حج سبسٹڈی کا شوشہ

حج سبسٹڈی کا شوشہ

حج آپریشن حکومتی اخراجات نہیں بلکہ آمدنی کا بڑا ذریعہ …

تحریر: محمد عاصم حفیظ

ترتیب، تدوین و اضافہ: محمد طارق خان

حج سبسڈی کے معاملے پر بعض دانشور اس طرح دلائل دے رہے ہیں کہ جیسے سارے کا سارا حکومتی نظام اسلامی قوانین کے تحت ہی چل رہا ہو۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے حکومت حج اپنے خرچے پر کرواتی تھی اور اس مرتبہ عازمین کو اپنا خرچ خود اٹھانا پڑے گا۔ قرآن کی وہ آیات اور احادیث سامنے لائی جارہی ہیں کہ جن میں حج کی فرضیت صرف صاحب استطاعت لوگوں کے لئے ہے۔

جناب والا معاملہ یہ ہے ہی نہیں، حکومت عوام کو کبھی حج مفت کراتی تھی اور نہ ہی عازمین کو نام نہاد سبسڈی دے کر کوئی احسان کیا گیا، حقیقت یہ ہے کہ حج بہت سے حکومتی محکموں اور سرکاری عمال کے لیے آمدن کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ حج سیزن شروع ہوتے ہیں آپ نے بینکوں کے باہر لگے فلیکس ضرور دیکھے ہوں گے کہ حج درخواستیں یہاں جمع کروائیں دراصل حج درخواستیں جمع کرنے کے نام پر عازمین حج سے ایک بڑی رقم وصول کی جاتی ہے جو کہ کئی ماہ تک ان بنکوں میں پڑی رہتی ہے۔ سودی نظام پر چلنے والے یہ بینک اور حکومت عوام کا یہ پیسہ استعمال کرتی ہے اور جن کا نام حج فہرستوں میں شامل نہیں ہوپاتا نہیں ہو پاتا، ان کو لمبے چوڑے مراحل سے گزار کر مہینوں بعد ان کی امانت واپس کی جاتی ہے۔

اس تمام عرصے میں اس رقم سے حاصل ہونے والے منافع یا جمع ہونے والے سود کا حساب لگایا جائے تو نام نہاد سبسڈی کے دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے۔

اب آئیں حج اخراجات کی طرف اور اسے ایک عمرہ کے اخراجات کے موازنہ سے سمجھیں، کسی بھی ٹریول یا عمرہ ایجنٹ سے معلوم کرلیں آج کل 21 دن کے عمومی عمرے کا تخمینہ 80 ہزار سے ایک لاکھ کے قریب بنتا ہے۔ اگر حج چالیس دن کا ہو تو آپ اس خرچے کو دگنا کر لیں یعنی کہ دو لاکھ، چلیں حج سیزن میں طلب میں اضافہ کے اصول کے تحت اگر حکومت تین لاکھ کے بھی وصول کرتی ہے تو عوام کو نہ کوئی سبسڈی دی گئی نہ کوئی احسان کیا گیا، جس کے دعوے اور اس کو ختم کرنے کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ حج اخراجات کے نام پر جتنی بھی رقم لی جاتی رہی ہے اس میں بھی حکومت کو بچت ہوتی ہے، یہ اور بات کی اس بچت کا بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہوجائے، ماضی میں کرپشن اور ناقص انتظامات پر سپریم کورٹ نے نوٹس بھی لیا اور حکومت نے لوگوں کو کچھ پیسے واپس بھی کیے۔ پھر لاکھوں پاسپورٹس کے اجراء پر کروڑوں کمائے جاتے ہیں، اور ایسی کئی مدامات ہیں جن میں حکومت حجاج سے کماتی ہے ان پر لگاتی نہیں۔

حج سبسڈی پر بات کرنے والے دانشور ذرا تحقیق کریں کہ پی آئی اے حج آپریشن سے کتنا کماتی ہے؟ اور پھر یہ بھی بتائیں کہ حج کا ٹکٹ عام دنوں سے کس قدر مہنگا ہوتا ہے۔کیا حج کے لئے جانے والی پروازوں میں کوئی خاص ایندھن استعمال ہوتا ہے یا سہولیات اضافی ہوتی ہیں کہ 40 سے 50 ہزار والا ٹکٹ ایک لاکھ روپے سے زیادہ میں فروخت کیا جاتا ہے، سہولیات کا عالم تو یہ ہے کہ حج فلائٹ سے زیادہ سہولیات تو ڈائیوو بس میں دی جاتی ہیں، حاجیوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔

غور طلب امر یہ بھی ہے کہ حج کے حوالے سے صاحب استطاعت کی بحث وہ لوگ کر رہے ہیں کہ جو حکومتی عیاشیوں پر یا تو چپ سادھے ہوئے ہیں یا اس کے لئے عذرات لنگ تراشتے ہیں، ایسے دانشوڑوں سے پوچھنا ہے کہ پچھلے چھ ماہ میں اس حکومت نے اپنے اخراجات میں کونسی ایسی کمی کی ہے کہ حج انہیں مہنگا پڑ رہا تھا۔ یہ حکومت اپنے تمام تر دعووں کے باوجود نہ کابینہ کا سائز کم کرسکی، نہ حکومتی اخراجات اور ملکی و غیر ملکی قرضوں میں کمی، نہ گورنر ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس ختم ہوئے، حج آپریشن میں بچت پر حکومت کے قصیدے گانے والے ذرا یہ بھی تو بتائیں کہ 50 گاڑیوں کے پروٹوکول اور پرائیویٹ جہازوں میں بیرون ملک سفر پر کتنے اخراجات آتے ہیں؟

جہاں ایک طرف حکومتی عیاشیاں بلا روک ٹوک جاری و ساری ہوں، وزراء ہیلی کاپٹر کو رکشے کی طرح استعمال کرتے ہوں، تھر جیسے علاقوں کے سفر کے لئے پچاس 50 گاڑیوں کے قافلے جاتے ہوں، گورنر ہاؤس میں ہیوی بائیک نمائشیں منعقد ہو رہی ہوں اور سینما گھروں، فلمی صنعت، اور مضمر صحت چینی کے کارخانوں کو اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی ہو، وہاں حج آپریشن میں دی جانے والی نام نہاد سبسڈی کی بچت کو معاندانہ اور منافقانہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

کس قدر منافقت ہے کہ ایک جانب حکومت بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کے لئے مراعات کا اعلان کرتی ہے، ان پر جرمانے کم کرنے اور انہیں رعایت دینے کا اعلان کرتی ہے اور اس طرح کے حکومتی اقدامات سے قومی خزانے کو جو نقصان پہنچتا ہے اس پر تو کوئی بات نہیں کرتا اور حج سبسڈی کا شوشہ چھوڑ کر ایک عجیب وغریب بحث شروع کروا دی گئی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہی کہ حکومت عازمین حج کو نہ تو کوئی سبسڈی دیتی ہے اور نہ ہی مناسب سہولیات اس کے عین برعکس حج آپریشن حکومت کے لئے اربوں روپے کی آمدن کا ذریعہ ہے۔

دیہات اور دور دراز علاقوں کے لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ایک مقدس فریضے کی ادائیگی پر لگاتے ہیں، حکومت کے کئی محکمے اس آپریشن سے بھاری آمدن کماتے ہیں۔ یوتھوپیا کے دانشوروں کو چیلنج ہے کہ ذرا تحقیق کریں کہ کتنے وزرا، مشیر اور حکومتی اہلکار عازمین حج کے خرچے پر مفت حج کے مزے اڑاتے ہیں؟ وزارت مذہبی امور اور حج کے ذمہ داران اور ملازمین کے اللے تللے بھی عازمین کے کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں اور پھر شوشا چھوڑا جاتا ہے کہ جیسے حکومت کوئی بہت بڑی سبسڈی دیتی ہے۔

کیا حکومت فنکاروں کے لئے ہیلتھ کارڈ اور دیگر سہولیات فراہم نہیں کرتی؟ کیا صحافیوں، وکلاء، واپڈا، ایف بی آر، یونیورسٹیز، تینوں مسلح افواج اور بہت سے دیگر محکموں کے لئے ریلوے اور پی آئی اے میں رعایتی ٹکٹ، ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹس اور دیگر سہولیات کی مد میں مراعات نہیں دی جاتیں؟ اس وقت کیوں نہیں دلائل دیے جاتے کہ یہ سب لوگ اپنے خرچ پر سفر کریں، اپنے خرچے سے پلاٹ خریدیں، حکومت ان کو کسی بھی قسم کی سہولت عوام کے پیسے سے فراہم نہیں کرے گی۔

دوسری جانب اسی حکومت نے حال ہی میں کئی صنعتوں کے لئے، جن میں غیر ملکی ملٹی نیشنل ادراے بھی شامل ہیں، ٹیکسوں میں چھوٹ اور سبسڈی کا اعلان کیا ہے، بہت سے دوسرے شعبوں کو سہارا دینے کے لئے اور عوامی مفاد میں کئی منصوبوں کو حکومت سبسڈی فراہم کرتی ہے تو ایک اسلامی ملک میں ایک اہم ترین دینی فریضہ کی ادائیگی کیلئے سہولیات کی مد میں اگر کچھ اخراجات کرنا بھی پڑ جائیں تو اس میں مضائقہ ہی کیا ہے۔ کیونکہ سرکاری حج سکیم میں زیادہ تر متوسط طبقے کے لوگ دلچسپی لیتے ہیں جو پرائیویٹ حج کے اخراجات پورے نہیں کرسکتے۔

ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عازمین حج کی لیے عمارتوں کے حصول اور ٹرانسپورٹ کے ٹھیکوں میں کروڑوں روپے کی بدعنوانیاں ہوتی ہیں، وزرات کے افسران اور سیاستدان مل کر اپنے رشتہ داروں کی مدد سے پیسہ کماتے ہیں۔ اور تاثر یہ دیا جاتا ہے جیسے حکومت تو سارا حج ہی مفت کرواتی ہے اور یہ سب قومی خزانے سے ادا ہوتا ہے۔ ایسا ہرگز بھی نہیں ہے۔ سابق وزیر مواصلات ڈاکٹر حافظ عبدالکریم جو کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے سربراہ بھی رہے انہوں نے کئی مرتبہ اس بات کا اظہار کیا کہ اگر حکومتی محکموں سے لازمی سروس مثلاً پی آئی اے، پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کو ادائیگیاں نہ کی جائیں تو حج اخراجات کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

حج اخراجات اور سبسڈی کی بحث وہی لوگ کر رہے ہیں کہ جنہیں عید قربان کے موقع پر جانوروں کی خریداری سے تکلیف ہوتی ہے، اس وقت انہیں غریب یاد آ جاتے ہیں۔ لیکن جب ویلنٹائن ڈے ہو، نیوایر نائٹ ہو، بسنت یا کوئی اور ایسا تہوار یا ایونٹ تو کروڑوں کے اخراجات اور بڑی بڑی پارٹیاں سب کچھ قابل قبول ہوتا ہے۔ برانڈڈ گھڑیاں اور کپڑے اور کروڑوں کی گاڑیاں لیتے اور محل بناتے وقت انہیں غریبوں کی حالت زار یاد نہیں رہتی۔

حق یہ ہے کہ حج سبسڈی کی بحث ہی فضول ہے کیونکہ کوئی سبسٹڈی یا کوئی رعایت دراصل دی ہی نہیں جاتی بلکہ بہت سے سرکاری محکمے اس حج آپریشن سے کروڑوں روپے کماتے ہیں شاید اس بار آمدن میں کچھ کمی ہونے کا خطرہ تھا جس کے لیے اخراجات مزید بڑھا دیے گئے ہیں۔ حکومت نہ تو پہلے کچھ خرچ کرتی تھی اور نہ ہی اس بار کچھ خرچ کرے گی، بلکہ اپنی آمدن میں مزید اضافہ کرے گی اور حلال حرام کی یہ بحث صرف اس لیے ہے کہ حکومت کی سیاہ کاریوں کی پردہ پوشی کی جاسکے اور ایک ناجائز اقدام کو جواز فراہم کیا جاسکے، ایسے اقدامات حکومت کی مذہب بیزاری اور معاندانہ پالیسی کا بین ثبوت ہیں۔ اور اس کی حمایت میں دلائل دینے والوں کی مثال سامری جادوگر کے بنائے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کی سی ہے، یہ لوگ ایک سیاسی تعصب میں اس قدر اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں شراب کو حلال قرار دینے پر بھی کوئی اعتراض نہیں رہا۔ *اب جب کہ سبسڈی ختم کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے تو حکومت کو چاہئیے کہ فوری طور پر پارلیمینٹ ہاوس، کیفے ٹیریا، وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کی سفری (travel) سبسڈی، پیٹرول، فون، بجلی کے بلوں میں سبسڈی/ رعایت / مفت سفر وغیرہ وغیرہ پر جو بھاری بھرکم سبسڈی ہے وہ بھی ختم کریں۔۔۔ یقین کریں اس سے قومی خزانے پر بوجھ بھی ہلکا ہوگا اور حج پر سبسڈی ختم کرنے سے کہیں زیادہ بچت ہوگی۔*

*یہ میسیج زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تاکہ حکومتی ایوانوں تک بات پہنچے اور حکومت اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھاسکے۔*

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.