حضرت ابوہریرہ کی روایات کے مجموعے

حضرت ابوہریرہ کی روایات کے مجموعے

روایت حدیث میں آپکی شان امتیازی حیثیت کی حامل ہے ،پانچ ہزار سے زائد احادیث کا ذخیرہ تنہا آپ سے مروی ہے جو آج بھی کتابوں میں محفوظ ہے۔

آپکی روایات بھی آپکے دور میں جمع وتدوین کے مراحل سے گذرکر کتابی شکل میں جمع ہو گئی تھیں ،اس سلسلہ کے چند نسخے مشہور ہیں ۔

پہلا نسخہ بشیر بن نہیک کا مرتب کر دہ ہے ۔وہ کہتے ہیں:۔

کنت اکتب ما اسمع من ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فلما اردت ان افارقہ اتیتہ بکتابہ فقرأتہ علیہ وقلت لہ : ھذ ماسمعتہ منک قال: نعم (السنن للدارمی، ۶۸ ٭ السنۃ قبل التدوین، ۳۴۸)

حضرت بشیربن نھیک کہتے ہیں : میں جو کچھ حضرت ابوہریرہ سے سنتا وہ لکھ لیا کرتا تھا ، جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تووہ مجموعہ میں نے آپکو پڑھکر سنایا اورعرض کیا : یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے آپ سے سماعت کی ہیں ،فرمایا : ہاں صحیح ہیں ۔

دوسرامجموعہ حضرت حسن بن عمروبن امیہ الضمری کے پاس تھا۔( جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۸۴)

تیسرا مجموعہ زیادہ مشہور ہے اور یہ ہمام بن منبہ کا مرتب کردہ ہے ۔یہ اب چھپ چکا ہے ، اس مجموعہ کی اکثر احادیث مسند احمد ، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں ،انکے مواز نہ سے پتہ چلتاہے کہ ان میں ذرہ برابر فرق نہیں ،پہلی صدی اورتیسری صدی کے مجموعوں کی مطابقت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ احادیث ہر قسم کی آمیزش سے محفوظ رہیں ۔

یہ یمن کے امراء سے تھے ، انکے علاوہ تلامذہ اور خود آپکے مرتب کردہ مجموعے بھی تھے ۔ حسن بن عمروبیان کرتے ہیں :۔

تحدثت عند ابی ہریرۃ بحدیث فانکر ہ فقلت انی سمعت منک ، فقال : ان کنت سمعتہ منی فھو مکتوب عندی ،فاخذ بیدی الی بیتہ فأرانا کتبا کثیرۃ من حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فوجد ذلک الحدیث فقال : قد اخبرتک ان کنت حدثتک بہ فھو مکتوب عندی۔ (فیوض الباری، ۱/۲۳)

میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک حدیث پڑھی ،آپ نے اس کو تسلیم نہ کیا ،میں نے عرض کیا : یہ حدیث میں نے آپ ہی سے سنی ہے ،فرمایا : اگر واقعی تم نے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے تو پھر یہ میرے پاس لکھی ہوئی موجود ہوگی ۔پھر آپ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے گھر لے گئے ،آپ نے ہمیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث کی کئی کتابیں دکھائیں وہاں وہ متعلقہ حدیث بھی موجود تھی ،آپ نے فرمایا: میں نے تم سے کہا تھا نا کہ اگر یہ حدیث میں نے تمہیں سنائی ہے تو ضرور میرے پاس لکھی ہوگی۔( جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۸۴)

اس روایت سے ظاہر کہ آپ کے پاس تحریر شدہ احادیث دس پانچ نہیں تھیں بلکہ جو کچھ وہ بیان کرتے تھے ان سب کو قید کتابت میں لے آئے تھے ۔قارئین اس بات سے بخوبی انداز لگاسکتے ہیں کہ صحابہ کے دور میں کتنا عظیم ذخیرئہ حدیث بشکل کتابت ظہور پذیر ہوچکا تھا ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.