈووکیٹ، (12) شیخ عبدالعزیز دباغ، (13)قمر الزمان شیخ، (14) ڈاکٹر طاہر حمید تنولی، (15) ڈاکٹر کرامت اللہ، (16)محمد فاروق رانا، (17)پروفیسر نصر اللہ معینی، (18)ضیاء اللہ نیر، (19)پروفیسر محمد الیاس قادری، (20) ڈاکٹرمحمد نواز ازہری، (21) ڈاکٹرمحمد ارشد نقشبندی، (22) علامہ محمد الیاس اعظمی، (23) علامہ محمد رمضان قادری، (24) محمد علی قادری، (25) محمد تاج الدین کالامی،(26) محمد افضل قادری، (27) عبدالجبار قمر،(28) علامہ سہیل احمد صدیقی، (29) ابو اویس محمد اکرم قادری، (30) محمد حنیف، (31) حافظ فرحان ثنائی، (32) حافظ ظہیر احمداسنادی، (33) اجمل علی مجددی (34) حسنین عباس (35) ڈاکٹر محمد ظہور اللہ ازہری، (36) سید قمر الاسلام ضیغم، (37) ڈاکٹر فیض اﷲ بغدادی، (38) حافظ محمد ضیاء الحق رازی (39) حافظ مزمل حسین بغدادی، (40) پروفیسر محمد نواز ظفر، (41) مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، (42) ممتاز الحسن باروی، (43) شبیر احمد جامی، (44)ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، (45)پروفیسر افتخار احمد شیخ، (46) پروفیسر محمد رفیق، (47) عاصم نوید، (48) یونس علی بٹر (49)جاوید اقبال طاہری، (50) امانت علی چودھری، (51) ڈاکٹر زاہد اقبال، (52) تحسین خالد، (53) فاروق ارشاد، (54) محمد یامین، (55)عبد الخالق بلتستانی، (56) حامد سمیع، (57) محمد نواز قادری، (58) کاشف علی سعید، (59) سلیم حسن، (60) غلام نبی قادری، (61) حافظ محمد طاہر علوی، (62) مقصود احمد ڈوگر، (63) محمد افتخار، (64) ظہیر احمد سیال، (65)علامہ حافظ حکیم محمد یونس مجددی، (66)محترم محمد اخلاق چشتی، (67)محمد یوسف نظامی، (68) سلام شاد، (69) شاہد محمود، (70) علامہ حافظ سراج سعیدی، (71) فریدہ سجاد، (72) مصباح کبیر، (37) نازیہ عبدالستار، (74) رافعہ علی، (75) آسیہ سیف قادری، (76) کوثر رشید، (77) جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کی منتہی کلاسوں کے طلبا ۔

اس فہرست میں شیخ الاسلام کی تقریرو ں سے کتاب بنانے والے نقل نویس، کتاب کو تحقیقی رنگ دینے والے محققین، تحقیق میں تخریج کا رنگ بھرنے والے ریسرچ اسکالرز، کتاب کو ادبی رنگ دینے والے ارباب ادب، کتابوں کی کمپوزنگ کرنے والے ٹائپسٹ اور کتابوں کو دوسری زبانوں میں ڈھالنے والے مترجمین سب شامل ہیں یعنی یہ پوری ٹیم ہے، 1987 سے 2018 تک کی تیس سال سالہ مدت ہے اور نتیجتاً شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے نام سے چھپی ہوئی سیکڑوں کتابیں ہیں۔ 

آدمی کتنا بھی جھوٹا ہو، کبھی نہ کبھی کسی بہانے سچ زبان پر آ ہی جاتا ہے، منہاج القرآن کے تیار کردہ اس ویکی پیڈیا پیج پر بھی اس طرح کئی جگہ خواہی نخواہی سچ کی آمیزش ہو ہی گئی ہے، جس کے زیر و بم سے یہ اعتراف ہوتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تصانیف میں مندرجہ بالا لوگوں کی محنتیں شامل ہیں۔ اب ذرا سچائی کو دبے لفظوں میں محسوس کیجیے ایک جگہ لکھا ہے:

تینوں حضرات خصوصاً ریاض حسین چودھری نے سیرۃ الرسول کے تاریخی پراجیکٹ پر حضرت شیخ الاسلام کی نگرانی میں نہایت جاں فشانی سے کام کیا۔(ایضا)

ایک جگہ "شعبہ تحقیق و تدوین” کے تعارف میں لکھا ہے:

اس شعبہ میں زیادہ تر منہاج یونیورسٹی لاہور کے کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک اسٹڈیز (COSIS) کے فضلا علوم اسلامیہ میں تخصص کی بنا پرکل وقتی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ (ایضا)

ایک جگہ یوں حقیقت نوک قلم پر آ گئی ہے:

منہاج یونیورسٹی کے فارغ التحصیل منہاجینز نے قائد تحریک کا دست و بازو بنتے ہوئے اس شعبہ میں شبانہ روز محنت کی۔ آج شعبہ تحقیق و تدوین کا خواتین و حضرات پر مشتمل مستعد ریسرچ اسٹاف حضرت شیخ الاسلام مدظلہ العالی کا عظیم انقلابی پیغام اعلی معیاری مطبوعات اور انٹرنیٹ کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے شب و روز پوری دل جمعی اور تن دہی سے مصروف عمل ہے۔ FMRi کے زیراہتمام شائع ہونے والی کتب میں تحقیق و تخریج کا معیار ملک بھر کے کسی بھی اشاعتی ادارے کے مقابلے میں معیاری، وقیع اور محققہ ہوتا ہے۔ اس شعبہ کی اعلی کارکردگی کی بدولت تحریک منہاج القرآن کی علمی خدمات کو ملک کے علمی حلقوں میں انتہائی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ (ایضا)

بلکہ حال یہ ہے کہ مردوں کے شانہ بشانہ شیخ الاسلام کی تصانیف کی تعداد بڑھانے کے لیے خدمت دین کے پاکیزہ جذبات کے ساتھ پردہ نشین عورتیں بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق یہ کام کرتی ہیں، دیکھیے:

منہاج یونیورسٹی لاہور کے کالج برائے خواتین کی فاضلات اور دیگر محققات بھی دینی جذبے اور پوری لگن سے اس شعبے میں شب و روز مصروف عمل ہیں۔ اس حوالے سے فریدہ سجاد، مصباح کبیر اور نازیہ عبدالستار و دیگر فاضلات خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ جب کہ رافعہ علی، آسیہ سیف قادری اور کوثر رشید بھی اس ٹیم کا حصہ رہی ہیں۔ خواتین اسکالرز کی کاوشوں سے حضرت شیخ الاسلام کی زیر نگرانی چند کتب بھی شائع ہو چکی ہیں۔

اسی پر بس نہیں بلکہ شیخ الاسلام کا استحصالی ذہن چوں کہ ایڈوانس کام کرتا ہے اس لیے تنخواہ یافتہ ملازمین کے علاوہ مذہب و مذہبیات کی راگ الاپنے والے شیخ الاسلام فاصلاتی طور پر بھی بڑے طبقے سے یہ کام لیتے ہیں اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے لوگ شیخ الاسلام کی تصانیف بڑھانے میں ان کی علمی ہوتی ہے:

” اس شعبہ میں مستقل بنیادوں پر کام کرنے والے محققین کے علاوہ فاصلاتی اسکالرز کو بھی welcome کیا جاتا ہے۔ وہ افراد جو اپنی مصروفیات کے باعث باقاعدگی سے انسٹی ٹیوٹ میں نہیں آسکتے وہ بھی اپنی تحقیقی خدمات کے ذریعے اس عظیم کام میں شرکت کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ ملک پاکستان سے باہر قیام پذیر افراد بھی اعزازی طور پر تحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ نیز منہاج یونیورسٹی کے کالج آف شریعہ کے اساتذہ کرام بھی اس شعبہ کے مختلف تحقیقی امور میں خدمات سرانجام دیتے رہتے ہیں، جن میں پروفیسر محمد نواز ظفر، مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، محمد الیاس اعظمی، ممتاز الحسن باروی، شبیر احمد جامی و دیگر شامل ہیں”۔ (ایضا) 

ان تمام سچی باتوں سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ شیخ الاسلام کی تصانیف میں 70 سے زیادہ آن ریکارڈ نام زد اسٹاف کے علاوہ ان کے مختلف اداروں کے ذمہ داران، دنیا بھر کے جذبہ دین رکھنے والے محققین و مترجمین اور حضرات و خواتین کی یکساں محنتیں شامل ہیں لیکن دنیا میں ان تمام لوگوں کی محنتیں جن کے نام کی ڈکار بنتی ہیں وہ ہیں مجدد رواں صدی، سفیر امن، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری جو علمی سنجیدگی کا رونا روتے ہوئے بھی تمام تر علمی دیانتوں کو بالائے طاق رکھ کر مصنف اعظم بنے بیٹھے ہیں اور دنیا کا معیار دیکھیے کہ دنیا انھیں مصنف مان بھی رہی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کی دنیا بھلے انھیں مصنف اور ان کی کتابوں کو تصنیف سمجھے ، کل کا مؤرخ انھیں ضرور علمی خائن اور صدی کا سب سے بڑا سرقہ باز لکھنے پر مجبور ہوگا۔ 

اب ذرا یہ بھی دیکھیے دنیا بھر کے دوروں پر رہنے والے شیخ الاسلام کے پیچھے بے چارے زر خرید کس طرح دن رات خون پسینہ ایک کرتے ہیں۔ فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کاایک شعبہ ہے "ریسرچ ریویو کمیٹی”۔ اس کا تعارف دیکھیے اور سر دھنیے کہ ہم شیخ الاسلام کو جس وقت دہلی، حیدر آباد اور بمبئی میں لائیو سن رہے ہوتے ہیں، ٹھیک اسی وقت شیخ الاسلام لاہور کے ایک گوشے میں ایک ساتھ کئی کتابیں تصنیف کر رہے ہوتے ہیں:

"ان ممالک میں دعوتی و تنظیمی امور کی نگرانی کے لیے حضرت شیخ الاسلام وقتاً فوقتاً دورہ جات کرتے ہیں۔ نیز مختلف ممالک میں حکومتی و ذیلی سطحوں پر منعقد ہونے والی کانفرنسز اور سیمینارز میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ لہٰذا حضرت شیخ الاسلام کی پاکستان میں عدم موجودگی کے دوران میں تحقیقی امور کی نگرانی کے لیے 2006ء میں ریسرچ ریویو کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کمیٹی کے سربراہ ناظم اعلی تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر رحیق احمد عباسی ہیں، جب کہ دیگر اراکین یہ ہیں: (1) ڈاکٹر طاہر حمید تنولی، (2) ڈاکٹر علی اکبر الازہری، (3) پروفیسر محمد نصر اللہ معینی، (4) ڈاکٹر ظہور اللہ الازہری، (5) محمد افضل قادری، (6)محمد فاروق رانا، (7) فیض اللہ بغدادی۔

ریسرچ ریویو کمیٹی کے ذمہ تمام اسکالرز سے ریسرچ پراجیکٹس کی رپورٹس لینا، انہیں ہدایات دینا اور ان کا فالو اپ کرنا ہوتا ہے۔ کمیٹی کی پندرہ روزہ میٹنگ منعقد ہوتی ہے، جس میں پراجیکٹس پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں کمیٹی کی سفارشات حضرت شیخ الاسلام کو بذریعہ ای میل ارسال کی جاتی ہیں جو ان کی توثیق کے بعد لاگو کر دی جاتی ہیں”۔ (ایضا)

شیخ الاسلام کی کرامت کہیے کہ ان کی تقریریں چند دنوں بعد تحریر بن جاتی ہیں، یہ کرامت جس مصدر سے صادر ہوتی ہے، اس کی شکل لاہور میں "مرکزی لائبریری” کی ہے۔لائبریری کا تعارف پڑھیے:

"لائبریری کے وسیع و عریض ہال، جہاں تشنگان علم کے لیے حضرت شیخ الاسلام کے لیکچرز، سیمینارز، اور دیگر پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں”۔(ایضا)

ہم پہلے "فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ” کے مقاصد میں پڑھ چکے ہیں: "قائد تحریک کے مختلف دینی، سماجی، اقتصادی، سیاسی و سائنسی، اور اخلاقی و روحانی موضوعات پر فکر انگیز ایمان افروز خطابات کو کتابی صورت میں مرتب کروانا۔”

ان دونوں کو ملائیے تو نتیجہ سامنے ہے: شیخ الاسلام کے ہزاروں خطبات امت کی ضرورت نہیں، بارہا تھونپے ہوئے بھی ہیں تاکہ جہاں خطبات کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ہو، وہیں دھڑلے سے تصانیف بھی بڑھتی چلی جائیں۔ آخر شعبہ خطاطی اور کمپوزنگ میں بھی تو پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ 

اور اب اس میں کوئی شبہ نہ رہ جائے کہ شیخ الاسلام کی تصانیف در اصل ان کی تقریریں ہیں اور تقریریں بھی ایسی جو انھیں ایک مخصوص شعبہ تیار کر کے دیتا ہے، "شعبہ نقل نویسی” کے نام سے تابوت کی یہ آخری کیل دیکھیے:

"حضرت شیخ الاسلام کے کم و بیش پانچ ہزار خطابات اور لیکچرز اسلام کے ہر موضوع جیسے قرآن و حدیث، سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فقہ و اصول فقہ، روحانیات، تصوف، عقائد، اخلاقیات، فلسفہ، فکریات، الٰہیات، سیاست (قومی و بین الاقوامی)، عمرانیات، معاشیات، ثقافت، میڈیکل سائنسز، حیاتیات، فلکیات، امبریالوجی اور پیراسائیکالوجی وغیرہ پر موجود ہیں، جوکہ ملک پاکستان اور بیرونی دنیا میں وقتاً فوقتاً دیے جاتے ہیں۔ یہ لیکچرز دنیا بھر میں منہاج القرآن کی لائبریریوں میں سمعی و بصری شکل میں موجود ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے ناقل علامہ حافظ حکیم محمد یونس مجددی کی سربراہی میں شعبہ نقل نویسی اس علمی ذخیرے کو تحریری قالب میں ڈھالنے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ فوری حوالہ کے لیے لیکچرز کے اہم نکات و اقتباسات اخذ کیے جاتے ہیں۔ یہ شعبہ لیکچرز کو ترتیب و تدوین کے لیے تیار کرتا ہے، بعد ازاں شعبہ تحقیق و تدوین اپنے موضوعات کی تیاری میں ان نقل شدہ خطابات کو استعمال میں لاتا ہے”۔(ایضا)

امید ہے اگر کوئی انصاف پسند منہاجی اس شعبے کا یہ تعارف پڑھے گا اور اس کا دماغ اس کا ساتھ دے رہا ہوگا تو وہ ضرور اس فیصلے پر مجبور ہوگا کہ شیخ الاسلام کے ٹائٹل سے شائع ہونے والی کتابیں در اصل ان کے خطابات کی تحریری شکل ہیں جن کو کتابی اور پھر ادبی رنگ دینے کے لیے لاہور میں ایک زر خریدشعبہ رات دن اپنی صلاحیتیں کھپا رہا ہے۔ 

اب ذرا ایک اور مبارک شعبہ کا تعارف دیکھیے جس کا نام ہے ” شعبہ ادبیات”۔

"یہ شعبہ انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے تحقیقی کام کی ادبی حوالے سے نوک پلک درست کرتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شائع ہونے والی کتب کی عبارت آرائی اور لغوی درستگی اسی شعبہ کی ذمہ داری ہے۔ شعبہ ادبیات میں نامور نعت گو شاعر ریاض حسین چودھری کی ریٹائرمنٹ کے بعد معروف نعت گو شاعر و ادیب ضیاء اللہ نیر بطور انچارج شعبہ ذمے داری سر انجام دے رہے ہیں، جب کہ محمد وسیم الشحمی بھی اس شعبے میں اپنے جوہر دکھا رہے ہیں”۔(ایضا)

کتنا دل پذیر لفظ ہے ” ادبی حوالے سے نوک پلک درست کرنا "یعنی حال یہ ہے کہ شیخ الاسلام کی کتابوں میں کوئی رنگ چھوٹنا نہیں چاہیے، اپنے قاری کی نظر میں شیخ الاسلام جتنے بڑے محقق ہوں، اتنے ہی بڑے ادیب بھی ہوں، بھلے اس کے لیے مستقل ڈیپارٹمنٹ قائم کرنا پڑے۔ 

قارئین! اگر ایمانی رمق ہے تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں جو شخص اس قدر صلاحیتوں کا استحصال کرتا ہو اور آج سے نہیں بلکہ پچھلے تیس سالوں سے، اگر وہ سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کتابیں بھی مارکیٹ میں لا دے تو کیا کوئی کمال کی بات ہے؟ 

ایمان کی تو یہ ہے کہ فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے لیے جتنی بڑی ٹیم کام کر رہی ہے، اس تعداد کے تناظر میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر طاہر القادری کی تصانیف کی تعداد ہنوز بہت کم ہے کیوں کہ جس ویکی پیڈیا پیج کی ہم بات کر رہے ہیں ، اس کے مطابق شیخ الاسلام کی تصانیف کی تعداد تین سو چالیس ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ یہ تعداد دم بہ دم بڑھ رہی ہے لیکن بڑھتے ہوئے بھی سن 2018 کے اختتام تک ایک ہزار تک نہیں پہنچ سکی۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے یہ صلاحیتوں کے استحصال کی بے برکتی ہی کہی جائے گی کہ اتنی بڑی ٹیم کی محنت پر دن دہاڑے اپنا نام چسپاں کرنے والے شیخ الاسلام کی تصانیف کی تعداد تیس سالوں میں بھی سیکڑوں میں محدود ہیں۔ دیکھیے شیخ الاسلام کی اس چوری اور سینہ زوری کو کتنے خوب صورت لہجے میں پیش کیا گیا ہے: 

بحمد اﷲ تعالیٰ تمام شعبہ جات کے باہمی اشتراک اور تعاون سے اس وقت تک FMRi کے زیراہتمام قائد تحریک شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی مختلف موضوعات پر تین سو چالیس کتب تحقیق و تدوین کے مراحل سے گزر کر اردو، عربی اور انگریزی زبان میں منظر عام پر آچکی ہیں، جب کہ اردو کتب کے عربی، انگریزی و دیگر زبانوں میں تراجم کا کام بھی اس کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تحریکی نیٹ ورک سے وابستہ کارکنان اپنی مقامی زبانوں میں بھی یہ کتب شائع کرانے میں مصروف ہیں۔(ایضا) 

اس موقع پر اس انسٹی ٹیوٹ کی ایک کرامت یہ بھی دیکھیے کہ جو انسٹی ٹیوٹ اپنے دعوے کے مطابق محققین کی تربیت کر رہا ہے، آج تک ان تربیت یافتہ محققین کی اپنی تصانیف کیوں نہیں نظر آتیں؟ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ ان کی تمام تر تربیتیں اور تحقیقات ڈاکٹر طاہر القادری کی تصانیف کے لیے ہیں اور انھی کے گرد گھوم رہی ہیں ورنہ اب تک ایسے تربیت یافتہ محققین کو عالمی محققین میں شمار ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا کیسے ہو وہ بے چارے تو تیلی کے بیل کی طرح اپنی تمام علمی تحقیقات بلکہ صلاحیتیں بھی شیخ الاسلام کے ہاتھوں بیچ چکے ہیں۔ 

عجیب بات دیکھیے کہ فہرست میں درج چند لوگوں کی ان کے اپنے نام سے چھپی جو دو چند کتابیں ہیں بھی وہ شیخ الاسلام کی مدح سرائی میں قلابے ملانے والی ہیں یا پھر بالکل عام نوعیت کی جن کی کوئی علمی یا تحقیقی حیثیت نہ تسلیم کی جا سکے۔ 

پاکیزہ چوری کے چند اور رخ:۔

(ب) 70 سے زیادہ با صلاحیت افراد کی محنتیں 30 سال سے اپنے نام کرکے اپنی تصانیف کی تعداد بڑھانے کے علاوہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تصانیف کا ایک اور سارقانہ رخ بھی ہے اور وہ ہے بے جا طوالت۔ ہوتا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف میں تکرار، غیر ضروری مباحث اور کاپی پیسٹ خوب ہوتا ہے ۔ اسی طرح ایک کتاب کو دوسری کتاب میں ضم کرنے کا کاروبار بھی یہاں دھڑلے سے ہوتا ہے جیسے بدعت پر ایک مستقل رسالہ موجود ہے، لیکن شیخ الاسلام کی کئی تصانیف میں ٹھیک بدعت کے وہی مباحث جوں کے توں کاپی پیسٹ ہوتے ہیں اور وہ بھی وہاں جہاں اتنی زیادہ بدعت کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی تصدیق ہر وہ شخص کرے گا جس نے ڈاکٹر صاحب کی کتابوں کا تنقیدی مطالعہ کیا ہے۔ 

(ج)ڈاکٹر طاہر القادری کے نام سے منسوب خاصی کتابیں ایسی ہیں جو عربی کتابوں کا ترجمہ ہیں اور ڈاکٹر صاحب نے ترجمہ وغیرہ کو کاکچھ بھی ذکر کیے بنا اردو میں انھیں دھڑلے سے اپنی تصنیف بنا کر پیش کیا ہے۔محترم ارسلان اسمعی اپنے فیس بک پیج کے ذریعہ ایسی تصانیف کی نقاب کشائی کرتے رہتے ہیں، اس دعوے کی دلیل کے لیے ان کا پیج وزٹ کرنا چاہیے۔ 

(د)طاہری تصانیف میں بے جا ضخامت وہ نمایاں پہلو ہے جس کا منہاج القرآن کی مطبوعات کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص کھلے دل سے اعتراف کرے گا۔ سب جانتے ہیں کہ بڑے حوالے کے بعد چھوٹی کتابوں کے حوالے کی ضرورت نہیں رہ جاتی لیکن ڈاکٹر طاہر القادری کی کتابوں میں کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے مکتبہ شاملہ میں نظر آنے والے بیشتر حوالوں کا زبر دستی انبار لگا دیا جاتا ہے مثال کے طور پر ” المنھاج السوی” سمیت منہاج القرآن سے شائع شدہ دیگر کتب حدیث دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف میں کئی بار صفحات کے صفحات صرف حوالوں کی نذر ہو جاتے ہیں اور اس طرح صفحات کی تعداد اور کتاب کی ضخامت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ 

(ھ) تضادات کی کثرت بھی ڈاکٹر طاہر القادری کی کتابوں کا ایسا پہلو ہے جسے دور سے پہچانا جا سکتا ہے۔ اور یہ بیماری ہر اس شخص کے بیانا ت یا تصانیف میں پائی جاتی ہے جس کے اندر سچائی کا عنصرکم ہو اور اسے اتفاق کہا جائے کہ ڈاکٹر صاحب کے اندر یہ عنصر کم ہے۔ 

اسی طرح تقریر و تحریر میں تضاد بھی ڈاکٹر صاحب کا وہ عیب ہے جسے ایک اندھا بھی پکڑ سکتا ہے۔ بہت ممکن ہے ایسا اس لیے ہو کہ بارہا ڈاکٹر صاحب کو خود نہیں معلوم ہوتا وہ اپنی کتاب میں کیا لکھ چکے ہیں کیوں کہ در اصل کتاب کسی اور نے لکھی ہوتی ہے۔ 

الغرض! ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی تصانیف میں جہاں کھلے عام سرقہ ہے، وہیں بے جا طوالت، تکرار مباحث، زبر دستی کتابوں کی ضخامت بڑھانے کی کوشش اور علمی تضادات وغیرہ جیسے دیگر علمی سقم بھی ہیں۔ اور سچ یہ ہے کہ ایسا شخص علمی طور پر خائن ہے جو کھلے بندوں دیانتوں کا خون کر رہا ہے اور پچھلے 30 سالوں سے غریب با صلاحیت افراد کی غربتوں کا چند ٹکوں کے بدلے استحصال کر رہا ہے۔ اگر ایسا شخص بھی مجدد اور شیخ الاسلام ہو سکتا ہے تو اس کا سیدھا سا مطلب ہے قیامت بالکل قریب ہو چکی ہے اور مذہبی فہم اتنا کم زور ہو چکا ہے کہ مذہب کے نام پر کسی کو بھی گم راہ کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالی خیر فرمائے۔

مُجدِّد ومُحَدَّث

اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو منصب قرآنِ کریم میں مذکور ہے ‘وہ ہے :”نبوت ورسالت‘‘۔اللہ تعالیٰ نے کئی انبیائے کرام کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا: ”بے شک وہ ہمارے نزدیک چنیدہ وپسندیدہ ہیں ‘(ص:47)‘‘۔قرآنِ کریم میں پچیس انبیائے کرام کے نام صراحت کے ساتھ آئے ہیں ‘اُن پر نام بنام ایمان لانا فرض ہے اور اُن میں سے کسی ایک کی نبوت کا انکار بھی کفر ہے ‘ اُن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

(1) حضرت آدمؑ (2) حضرت نوح ؑ(3) حضرت ابراہیمؑ(4) حضرت اسماعیلؑ (5) حضرت اسحاقؑ (6) حضرت یعقوبؑ (7) حضرت یوسفؑ (8) حضرت موسیٰؑ (9) حضرت ہارونؑ (10) حضرت شعیب ؑ(11) حضرت لوطؑ (12) حضرت ہودؑ (13) حضرت داؤدؑ(14) حضرت سلیمانؑ (15) حضرت ایوبؑ (16) حضرت زکریاؑ (17) حضرت یحییٰؑ (18) حضرت عیسیٰؑ (19) حضرت الیاسؑ (20) حضرت الیَسَعؑ (21) حضرت یونُسؑ (22) حضرت ادریسؑ (23) حضرت ذُوالکِفلؑ (24) حضرت صالحؑ (25)اورخاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ‘صلوات اللّٰہ تعالیٰ وسلامہٗ علیہم اجمعین۔

حضرت عزیر علیہ السلام کا نام التوبہ:30میں صراحت کے ساتھ آیا ہے ‘اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور یہود نے کہا: ”عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا: مسیح اللہ کے بیٹے ہیں‘ یہ محض ان کے منہ سے کہی ہوئی (بے سروپا) باتیں ہیں‘‘۔ اسی طرح البقرہ : 258میں حیات بعد الموت کے حوالے سے ایک تجربہ اور مشاہدہ بیان ہوا ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”یا اس شخص کی طرح جو ایک بستی پر اس حال میں گزرا کہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی ‘ اس نے (تعجب سے) کہا: اللہ اس بستی والوں کو مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گاتو اللہ نے سو برس تک اس پر موت طاری کردی ‘ پھر اس کو زندہ کر کے اٹھایا ‘‘۔مفسرینِ کرام نے یہاں عزیر علیہ السلام مراد لیے ہیں ‘ بعض علما نے انہیں نبی کہا ہے لیکن ان کی نبوت قطعی نہیں ہے ‘ بلکہ ظنی ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام کا نام صراحت کے ساتھ قرآنِ کریم میں مذکور نہیں ہے ‘ اُن کی نبوت کے بارے میں بھی اختلاف ہے‘ تاہم جمہور علمائے امت کی رائے یہ ہے کہ وہ نبی تھے ‘ اُن کا ذکرالکہف:65 میں ان الفاظ میں ہے: ”تو اُن دونوں (حضراتِ موسیٰ ویوشع ) نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے ( خضر )کو پایا ‘جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت اورعلم عطا کیا تھا‘‘۔قرآنِ کریم نے اسے ”عِلمِ لَدُنِّی‘‘ سے تعبیر فرمایا ‘یعنی وہ علم جو کسی استاذ کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔الغرض تکوینی امور کے پیچھے جو اللہ تعالیٰ کے اسرار اور حکمتیں پوشیدہ ہیں ‘”عِلمِ لَدُنِّی‘‘سے اُن کا علم مراد ہے ۔اللہ تعالیٰ نے المؤمن:78میں فرمایا: ”اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے (بھی) رسول بھیجے‘ اُن میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرمادیا اور بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان نہیں فرمایا ‘‘۔اس آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ سارے انبیائے کرام علیہم السلام کے احوال قرآنِ کریم میں بیان نہیں ہوئے‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور ہر امت میں( اللہ تعالیٰ کے عذاب سے) ڈرانے والاگزرا ہے‘ (فاطر:24)‘‘۔

لیکن اِجمالاً تمام انبیا پرایمان لانا ضروری ہے ‘ البقرہ:285میں فرمایا: ”رسول ایمان لائے اُس کلام پر جو اُن پر اُن کے رب کی جانب سے اتارا گیا اور سب مومن بھی ‘سب کے سب اللہ پر‘ اس کے فرشتوں پر‘ اُس کی کتابوں پر اور اُس کے (سب ) رسولوں پرایمان لائے‘‘۔ اسی آیۂ مبارکہ میں فرمایا :”ہم (ایمان لانے میں)اُس کے رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ‘‘۔ تاہم قرآنِ کریم نے یہ ضرور بتایا کہ انبیائے کرام کے مابین درجہ بندی موجود ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”یہ (سب) رسول ہیں‘ ہم نے ان میںسے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے‘ (البقرہ:253)‘‘۔انبیائے کرام کی قطعی تعداد قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث صحیح میں مذکور نہیں ہے کہ اس کا انکار کفر وضلالت قرارپائے‘ البتہ بعض روایات میں انبیائے کرام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم وبیش‘ رسولوں کی تعداد313اور صُحفِ سماوی کی تعداد110بتائی گئی ہے‘ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ اپنے اپنے زمانے میں جسے بھی اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول بناکر بھیجا‘ وہ سب کے سب برحق تھے اور ہم ان پر ایمان لاتے ہیں۔ 

خاتم المرسلین ﷺ نے خود بیان فرمایا: ”بنی اسرائیل کی سیاست کے امور انبیائے کرام انجام دیتے تھے ‘ جب ایک نبی کا وصال ہوجاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا ‘مگر اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘ بس خلفاہوں گے‘ (صحیح البخاری:3455)‘‘۔ سو آپ ﷺ کے بعد خلافت کا تصور موجود ہے ‘لیکن خلیفہ نبی اور رسول کی طرح منصوص نہیں ہوتاکہ اُس کی خلافت پر ایمان نہ لانے والے کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا جائے ۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں مُجَدِّد اور مُحَدَّث کے مناصب کا بھی ذکر آیا ہے ‘ لیکن مُجدِّد یا مُحَدَّث بھی نبی اور رسول کی طرح منصوص اور مُعیَّن نہیں ہوتا کہ اس کی اس حیثیت کا انکار کفر قرار پائے ۔ نبیﷺ نے فرمایا:”بے شک اللہ اِس امت کے لیے ہر صدی کے سرے پر ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اُس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کا فریضہ انجام دے گا‘ (سنن ابودائود: 4291)‘‘۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب دین کی تعلیمات مٹ جاتی ہیں یا اُن میں باطل کی آمیزش کردی جاتی ہے یا دین کو اپنی خواہشات کے تابع بنادیا جاتا ہے ‘بدعات ومُنکَرات اہلِ دین میں نفوذ کرجاتی ہیںاور دین کا روشن چہرہ دھندلانے لگتا ہے ‘تو اللہ تعالیٰ پردۂ غیب سے ایسے اشخاص کو غیر معمولی علمی وفکری صلاحیتوں‘قوتِ عملی اور جذبۂ صادق سے فیض یاب کر کے ظاہر فرماتا ہے جو دین کی تعلیمات کو باطل کی ہر آمیزش سے پاک وصاف کر کے اپنی اصل پاکیزہ شکل میں دوبارہ پیش کرے ‘ اسی کو تجدید واِحیائے دین کہتے ہیں ‘ حدیث میں ایسی ہی عالی مرتبت شخصیات کی طرف اشارہ ہے ۔واضح رہے کہ تجدید اور تجدُّدْ میں زمین آسمان کا فرق ہے ‘ تجدید دین کو اپنی اصل شکل میں پیش کرنا ہے اور تَجدُّدْ سے مراد دین کو اپنے باطل افکار اور خواہشات کے تابع بنانا ہے۔مُجدِّد یقینا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ظہور میں آتا ہے اور دین کے حوالے سے انقلابی کارنامہ انجام دیتا ہے ‘ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کا نام منصوص نہیں ہوتا‘ اس لیے کوئی کسی مجدِّد کا انکار کرے تو اس پر کوئی فتویٰ صادر نہیں کیا جائے گا۔ مختلف صدیوں میں روئے زمین کے مختلف خطوں میں اپنے اپنے زمینی حقائق اور تقاضوں کے مطابق لوگوں نے شخصیات کو مجدِّد قرار دیا ہے ‘اس لیے ایک وقت میں مختلف خطوں میں ایک سے زائد مجدِّدین کا ہونا بعید از امکان نہیں ہے‘ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کوئی شخص خود سے مجدِّد ہونے کا دعویٰ کرے ‘ اہلِ علم اُن کے تجدیدی کارناموں کے سبب انہیں جان لیتے ہیں ‘ علامہ علی القاری لکھتے ہیں: 

”مُجدِّد سنت کو بدعت سے ممتاز کرتا ہے‘ علم کو فروغ دیتا ہے‘ اہلِ علم کو عزت سے سرفراز کرتا ہے ‘ بدعت کو جڑ سے اکھیڑ کر اہلِ بدعت کی سازشوں کو توڑ دیتا ہے‘ علامہ ابن اثیر جذری نے ”جامع الاصول‘‘ میں لکھا ہے: ”علماء نے اس حدیث کی تاویل میں کلام کیا ہے اور ہر ایک نے اپنی سوچ کے مطابق کسی نہ کسی عالم کو مجدِّد اور اس حدیث کا مصداق قرار دیا ہے ‘ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو عموم پر محمول کیا جائے ‘ کیونکہ لفظِ ”مَنْ‘‘ کا اطلاق واحد وجمع دونوں پر ہوتا ہے اور تجدید کا تعلق صرف فقہا کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے ‘ اگرچہ امت کو زیادہ فائدہ انہی سے پہنچاہے ‘ مجدِّد کسی عہد کا اولوالامر یا صاحبِ اقتدار بھی ہوسکتا ہے ‘ ہر شعبے کے لیے الگ الگ مجدِّد بھی ہوسکتے ہیں ‘کیونکہ دین اور مسلمانوں کے امورِ اجتماعی کی تدبیر اور عدل کا قیام صاحبانِ اقتدار کی ذمے داری ہے ‘ علومِ دینیہ کے مختلف شعبوں کے غیر معمولی ماہرکو بھی اپنے شعبے کا مجدِّد قرار دیا جاسکتا ہے ‘لیکن شرط یہ ہے کہ ان فنون میں مجدِّد اپنے عہد کے لوگوں میں ممتاز ہواور اُس کے نمایاں تجدیدی کارنامے سب پر عیاں ہوں۔مجدِّد کے لیے شخصِ واحد ہونا بھی ضروری نہیں ‘بلکہ ایک جماعت مل کر بھی تجدیدی کارنامہ انجام دے سکتی ہے۔ تجدید ایک اضافی امر ہے‘ کیونکہ علم روبہ زوال اور جہل مائل بہ ترقی ہے ‘ سو مجدِّد کا اپنے عہد کے لوگوں سے تقابل ہوگا نہ کہ قرنِ اول سے لے کر آخر تک ‘ کیونکہ متقدمین عہدِ نبوت سے قرب کے سبب علم ‘عمل ‘حلم‘ فضل اور تحقیق وتدقیق میں یقینا متاخِّرین پر فضیلت رکھتے ہیں ‘ کیونکہ جس کادور منبعِ نورِ ہدایت سے جتنا قریب رہا‘ اُس پر نور کا فیضان اتنا ہی زائد رہا‘(مرقاۃ المفاتیح‘ ج:1ص:322ملخصاً)‘‘۔ 

حدیث پاک میں ایک منصب ”مُحَدَّث‘‘ کا بھی آیا ہے ‘نبی کریم ﷺ نے فرمایا:” بے شک تم سے پہلی امتوں میں ”مُحَدَّث‘‘ گزرے ہیں اور اگر میری امت میں اس منصب کا حامل کوئی ہے تو وہ یقینا عمر بن خطاب ہیں‘ (بخاری:3469)‘‘۔ محدِّثینِ کرام نے اس حدیثِ مبارک کی شرح میں فرمایا: محدَّث سے مرادپاکیزہ قلب ‘نورانی ذہن‘علمِ نافع اور اعمالِ صالحہ کی حامل وہ شخصیت ہے‘ جس کے قلب وذہن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِلقاوالہام ہوتا ہے ‘ یعنی اُس کا ظاہر اتنا پاکیزہ اور باطن اتنا نورانی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن پرحق کاالقاہوتا ہے ‘اُن کا ذہن منشائے ربانی کے سانچے میں ڈھلا ہوتا ہے اور وہ وہی بات سوچتے ‘ وہی بات کہتے اور وہی بات کرتے ہیں جو رِضائے باری تعالیٰ کے عین مطابق ہوتی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت ایسی ہی صفات کی حامل تھی ۔کئی مواقع پر انہوں نے نزولِ وحی سے پہلے ہی منشائے ربانی کو پالیا‘پھر وحیِ ربانی نے اُن کی تائید کی ‘ ایسی آیات کو ”مُوَفَّقَاتِ عُمَر‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اس کی مزید تائید ان احادیث سے ہوتی ہے (1):”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ حق کو عمر کی زبان اور قلب پر جاری فرماتا ہے‘ (ترمذی:3682)‘‘۔(2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” بے شک اللہ حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیتا ہے ‘ پھر وہ بیان کرتے ہیں‘ (ابن ماجہ:108)‘‘۔ یہاں ہم نے کالم کی محدودیت کے پیشِ نظر ہر صدی کے مجدِّدین کا ذکر نہیں کیا‘ کیونکہ ہر دور کے اکابر علما نے اپنے اپنے خطے کے اعتبار سے مجدِّدین کا ذکر کیا ہے ۔ 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

درس 026: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 026: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثُمَّ نَاقَضَ فِي الِاسْتِنْجَاءِ فَقَالَ: إذَا اسْتَنْجَى بِالْأَحْجَارِ، وَلَمْ يَغْسِلْ مَوْضِعَ الِاسْتِنْجَاءِ جَازَتْ صَلَاتُهُ، وَإِنْ تَيَقُّنًا بِبَقَاءِ شَيْءٍ مِنْ النَّجَاسَةِ، إذْ الْحَجَرُ لَا يَسْتَأْصِلُ النَّجَاسَةَ، وَإِنَّمَا يُقَلِّلُهَا وَهَذَا تَنَاقُضٌ ظَاهِرٌ.

پھر امام شافعی استنجاء کے معاملے میں خود اپنے اصول سے پھر گئے اور فرمایا: اگر کسی شخص نے ڈھیلے سے استنجاء کیا اور استنجاء کی جگہ کو پانی سے نہیں دھویا تو اس کی نماز ہوگئی اگرچہ یقین ہو کہ وہاں تھوڑی بہت نجاست موجود ہے، اسلئے کہ ڈھیلا استعمال کرنے سے نجاست مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی البتہ کم ضرور ہوجاتی ہے۔ امام شافعی کے ہاں یہ واضح تناقض ہے۔

ثُمَّ ابْتِدَاءُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ لَيْسَ بِفَرْضٍ مَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ»

استنجاء کے فرض نہ ہونے کی ابتدائی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو ڈھیلے سے استنجاء کرے اسے چاہئے کہ وہ طاق تعداد میں استعمال کرے، جس نے ایسا کیا تو بہت اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ہے۔

وَالِاسْتِدْلَالُ بِهِ مِنْ وَجْهَيْنِ:

أَحَدُهُمَا أَنَّهُ نَفَى الْحَرَجَ فِي تَرْكِهِ، وَلَوْ كَانَ فَرْضًا لَكَانَ فِي تَرْكِهِ حَرَجٌ

اس حدیث مبارک سے دو وجہوں سے استدلال کیا جا تاہے:

پہلی وجہ: نبی کریم ﷺ نے ڈھیلے سے استنجاء نہ کرنے پر حرج کی نفی فرمائی ہے (یعنی نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں)، اگر استنجاء فرض ہوتا تو اسکے چھوڑنے میں لازمی طور پر حرج ہوتا۔

وَالثَّانِي: أَنَّهُ قَالَ: "مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ”

وَمِثْلُ هَذَا لَا يُقَالُ فِي الْمَفْرُوضِ، وَإِنَّمَا يُقَالُ فِي الْمَنْدُوبِ إلَيْهِ، وَالْمُسْتَحَبِّ

دوسری وجہ: حضور سید عالم ﷺ نے ارشادفرمایا: جس نے ایسا کیا تو بہت اچھا کیا اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ہے۔

جو شے فرض ہوتی ہے اس سے متعلق اس طرح حکم بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ ایسا اندازِ کلام تو *مندوب* اور *مستحب* کاموں کے بارے میں ہوتاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

امام شافعی کے یاں استنجاء کے مسئلہ میں ایک تضاد پایا جاتا ہے، اپنی دلیل دینے سے پہلے علامہ کاسانی نے اسکا ذکر فرمایا ہے۔

امام شافعی نجاست کی قلیل مقدارمعاف ہونے کے قائل نہیں ہیں، جس قلیل مقدار کی معافی کے وہ قائل ہیں۔۔ وہ اتنی قلیل نجاست ہے جسے عادۃ آنکھیں دیکھ نہ پاتی ہو۔

پھر خود ہی فرماتے ہیں کہ استنجاء کے بعد پانی سے نجاست صاف نہیں کی اور یقین بھی ہو کہ نجاست موجود ہے، اگر نماز پڑھی تو ہوجائے گی۔ یہ ایک واضح تضاد ہے۔

اس بحث سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ سابقہ زمانوں میں ہمارے فقہاء کرام دیگر مذاہب کے مسائل نہ صرف پڑھتے بلکہ ان کے موقف کا رد بھی فرماتے تھے، موجودہ علماء کو فقہاء کرام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے مطالعہ کو وسیع کرنا چاہئے اور دیگر مذاہب کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے۔

اس کے بعد علامہ کاسانی نے سنن ابو داؤد کی ایک حدیث شریف سے استدلال کیا ہے کہ استنجاء فرض نہیں ہے۔ اور استدلال دو طریقوں سے فرمایا ہے:

پہلا یہ کہ حضور سیدِ عالم ﷺ نے استنجاء چھوڑ دینے پر فرمایا کہ *حرج نہیں* حالانکہ جو شے فرض ہوتی ہے اس کے ترک کردینے پر لازما حرج واقع ہوتا ہے، لہذا ثابت ہوا کہ استنجاء فرض نہیں ہے۔

دوسرا یہ کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے استنجاء کے حوالے سے جو اندازِ تکلم اختیار فرمایا ایسا انداز کسی مندوب و مستحب یعنی اچھے کام کے لئے اختیار کیا جاتا ہے نہ کہ فرائض کے لئے۔

لہذا اتنا تو ثابت ہوگیا کہ استنجاء فرض نہیں ہے، بلکہ اس سے نیچے درجے کا کوئی حکم رکھتا ہے۔

اسکے سنتِ موکدہ ہونے پر فقہاء نے دلیل یہ دی ہے کہ حضور سیدِ عالم ﷺ نے اس پر ہمیشہ عمل فرمایا ہے ۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ احناف کی تمام کتب میں صرف اتنا لکھا ہے کہ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهِ یعنی حضور سید عالم ﷺ نے اس پر ہمیشگی اختیار فرمائی ہے اور اصول یہ ہے کہ جس فعل پر حضور سرورِ عالم ﷺ بغیر ترک کئے ہمیشگی اختیار فرمائیں وہ واجب ہوتی ہے نہ کہ سنت۔۔۔

سنت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب حضور نبی کریم ﷺ اس پر ہمیشہ عمل فرمائیں لیکن بیانِ جواز کے لئے کبھی ترک بھی فرمادیں۔

کتبِ احناف میں یہ تصریح نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے استنجاء ترک بھی فرمایا ہے لیکن اس کے باوجود ہم اسے واجب نہیں بلکہ سنتِ موکدہ کہتے ہیں، اس اشکال پر تفصیلی کلام علامہ بدر الدین عینی نے البنایہ شرح الہدایہ میں فرمایا ہے۔ کافی کے حوالے سے جو جواب دیا گیا ہے وہ قابلِ قبول ہے جسے ہم اپنے الفاظ میں بیان کردیتے ہیں۔۔۔

دیگر دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ قلیل مقدار یعنی درہم کی مقدار سے کم جگہ *معفو* یعنی معاف ہوتی ہے لہذا استنجاء کو واجب تو نہیں کہہ سکتے، اب رہا یہ معاملہ کہ حضور ﷺ نے اس پر ہمیشگی اختیار فرمائی ہے تو اس سے سنتِ موکدہ کا اثبات ہوجاتا ہے، اور اس کے ترک کا عادی شخص گنہگار ہوگا۔

*ابو محمد عارفین القادری*

حج سبسٹڈی کا شوشہ

حج سبسٹڈی کا شوشہ

حج آپریشن حکومتی اخراجات نہیں بلکہ آمدنی کا بڑا ذریعہ …

تحریر: محمد عاصم حفیظ

ترتیب، تدوین و اضافہ: محمد طارق خان

حج سبسڈی کے معاملے پر بعض دانشور اس طرح دلائل دے رہے ہیں کہ جیسے سارے کا سارا حکومتی نظام اسلامی قوانین کے تحت ہی چل رہا ہو۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے حکومت حج اپنے خرچے پر کرواتی تھی اور اس مرتبہ عازمین کو اپنا خرچ خود اٹھانا پڑے گا۔ قرآن کی وہ آیات اور احادیث سامنے لائی جارہی ہیں کہ جن میں حج کی فرضیت صرف صاحب استطاعت لوگوں کے لئے ہے۔

جناب والا معاملہ یہ ہے ہی نہیں، حکومت عوام کو کبھی حج مفت کراتی تھی اور نہ ہی عازمین کو نام نہاد سبسڈی دے کر کوئی احسان کیا گیا، حقیقت یہ ہے کہ حج بہت سے حکومتی محکموں اور سرکاری عمال کے لیے آمدن کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ حج سیزن شروع ہوتے ہیں آپ نے بینکوں کے باہر لگے فلیکس ضرور دیکھے ہوں گے کہ حج درخواستیں یہاں جمع کروائیں دراصل حج درخواستیں جمع کرنے کے نام پر عازمین حج سے ایک بڑی رقم وصول کی جاتی ہے جو کہ کئی ماہ تک ان بنکوں میں پڑی رہتی ہے۔ سودی نظام پر چلنے والے یہ بینک اور حکومت عوام کا یہ پیسہ استعمال کرتی ہے اور جن کا نام حج فہرستوں میں شامل نہیں ہوپاتا نہیں ہو پاتا، ان کو لمبے چوڑے مراحل سے گزار کر مہینوں بعد ان کی امانت واپس کی جاتی ہے۔

اس تمام عرصے میں اس رقم سے حاصل ہونے والے منافع یا جمع ہونے والے سود کا حساب لگایا جائے تو نام نہاد سبسڈی کے دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے۔

اب آئیں حج اخراجات کی طرف اور اسے ایک عمرہ کے اخراجات کے موازنہ سے سمجھیں، کسی بھی ٹریول یا عمرہ ایجنٹ سے معلوم کرلیں آج کل 21 دن کے عمومی عمرے کا تخمینہ 80 ہزار سے ایک لاکھ کے قریب بنتا ہے۔ اگر حج چالیس دن کا ہو تو آپ اس خرچے کو دگنا کر لیں یعنی کہ دو لاکھ، چلیں حج سیزن میں طلب میں اضافہ کے اصول کے تحت اگر حکومت تین لاکھ کے بھی وصول کرتی ہے تو عوام کو نہ کوئی سبسڈی دی گئی نہ کوئی احسان کیا گیا، جس کے دعوے اور اس کو ختم کرنے کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ حج اخراجات کے نام پر جتنی بھی رقم لی جاتی رہی ہے اس میں بھی حکومت کو بچت ہوتی ہے، یہ اور بات کی اس بچت کا بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہوجائے، ماضی میں کرپشن اور ناقص انتظامات پر سپریم کورٹ نے نوٹس بھی لیا اور حکومت نے لوگوں کو کچھ پیسے واپس بھی کیے۔ پھر لاکھوں پاسپورٹس کے اجراء پر کروڑوں کمائے جاتے ہیں، اور ایسی کئی مدامات ہیں جن میں حکومت حجاج سے کماتی ہے ان پر لگاتی نہیں۔

حج سبسڈی پر بات کرنے والے دانشور ذرا تحقیق کریں کہ پی آئی اے حج آپریشن سے کتنا کماتی ہے؟ اور پھر یہ بھی بتائیں کہ حج کا ٹکٹ عام دنوں سے کس قدر مہنگا ہوتا ہے۔کیا حج کے لئے جانے والی پروازوں میں کوئی خاص ایندھن استعمال ہوتا ہے یا سہولیات اضافی ہوتی ہیں کہ 40 سے 50 ہزار والا ٹکٹ ایک لاکھ روپے سے زیادہ میں فروخت کیا جاتا ہے، سہولیات کا عالم تو یہ ہے کہ حج فلائٹ سے زیادہ سہولیات تو ڈائیوو بس میں دی جاتی ہیں، حاجیوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔

غور طلب امر یہ بھی ہے کہ حج کے حوالے سے صاحب استطاعت کی بحث وہ لوگ کر رہے ہیں کہ جو حکومتی عیاشیوں پر یا تو چپ سادھے ہوئے ہیں یا اس کے لئے عذرات لنگ تراشتے ہیں، ایسے دانشوڑوں سے پوچھنا ہے کہ پچھلے چھ ماہ میں اس حکومت نے اپنے اخراجات میں کونسی ایسی کمی کی ہے کہ حج انہیں مہنگا پڑ رہا تھا۔ یہ حکومت اپنے تمام تر دعووں کے باوجود نہ کابینہ کا سائز کم کرسکی، نہ حکومتی اخراجات اور ملکی و غیر ملکی قرضوں میں کمی، نہ گورنر ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس ختم ہوئے، حج آپریشن میں بچت پر حکومت کے قصیدے گانے والے ذرا یہ بھی تو بتائیں کہ 50 گاڑیوں کے پروٹوکول اور پرائیویٹ جہازوں میں بیرون ملک سفر پر کتنے اخراجات آتے ہیں؟

جہاں ایک طرف حکومتی عیاشیاں بلا روک ٹوک جاری و ساری ہوں، وزراء ہیلی کاپٹر کو رکشے کی طرح استعمال کرتے ہوں، تھر جیسے علاقوں کے سفر کے لئے پچاس 50 گاڑیوں کے قافلے جاتے ہوں، گورنر ہاؤس میں ہیوی بائیک نمائشیں منعقد ہو رہی ہوں اور سینما گھروں، فلمی صنعت، اور مضمر صحت چینی کے کارخانوں کو اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی ہو، وہاں حج آپریشن میں دی جانے والی نام نہاد سبسڈی کی بچت کو معاندانہ اور منافقانہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

کس قدر منافقت ہے کہ ایک جانب حکومت بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کے لئے مراعات کا اعلان کرتی ہے، ان پر جرمانے کم کرنے اور انہیں رعایت دینے کا اعلان کرتی ہے اور اس طرح کے حکومتی اقدامات سے قومی خزانے کو جو نقصان پہنچتا ہے اس پر تو کوئی بات نہیں کرتا اور حج سبسڈی کا شوشہ چھوڑ کر ایک عجیب وغریب بحث شروع کروا دی گئی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہی کہ حکومت عازمین حج کو نہ تو کوئی سبسڈی دیتی ہے اور نہ ہی مناسب سہولیات اس کے عین برعکس حج آپریشن حکومت کے لئے اربوں روپے کی آمدن کا ذریعہ ہے۔

دیہات اور دور دراز علاقوں کے لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ایک مقدس فریضے کی ادائیگی پر لگاتے ہیں، حکومت کے کئی محکمے اس آپریشن سے بھاری آمدن کماتے ہیں۔ یوتھوپیا کے دانشوروں کو چیلنج ہے کہ ذرا تحقیق کریں کہ کتنے وزرا، مشیر اور حکومتی اہلکار عازمین حج کے خرچے پر مفت حج کے مزے اڑاتے ہیں؟ وزارت مذہبی امور اور حج کے ذمہ داران اور ملازمین کے اللے تللے بھی عازمین کے کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں اور پھر شوشا چھوڑا جاتا ہے کہ جیسے حکومت کوئی بہت بڑی سبسڈی دیتی ہے۔

کیا حکومت فنکاروں کے لئے ہیلتھ کارڈ اور دیگر سہولیات فراہم نہیں کرتی؟ کیا صحافیوں، وکلاء، واپڈا، ایف بی آر، یونیورسٹیز، تینوں مسلح افواج اور بہت سے دیگر محکموں کے لئے ریلوے اور پی آئی اے میں رعایتی ٹکٹ، ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹس اور دیگر سہولیات کی مد میں مراعات نہیں دی جاتیں؟ اس وقت کیوں نہیں دلائل دیے جاتے کہ یہ سب لوگ اپنے خرچ پر سفر کریں، اپنے خرچے سے پلاٹ خریدیں، حکومت ان کو کسی بھی قسم کی سہولت عوام کے پیسے سے فراہم نہیں کرے گی۔

دوسری جانب اسی حکومت نے حال ہی میں کئی صنعتوں کے لئے، جن میں غیر ملکی ملٹی نیشنل ادراے بھی شامل ہیں، ٹیکسوں میں چھوٹ اور سبسڈی کا اعلان کیا ہے، بہت سے دوسرے شعبوں کو سہارا دینے کے لئے اور عوامی مفاد میں کئی منصوبوں کو حکومت سبسڈی فراہم کرتی ہے تو ایک اسلامی ملک میں ایک اہم ترین دینی فریضہ کی ادائیگی کیلئے سہولیات کی مد میں اگر کچھ اخراجات کرنا بھی پڑ جائیں تو اس میں مضائقہ ہی کیا ہے۔ کیونکہ سرکاری حج سکیم میں زیادہ تر متوسط طبقے کے لوگ دلچسپی لیتے ہیں جو پرائیویٹ حج کے اخراجات پورے نہیں کرسکتے۔

ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عازمین حج کی لیے عمارتوں کے حصول اور ٹرانسپورٹ کے ٹھیکوں میں کروڑوں روپے کی بدعنوانیاں ہوتی ہیں، وزرات کے افسران اور سیاستدان مل کر اپنے رشتہ داروں کی مدد سے پیسہ کماتے ہیں۔ اور تاثر یہ دیا جاتا ہے جیسے حکومت تو سارا حج ہی مفت کرواتی ہے اور یہ سب قومی خزانے سے ادا ہوتا ہے۔ ایسا ہرگز بھی نہیں ہے۔ سابق وزیر مواصلات ڈاکٹر حافظ عبدالکریم جو کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے سربراہ بھی رہے انہوں نے کئی مرتبہ اس بات کا اظہار کیا کہ اگر حکومتی محکموں سے لازمی سروس مثلاً پی آئی اے، پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کو ادائیگیاں نہ کی جائیں تو حج اخراجات کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

حج اخراجات اور سبسڈی کی بحث وہی لوگ کر رہے ہیں کہ جنہیں عید قربان کے موقع پر جانوروں کی خریداری سے تکلیف ہوتی ہے، اس وقت انہیں غریب یاد آ جاتے ہیں۔ لیکن جب ویلنٹائن ڈے ہو، نیوایر نائٹ ہو، بسنت یا کوئی اور ایسا تہوار یا ایونٹ تو کروڑوں کے اخراجات اور بڑی بڑی پارٹیاں سب کچھ قابل قبول ہوتا ہے۔ برانڈڈ گھڑیاں اور کپڑے اور کروڑوں کی گاڑیاں لیتے اور محل بناتے وقت انہیں غریبوں کی حالت زار یاد نہیں رہتی۔

حق یہ ہے کہ حج سبسڈی کی بحث ہی فضول ہے کیونکہ کوئی سبسٹڈی یا کوئی رعایت دراصل دی ہی نہیں جاتی بلکہ بہت سے سرکاری محکمے اس حج آپریشن سے کروڑوں روپے کماتے ہیں شاید اس بار آمدن میں کچھ کمی ہونے کا خطرہ تھا جس کے لیے اخراجات مزید بڑھا دیے گئے ہیں۔ حکومت نہ تو پہلے کچھ خرچ کرتی تھی اور نہ ہی اس بار کچھ خرچ کرے گی، بلکہ اپنی آمدن میں مزید اضافہ کرے گی اور حلال حرام کی یہ بحث صرف اس لیے ہے کہ حکومت کی سیاہ کاریوں کی پردہ پوشی کی جاسکے اور ایک ناجائز اقدام کو جواز فراہم کیا جاسکے، ایسے اقدامات حکومت کی مذہب بیزاری اور معاندانہ پالیسی کا بین ثبوت ہیں۔ اور اس کی حمایت میں دلائل دینے والوں کی مثال سامری جادوگر کے بنائے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کی سی ہے، یہ لوگ ایک سیاسی تعصب میں اس قدر اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں شراب کو حلال قرار دینے پر بھی کوئی اعتراض نہیں رہا۔ *اب جب کہ سبسڈی ختم کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے تو حکومت کو چاہئیے کہ فوری طور پر پارلیمینٹ ہاوس، کیفے ٹیریا، وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کی سفری (travel) سبسڈی، پیٹرول، فون، بجلی کے بلوں میں سبسڈی/ رعایت / مفت سفر وغیرہ وغیرہ پر جو بھاری بھرکم سبسڈی ہے وہ بھی ختم کریں۔۔۔ یقین کریں اس سے قومی خزانے پر بوجھ بھی ہلکا ہوگا اور حج پر سبسڈی ختم کرنے سے کہیں زیادہ بچت ہوگی۔*

*یہ میسیج زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تاکہ حکومتی ایوانوں تک بات پہنچے اور حکومت اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھاسکے۔*

حکومت کی طرف سے دی جانے والی حج سبسڈی پر موافقین و معارضین کے درمیان علمی محاکمہ

حکومت کی طرف سے دی جانے والی حج سبسڈی پر موافقین و معارضین کے درمیان علمی محاکمہ

أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء وأفضل المرسلين وأكرم العباد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين ،

وبعد:

إس دور فتن میں زیادہ تر ہم سوشل میڈیا یا إلیکٹرونک میڈیا یا دیگر میڈیا نیٹ ورک پر فتوی شریعت کو دیکھتے ہوئے نہیں دیتے بلکہ أپنے نظری و فکری اختلاف کو دیکھتے ہوئے دیتے ہیں ، مطلب یہ کہ أگر کوئی شخص نظریاتی یا فکری طور پہ ہمارے ساتھ اتفاق رکھتا ہے تو ہم أسکی غلط بات کو بھی موافق شرع بنادیتے ہیں أور أگر مخالف ہے تو أسکی شرعی بات کو بھی غیر شرعی رنگ دے دیتے ہیں ،

جیسے إس حج سبسڈی ختم کرنے والے مسئلہ میں دو فریق بن گے ، إیک فریق صراحتاً أسے غیر شرعی کہ رہا ہے أور إیک فریق مطلقاً حکومت کی سپورٹ کررہا ہے أور أسے مستحسن عمل قرار دے رہا ہے ،

لہذا ہم درج ذیل میں إن دونوں فریقین کے درمیان علمی محاکمہ کرتے ہیں أور مسئلہ کو شرعی طور پہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

حج سبسڈی ختم کرنے پر شرعی مؤقف کو جاننے کے لیے پہلے ہمیں درج ذیل کچھ نقاط کی وضاحت کرنی ہوگی:

پہلا نقطہ :

ملکی خزانہ کس کی ملکیت ہوتا ہے :

ملکی خزانہ أس ملک کے لوگوں کی ملکیت ہوتا ہے ، إسی لیے إس مال کو مال اللہ یا المال العام بولتے ہیں یعنی یہ اللہ کا مال ہوتا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ وہ أس مال میں سب لوگوں کا حق ہوتا ہے ،

أور مال اللہ کا لفظ أحادیث مبارکہ میں بھی آیا ہے جسکا بیان آگے آرہا ہے.

جیسے علامہ کاسانی فرماتے ہیں :

” بیت المال مال المسلمین "

ترجمہ: بیت المال مسلمین کا مال ہوتا ہے .

( بدائع الصنائع ، 4/39 )

إس میں واضح ہے کہ ملکی خزانے میں جتنا بھی پیسہ ہو یا دیگر مال أسکے مالک أس ملک کے مسلمان ہے یعنی أگر وہ إسلامی ملک ہے.

قاضی ماوردی شافعی أور قاضی أبو یعلی حنبلی فرماتے ہیں :

” کل مال استحقه المسلمون ، ولم يتعين مالكه منهم ، فهو من حقوق بيت المال "

ترجمہ:

ہر وہ مال جسکے حقدار مسلمان ہیں أور أس مال کا کوئی خاص مالک بھی نہ ہو تو وہ مال بیت المال ( ملکی خزانہ) کے حق میں سے ہے .

( الأحکام السلطانیۃ للماوردی ، ص : 213 ، الأحکام السلطانیۃ لأبی یعلی الحنبلی ، ص: 235 )

یہ بھی یہی فرمارہے ہیں کہ ملکی خزانہ میں جتنا پیسا ہو یا مال یا ملک میں ہر وہ شئے جسکا کوئی خاص مالک نہ ہو أسکے مستحق أس ملک کے مسلمان ہیں.

لہذا ملکی خزانہ أور ملک کی ہر وہ شئے جسکا کوئی خاص مالک نہ ہو یا پھر مالک ہو لیکن کوئی أسکا وارث نہ ہو یا معلوم نہ ہو وہ سارا مال ملکی خزانے میں جاتا ہے أور أسکے مالک أس ملک کے سب مسلمان ہوتے ہیں.

دوسرا نقطہ :

ملکی خزانے کے لیے خلافت راشدہ میں کونسا لفظ بولا جاتا تھا :

ملکی خزانہ کے لیے سب سے پہلے حضور صلی الله علیہ وسلم کے دور مبارکہ میں جس لفظ کا إطلاق ہوتا تھا وہ تھا : مال اللہ ومال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،

پھر سیدنا صدیق أکبر أور خلافت راشدہ میں ملکی خزانے کے لیے ” بیت مال المسلمین ” کا لفظ استعمال ہوتا تھا پھر بعد میں إسکو ” بیت المال ” بولا جانے لگا کیونکہ بیت المال سے مراد سب کے نزدیک واضح تھا کہ وہ بیت مال المسلمین مراد ہے ، وزارت خزانہ کو ” دیوان بیت المال ” کے نام سے موسوم کیا جاتا.

( مقدمہ ابن خلدون ، ص: 244 ، الأحکام السلطانیۃ ماوردی ، ص: 203 بحوالہ الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ، 8/242 ، 243 )

تیسرا نقطہ:

ملکی خزانے کو چلانے والے کی حیثیت کیا ہوتی ہے :

ملکی خزانے کا سربراہ حاکم وقت یا أسکی طرف سے مقرر کردہ منسٹر جسکو وزیر خزانہ کہتے ہیں أسکی حیثیت مالک کی نہیں ہوتی بلکہ وہ أس ملک کے لوگوں کا نائب ہوتا ہے،

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

” إني أنزلت نفسي وإياكم من هذا المال بمنزلة وال اليتيم ، فإن الله تبارك وتعالى قال ( ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف / اگر ( والی/ یتیم کی کفالت کرنے والا) غنی ہو تو أس مال سے کچھ نہ لے أور أگر غریب ہو تو حسب عرف أس میں سے لے سکتا ہے ( یعنی جس سے أسکی بنیادی ضروریات پوری ہوجائیں)”

ترجمہ : حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک میں خود کو أور تم کو بیت المال میں یتیم کی کفالت کرنے والے کی طرح سمجھتا ہوں ( یعنی جس طرح یتیم کی کفالت کرنے والے کا حق ہے اتنا ہی ہمارا).

( الخراج لأبی یوسف ، ص: 46 )

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ صریح فرمارہے ہیں کہ حاکم وقت اور وزیر خزانہ کی حیثیت یتیم کی کفالت کرنے والے شخص کی طرح ہوتی ہے یعنی یہ مال ملک کے لوگوں کی أمانت ہے،

أور قرآن مجید نے سورہ نساء میں یتیم کی کفالت کرنے والے سے درج أعمال کا مطالبہ کیا جسکو ہم صرف مفہوما لکھ رہے ہیں:

نمبر 1: وہ یتیم کے مال سے ناجائز طریقے سے یا کرپشن کرکے کچھ بھی نہیں لے گا.

نمبر 2 : جب وہ بالغ ہوجائے تو أسکا مال أسے پورے حساب کے ساتھ واپس کرے .

نمبر 3 : أپنے عہد ایمانداری کو پورا کرے.

نمبر 4 : أگر وہ یتیم کے مال سے کھاتا ہے تو أس نے گویا دوزخ کو أپنے پیٹ میں بھرا.

جب حاکم وقت أور وزیر خزانہ إیک یتیم کی کفالت کرنے والے کی طرح أسکی حیثیت ہے تو یہ أحکام أس پر بھی لاگو ہونگے ، لیکن بدقسمتی سے ہم نے کبھی إسلامی اکانومی سسٹم أپنایا ہی نہیں.

چوتھا نقطہ:

ملکی خزانے کے مال کو خرچ کرنے یا سبسڈی دینے کے قواعد و ضوابط کیا ہیں؟

قاضی أبو یوسف أور دیگر فقہاء کرام نے أحادیث سے استنباط کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ ملکی خزانے کو صرف أن معاملات میں خرچ کرے گا جس میں أس ملک کے تمام لوگوں کو فائدہ ہو أگر فردی فائدہ ہوا یا کچھ خاص لوگوں کو تو أس سے وہ خرچ نہیں کرے گا ، کسی خاص شخص کے لیے وہ أسی وقت خرچ کرسکتا ہے جب أسکے پاس پیسے نہ ہوں أور کوئی أور ذریعہ بھی نہ ہو تو پھر وہ ملکی خزانے سے أس پر خرچ کرسکتا ہے

کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :

” من ترك مالا فلورثته ، ومن ترك كلا فإلينا "

ترجمہ :

جس نے ( فوت ہوتے وقت ) مال چھوڑا وہ ورثاء کے لیے یے ،أور جس نے قرض چھوڑا وہ میری طرف ( سے أدا ہوگا )

( صحیح بخاری ، حدیث نمبر : 2398 )

إس حدیث میں واضح ہے کہ أگر وہ قرض چھوڑ کے جارہا ہے أور أسکے پاس مال نہیں ہے کیونکہ (کلا) أسکو کہتے ہیں جسکے پاس مال نہ ہو تو وہ میں أدا کرونگا تو حضور صلی الله علیہ وسلم حاکم بھی تھے تو إس حدیث سے ملکی خزانے سے کسی أیسے خاص شخص کی مدد کرنا جائز ہے جسکے پاس پیسے نہ ہوں جیسے یتیم بچے یا بیوہ عورتیں .

قاضی أبو یوسف نے ہارون الرشید کو فرمایا:

” ويعمل في ذلك يرى أنه خير للمسلمين وأصلح لأمرهم "

ترجمہ : وہ أس ( بیت المال) میں تصرف کرسکتا ہے جس میں مسلمانوں کے لیے بھلائی ہو أور أنکے معاملات کے لیے زیادہ مناسب ہو.

( الخراج ، ص: 72 )

لہذا ملکی خزانے سے أسی وقت کوئی خرچ کرسکتا ہے جب أس میں اجتماعی فائدہ ہو.

محاکمہ:

حکومت کی طرف سے حج سبسڈی بند کرنے پر موافقین و معارضین کے درمیان علمی محاکمہ :

موافقین کا علمی محاکمہ :

وہ لوگ جو حج سبسڈی بند کرنے پر حکومت کی تائید کررہے ہیں،

أور کہ رہے ہیں کہ حج صاحب استطاعت پر فرض ہے حکومت کی طرف سے سبسڈی دینا ضروری نہیں وہ صحیح کہ رہے ہیں لیکن کیا انہوں نے مذکورہ بالا أحکام کی روشنی میں إس تائید کے دوران حکومت کی طرف سے درج ذیل أمور میں جو سبسڈیز دی جارہی ہے أس پہ مذمت کی؟

۔نمبر 1 : حکومت کی طرف سے جو خاص لوگ حج و عمرہ کرتے ہیں تو کیا سپورٹ کرنے والوں نے حکومت سے یہ سؤال کیا کہ أگر حج سبسڈی دینا شرعا خلاف ہے تو خاص لوگوں کو فری حج و عمرہ کروانا کہاں سے شرعی ہوگیا؟

نمبر 2 : ملکی دووروں کے دوران جو وفود کے وفود ملکی خزانے سے سفر کرتے ہیں یہ کیا شرعا جائز ہے؟

نمبر 3 : منسٹرز کی لاکھوں میں تنخواہیں کیا شرعی ہیں؟

نمبر 4 : منسٹرز کو جو دیگر سبسڈیز دی جاتی ہیں جیسے ایک سے زائد گاڑیاں ، أنکا پٹرول ، کالنک کارڈز ، کھانا رہائش وغیرہ وغیرہ تو کیا یہ سب سبسڈیز شرعی ہیں؟

نمبر 5 : کیا حج پہ جو خرچ ہوتا ہے أس سے زیادہ جو حکومت فیس وصول کررہی ہے کیا یہ شرعی ہے؟ کیا لوگوں کو استطاعت حج سے نکالنا شرعی ہے؟ یا پھر استطاعت کے نام سے زیادہ پیسا بٹورنا شرعی ہے؟

نمبر 6: کیا کسی إیک صوبے پہ خرچ زیادہ کرنا أور باقیوں کو پسماندہ چھوڑ دینا کیا یہ شرعا جائز ہے؟

سپورٹ کرنے والے کیا شریعت کو أپنے گھر کی جاگیر سمجھتے ہیں کہ جیسے چاہا سپورٹ کرنا شروع کردی،

کیا حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرفرمایا:

” إن رجالا يتخوضون في مال الله بغير حق ، فلهم النار يوم القيامة "

ترجمہ: بے شک لوگ اللہ کے مال ( بیت المال/ ملکی خزانے) کو بغیر حق کے خرچ کررہے ہیں أنکے لیے قیامت کے دن ( دوزخ کی) آگ ہوگی.

سپورٹ کرنے والے حکومت کی طرف سے دی جانے والی دیگر غیر شرعی سبسڈیز کی مذمت کیوں نہیں کررہے؟

معارضین کا علمی محاکمہ :

جو لوگ حکومت کی طرف سے حج سبسڈی بند کرنے پر گالیاں دے رہے ہیں تو کیا شریعت أنکی خواہش کے تابع ہے ؟

کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ ملکی خزانے سے حج کے لیے پیسے دینا جائز ہے؟

کیا حج والوں کو سبسڈی دینا اجتماعی فائدے میں آتی ہے یا خاص لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے؟

خدا کے لیے جب بھی شریعت کی بات کریں تو حق بات کریں چاہے أس میں آپکے مخالف کی سپورٹ ہی کیوں نہ ہو أور یہی قرآن کا حکم ہے :

” ولا تقولوا لما تصف ألسنتكم الكذب هذا حلال وهذا حرام لتفتروا على الله الكذب إن الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون "

( النحل ، 116 )

ترجمہ: أپنی زبانوں سے مت کہو کہ یہ حلال ہے أور یہ حرام تاکہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو ،

بے شک جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوگا .

أپنی بات کو درج ذیل عظیم و درد بھرے قصے پر ختم کررہا ہوں :

إمام شاطبی فرماتے ہیں کہ ابن بشکوال نے إیک قصہ بیان کیا وہ یہ کہ:

حکم جو خلیفہ تھا وہ روزے کی حالت میں جماع کربیٹھا تو فقہاء کرام سے أس نے مسئلہ پوچھا تو فقہاء نے فرمایا:

کھانا کھلادو ( جو ساٹھ مسکینوں کو کھلانا ہوتا ہے) ، إسحاق بن ابراہیم خاموش رہے تو خلیفہ نے أن سے پوچھا : آپکا کیا فتوی ہے ؟

آپ نے فرمایا :

میں وہ فتوی نہیں دونگا جو آپکو مجھ سے پہلے یہ فقہاء کرام دے چکے ہیں بلکہ میرا فتوی یہ ہے کہ روزے رکھو ( دو ماہ کے جو کفارہ ہے) ،

أن سے أسی مجلس میں کسی نے کہا کہ کیا مذہب إمام مالک میں کھانا کھلانا جائز نہیں؟

إسحاق بن ابراہیم نے فرمایا:

تمہیں مذہب مالک یاد ہے کیونکہ تم خلیفہ کی خوشامت چاہتے ہو ،

إمام مالک کا فتوی کھانا کھلانے کا أسکے لیے ہے جس کے پاس مال ہو أور خلیفہ ( حاکم وقت) کا کوئی مال و دولت نہیں ہوتی تو کھانا کہاں سے کھلائے گا ؟

کیونکہ جو مال إنکے پاس ہے وہ تو بیت مال المسلمین کا ہے یعنی ملکی خزانے کا ،

تو خلیفہ نے اسحاق بن ابراہیم کے فتوے پر عمل کیا أور أنکا شکریہ بھائی أدا کیا.

( اعتصام للشاطبی ، أقسام المعنی المناسب الذی یربط بہ الحکم ، 2/611 )

إس قصے میں حضرت اسحاق بن ابراہیم کے فتوے کی طرف غور فرمائیں کہ حاکم وقت کا کوئی مال نہیں ہوتا یعنی اسے اپنے لیے أپنی جائز مقررہ تنخواہ سے زیادہ لینے یا دینے کا کوئی حق نہیں ہوتا

لیکن ہمارے حکمران تو آتے ہی إس لیے ہیں کہ ناجائز مال جمع کرسکیں.

تو میری دونوں فریق سے التجاء ہے کہ خدارا شریعت کو ترجیح دیں أپنی من پسند خواہش کو نہیں.

کاش أگر ہماری سبسڈیز کی پالیسی شریعت کے دیے گے إکانومی نظام کے تابع ہوتی تو ہمیں کبھی معیشت کی پستی جیسی ذلت سے نہ گزرنا پڑتا.

نوٹ: جو لوگ حکومت کی طرف سے ملنے والی سبسڈی پر پہلے حج کرچکے ہیں کیا وہ صحیح تھا یا نہیں کیونکہ حکومت کی آمدنی سود پر بھی مشتمل ہوتی ہے

– ان شاءاللہ-

إس پہ کل مفصل وضاحت کی جائے گی.

واللہ أعلم