يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّـطۡمِسَ وُجُوۡهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰٓى اَدۡبَارِهَاۤ اَوۡ نَلۡعَنَهُمۡ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصۡحٰبَ السَّبۡتِ‌ؕ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 47

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّـطۡمِسَ وُجُوۡهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰٓى اَدۡبَارِهَاۤ اَوۡ نَلۡعَنَهُمۡ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصۡحٰبَ السَّبۡتِ‌ؕ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا ۞

ترجمہ:

اے اہل کتاب ! اس کتاب پر ایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل کیا ہے درآں حالیکہ وہ اس (اصل) کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمہارے پاس ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم بعض چہروں کے نقوش مٹا دیں پھر انکو ان کی پیٹھ کی جانب پھیر دیں یا ہم ان پر (اس طرح) لعنت کریں جس طرح ہم نے ہفتہ کے دن والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے اہل کتاب ! اس کتاب پر ایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل کیا ہے درآں حالیکہ وہ اس (اصل) کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمہارے پاس ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم بعض چہروں کے نقوش مٹا دیں پھر انکو ان کی پیٹھ کی جانب پھیر دیں یا ہم ان پر (اس طرح) لعنت کریں جس طرح ہم نے ہفتہ کے دن والوں پر لعنت کی تھی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے۔ 

اس آیت کا معنی ہے اہل کتاب قرآن مجید کی تصدیق کرو جو توحید ‘ رسالت ‘ مبداء اور معاد اور بعض احکام شرعیہ میں تورات کے موافق ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم بعض چہروں کے نقوش مٹادیں ‘ یعنی آنکھوں اور ناک کی بناوٹ کے ابھار کو دھنسا کر چہرے کو بالکل سپاٹ بنادیں یا چہرے کو گدی کی جانب لگا دیں ‘ اس میں اختلاف ہے کہ یہ وعید دنیا کے متعلق ہے یا آخرت کے۔ 

امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ حسن بصری نے کہا اس آیت کا معنی ہے کہ اے اہل کتاب ! قرآن مجید پر ایمان لے آؤ اس سے پہلے کہ تم کو ہدایت سے پھیر کر گمراہی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن صوریا ‘ کعب بن اسد اور دیگر علماء یہود سے فرمایا : اے یہود ! اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آؤ بخدا تم کو یقین ہے کہ میں جس دین کی دعوت لے کر آیا ہوں وہ حق ہے ‘ انہوں نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اس دین کو نہیں جانتے انہوں نے انکار کیا اور کفر پر اصرار کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ 

عیسی بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم کعب احبار بیت المقدس کی طرف جارہے تھے انہوں نے حمص میں ایک شخص سے یہ آیت سنی تو ان پر دہشت طاری ہوگئی اور انہوں نے کہا اے رب میں ایمان لاتا ہوں اور اس سے پہلے کہ مجھے یہ وعید پہنچے میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٧٩) 

یا اس سے پہلے ایمان لے آئیں کہ ہم ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ان لوگوں پر لعنت کی تھی جن کو ہفتہ کے دن شکار کرنے سے منع کیا گیا تھا اور پھر انہوں نے ہفتہ کے دن شکار کیا یعنی جس طرح ہم نے ان لوگوں کی صورتیں مسخ کر کے انہیں بندر اور خنزیر بنادیا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 47

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.