*درس 026: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثُمَّ نَاقَضَ فِي الِاسْتِنْجَاءِ فَقَالَ: إذَا اسْتَنْجَى بِالْأَحْجَارِ، وَلَمْ يَغْسِلْ مَوْضِعَ الِاسْتِنْجَاءِ جَازَتْ صَلَاتُهُ، وَإِنْ تَيَقُّنًا بِبَقَاءِ شَيْءٍ مِنْ النَّجَاسَةِ، إذْ الْحَجَرُ لَا يَسْتَأْصِلُ النَّجَاسَةَ، وَإِنَّمَا يُقَلِّلُهَا وَهَذَا تَنَاقُضٌ ظَاهِرٌ.

پھر امام شافعی استنجاء کے معاملے میں خود اپنے اصول سے پھر گئے اور فرمایا: اگر کسی شخص نے ڈھیلے سے استنجاء کیا اور استنجاء کی جگہ کو پانی سے نہیں دھویا تو اس کی نماز ہوگئی اگرچہ یقین ہو کہ وہاں تھوڑی بہت نجاست موجود ہے، اسلئے کہ ڈھیلا استعمال کرنے سے نجاست مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی البتہ کم ضرور ہوجاتی ہے۔ امام شافعی کے ہاں یہ واضح تناقض ہے۔

ثُمَّ ابْتِدَاءُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ لَيْسَ بِفَرْضٍ مَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ»

استنجاء کے فرض نہ ہونے کی ابتدائی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو ڈھیلے سے استنجاء کرے اسے چاہئے کہ وہ طاق تعداد میں استعمال کرے، جس نے ایسا کیا تو بہت اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ہے۔

وَالِاسْتِدْلَالُ بِهِ مِنْ وَجْهَيْنِ:

أَحَدُهُمَا أَنَّهُ نَفَى الْحَرَجَ فِي تَرْكِهِ، وَلَوْ كَانَ فَرْضًا لَكَانَ فِي تَرْكِهِ حَرَجٌ

اس حدیث مبارک سے دو وجہوں سے استدلال کیا جا تاہے:

پہلی وجہ: نبی کریم ﷺ نے ڈھیلے سے استنجاء نہ کرنے پر حرج کی نفی فرمائی ہے (یعنی نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں)، اگر استنجاء فرض ہوتا تو اسکے چھوڑنے میں لازمی طور پر حرج ہوتا۔

وَالثَّانِي: أَنَّهُ قَالَ: “مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ”

وَمِثْلُ هَذَا لَا يُقَالُ فِي الْمَفْرُوضِ، وَإِنَّمَا يُقَالُ فِي الْمَنْدُوبِ إلَيْهِ، وَالْمُسْتَحَبِّ

دوسری وجہ: حضور سید عالم ﷺ نے ارشادفرمایا: جس نے ایسا کیا تو بہت اچھا کیا اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ہے۔

جو شے فرض ہوتی ہے اس سے متعلق اس طرح حکم بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ ایسا اندازِ کلام تو *مندوب* اور *مستحب* کاموں کے بارے میں ہوتاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

امام شافعی کے یاں استنجاء کے مسئلہ میں ایک تضاد پایا جاتا ہے، اپنی دلیل دینے سے پہلے علامہ کاسانی نے اسکا ذکر فرمایا ہے۔

امام شافعی نجاست کی قلیل مقدارمعاف ہونے کے قائل نہیں ہیں، جس قلیل مقدار کی معافی کے وہ قائل ہیں۔۔ وہ اتنی قلیل نجاست ہے جسے عادۃ آنکھیں دیکھ نہ پاتی ہو۔

پھر خود ہی فرماتے ہیں کہ استنجاء کے بعد پانی سے نجاست صاف نہیں کی اور یقین بھی ہو کہ نجاست موجود ہے، اگر نماز پڑھی تو ہوجائے گی۔ یہ ایک واضح تضاد ہے۔

اس بحث سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ سابقہ زمانوں میں ہمارے فقہاء کرام دیگر مذاہب کے مسائل نہ صرف پڑھتے بلکہ ان کے موقف کا رد بھی فرماتے تھے، موجودہ علماء کو فقہاء کرام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے مطالعہ کو وسیع کرنا چاہئے اور دیگر مذاہب کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے۔

اس کے بعد علامہ کاسانی نے سنن ابو داؤد کی ایک حدیث شریف سے استدلال کیا ہے کہ استنجاء فرض نہیں ہے۔ اور استدلال دو طریقوں سے فرمایا ہے:

پہلا یہ کہ حضور سیدِ عالم ﷺ نے استنجاء چھوڑ دینے پر فرمایا کہ *حرج نہیں* حالانکہ جو شے فرض ہوتی ہے اس کے ترک کردینے پر لازما حرج واقع ہوتا ہے، لہذا ثابت ہوا کہ استنجاء فرض نہیں ہے۔

دوسرا یہ کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے استنجاء کے حوالے سے جو اندازِ تکلم اختیار فرمایا ایسا انداز کسی مندوب و مستحب یعنی اچھے کام کے لئے اختیار کیا جاتا ہے نہ کہ فرائض کے لئے۔

لہذا اتنا تو ثابت ہوگیا کہ استنجاء فرض نہیں ہے، بلکہ اس سے نیچے درجے کا کوئی حکم رکھتا ہے۔

اسکے سنتِ موکدہ ہونے پر فقہاء نے دلیل یہ دی ہے کہ حضور سیدِ عالم ﷺ نے اس پر ہمیشہ عمل فرمایا ہے ۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ احناف کی تمام کتب میں صرف اتنا لکھا ہے کہ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهِ یعنی حضور سید عالم ﷺ نے اس پر ہمیشگی اختیار فرمائی ہے اور اصول یہ ہے کہ جس فعل پر حضور سرورِ عالم ﷺ بغیر ترک کئے ہمیشگی اختیار فرمائیں وہ واجب ہوتی ہے نہ کہ سنت۔۔۔

سنت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب حضور نبی کریم ﷺ اس پر ہمیشہ عمل فرمائیں لیکن بیانِ جواز کے لئے کبھی ترک بھی فرمادیں۔

کتبِ احناف میں یہ تصریح نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے استنجاء ترک بھی فرمایا ہے لیکن اس کے باوجود ہم اسے واجب نہیں بلکہ سنتِ موکدہ کہتے ہیں، اس اشکال پر تفصیلی کلام علامہ بدر الدین عینی نے البنایہ شرح الہدایہ میں فرمایا ہے۔ کافی کے حوالے سے جو جواب دیا گیا ہے وہ قابلِ قبول ہے جسے ہم اپنے الفاظ میں بیان کردیتے ہیں۔۔۔

دیگر دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ قلیل مقدار یعنی درہم کی مقدار سے کم جگہ *معفو* یعنی معاف ہوتی ہے لہذا استنجاء کو واجب تو نہیں کہہ سکتے، اب رہا یہ معاملہ کہ حضور ﷺ نے اس پر ہمیشگی اختیار فرمائی ہے تو اس سے سنتِ موکدہ کا اثبات ہوجاتا ہے، اور اس کے ترک کا عادی شخص گنہگار ہوگا۔

*ابو محمد عارفین القادری*