متوکِّل خاتون

حکایت نمبر147: متوکِّل خاتون

حضرت سیدنا عفان بن مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضر ت سیدنا حماد بن سلمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سردیوں کے موسم میں زبر دست موسلادھار با رش ہوئی ، مسلسل بار ش کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہونے لگی۔ حضرت سیدنا حماد بن سلمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک عبادت گزار عورت اپنی یتیم بچیوں کے ساتھ ایک پُرانے سے گھر میں رہتی تھی ۔ جب با رش ہوئی تو ان کے کچے گھر کی چھت ٹپکنے لگی اور با رش کا پانی گھرمیں آنے لگا ،ان غربیوں کے پاس صرف یہ ایک ہی کمرے پر مشتمل گھر تھا ۔ اس نیک عورت نے جب دیکھا کہ سردی کی وجہ سے بچے ٹھٹر رہے ہیں او ربارش کا پانی مسلسل گھر میں گر رہا ہے جبکہ بار ش رکنے کا نام تک نہیں لے رہی ۔

چنانچہ اس نیک عورت نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے او رعرض گزار ہوئی: ” اے میرے رحیم وکریم پر ورد گارعزوجل !تُو رحم اور نرمی فرمانے والا ہے، ہمارے حال زار پر رحم اور نرمی فرما۔”

وہ نیک عورت ابھی دعا سے فارغ بھی نہ ہونے پائی تھی کہ فوراً با رش رُک گئی میرا گھر چونکہ اس صالحہ عورت کے گھر سے بالکل متصل تھا۔میں ا س کی دعا سن رہا تھا جب میں نے دیکھا کہ اس عورت کی دعا سے با رش بند ہوگئی ہے تو میں نے ایک تھیلی میں دس سونے کی اشرفیاں ڈالیں او راس عورت کے دروازے پر پہنچ کر دستک دی دستک سُن کر عورت نے کہا :”اللہ عزوجل کر ے کہ آنے والا حماد بن سلمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہو۔ ”جب میں نے یہ سنا تو کہا کہ مَیں حماد بن سلمہ ( رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ) ہی ہوں ۔میں نے تمہاری آواز سنی تھی تم دعا میں اسی طرح کہہ رہی تھی :”اے نرمی فرمانے واے پروردگار عزوجل نرمی فرما ۔” کیا تمہاری یہ دعا مقبول ہوگئی ہے اور اللہ عزوجل نے تم سے کیا نرمی والا معاملہ فرمایا ہے ۔ وہ نیک عورت بولی:” میرے پروردگار عزوجل نے ہم پر اس طر ح نرمی فرمائی کہ بارش رُک گئی اور جو پانی ہمارے گھر میں جمع ہوگیا تھا وہ بھی خشک ہوگیا۔ میرے بچے بھی سر دی سے محفو ظ ہوگئے ہیں، انہوں نے گرمائش حاصل کرنے کا بھی اِنتظام کر لیا ہے ۔”

جب میں نے اس عورت کی یہ باتیں سنیں تو سونے کی اشر فیوں والی تھیلی نکالی او ر کہا:” یہ کچھ رقم ہے ،اسے تم اپنی ضروریات میں استعمال کر و ۔”ابھی ہمارے درمیان یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ ایک بچی اچانک ہمارے پاس آئی ، اس نے اُون کا پُرانا سا کُرتا پہنا ہوا تھا جو ایک جگہ سے پھٹا ہوا تھا اور اس پر پیوند لگے ہوئے تھے ۔ ہمارے پاس کر آکر وہ کہنے لگی:” اے حماد بن سلمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !کیا آپ یہ دنیاوی دولت دے کر ہمارے اور ہمارے رب عزوجل کے درمیان پر دہ حائل کرنا چاہتے ہیں، ہمیں ایسی دولت نہیں چاہے جو ہمیں ہمارے رب عزوجل کی بار گاہ سے جُدا کرنے کا سبب بنے ۔”

پھر اس نے اپنی والدہ سے کہا :” اے امی جان ! جب ہم نے اپنے پر وردگار عزوجل سے اپنی مصیبتو ں کی التجاء کی تو اس نے فورا ًہی دنیاوی دولت ہماری طرف بھجوادی ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس دنیا وی دولت کی وجہ سے اپنے مالکِ حقیقی عزوجل کے ذکر سے غافل ہو جائیں اور ہماری تو جہ اس سے ہٹ کر کسی اور کی طر ف مبذول ہوجائے۔” پھر اس لڑکی نے اپنا چہر ہ زمین پر ملنا شروع کیا او رکہنے لگی:” اے ہمارے پاک پروردگا رعزوجل !ہمیں تیری عزت و جلا ل کی قسم! ہم کبھی بھی تیرے دَر سے نہیں جائیں گے، ہماری اُمیدیں صرف تجھ سے ہی وابستہ رہیں گی ،ہم تیرے ہی دَر پر پڑے رہیں گے اگرچہ ہمیں دُھتکاردیا جائے لیکن ہم پھر بھی تیرے دَر کو نہیں چھوڑ یں گے ۔”

پھر اس بچی نے مجھ سے کہا:”اللہ عزوجل آپ کو اپنی حِفظ وامان میں رکھے ، برائے کرم! آپ یہ رقم واپس لے جائیں اور جہا ں سے لائے ہیں وہیں رکھ دیں۔ ہمیں اس دولت کی کوئی حاجت نہیں ،ہمیں ہمارا پر وردگار عزوجل کا فی ہے۔وہ ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کریگا۔ ہم اپنی تمام حاجتیں اس پاک پروردگار عزوجل کی بار گاہ میں پیش کرتے ہیں ،وہی ہماری حاجتو ں کو پورا کرنے والا ہے ، وہی تمام جہانوں کاپالنے والا اورساری مخلوق کا حاکم و والی ہے۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

؎ تمہارے در تمہارے آستاں سے میں کہاں جاؤں نہ مجھ سا کوئی بے بس ہے نہ تم سا کوئی والی ہے

حَسْبُنَااللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ

پیشاب گاہ داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے

حدیث نمبر :324

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی پیے تو برتن میں سانس نہ لے۲؎اور جب پاخانے جائے تو پیشاب گاہ داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ کا نام حارث ابن ربعی یا ابن نعمان ہے،انصاری ظفری ہیں،بیعت عقبہ اورتمام غزوات میں شامل ہوئے،بدریااحد میں آپ کی آنکھ نکل پڑی تھی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ ٹکا کر اپنا لعاب شریف لگادیاتو دوسری آنکھ سے زیادہ روشن ہوگئی،ابو سعید خدری کے اخیافی یعنی ماں شریکےبھائی ہیں،ستر سال عمر پائی ۵۴ھ ؁میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔

۲؎ بلکہ برتن منہ سے علیحدہ کرکے سانس لے تاکہ تھوک یا رینٹ پانی میں نہ پڑے،نیز سانس میں اندر کی گرمی اور زہریلا مادہ ہوتا ہے جو پانی میں مل کر بیماری پیدا کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ چائے وغیرہ گرم چیز میں پھونکیں مارنا منع ہے۔

۳؎ کیونکہ داہنا ہاتھ کھانے پینے اور تسبیح وتہلیل شمار کرنے کے لیے ہے،لہذا اسے گندے کام میں استعمال نہ کرے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ اسی طرح زبان و آنکھ و کان کو گناہوں میں استعمال نہ کرے کہ یہ چیزیں اﷲ کا ذکرکرنے قرآن دیکھنے و سننے کے لیے ہیں۔

لعنتی کام کون سے ہیں

حدیث نمبر :323

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو۲ لعنتی کاموں سے بچو ۱؎ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا یارسول اﷲ لعنتی کام کون سے ہیں،فرمایا وہ جو لوگوں کی راہ یا سایہ کی جگہ پر پاخانہ کرے۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی جن دو کاموں کی وجہ سے لوگ کرنے والے کو طعن لعن کرتے ہیں ان سے پرہیز کرو۔

۲؎ یعنی راستہ عام طور پر جہاں مسلمانوں کا گزر گاہ ہو وہاں پاخانہ نہ کرو،یوں ہی جس سایہ میں لوگ دھوپ کیوقت عمومًا بیٹھتے لیٹے ہوں وہاں نہ کرو کہ اس سے رب تعالٰی بھی ناراض ہوتا ہے،لوگ بھی برا کہتے ہیں۔لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نخلستان میں حاجت قضا فرمائی کیونکہ وہ جگہ لوگوں کے آرام کی نہ تھی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ پانی کے گھاٹ اورگزر گاہ عوام پر پاخانہ نہ کرے اور کسی کی ملک زمین میں اس کی بغیر اجازت نہ کرے۔

پیشاب سے پرہیز

حدیث نمبر :322

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم دو قبروں پر گزرے تو فرمایا کہ یہ دونوں عذاب دیئے جارہے ہیں اورکسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جارہے ان میں سے ایک تو پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور مسلم کی روایت میں ہے کہ پیشاب سے پرہیز نہ کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا پھر آپ نے ایک ہری تر شاخ لی اور اسے چیرکر دو۲ حصے فرمائے پھر ہرقبر میں ایک گاڑ دی لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ آپ نے یہ کیوں کیا،تو فرمایا کہ شاید جب تک یہ نہ سوکھیں تب تک ان کا عذاب ہلکا ہو ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ حدیث بڑے معر کے کی ہے اس سے بے شمار مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

(۱)حضور کی نگاہ کے لئے کوئی شے آڑ نہیں،کھلی چھپی ہرچیز آپ پر ظاہر ہے کہ عذاب قبر کے اندر ہے حضور قبر کے اوپر تشریف رکھتے ہیں اور عذاب دیکھ رہے ہیں۔

(۲)حضور خلقت کے ہر کھلے چھپے کام کو دیکھ رہے ہیں کہ کون کیا کررہا ہے اور یہ کیا کرتا تھا،فرمادیا کہ ایک چغلی کرتا تھا اور ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔

(۳)گناہ صغیرہ پر حشر و قبر میں عذاب ہوسکتا ہے۔دیکھو چغلی وغیرہ گناہ صغیر ہ ہیں مگر عذاب ہورہا ہے۔

(۴)حضور ہر گناہ کا علاج بھی جانتے ہیں،دیکھو قبر پر شاخیں لگائیں تاکہ عذاب ہلکا ہو۔

(۵)قبروں پر سبزہ،پھول،ہار وغیرہ ڈالنا سنت سے ثابت ہے کہ اس کی تسبیح سے مردے کو راحت ہے۔

(۶)قبر پر قرآن پاک کی تلاوت،وہاں حافظ بٹھانا بہت اچھا ہے کہ جب سبزہ کے ذکر سے عذاب ہلکا ہوتا ہے تو انسان کے ذکر سے ضرور ہلکا ہوگا۔اشعۃ اللمعات نے جامع الاصول سے روایت کی کہ حضرت بریدہ صحابی نے وصیت کی تھی میری قبر میں دو ہری شاخیں ڈال دی جائیں تاکہ نجات نصیب ہو۔

(۷)اگرچہ ہرخشک و ترچیزتسبیح پڑھتی ہے مگر سبزے کی تسبیح سے مردے کو راحت نصیب ہوتی ہے۔ایسے ہی بے دین کی تلاوت قرآن کا کوئی فائدہ نہیں کہ اس میں کفر کی خشکی ہے۔مؤمن کی تلاوت مفید ہے کہ اس میں ایمان کی تری ہے۔

(۸)گنہگاروں کی قبر پر سبزہ عذاب ہلکا کرے گا،بزرگوں کی قبروں پر سبزہ مدفون کا ثواب و درجہ بڑھائے گا۔جیسے مسجد کے قدم وغیرہ۔

(۹)حلال جانوروں کا پیشاب نجس ہے جس سے بچنا واجب۔دیکھو اونٹ کا چرواہا اونٹ کے پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہوا۔

(۱۰)خشک نہ ہونے کی قید سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاثیر صرف حضور کے ہاتھ شریف کی نہ تھی ہم بھی قبر پر سبزہ ڈالیں تو یہی تاثیر ہوگی۔

(۱۱)بزرگوں کے قبرستان میں قدم رکھنے کی برکت سے وہاں عذاب اٹھ جاتا ہے یا کم ہوجاتا ہے۔(مرقاۃ)

حضرت ابوہریرہ کی روایات کے مجموعے

حضرت ابوہریرہ کی روایات کے مجموعے

روایت حدیث میں آپکی شان امتیازی حیثیت کی حامل ہے ،پانچ ہزار سے زائد احادیث کا ذخیرہ تنہا آپ سے مروی ہے جو آج بھی کتابوں میں محفوظ ہے۔

آپکی روایات بھی آپکے دور میں جمع وتدوین کے مراحل سے گذرکر کتابی شکل میں جمع ہو گئی تھیں ،اس سلسلہ کے چند نسخے مشہور ہیں ۔

پہلا نسخہ بشیر بن نہیک کا مرتب کر دہ ہے ۔وہ کہتے ہیں:۔

کنت اکتب ما اسمع من ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فلما اردت ان افارقہ اتیتہ بکتابہ فقرأتہ علیہ وقلت لہ : ھذ ماسمعتہ منک قال: نعم (السنن للدارمی، ۶۸ ٭ السنۃ قبل التدوین، ۳۴۸)

حضرت بشیربن نھیک کہتے ہیں : میں جو کچھ حضرت ابوہریرہ سے سنتا وہ لکھ لیا کرتا تھا ، جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تووہ مجموعہ میں نے آپکو پڑھکر سنایا اورعرض کیا : یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے آپ سے سماعت کی ہیں ،فرمایا : ہاں صحیح ہیں ۔

دوسرامجموعہ حضرت حسن بن عمروبن امیہ الضمری کے پاس تھا۔( جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۸۴)

تیسرا مجموعہ زیادہ مشہور ہے اور یہ ہمام بن منبہ کا مرتب کردہ ہے ۔یہ اب چھپ چکا ہے ، اس مجموعہ کی اکثر احادیث مسند احمد ، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں ،انکے مواز نہ سے پتہ چلتاہے کہ ان میں ذرہ برابر فرق نہیں ،پہلی صدی اورتیسری صدی کے مجموعوں کی مطابقت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ احادیث ہر قسم کی آمیزش سے محفوظ رہیں ۔

یہ یمن کے امراء سے تھے ، انکے علاوہ تلامذہ اور خود آپکے مرتب کردہ مجموعے بھی تھے ۔ حسن بن عمروبیان کرتے ہیں :۔

تحدثت عند ابی ہریرۃ بحدیث فانکر ہ فقلت انی سمعت منک ، فقال : ان کنت سمعتہ منی فھو مکتوب عندی ،فاخذ بیدی الی بیتہ فأرانا کتبا کثیرۃ من حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فوجد ذلک الحدیث فقال : قد اخبرتک ان کنت حدثتک بہ فھو مکتوب عندی۔ (فیوض الباری، ۱/۲۳)

میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک حدیث پڑھی ،آپ نے اس کو تسلیم نہ کیا ،میں نے عرض کیا : یہ حدیث میں نے آپ ہی سے سنی ہے ،فرمایا : اگر واقعی تم نے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے تو پھر یہ میرے پاس لکھی ہوئی موجود ہوگی ۔پھر آپ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے گھر لے گئے ،آپ نے ہمیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث کی کئی کتابیں دکھائیں وہاں وہ متعلقہ حدیث بھی موجود تھی ،آپ نے فرمایا: میں نے تم سے کہا تھا نا کہ اگر یہ حدیث میں نے تمہیں سنائی ہے تو ضرور میرے پاس لکھی ہوگی۔( جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۸۴)

اس روایت سے ظاہر کہ آپ کے پاس تحریر شدہ احادیث دس پانچ نہیں تھیں بلکہ جو کچھ وہ بیان کرتے تھے ان سب کو قید کتابت میں لے آئے تھے ۔قارئین اس بات سے بخوبی انداز لگاسکتے ہیں کہ صحابہ کے دور میں کتنا عظیم ذخیرئہ حدیث بشکل کتابت ظہور پذیر ہوچکا تھا ۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّـطۡمِسَ وُجُوۡهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰٓى اَدۡبَارِهَاۤ اَوۡ نَلۡعَنَهُمۡ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصۡحٰبَ السَّبۡتِ‌ؕ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 47

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّـطۡمِسَ وُجُوۡهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰٓى اَدۡبَارِهَاۤ اَوۡ نَلۡعَنَهُمۡ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصۡحٰبَ السَّبۡتِ‌ؕ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا ۞

ترجمہ:

اے اہل کتاب ! اس کتاب پر ایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل کیا ہے درآں حالیکہ وہ اس (اصل) کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمہارے پاس ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم بعض چہروں کے نقوش مٹا دیں پھر انکو ان کی پیٹھ کی جانب پھیر دیں یا ہم ان پر (اس طرح) لعنت کریں جس طرح ہم نے ہفتہ کے دن والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے اہل کتاب ! اس کتاب پر ایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل کیا ہے درآں حالیکہ وہ اس (اصل) کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمہارے پاس ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم بعض چہروں کے نقوش مٹا دیں پھر انکو ان کی پیٹھ کی جانب پھیر دیں یا ہم ان پر (اس طرح) لعنت کریں جس طرح ہم نے ہفتہ کے دن والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے۔ 

اس آیت کا معنی ہے اہل کتاب قرآن مجید کی تصدیق کرو جو توحید ‘ رسالت ‘ مبداء اور معاد اور بعض احکام شرعیہ میں تورات کے موافق ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم بعض چہروں کے نقوش مٹادیں ‘ یعنی آنکھوں اور ناک کی بناوٹ کے ابھار کو دھنسا کر چہرے کو بالکل سپاٹ بنادیں یا چہرے کو گدی کی جانب لگا دیں ‘ اس میں اختلاف ہے کہ یہ وعید دنیا کے متعلق ہے یا آخرت کے۔ 

امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ حسن بصری نے کہا اس آیت کا معنی ہے کہ اے اہل کتاب ! قرآن مجید پر ایمان لے آؤ اس سے پہلے کہ تم کو ہدایت سے پھیر کر گمراہی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن صوریا ‘ کعب بن اسد اور دیگر علماء یہود سے فرمایا : اے یہود ! اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آؤ بخدا تم کو یقین ہے کہ میں جس دین کی دعوت لے کر آیا ہوں وہ حق ہے ‘ انہوں نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اس دین کو نہیں جانتے انہوں نے انکار کیا اور کفر پر اصرار کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ 

عیسی بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم کعب احبار بیت المقدس کی طرف جارہے تھے انہوں نے حمص میں ایک شخص سے یہ آیت سنی تو ان پر دہشت طاری ہوگئی اور انہوں نے کہا اے رب میں ایمان لاتا ہوں اور اس سے پہلے کہ مجھے یہ وعید پہنچے میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٧٩) 

یا اس سے پہلے ایمان لے آئیں کہ ہم ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ان لوگوں پر لعنت کی تھی جن کو ہفتہ کے دن شکار کرنے سے منع کیا گیا تھا اور پھر انہوں نے ہفتہ کے دن شکار کیا یعنی جس طرح ہم نے ان لوگوں کی صورتیں مسخ کر کے انہیں بندر اور خنزیر بنادیا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 47

مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـيًّۢا بِاَ لۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنًا فِىۡ الدِّيۡنِ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانْظُرۡنَا لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَ لٰـكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 46

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـيًّۢا بِاَ لۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنًا فِىۡ الدِّيۡنِ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانْظُرۡنَا لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَ لٰـكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نافرمانی کی (اور آپ سے کہتے ہیں) سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کردیں میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے لیے بہتر اور درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت فرمائی ہے سو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور آپ سے کہتے ہیں سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کردیں میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے لیے بہتر اور درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت فرمائی ہے سو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے (النساء : ٤٦) 

یہود کی تحریف کا بیان : 

کلبی اور مقاتل نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات ‘ آپ کی بعثت کے زمانے اور آپ کی نبوت کے متعلق یہود کی کتاب میں جو پیش گوئیاں تھیں وہ ان کو بدل دیتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ ہم نے آپ کی بات سنی اور اس کی نافرمانی کی ‘ اور اپنی زبان مروڑ کر آپ سے راعنا کہتے تھے اور یہ ان کی لغت میں گالی تھی۔ قبتی نے کہا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی حدیث فرماتے یا کوئی حکم دیتے تو وہ کہتے تھے ہم نے سن لیا اور دل میں کہتے تھے کہ ہم نے نافرمانی کرلی ‘ اور جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات کرنے کا ارادہ کرتے تو کہتے تھے اے ابوالقاسم سنیے اور اپنے دل میں کہتے تھے کہ آپ نہ سنیں ‘ اور وہ آپ سے راعنا کہتے تھے اور اس لفظ سے یہ معنی ظاہر کرتے تھے کہ آپ ان پر نظر رحمت فرمائیں اور زبان مروڑ کر اس سے اپنے دل میں رعونت کا معنی لیتے تھے اور اگر وہ سمعنا وعصینا کی بجائے سمعنا واطعنا کہتے اور ” واسمع غیر مسمع “ اور ” راعنا ‘ کی جگہ انظرنا کہتے ہیں تو یہ بہت بہتر او بہت درست ہوتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کردی ہے ‘ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس توہین کی سزا میں ان کو دنیا میں رسوا کردیا اور آخرت میں ان کو اپنی رحمت سے بالکلیہ دور کردیا ‘ سو ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائیں گے ‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب ہیں ‘۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جناب میں ایسا لفظ کہنا جس کا ظاہری معنی توہین کا موہم ہو کفر ہے ‘ اس کی پوری تفسیر ہم نے تبیان القرآن جلد اول البقرہ : ١٠٤ میں بیان کردی ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت فرمائی ہے اس لیے ہم یہاں کسی شخص پر لعنت کرنے کی تحقیق کررہے ہیں۔ 

لعنت کی اقسام اور کسی شخص پر لعنت کرنے کی تحقیق :

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

لعنت کا معنی ہے کسی شخص کو کرنا اور از روئے غضب کسی شخص کو دھتکارنا ‘ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا معنی ہے اس کو سزا اور عذاب دینا اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا معنی ہے اس پر رحمت نہ فرمانا ‘ اور اس کو نیکی کی توفیق نہ دینا ‘ اور جب انسان کسی پر لعنت کرے تو اس کا معنی ہے اس کو بددعا دینا۔ (المفردات ص ‘ ٤٥١‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

(١) فسق اور ظلم پر علی الاطلاق لعنت کرنا جائز ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ : (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الکاذبین “۔ (آل عمران : ٦١) (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الظالمین “۔ (الاعراف : ٤٤) 

(٢) کسی معین شخص پر لعنت کرنا جس کا معنی یہ ہو کہ وہ اللہ کی رحمت سے مطلقا مردود ہے یہ اس شخص کے سوا اور کسی پر جائز نہیں ہے جس کی کفر پر موت قطعی اور یقینی ہو جیسے ابو لہب اور ابوجہل اور دیگر مقتولین بدرواحد ‘ اور جس کی کفر پر موت قطعی اور یقینی نہ ہو اس پر یہ لعنت نہیں کی جائے گی خواہ وہ مشہور فاسق ہو جیسے یزید۔ 

(٣) علامہ قہستانی نے لکھا ہے کہ جب کفار پر لعنت کی جائے تو شرعا اس کو معنی ہے اللہ کی رحمت سے بالکلیہ دور کرنا ‘ اور جب مومنین پر لعنت کی جائے تو اس کا معنی ہے ان کو ابرار اور مقربین کے درجہ سے دور کرنا ‘ البرالرائق کی بحث لعان میں کیا معین کاذب پر لعنت کرنا جائز ہے ؟ میں کہتا ہوں کہ غایت البیان کے باب العدۃ میں مذکور ہے حضرت ابن مسعود نے فرمایا جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کا معنی کرلوں اور مباہلہ کا معنی ہے ایک دوسرے پر لعنت کرنا ‘ اور جب ان کا کسی چیز میں اختلاف ہوتا تو وہ کہتے تھے کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو ‘ اور فقہاء نے کہا یہ لعنت ہمارے زمانہ میں بھی مشروع ہے ‘ قرآن مجید میں مومن پر لعن معین کا ثبوت ہے جب لعان میں پانچوں دفعہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے والا مرد کہتا ہے : 

(آیت) ” والخامسۃ ان لعنت اللہ علیہ ان کان من الکاذبین “۔ (النور : ٧) 

ترجمہ : اور پانچویں گواہی یہ ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ 

اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ مومن پر لعنت کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کو مقربین اور ابرابر کے درجہ سے دور کیا جائے نہ کہ اللہ کی رحمت سے بالکلیہ دور کیا جائے۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ٥٤١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 46