حکومت کی طرف سے دی جانے والی حج سبسڈی پر موافقین و معارضین کے درمیان علمی محاکمہ

حکومت کی طرف سے دی جانے والی حج سبسڈی پر موافقین و معارضین کے درمیان علمی محاکمہ

أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء وأفضل المرسلين وأكرم العباد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين ،

وبعد:

إس دور فتن میں زیادہ تر ہم سوشل میڈیا یا إلیکٹرونک میڈیا یا دیگر میڈیا نیٹ ورک پر فتوی شریعت کو دیکھتے ہوئے نہیں دیتے بلکہ أپنے نظری و فکری اختلاف کو دیکھتے ہوئے دیتے ہیں ، مطلب یہ کہ أگر کوئی شخص نظریاتی یا فکری طور پہ ہمارے ساتھ اتفاق رکھتا ہے تو ہم أسکی غلط بات کو بھی موافق شرع بنادیتے ہیں أور أگر مخالف ہے تو أسکی شرعی بات کو بھی غیر شرعی رنگ دے دیتے ہیں ،

جیسے إس حج سبسڈی ختم کرنے والے مسئلہ میں دو فریق بن گے ، إیک فریق صراحتاً أسے غیر شرعی کہ رہا ہے أور إیک فریق مطلقاً حکومت کی سپورٹ کررہا ہے أور أسے مستحسن عمل قرار دے رہا ہے ،

لہذا ہم درج ذیل میں إن دونوں فریقین کے درمیان علمی محاکمہ کرتے ہیں أور مسئلہ کو شرعی طور پہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

حج سبسڈی ختم کرنے پر شرعی مؤقف کو جاننے کے لیے پہلے ہمیں درج ذیل کچھ نقاط کی وضاحت کرنی ہوگی:

پہلا نقطہ :

ملکی خزانہ کس کی ملکیت ہوتا ہے :

ملکی خزانہ أس ملک کے لوگوں کی ملکیت ہوتا ہے ، إسی لیے إس مال کو مال اللہ یا المال العام بولتے ہیں یعنی یہ اللہ کا مال ہوتا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ وہ أس مال میں سب لوگوں کا حق ہوتا ہے ،

أور مال اللہ کا لفظ أحادیث مبارکہ میں بھی آیا ہے جسکا بیان آگے آرہا ہے.

جیسے علامہ کاسانی فرماتے ہیں :

” بیت المال مال المسلمین "

ترجمہ: بیت المال مسلمین کا مال ہوتا ہے .

( بدائع الصنائع ، 4/39 )

إس میں واضح ہے کہ ملکی خزانے میں جتنا بھی پیسہ ہو یا دیگر مال أسکے مالک أس ملک کے مسلمان ہے یعنی أگر وہ إسلامی ملک ہے.

قاضی ماوردی شافعی أور قاضی أبو یعلی حنبلی فرماتے ہیں :

” کل مال استحقه المسلمون ، ولم يتعين مالكه منهم ، فهو من حقوق بيت المال "

ترجمہ:

ہر وہ مال جسکے حقدار مسلمان ہیں أور أس مال کا کوئی خاص مالک بھی نہ ہو تو وہ مال بیت المال ( ملکی خزانہ) کے حق میں سے ہے .

( الأحکام السلطانیۃ للماوردی ، ص : 213 ، الأحکام السلطانیۃ لأبی یعلی الحنبلی ، ص: 235 )

یہ بھی یہی فرمارہے ہیں کہ ملکی خزانہ میں جتنا پیسا ہو یا مال یا ملک میں ہر وہ شئے جسکا کوئی خاص مالک نہ ہو أسکے مستحق أس ملک کے مسلمان ہیں.

لہذا ملکی خزانہ أور ملک کی ہر وہ شئے جسکا کوئی خاص مالک نہ ہو یا پھر مالک ہو لیکن کوئی أسکا وارث نہ ہو یا معلوم نہ ہو وہ سارا مال ملکی خزانے میں جاتا ہے أور أسکے مالک أس ملک کے سب مسلمان ہوتے ہیں.

دوسرا نقطہ :

ملکی خزانے کے لیے خلافت راشدہ میں کونسا لفظ بولا جاتا تھا :

ملکی خزانہ کے لیے سب سے پہلے حضور صلی الله علیہ وسلم کے دور مبارکہ میں جس لفظ کا إطلاق ہوتا تھا وہ تھا : مال اللہ ومال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،

پھر سیدنا صدیق أکبر أور خلافت راشدہ میں ملکی خزانے کے لیے ” بیت مال المسلمین ” کا لفظ استعمال ہوتا تھا پھر بعد میں إسکو ” بیت المال ” بولا جانے لگا کیونکہ بیت المال سے مراد سب کے نزدیک واضح تھا کہ وہ بیت مال المسلمین مراد ہے ، وزارت خزانہ کو ” دیوان بیت المال ” کے نام سے موسوم کیا جاتا.

( مقدمہ ابن خلدون ، ص: 244 ، الأحکام السلطانیۃ ماوردی ، ص: 203 بحوالہ الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ، 8/242 ، 243 )

تیسرا نقطہ:

ملکی خزانے کو چلانے والے کی حیثیت کیا ہوتی ہے :

ملکی خزانے کا سربراہ حاکم وقت یا أسکی طرف سے مقرر کردہ منسٹر جسکو وزیر خزانہ کہتے ہیں أسکی حیثیت مالک کی نہیں ہوتی بلکہ وہ أس ملک کے لوگوں کا نائب ہوتا ہے،

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

” إني أنزلت نفسي وإياكم من هذا المال بمنزلة وال اليتيم ، فإن الله تبارك وتعالى قال ( ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف / اگر ( والی/ یتیم کی کفالت کرنے والا) غنی ہو تو أس مال سے کچھ نہ لے أور أگر غریب ہو تو حسب عرف أس میں سے لے سکتا ہے ( یعنی جس سے أسکی بنیادی ضروریات پوری ہوجائیں)”

ترجمہ : حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک میں خود کو أور تم کو بیت المال میں یتیم کی کفالت کرنے والے کی طرح سمجھتا ہوں ( یعنی جس طرح یتیم کی کفالت کرنے والے کا حق ہے اتنا ہی ہمارا).

( الخراج لأبی یوسف ، ص: 46 )

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ صریح فرمارہے ہیں کہ حاکم وقت اور وزیر خزانہ کی حیثیت یتیم کی کفالت کرنے والے شخص کی طرح ہوتی ہے یعنی یہ مال ملک کے لوگوں کی أمانت ہے،

أور قرآن مجید نے سورہ نساء میں یتیم کی کفالت کرنے والے سے درج أعمال کا مطالبہ کیا جسکو ہم صرف مفہوما لکھ رہے ہیں:

نمبر 1: وہ یتیم کے مال سے ناجائز طریقے سے یا کرپشن کرکے کچھ بھی نہیں لے گا.

نمبر 2 : جب وہ بالغ ہوجائے تو أسکا مال أسے پورے حساب کے ساتھ واپس کرے .

نمبر 3 : أپنے عہد ایمانداری کو پورا کرے.

نمبر 4 : أگر وہ یتیم کے مال سے کھاتا ہے تو أس نے گویا دوزخ کو أپنے پیٹ میں بھرا.

جب حاکم وقت أور وزیر خزانہ إیک یتیم کی کفالت کرنے والے کی طرح أسکی حیثیت ہے تو یہ أحکام أس پر بھی لاگو ہونگے ، لیکن بدقسمتی سے ہم نے کبھی إسلامی اکانومی سسٹم أپنایا ہی نہیں.

چوتھا نقطہ:

ملکی خزانے کے مال کو خرچ کرنے یا سبسڈی دینے کے قواعد و ضوابط کیا ہیں؟

قاضی أبو یوسف أور دیگر فقہاء کرام نے أحادیث سے استنباط کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ ملکی خزانے کو صرف أن معاملات میں خرچ کرے گا جس میں أس ملک کے تمام لوگوں کو فائدہ ہو أگر فردی فائدہ ہوا یا کچھ خاص لوگوں کو تو أس سے وہ خرچ نہیں کرے گا ، کسی خاص شخص کے لیے وہ أسی وقت خرچ کرسکتا ہے جب أسکے پاس پیسے نہ ہوں أور کوئی أور ذریعہ بھی نہ ہو تو پھر وہ ملکی خزانے سے أس پر خرچ کرسکتا ہے

کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :

” من ترك مالا فلورثته ، ومن ترك كلا فإلينا "

ترجمہ :

جس نے ( فوت ہوتے وقت ) مال چھوڑا وہ ورثاء کے لیے یے ،أور جس نے قرض چھوڑا وہ میری طرف ( سے أدا ہوگا )

( صحیح بخاری ، حدیث نمبر : 2398 )

إس حدیث میں واضح ہے کہ أگر وہ قرض چھوڑ کے جارہا ہے أور أسکے پاس مال نہیں ہے کیونکہ (کلا) أسکو کہتے ہیں جسکے پاس مال نہ ہو تو وہ میں أدا کرونگا تو حضور صلی الله علیہ وسلم حاکم بھی تھے تو إس حدیث سے ملکی خزانے سے کسی أیسے خاص شخص کی مدد کرنا جائز ہے جسکے پاس پیسے نہ ہوں جیسے یتیم بچے یا بیوہ عورتیں .

قاضی أبو یوسف نے ہارون الرشید کو فرمایا:

” ويعمل في ذلك يرى أنه خير للمسلمين وأصلح لأمرهم "

ترجمہ : وہ أس ( بیت المال) میں تصرف کرسکتا ہے جس میں مسلمانوں کے لیے بھلائی ہو أور أنکے معاملات کے لیے زیادہ مناسب ہو.

( الخراج ، ص: 72 )

لہذا ملکی خزانے سے أسی وقت کوئی خرچ کرسکتا ہے جب أس میں اجتماعی فائدہ ہو.

محاکمہ:

حکومت کی طرف سے حج سبسڈی بند کرنے پر موافقین و معارضین کے درمیان علمی محاکمہ :

موافقین کا علمی محاکمہ :

وہ لوگ جو حج سبسڈی بند کرنے پر حکومت کی تائید کررہے ہیں،

أور کہ رہے ہیں کہ حج صاحب استطاعت پر فرض ہے حکومت کی طرف سے سبسڈی دینا ضروری نہیں وہ صحیح کہ رہے ہیں لیکن کیا انہوں نے مذکورہ بالا أحکام کی روشنی میں إس تائید کے دوران حکومت کی طرف سے درج ذیل أمور میں جو سبسڈیز دی جارہی ہے أس پہ مذمت کی؟

۔نمبر 1 : حکومت کی طرف سے جو خاص لوگ حج و عمرہ کرتے ہیں تو کیا سپورٹ کرنے والوں نے حکومت سے یہ سؤال کیا کہ أگر حج سبسڈی دینا شرعا خلاف ہے تو خاص لوگوں کو فری حج و عمرہ کروانا کہاں سے شرعی ہوگیا؟

نمبر 2 : ملکی دووروں کے دوران جو وفود کے وفود ملکی خزانے سے سفر کرتے ہیں یہ کیا شرعا جائز ہے؟

نمبر 3 : منسٹرز کی لاکھوں میں تنخواہیں کیا شرعی ہیں؟

نمبر 4 : منسٹرز کو جو دیگر سبسڈیز دی جاتی ہیں جیسے ایک سے زائد گاڑیاں ، أنکا پٹرول ، کالنک کارڈز ، کھانا رہائش وغیرہ وغیرہ تو کیا یہ سب سبسڈیز شرعی ہیں؟

نمبر 5 : کیا حج پہ جو خرچ ہوتا ہے أس سے زیادہ جو حکومت فیس وصول کررہی ہے کیا یہ شرعی ہے؟ کیا لوگوں کو استطاعت حج سے نکالنا شرعی ہے؟ یا پھر استطاعت کے نام سے زیادہ پیسا بٹورنا شرعی ہے؟

نمبر 6: کیا کسی إیک صوبے پہ خرچ زیادہ کرنا أور باقیوں کو پسماندہ چھوڑ دینا کیا یہ شرعا جائز ہے؟

سپورٹ کرنے والے کیا شریعت کو أپنے گھر کی جاگیر سمجھتے ہیں کہ جیسے چاہا سپورٹ کرنا شروع کردی،

کیا حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرفرمایا:

” إن رجالا يتخوضون في مال الله بغير حق ، فلهم النار يوم القيامة "

ترجمہ: بے شک لوگ اللہ کے مال ( بیت المال/ ملکی خزانے) کو بغیر حق کے خرچ کررہے ہیں أنکے لیے قیامت کے دن ( دوزخ کی) آگ ہوگی.

سپورٹ کرنے والے حکومت کی طرف سے دی جانے والی دیگر غیر شرعی سبسڈیز کی مذمت کیوں نہیں کررہے؟

معارضین کا علمی محاکمہ :

جو لوگ حکومت کی طرف سے حج سبسڈی بند کرنے پر گالیاں دے رہے ہیں تو کیا شریعت أنکی خواہش کے تابع ہے ؟

کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ ملکی خزانے سے حج کے لیے پیسے دینا جائز ہے؟

کیا حج والوں کو سبسڈی دینا اجتماعی فائدے میں آتی ہے یا خاص لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے؟

خدا کے لیے جب بھی شریعت کی بات کریں تو حق بات کریں چاہے أس میں آپکے مخالف کی سپورٹ ہی کیوں نہ ہو أور یہی قرآن کا حکم ہے :

” ولا تقولوا لما تصف ألسنتكم الكذب هذا حلال وهذا حرام لتفتروا على الله الكذب إن الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون "

( النحل ، 116 )

ترجمہ: أپنی زبانوں سے مت کہو کہ یہ حلال ہے أور یہ حرام تاکہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو ،

بے شک جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوگا .

أپنی بات کو درج ذیل عظیم و درد بھرے قصے پر ختم کررہا ہوں :

إمام شاطبی فرماتے ہیں کہ ابن بشکوال نے إیک قصہ بیان کیا وہ یہ کہ:

حکم جو خلیفہ تھا وہ روزے کی حالت میں جماع کربیٹھا تو فقہاء کرام سے أس نے مسئلہ پوچھا تو فقہاء نے فرمایا:

کھانا کھلادو ( جو ساٹھ مسکینوں کو کھلانا ہوتا ہے) ، إسحاق بن ابراہیم خاموش رہے تو خلیفہ نے أن سے پوچھا : آپکا کیا فتوی ہے ؟

آپ نے فرمایا :

میں وہ فتوی نہیں دونگا جو آپکو مجھ سے پہلے یہ فقہاء کرام دے چکے ہیں بلکہ میرا فتوی یہ ہے کہ روزے رکھو ( دو ماہ کے جو کفارہ ہے) ،

أن سے أسی مجلس میں کسی نے کہا کہ کیا مذہب إمام مالک میں کھانا کھلانا جائز نہیں؟

إسحاق بن ابراہیم نے فرمایا:

تمہیں مذہب مالک یاد ہے کیونکہ تم خلیفہ کی خوشامت چاہتے ہو ،

إمام مالک کا فتوی کھانا کھلانے کا أسکے لیے ہے جس کے پاس مال ہو أور خلیفہ ( حاکم وقت) کا کوئی مال و دولت نہیں ہوتی تو کھانا کہاں سے کھلائے گا ؟

کیونکہ جو مال إنکے پاس ہے وہ تو بیت مال المسلمین کا ہے یعنی ملکی خزانے کا ،

تو خلیفہ نے اسحاق بن ابراہیم کے فتوے پر عمل کیا أور أنکا شکریہ بھائی أدا کیا.

( اعتصام للشاطبی ، أقسام المعنی المناسب الذی یربط بہ الحکم ، 2/611 )

إس قصے میں حضرت اسحاق بن ابراہیم کے فتوے کی طرف غور فرمائیں کہ حاکم وقت کا کوئی مال نہیں ہوتا یعنی اسے اپنے لیے أپنی جائز مقررہ تنخواہ سے زیادہ لینے یا دینے کا کوئی حق نہیں ہوتا

لیکن ہمارے حکمران تو آتے ہی إس لیے ہیں کہ ناجائز مال جمع کرسکیں.

تو میری دونوں فریق سے التجاء ہے کہ خدارا شریعت کو ترجیح دیں أپنی من پسند خواہش کو نہیں.

کاش أگر ہماری سبسڈیز کی پالیسی شریعت کے دیے گے إکانومی نظام کے تابع ہوتی تو ہمیں کبھی معیشت کی پستی جیسی ذلت سے نہ گزرنا پڑتا.

نوٹ: جو لوگ حکومت کی طرف سے ملنے والی سبسڈی پر پہلے حج کرچکے ہیں کیا وہ صحیح تھا یا نہیں کیونکہ حکومت کی آمدنی سود پر بھی مشتمل ہوتی ہے

– ان شاءاللہ-

إس پہ کل مفصل وضاحت کی جائے گی.

واللہ أعلم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.