کنز الایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 1 سورہ البقرہ آیت نمبر1 تا 7

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

سورۂ بقرہ یہ سورت مدنی ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مدینہ طیّبہ میں سب سے پہلے یہی سورت نازل ہوئی سوائے آیت ” وَاتَّقُوْا یَوْماً تُرْجَعُوْنَ ” کے کہ حجِ وَداع میں بمقام مکّہ مکرّمہ نازل ہوئی ۔ (خازن) اس سورت میں دو سو چھیاسی آیتیں چالیس رکوع چھ ہزار ایک سو اکیس کلمے پچیس ہزار پانچ سو حرف ہیں ۔ (خازن) پہلے قرآنِ پاک میں سورتوں کے نام نہ لکھے جاتے تھے ، یہ طریقہ حجّاج نے نکالا ۔ ابنِ عربی کا قول ہے کہ سورۂ بقر میں ہزار امر ، ہزار نہی ، ہزار حکم ، ہزار خبریں ہیں ، اس کے اخذ میں برکت ، ترک میں حسرت ہے ، اہلِ باطل جادو گر اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، جس گھر میں یہ سورت پڑھی جائے تین دن تک سرکش شیطان اس میں داخل نہیں ہوتا ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں یہ سورت پڑھی جائے ۔ (جمل) بیہقی و سعید بن منصور نے حضرت مغیرہ سے روایت کی کہ جو شخص سوتے وقت سورۂ بقرکی دس آیتیں پڑھے گا قرآن شریف کو نہ بھولے گا ، وہ آیتیں یہ ہیں چار آیتیں اوّل کی اور آیت الکرسی اور دو اس کے بعد کی اور تین آخر سورت کی ۔ 

مسئلہ : طبرانی وبیہقی نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا میت کو دفن کر کے قبر کے سرہانے سورۂ بقر کے اول کی آیتیں اور پاؤں کی طرف آخر کی آیتیں پڑھو ۔ 

شانِ نُزول : اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ایک ایسی کتاب نازل فرمانے کا وعدہ فرمایا تھا جو نہ پانی سے دھو کر مٹائی جا سکے نہ پرانی ہو ، جب قرآنِ پاک نازل ہوا تو فرمایا ”ذٰلِکَ الْکِتٰبُ ” کہ وہ کتابِ موعود یہ ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل سے ایک کتاب نازل فرمانے اور بنی اسمٰعیل میں سے ایک رسول بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا ، جب حضور نے مدینہ طیّبہ کو ہجرت فرمائی جہاں یہود بکثرت تھے تو ”الۤمّۤ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ ” نازل فرما کر اس وعدے کے پورے ہونے کی خبر دی ۔ (خازن)

الٓمّٓۚ(۱)(ف۲ )

(ف2)

”الٓمّٓۤ ”سورتوں کے اول جو حروفِ مقطّعہ آتے ہیں ان کی نسبت قولِ راجح یہی ہے کہ وہ اَسرارِ الٰہی اور متشابہات سے ہیں ، ان کی مراد اللہ اور رسول جانیں ہم اس کے حق ہونے پر ایمان لاتے ہیں ۔

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲)

وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں( ف ۳ ) اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو (ف۴)

(ف3)

اس لئے کہ شک اس میں ہوتا ہے جس پر دلیل نہ ہو ، قرآنِ پاک ایسی واضح اور قوی دلیلیں رکھتا ہے جو عاقلِ مُنْصِف کو اس کے کتابِ الٰہی اور حق ہونے کے یقین پر مجبور کرتی ہیں تو یہ کتاب کسی طرح قابلِ شک نہیں جس طرح اندھے کے انکار سے آفتاب کا وجود مشتبہ نہیں ہوتا ایسے ہی مُعانِدِ سیاہ دل کے شک و انکار سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہو سکتی ۔

(ف4)

” ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ” اگرچہ قرآنِ کریم کی ہدایت ہر ناظرکے لئے عام ہے ، مومن ہو یا کافِر جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ” ھُدًی لِّلنَّا سِ” لیکن چونکہ اِنتفاع اس سے اہلِ تقوٰی کو ہوتا ہے اس لئے ” ھُدًی لِلّمُتَّقِیْنَ ” ارشاد ہوا جیسے کہتے ہیں بارش سبزہ کے لئے ہے یعنی منتفع ، اس سے سبزہ ہوتا ہے اگرچہ برستی کلر اور زمین بے گیاہ پر بھی ہے ۔ تقوٰی کے کئی معنٰی آتے ہیں ، نفس کو خوف کی چیز سے بچانا اور عرفِ شرع میں ممنوعات چھوڑ کر نفس کو گناہ سے بچانا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا متّقی وہ ہے جو شرک وکبائر و فواحش سے بچے ۔ بعضوں نے کہا متّقی وہ ہے جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے ۔ بعض کا قول ہے تقوٰی حرام چیزوں کا ترک اور فرائض کا ادا کرنا ہے ۔ بعض کے نزدیک معصیت پر اصرار اور طاعت پر غرور کا ترک تقوٰی ہے ۔ بعض نے کہا تقوٰی یہ ہے کہ تیرا مولٰی تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ۔ ایک قول یہ ہے کہ تقوٰی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اور صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی پیروی کا نام ہے ۔ (خازن) یہ تمام معنی باہم مناسبت رکھتے ہیں اور مآل کے اعتبار سے ان میں کچھ مخالفت نہیں ۔ تقوٰی کے مراتب بہت ہیں عوام کا تقوٰی ایمان لا کر کُفر سے بچنا ، مُتوسّطین کا اوامر و نواہی کی اطاعت ، خواص کا ہر ایسی چیز کو چھوڑنا جو اللہ تعالٰی سے غافل کرے ۔ (جمل) 

حضرت مترجم قدس سرہ نے فرمایا تقوٰی سات قسم کا ہے ۔

(۱) کُفر سے بچنا یہ بفضلہ تعالٰی ہر مسلمان کو حاصل ہے (۲) بدمذہبی سے بچنا یہ ہر سنی کو نصیب ہے (۳) ہر کبیرہ سے بچنا (۴) صغائر سے بھی بچنا (۵) شبہات سے احتراز (۶) شہوات سے بچنا (۷) غیر کی طرف التفات سے بچنا یہ اخص الخواص کا منصب ہےاور قرآنِ عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی ہے ۔

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳)

وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں (ف۵) اور نماز قائم رکھیں (ف۶) اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں (ف۷)

(ف5)

” اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ” یہاں سے مُفْلِحُوْنَ ” تک آیتیں مومنین با اخلاص کے حق میں ہیں جو ظاہراً و باطناً ایماندار ہیں ۔ اس کے بعد دو آیتیں کھلے کافِروں کے حق میں ہیں جو ظاہراً و باطناً کافِر ہیں ۔ اس کے بعد ” وَ مِنَ النَّاسِ” سے تیرہ آیتیں منافقین کے حق میں ہیں جو باطن میں کافِر ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔ (جمل) 

غیب مصدر یا اسمِ فاعِل کے معنی میں ہے ، اس تقدیر پر غیب وہ ہے جو حواس و عقل سے بدیہی طور پر معلوم نہ ہو سکے ، اس کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ جس پر کوئی دلیل نہ ہو یہ علمِ غیب ذاتی ہے اور یہی مراد ہے آیۂ ” عِنْدَہ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ ” میں اور ان تمام آیات میں جن میں علمِ غیب کی غیرِ خدا سے نفی کی گئی ہے ، اس قِسم کا علمِ غیب یعنی ذاتی جس پر کوئی دلیل نہ ہو اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے ، غیب کی دوسری قِسم وہ ہے جس پر دلیل ہو جیسے صانِعِ عالَم اور اس کی صفات اور نبوّات اور ان کے متعلقات احکام و شرائع و روزِ آخر اور اس کے احوال ، بَعث ، نشر ، حساب ، جزا وغیرہ کا علم جس پر دلیلیں قائم ہیں اور جو تعلیمِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے یہاں یہی مراد ہے ، اس دوسرے قسم کے غیوب جو ایمان سے علاقہ رکھتے ہیں ان کا علم و یقین ہر مومن کو حاصل ہے اگر نہ ہو آدمی مومن نہ ہو سکے اور اللہ تعالٰی اپنے مقرب بندوں انبیاء و اولیاء پر جو غیوب کے دروازے کھولتا ہے وہ اسی قسم کا غیب ہے یا غیب معنی مصدری میں رکھا جائے اور غیب کا صلہ مومن بہ قرار دیا جائے یا باء کو متلبسین محذوف کے متعلق کر کے حال قرا ر دیا جائے ، پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے جو بے دیکھے ایمان لائیں جیسا حضرت مترجم قدس سرہ نے ترجمہ کیا ہے ، دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے جو مؤمنین کے پسِ غیب ایمان لائیں یعنی ان کا ایمان منافقوں کی طرح مومنین کے دکھانے کے لئے نہ ہو بلکہ وہ مخلص ہوں ، غائب حاضر ہر حال میں مؤمن رہیں ۔ غیب کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ غیب سے قلب یعنی دل مراد ہے ، اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ دل سے ایمان لائیں ۔ (جمل) ایمان جن چیزوں کی نسبت ہدایت و یقین سے معلوم ہے کہ یہ دینِ محمّدی سے ہیں ، ان سب کو ماننے اور دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ایمان صحیح ہے ، عمل ایمان میں داخل نہیں اسی لئے ” یُؤمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ” تر جمۂ کنز الایمان : (جو بے دیکھے ایمان لائیں ) کے بعد ” یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ” تر جمۂ کنز الایمان : (نماز قائم رکھیں ) فرمایا ۔

(ف6)

نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ اس پر مداومت کرتے ہیں اور ٹھیک وقتوں پر پابندی کے ساتھ اس کے ارکان پورے پورے ادا کرتے اور فرائض ، سُنَن ، مستحبات کی حفاظت کرتے ہیں ، کسی میں خلل نہیں آنے دیتے ، مفسدات و مکروہات سے اس کو بچاتے ہیں اور اس کے حقوق اچھی طرح ادا کرتے ہیں ۔ نماز کے حقوق دو طرح کے ہیں ایک ظاہری وہ تو یہی ہیں جو ذکر ہوئے ، دوسرے باطنی وہ خشوع اورحضوریعنی دل کو فارغ کر کے ہمہ تن بارگاہِ حق میں متوجہ ہو جانا اور عرض و نیاز و مناجات میں محویت پانا ۔

(ف7)

راہِ خدا میں خرچ کرنے سے یا زکٰوۃ مراد ہے جیسا دوسری جگہ فرمایا ” یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکوٰۃَ ” یا مطلق انفاق خواہ فرض و واجب ہو جیسے زکٰوۃ ، نذر ، اپنا اور اپنے اہل کا نفقہ وغیرہ ، خواہ مستحب جیسے صدقاتِ نافلہ ، اموات کا ایصالِ ثواب ۔ 

مسئلہ : گیارھویں ، فاتحہ، تیجہ ، چالیسواں وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں کہ وہ سب صدقاتِ نافلہ ہیں اور قرآنِ پاک و کلمہ شریف کا پڑھنا ، نیکی کے ساتھ اور نیکی ملا کر اجر و ثواب بڑھاتا ہے ۔ 

مسئلہ : ” مِمَّا ” میں مِنْ تبعیضیہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ انفاق میں اسراف ممنوع ہے یعنی انفاق خواہ اپنے نفس پر ہو یا اپنے اہل پر یا کسی اور پر ، اعتدال کے ساتھ ہو اسراف نہ ہونے پائے ۔ 

” رَزَقْنَا ھُمْ ” کی تقدیم اور رزق کو اپنی طرف نسبت فرما کر ظاہر فرمایا کہ مال تمہارا پیدا کیا ہوا نہیں ، ہمارا عطا فرمایا ہوا ہے ، اس کو اگر ہمارے حکم سے ہماری راہ میں خرچ نہ کرو تو تم نہایت ہی بخیل ہو اور یہ بُخل نہایت قبیح ۔

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ-وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴)

اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا(ف۸) اور آخرت پر یقین رکھیں (ف۹)

(ف8)

اس آیت میں اہلِ کتاب سے وہ مومنین مراد ہیں جو اپنی کتاب اور تمام پچھلی آسمانی کتابوں اور انبیاء علیہم السلام کی وحیوں پر بھی ایمان لائے اور قرآنِ پاک پر بھی اور ” مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ ” سے تمام قرآنِ پاک اور پوری شریعت مراد ہے ۔ (جمل) 

مسئلہ : جس طرح قرآنِ پاک پر ایمان لانا ہر مکلَّف پر فرض ہے اسی طرح کتبِ سابقہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو اللہ تعالٰی نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے قبل انبیاء علیہم السلام پر نازل فرمائیں البتہ ان کے جو احکام ہماری شریعت میں منسوخ ہو گئے ان پر عمل درست نہیں مگر ایمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ الْمقد س قبلہ تھا ، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضروری ہے مگر عمل یعنی نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں ، منسوخ ہو چکا ۔ 

مسئلہ : قرآنِ کریم سے پہلے جو کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کے انبیاء پر نازل ہوا ان سب پر اجمالاً ایمان لانا فرضِ عین ہے اور قرآن شریف پر تفصیلاً فرض کفایہ ہے لہٰذا عوام پر اس کی تفصیلات کے علم کی تحصیل فرض نہیں جب کہ عُلَماء موجود ہوں جنہوں نے اس کی تحصیلِ علم میں پوری جہد صرف کی ہو ۔

(ف9)

یعنی دارِ آخرت اور جو کچھ اس میں ہے جزا و حساب وغیرہ سب پر ایسا یقین و اطمینان رکھتے ہیں کہ ذرا شک و شبہ نہیں ، اس میں اہلِ کتاب وغیرہ کُفّار پر تعریض ہے جن کے اعتقاد آخرت کے متعلق فاسد ہیں ۔

اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)

وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۶)

بےشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے (ف۱۰) انہیں برابر ہے چاہے تم انہیں ڈراؤیا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں

(ف10)
اولیاء کے بعد اعداء کا ذکر فرمانا حکمتِ ہدایت ہے کہ اس مقابلہ سے ہر ایک کو اپنے کردار کی حقیقت اور اس کے نتائج پر نظر ہو جائے ۔
شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل ، ابولہب وغیرہ کُفّار کے حق میں نازل ہوئی جو علمِ الٰہی میں ایمان سے محروم ہیں اسی لئے ان کے حق میں اللہ تعالٰی کی مخالفت سے ڈرانا ، نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں ، انہیں نفع نہ ہو گا مگر حضور کی سعی بیکار نہیں کیونکہ منصبِ رسالتِ عامّہ کا فرض رہنمائی و اقامت حُجّت و تبلیغ علٰی وجہِ الکمال ہے ۔
مسئلہ : اگر قوم پندپذیر نہ ہو تب بھی ہادی کو ہدایت کا ثواب ملے گا ۔ اس آیت میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ کُفّار کے ایمان نہ لانے سے آپ مغموم نہ ہوں آپ کی سعی تبلیغِ کامل ہے اس کا اجر ملے گا ، محروم تو یہ بدنصیب ہیں جنہوں نے آپ کی اطاعت نہ کی ۔ کُفر کے معنٰی اللہ تعالٰی کے وجود یا اس کی وحدانیت یا کسی نبی کی نبوّت یا ضروریاتِ دین سے کسی امر کا انکار یا کوئی ایسا فعل جو عِنْدَ الشَّرع انکار کی دلیل ہو کُفر ہے ۔

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠(۷)

اللہ نے اُن کے دِلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے (ف۱۱) اور ان کے لیے بڑا عذاب

(ف11)

خلاصہ : مطلب یہ ہے کہ کُفّار ضلالت و گمراہی میں ایسے ڈوبے ہوئے ہیں کہ حق کے دیکھنے ، سننے ، سمجھنے سے اس طرح محروم ہو گئے جیسے کسی کے دل اور کانوں پر مُہر لگی ہو اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہو ۔ 

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندوں کے افعال بھی تحتِ قدرتِ الٰہی ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عمر کی مرویات

حضرت عبداللہ بن عمر کی مرویات

یہ بھی ان صحابہ کرام میں ہیں جو ابتدائً کتابت حدیث کے حق میں نہ تھے ، لیکن زمانے کے بدلتے حالات نے انکو بھی کتابت حدیث کے موقف پر لا کھڑا کیا تھا ،لہذا آپ نے بھی کتابت حدیث کا سلسلہ شروع کیا ، آپکے ارشد تلامذہ میں حضرت نافع آپکے آزاد کردہ غلام ہیں ،تیس سال آپکی خدمت میں رہے ،امام مالک ان سے روایت کرتے ہیں ،انکے بارے میں حضرت سلیمان بن موسی کا بیان ہے ۔

انہ رأی نافعا مولی ابن عمر علی علمہ ویکتب بین یدیہ (السنن للدارمی، ۶۶)

انہوں نے دیکھا کہ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے علم کے حافظ تھےاورانکے سامنے بیٹھ کر لکھا کرتے تھے ۔

حضرت مجاہد ،حضرت سعید بن جبیر اور آپکے بیٹے حضرت سالم کا بھی یہ ہی طریقہ تھا ،

بلکہ آخرمیں تو آپ نے اپنی اولاد کو یہ حکم دے دیا تھا کہ:۔

قیدواالعلم بالکتاب۔ (السنن للدارمی، ۶۸)

استمداد اور استعانت

استمداد اور استعانت کا معنی ’’طلب معونت‘‘یعنی مدد طلب کرنا ہے ۔’’ استغاثہ ‘‘ فریاد خواہی کو کہتے ہیں(عامۂ لغات ،نیز دیکھیں الجواہر المنظم؍ ص ۱۲۴،المجمع الثقافی ،ابو ظبی) اور توسل، وسیلہ،تشفع یہ استمداد اور استعانت کے قریب المعنی الفاظ ہیں جن کا معنی تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ(حاشیہ الصاوی علی الجلا لین ، ج۱؍ ص ۲۸۲) یہ بھی استعانت کی ایک نوع ہے ۔اور ’توحید‘’شرک‘ کی ضد ہے ،توحید کا حقیقی مفہوم الوہیت اور لوازم ِالوہیت کو صرف اللہ عز و جل کے لئے مخصوص ماننا اور اسی کی ذات میں منحصر سمجھنا ہے ۔بلفظ دیگر اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات و صفات میں یکتا و منفرد اعتقاد کرنا اور شریک سے پاک ماننا ہے۔ (حاشیہ صحیح البخاری ،ج۲؍ ص ۱۰۹۶، تعریف علامہ بدرالدین عینی حنفی)

زیر نظر عنوان میں اس بات کی وضاحت مقصود ہے کہ اہل سنت و جماعت میں رائج و معمول انبیاء ،اولیاء،اور صالحین سے استمداد ’’استعانت اور استغاثہ و توسل‘‘آیا تصور توحید کے منافی ہے یا یہ کہ یہ اسلامی معتقدات اور معمولات ہی کا ایک حصہ ہے؟۔۔۔۔

اسلام کی ابتدائی تین صدیوں سے لے کر ساتویں صدی ہجری تک تمام اہل اسلام میں انبیاء و صالحین سے طلبِ معونت، فریاد خواہی اور قضائے حاجت کے لئے انہیں وسیلہ بنانا ایک حقیقتِ ثابتہ رہی اور بلا تفریق جمہور مسلمین اس کے جواز و استحسان پرقولاً و عملاً متحد و متفق رہے۔خیر القرون میں صحابہ و تابعین و تبع تابعین ،کتاب و سنت کے حاملین خود ساتویں صدی ہجری کے علمائے راسخین و فقہاء و محدثین کا یہی موقف رہا،اور بے کسی اختلاف و نزاع کے رسول اللہکے صحیح و حقیقی جانشین آج بھی اسی پاکیزہ موقف پر گامزن ہیں۔ان میں سے کسی نے بھی انبیاء و صلحاء سے’’ استمداد و توسل ‘‘کو اسلامی تصورِ توحید کے منافی نہیں جانا۔چنانچہ اسلامی معتقدات ومعمولات کے شارح حجۃ الاسلام امام غزالی(متوفی ۵۰۵؁ھ) قُدِّ سَ سِرُّہُ فرماتے ہیں:’’مَنْ یُّسْتَمَدُّ فِیْ حَیَا تِہٖ یُسْتَمَدُّ بَعْدَ وَفَا تِہٖ‘‘(احیاء العلوم للغزالی)جس سے زندگی میں مدد مانگی جاتی ہے بعد وفات بھی اس سے مدد مانگی جائے گی ۔امام احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی شافعی مکی (۹۷۴؁ھ)’’الجوہر المنظم‘‘ میں چند حدیثیں نقل فرماتے ہیں جو استمداد اور توسل کے جواز و استحباب کی دلیل ہیں۔

پھر فرماتے ہیں : ’’ہر طرح کے ذکر خیر میں حضور اقدسکا وسیلہ اور ان سے استعانت کی جاتی ہے۔آپ کے اس دنیا ئے فانی میں ظہور سے قبل بھی اور بعد ظہور بھی ،آپ کی حیات ظا ہری میں بھی اور بعد وصال بھی،یوں ہی میدان قیامت میں بھی ،چنانچہ آپاپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں گے اور یہ ان امور میں سے ہے جن پر اجماع قائم ہے اور اس تعلق سے اخبار تواتر کی حد تک ہیں۔(الجواہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم ؍ص۱۷۸ ابو ظبی۔)

میں نے صرف دو اقوال نقل کئے، اگر علمائے راسخین کے اس قسم کے اقوال نقل کئے جائیں تو ایک کامل کتاب تیار ہوسکتی ہے ۔پوری جماعت اہل سنت کی جانب سے مسئلہ’’ استمداد اور توسل ‘‘کی وکالت کے لئے یہ دو اقتباسات کافی ہیں ۔’’استمداد وتوسل ‘‘کا یہ نظریہ ہر دور اور ہر قرن میں موجود رہا ۔اس میں پہلا رخنہ ڈالنے والا اور اس نظریۂ فکر کا پہلا منکر (نیز غیر اللہ سے استمداد وتوسل کو شرک وبت پرستی سے تعبیر کرنے والا) ساتویں صدی ہجری کے وسط کی پیدا وار ابن تیمیہ ہے(جس کی ولادت ۶۶۱ھ؁ میں ہوئی)اس دور کے علماء نے ابن تیمیہ کے دیگر تفردات کی طرح اس مسئلہ میں بھی اس کا شدید ردو ابطال فرمایا ۔ جس کے نتیجہ میں کوئی چار سو سال تک یہ فتنہ زیرِ زمین دفن رہا۔ بارہویں صدی کے آغاز میں محمد ابن عبد الوہاب نجدی نے اس فتنہ کو ابھارا اور اسی صدی کے اخیر میں شیخ نجدی کے ایک ریزہ خوار مولوی اسماعیل دہلوی نے ہندوستان میں اس فتنہ کو ہوادی،اور ان کے سُر سے سر ملاکر آج کل کے غیر مقلدین اس فاسد نظریہ کے داعی بن گئے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آنے والے سطور میں ہم اہل سنت کے نظریۂ استمداد پر ٹھوس دلائل وثبوت فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ استمدادو استعانت (غیر اللہ سے مدد طلب کرنا)کے وسیع مفہوم میں’’استغاثہ‘‘(فریاد خواہی)’’توسل‘‘تشفع‘‘مدد کے لئے ندا سبھی شامل ہیں،یوں ہی انبیاء وصلحاء سے ’’استمداد وتوسل‘‘خواہ ان کی ظاہری زندگی میں ہو یا بعد وصال اعمال صالحہ سے استعانت ووسیلہ کی طرح یہ بھی جائز ومستحسن ہے۔علامہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں :

’’ولا فرق بین ذکر التوسل والاستغاثۃ والتشفع والتوجہ بہ ا او بغیرہ من الانبیاء وکذاالاولیاء‘‘ (الجواہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم ؍ص۱۷۵ ابو ظبی۔)

’’لفظ توسل واستعانت ذکر کیا جائے،یا تشفع وتوجہ ان میں کوئی فرق نہیں اور یہ سب رسول اللہ ا سے جائز ودرست ہیں یونہی دیگر انبیاء کرام اور اولیاء سے‘‘۔

میں اوپر بیان کرچکا ہوں کہ آغاز اسلام سے لیکر اب تک ہر دور میں انبیاء،صلحاء،اولیاء سے استمداد وتوسل کا عام دستور رہا ’علمائے راسخین اورکتاب وسنت کے حاملین سے ہر قرن وصدی معمور رہی ،مگر کسی نے اس پر نکیر نہیں فرمائی سبھی بالاتفاق جائز ومستحسن اور قضائے حاجات کا ذریعہ سمجھتے رہے پچھلی امت میں بھی ذوات واشخاص اور اعمال سے استمداد واستعانت وتوسل کا دستور رہا ۔

ولادت مبارکہ سے قبل استمداد وتوسل

حضورکی ولادت مبارکہ سے قبل بھی آپ کی ذات پاک کا وسیلہ لیا گیا ۔خود حضرت آدم علی نبینا علیہ الصلاۃ والسلام نے لیا چنانچہ حاکم نے مستدرک میں ایک روایت نقل کی اور اسے صحیح قرار دیا کہ حضورﷺ نے فرمایا:لما اقترفت آدم الخطیئۃ قال یا رب!اسئلک بحق محمد اان غفرت لی۔ (المستدرک للحاکم ۲؍ ۶۱۵)

’’حضرت آدم علی نبینا علیہ السلام سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے بارگاہ خدا میں عرض کیا ،اے میرے پروردگار! میں تجھ سے محمدا کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوںکہ میری مغفرت فرما‘‘

اگر یہ وسیلہ واستعانت حرام یا شرک ہوتا تو حضرت آدم علیہ السلام کیوںکر وسیلہ لیتے؟ پھر حدیث کے آخری ٹکڑے میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صدقت یا آدم انہ لاحب الخلق الیّ اذا سالتنی بحقہ فقد غفرتک‘‘اے آدم ! تونے سچ کہا وہ مجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں اور جب تونے میرے حبیب کے وسیلے سے دعا مانگی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت فرمادی‘‘۔

کیا اب بھی کسی کے لئے یہ گنجائش باقی ہے کہ استمداد و توسل کو تصور توحید کے منافی سمجھے؟۔یہاں نہ تو وسیلہ لینے والا کوئی عامی ہے نہ وہ جس کا وسیلہ لیا جاتا ہے ۔وسیلہ لینے والا بھی نبی ہے جس کا وسیلہ لیا جارہا ہے وہ بھی نبی ہے ۔

اور پھر اللہ عزوجل کا اس وسیلے کو قبول فرماکر مغفرت فرمانا اس کے صحت واستحسان کی مستحکم دلیل ہے ۔یہ روایت حاکم کے نزدیک صحیح ہے ۔ اس روایت کو امام مالک علیہ الرحمہ نے بھی قبول فرمایا ہے ۔چنانچہ امام شہاب الدین خفاجی (متوفی ۸۱۲ھ؁) نے شرح شفاء میں نقل کیا ہے کہ جب خلیفہ منصور نے حج کیا اور حضور اقدسکی قبر شریف کی زیارت کی مسجد نبوی شریف میں حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ عرض کیا کہ اے ابو عبد اللہ ! میں قبلہ کی طرف رخ کرتا ہوا دعا مانگوں یا حضورکی طرف چہرہ کروں؟۔ حضرت امام مالک نے فرمایا:

’’ولمَ تصرف وجھک عنہ وھو وسیلتک ووسیلۃ ابیک آدم الی اللہ تعالیٰ بل استقبلہ واستشفع بہ فشفعہ اللہ فیک‘‘ ( شرح الشفاء لامام خفاجی ۳؍ ۳۹۸۔ شفاء السقام ؍ ۱۵۴ ۔۔ وفاء الوفاء ص ۱۳۷۶)

’’تم کیوں حضور کی طرف سے اپنا چہرہ پھیروگے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب تمہارا بھی وسیلہ ہیں،تمہارے باپ حضرت آدم کا بھی وسیلہ ہیں؟حضور ہی کی طرف چہرہ کرو اور حضور کی شفاعت کی درخواست کرو اللہ تعالیٰ تمہارے معاملے میں آپ کی شفاعت کو قبول فرمائے گا۔‘‘

پچھلی امتوں میں نبیٔ کریمسے توسل و استعانت کا رواج تھا چنانچہ یہود کے بارے میں قرآن کریم میں ہے۔’’اہل کتاب یہود نبی کے وسیلے سے کافروں کے مقابلے میں فتح مانگا کرتے تھے‘‘۔ (سورۃ البقرہ ؍ ۸۹

)

اسی آیت کی تفسیر میں امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں ’’یعنی فتح ونصرت کا سوال کرتے اور یوں دعا مانگتے اے اللہ ! نبی ِامی کے صدقے ہمیں فتح ونصرت عطا فرما‘‘ (التفسیر الکبیر ج ۳؍ ص ۲۰)

تفسیر در منثور میں ابو نعیم کے حوالے سے حضرت عبد اللہ ابن عباس کی جو روایت تخریج کی گئی ہے اس میں بنی قریظہ ونضیر کے یہودیوں کی دعا کے الفاظ اس طرح تھے :

’’اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے آخری پیغمبراکے طفیل کافروں پرفتحیا بی چاہتے ہیں،توہماری مدد فرماتوان کی مدد ہوئی‘‘ (دُرِّ منثور ، ج ۱؍ ص ۱۲۵)

تابوت سکینہ سے استمدادو توسل

ذوات واشخاص ہی کے ساتھ استمداد وتوسل خاص نہ تھا بلکہ انبیاء وصلحاء کی طرف منسوب اشیاء سے بھی لوگ توسل کرتے اور مدد چاہتے تھے ۔چنانچہ ’’تابوت سکینہ‘‘ کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اور جسے کتاب اللہ نے عظیم الشان نشانی قرار دیا ہے ۔ (سورۃ البقرہ آیت ۲۴۸)علامہ قاضی بیضاوی اور دیگر مفسرین کی صراحت کے مطابق ’’تابوت سکینہ‘‘میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا مبارک اور آپ کے کپڑے،آپ کے نعلین،حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ مبارکہ اور توریت کے ٹکڑے تھے۔(تفسیر بیضاوی بقرہ ص۱۶۱)اس تابوت کے تعلق سے کتب تفاسیر میں یہ ذکر ہے کہ جب بنی اسرائیل کو کوئی مصیبت در پیش ہوتی تو وہ اس تابوت کے وسیلہ سے دعائیں کرتے اور دشمنوں کے مقابلے میں فتح پاتے’’وکانوا یستفتحونہٗ علی عدوھم ویقدمون فی القتال ویسکنون الیہ (تفسیر جلالین بقرہ ص ۳۸)’’بنی اسرائیل اس تابوت کے توسل سے اپنے دشمنوں پر فتح یابی طلب کرتے اور اسے معرکۂ جنگ میں آگے رکھتے اور اس سے سکون حاصل کیا کرتے تھے ‘‘ظاہر ہے کہ ’’تابوت سکینہ‘‘اللہ نہیں ہے ،غیر اللہ ہے تو اس کے توسل سے فتح یابی چاہنا غیر اللہ سے استعانت ہوئی ۔اور قرآن کریم نے نکیر نہ فرمائی بلکہ موقع مدح میں ذکر فرمایا۔اس لئے قرآن وتفاسیر کا مطالعہ کرنے والااور اس پر ایمان لانے والا کوئی بھی شخص استعانت بغیراللہ کا انکار کرہی نہیں سکتا ۔ان چیزوں سے استعانت اس لئے تھی کہ یہ چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی جانب منسوب تھیں ۔حضرت اسماء بنت ابی بکررضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توسط سے رسول اللہکا زیب تن کیا ہوا جُبّہ ملا تو وہ اسے مریضوں کے لئے نکالا کرتی اور دھو کر اس کا غسالہ مریضوں کو پلایا کرتی تھیں اور اس سے شفا چاہتی تھیں۔

(مسلم بحوالہ مشکوٰۃ ص؍۳۷۴)

قرآن کریم سے استمداد بغیر اللہ کا ثبوت

رب کریم ارشاد فرماتا ہے ’’واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ‘‘(سورۃ البقرہ آیت ۱۵۳) ’’صبر اور نماز سے مدد چاہو‘‘۔ظاہر ہے کہ نہ صبر خدا ہے ،نہ نماز بلکہ دونوں غیر اللہ ہیں،اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ سے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے ۔اس سے ثابت ہو ا کہ اعمال صالحہ سے استمداد واستعانت جائز ومستحسن ہے ۔

رب عزوجل اشخاص وذوات سے بھی استمداد کا حکم فرماتا ہے۔ ارشاد ہے’’تعاونوا علی البر والتقویٰ‘‘(سورۂ مائدہ آیت ۲)’’نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘اس آیت میں اشخاص سے استمدادواستعانت کا حکم فرمایا گیا ہے۔ائمہ مجتہدین شخصیت اور عمل دونوں کے وسیلے سے متعلق استدلال میں درج ذیل آیت کریمہ پیش کرتے ہیں:

’’یاایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ‘‘(سورئہ مائدہ آیت ۳۵)’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو‘‘حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وسیلہ لیا ۔اور ان کے وسیلہ سے بارش ہوئی ۔تو حضرت عمر نے فرمایا ’’ھذا واللہ الوسیلۃ الی عزوجل والمکان منہ‘‘خدا کی قسم حضرت عباس اللہ کی بارگاہ کے وسیلہ اور رتبہ والے ہیں۔(الاستیعاب لابن عبد البر) اس روایت نے واضح کردیا کہ مذکورہ آیت کریمہ میں صرف اعمال صالحہ کا وسیلہ مطلوب نہیں ۔ بلکہ صلحاء کی ذات کا بھی وسیلہ مطلوب ہے۔یعنی خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بناناجو غیر اللہ سے استمداد کی ایک اہم صورت ہے کیا کوئی دعویٰ اسلام کے بعد یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ معاذ اللہ غیر اللہ سے استمدادو استعانت کاحکم دے کر اللہ عزوجل نے ناجائز وحرام بلکہ شرک کا حکم دیا ۔لہٰذا ماننا پڑے گا کہ استمدادو استعانت اور توسل ذوات واشخاص کا بھی درست ہے پھر یہ اپنے عموم میں زندہ ووصال یافتہ دونوں کو شامل ہے ۔

احادیث سے استمداد بغیر اللہ کا ثبوت

استمدادو استعانت خواہ اعمال سے ہو یا ذوات واشخاص سے قبل وصال ہو یا بعد وصال اس کا ثبوت کثیر وافر احادیث سے ہے ۔علماء راسخین نے غیراللہ سے استمداد ووسلیہ کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ (۱)عمل صالح سے استمدادوتوسل(۲)نیک اشخاص سے استمداد وتوسل۔

عمل صالح سے استمداد و توسل

اعمال صالحہ سے استمداد وتوسل کے تعلق سے مندرجہ ذیل حدیث پاک سے استدلال بہت معروف ہے جسے امام بخاری نے کتاب الاجارہ میں ،امام مسلم نے کتاب الذکر والدعا والتوبہ والاستغفار ،باب قصۃ اصحاب الغار الثلثۃ میں ذکر فرمایا ہے کہ رسول اللہنے ارشاد فرمایا :

’’تین آدمی جارہے تھے کہ بارش ہونے لگی ان لوگوں نے پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی ،غار کے منھ پر ایک چٹان آگئی جس سے غار کا منھ بند ہوگیا ،ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ،اللہ کے لئے جو نیک کام تم نے کیا اس پرغور کرو اور ان اعمال صالحہ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگو،شاید اللہ عزوجل یہ مصیبت تم سے دور فرمادے ، تو ان تین میں سے ایک نے یہ دعا کی ۔ اے اللہ ! میرے ماں ،باپ بوڑھے تھے ، میری بیوی تھی اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ،میں ان کے لئے بکریاں چراتا جب میں واپس لوٹتا تو دودھ دُوہتا ،اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے ماں باپ کو دودھ پلاتا ،ایک دن درختوں نے مجھے دور پہونچا دیا تو رات سے پہلے میں لوٹ نہ سکا ،میرے والدین میرے لوٹنے تک سوچکے تھے ،میں نے حسب معمول دودھ دُوہااور ایک برتن میں دودھ لیکر والدین کے سرہانے کھڑا ہوگیا ،ان کو نیند سے بیدار کرنا میں ناپسند کرتا تھا اور ان سے پہلے بچوں کو دودھ پلانا بھی مجھے نا پسند تھا ،باوجودیکہ میرے بچے میرے قدموں کے پاس چیخ رہے تھے ،فجر طلوع ہونے تک میرا اور میرے ماں ،باپ کا یہی حال رہا ،اے اللہ تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا جوئی کے لئے کیا تھا ،تو ہمارے اس غار میں کشادگی کردے کہ ہم اس غار سے آسمان کو دیکھ لیں ،تو اللہ عزوجل نے کچھ کشادگی کردی اور ان تینوں نے اس غار سے آسمان کو دیکھ لیا ۔ پھر دوسرے شخص نے دعا کی اے اللہ ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جس سے مجھے بے پناہ محبت تھی جیسا کہ مرد عورت سے محبت کرتا ہے ،میں نے اس سے ملاقات کی درخواست کی ،اس نے انکار کیا اور سودینار کی طلبگار ہوئی ،میں نے بڑی مشقّت سے سو دیناراکٹھا کئے اور اسے لے کر اپنی محبوبہ کے پاس گیا ،جب میں اس کے ساتھ جنسی عمل کرنے بیٹھا تو اس نے کہا ،اے اللہ کے بندے!اللہ سے ڈر اور حرام طریقے سے مہر نہ توڑ،تو میں اسی وقت اس سے علیحدہ ہوگیا ۔ اے اللہ! تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے تیری رضا مندی کے لئے ایسا کیا تھا ،تو ہمارے لئے اس غار کو کچھ کھول دے ،تو اللہ تعالیٰ نے غار کو کچھ کھول دیا ۔اور تیسرے شخص نے کہا ،اے اللہ ! میں ایک شخص کو ایک فرق چاول کی اجرت پر اجیر رکھا تھا ،جب اس نے اپنا کام پورا کرلیا تو کہا میری اجرت دے دو، میں نے اس کو مقررہ اجرت دے دی مگر اس نے اس سے اعراض کیا ،پھر میں ان چاولوں سے کاشت کرتا رہا تاآنکہ اس کی آمدنی سے میں نے گائے اور چرواہے جمع کرلئے ،ایک دن وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔اللہ سے ڈرو اور میرا حق نہ مارو،میں نے کہا جائو اوران گایوں اور چرواہوںکو لے لو ،اس نے کہا اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو۔میں نے کہا میں تم سے مذاق نہیں کرتا یہ گائے اور چرواہے لے لو ،وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ اے اللہ !تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضاجوئی کے لئے کیا تھا ،تو غار کے منھ کا جو حصہ کھلنے سے رہ گیا ہے اسے کھول دے تو اللہ تعالیٰ نے کھول دیا بعض روایتوں میں ہے کہ وہ غار سے نکل کر روانہ ہوگئے ۔ (صحیح المسلم جلد دوم ص ۳۵۳)

ان تینوں آدمی نے اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کی اور وہ دعا بارگاہ ِالٰہی میں قبول ہوئی اور یہ حدیث موقع مدح میں ہے تو اس سے وسیلے کا جواز واستحسان ثابت ہوا ۔

بخاری ونسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،وہ نبیٔ کریمسے روایت کرتے ہیں۔’’استعینوا بالغدوۃ والروحۃ وشئی من الدجلۃ‘‘صبح کی عبادت سے استعانت کرو ،شام کی عبادت سے استعانت کرو ،کچھ رات کا حصہ باقی ہوتو اس کی عبادت سے استعانت کرو ۔

ابن ماجہ اور حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ نبیٔ کریمﷺ سے کہ فرمایا’’استعینوا بطعام السحر علے صیام النھاروبالقیلولۃ علے قیام اللیل‘‘سحر کے کھانے سے دن کے روزے پر استعانت کرواور دوپہر کے سونے سے قیام لیل پر استعانت کرو۔

ظاہر ہے کہ نہ تو صبح کی عبادت خدا ہے ،نہ شام کی ،نہ سحر کی ،نہ دوپہر کا سونا ۔تو ان سے استمدادو استعانت کا حکم دیا گیا۔ جس سے ثابت ہو کہ غیر اللہ سے استمدادواستعانت جائز وروا، مستحسن ومستحب ہے۔

ذوات واشخاص سے استمداد و توسل

ائمہ دین نے مندرجہ ذیل احادیث کریمہ سے مسئلۂ استمداد واستعانت وتوسل میں استدلال فرمایا ہے ۔حضرت عثمان ابن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیث ہے،حضورﷺ نے انہیں خود ایک دعا تعلیم فرمائی ۔جس کے الفاظ یہ ہیں’’اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک نبیک محمد نبی الرحمہ یامحمد انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی ھذہٖ لتقضی لی حاجتی ۔اللھم فشفعہ۔ (ترمذی شریف جلد دوم ص ۱۹۷)

’’اے اللہ ! میں تیرے نبی محمد ا جو نبیِ رحمت ہیں۔کے وسیلے سے تجھ سے مانگتا اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، یارسول اللہ !میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہوںتاکہ میری حاجت پوری ہو ،الٰہی !حضور کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔‘‘یہ حدیث صرف امام ترمذی نے اخذ نہیں کی ہے بلکہ امام بخاری نے تاریخ کبیر میں ،ابن ماجہ نے سنن صلوۃ الحاجۃ میں ،نسائی نے عمل الیوم واللیلۃ میں ،ان کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی اس کی تخریج فرمائی اور متعدد محدثین نے اس کے صحیح ہونے کی صراحت بھی فرمائی اس حدیث پاک سے صاف ظاہر ہے کہ نبیٔ کریم علیہ الصلاۃ والسلام کو وسیلہ ورابطہ بنا کر قضائے حاجات کے لئے ان سے استمداد واستعانت منصوص ہے ۔ حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں مذکورہے کہ ایک شخص کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک اہم کام تھا جو پورا نہیں ہورہا تھا ۔وہ حضرت عثمان بن حنیف کے پاس آیا آپ نے نماز حاجت کے سوا مذکورہ دعا ’’اللھم انی اسئلک الخ‘‘کی تعلیم فرمائی ۔ اس طرح اس کی حاجت پوری ہوگئی ،پھر جب اس شخص کی ملاقات حضرت عثمان بن حنیف سے ہوئی تو اس نے کہا ’’ جزاک اللہ خیرا ماکان ینظر ولا یلتفت اِلَیَّ حتّٰی کلمتُہ فی‘‘اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے وہ میری طرف التفات کرتے ہی نہ تھے پھر میں نے اپنی ضرورت کے تعلق سے گفتگو کی اور وہ پوری ہوئی ۔ (الترغیب والترہیب جلد اول۔ والخصائص الکبریٰ جلد دوم ؍ص۱ ۲۰)

روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عثمان بن حنیف نے اس شخص سے کہا کہ ،خلیفۃ المسلمین سے آپ کے بارے میں میری کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر تھے ۔ایک نابینا صحابی بھی حاضر بارگاہ ہوئے ،اور اپنی بینائی کے لئے دعاکی درخواست کی ۔حضور ا نے اسے صبر کی تلقین کی ۔مگر وہ اپنی بات پر مصر رہے ۔تو حضورنے انہیں وضو،نماز اور اسی دعا کی تلقین فرمائی ۔ وہ نابینا صحابی دعا کرنے کے لئے گئے ،اور ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں دیر تک رہے۔ تو ہم نے دیکھا کہ وہ نابینا صحابی حضور کی بارگاہ میں اس حال میں آئے کہ ان کی دونوں آنکھیں بالکل صحیح تھیں۔(وفاء الوفاء جلد چہارم ص۱۳۷۳ للعلامہ السمھودی)

غور فرمائیں کہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابیٔ رسول ہیں ان حضرات سے بڑھ کر احادیث رسول کو سمجھنے والے کون ہوسکتے ہیں؟۔ انہوں نے دعائے حاجت والی حدیث سے یہی سمجھا کہ یہ دعا نبیٔ کریمکی ظاہری زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔حضور سے استمدادو استعانت ،نداء اور پکار ان کی ظاہری زندگی کے بعد بھی خود صحابہ کا معمول ہے ۔پھر حضرت عثمان ابن حنیف کے کہنے پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آنے والے حاجت مند یا تو صحابی تھے یا کم از کم کبار تابعین میں سے تھے ۔ انہوں نے بلا چون و چرا اس عملِ توسل واستعانت پر عمل کیا جس سے واضح ہے کہ بعد رحلت بھی استمدادووسیلہ ونداء جائز ومستحسن ہیں ……… ربیعہ ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں’’کنت أبیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل فقلت اسئلک مرافقتک فی الجنۃ قال أوغیر ذلک قلت ھو ذاک ،قال فاعنی علی نفسک بکثرۃ السجود (رواہ مسلم) (مسلم شریف بحوالہ مشکوٰۃص ۸۴)

’’میں سرکار دوعالمکے ساتھ وہاں رات میں رہتا ۔ ایک دفعہ رات میں آپ کے لئے وضو کا پانی اور دیگر ضرورت کی چیزیں لایا۔ آپ نے فرمایا کہ ربیعہ !مانگ کیا مانگتا ہے ؟۔عرض کی میں حضور سے سوال کرتا ہوں کہ جنت میں حضور کی رفاقت ہو ،فرمایا کچھ اور مانگنا ہے ۔ عرض کی میری مراد تو بس یہی ہے ،فرمایا تو تم اپنے نفس پرمیری مدد زیادہ سجدہ کرکے کرو‘‘۔ مذکورہ حدیث پاک میں وارد دو،تین الفاظ کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں۔(۱)ایک تولفظ’’ سَلْ‘‘ ہے(۲)دوسرا’’اسئلک مرافقتک‘‘ یعنی جنت میں حضور کی رفاقت کا سوال(۱)سَلْ امر کا صیغہ ہے جس میں حضورا نے ربیعہ بن کعب سے مانگنے کو کہا ،اس کا مفعول مذکور نہیں کیونکہ کوئی خاص مفعول یہاں مطلوب نہیں ،تو جس چیز کا بھی مطالبہ ہو وہ صحیح ہوگا۔کہ اس میں نا کسی چیز کی تقید ہے ،نا کسی امر کی تحصیص تو اس سے صاف واضح ہوا کہ حضورا ہر قسم کی حاجت وضرورت پوری فرما سکتے ہیں ،ہر طرح کی مدد کرسکتے ہیں۔(۲)جنت میں حضور کی رفاقت کا سوال خود حضور سے ہی کیا گیا ، جنت میں رفاقت عظیم ترین نعمت ہے۔مگر اس نعمت کے سوال پر حضور نے منع نہ فرمایااور نہ یہ فرمایا کہ ربیعہ یہ شرک ہے ۔بلکہ مزید مانگنے کا مطالبہ فرمایا۔یہ غیر خدا سے مدد مانگنا ہوا ۔(۳)لفظ أعِنِّیْ کا معنی ہی ہے ’’میری مدد واعانت کر ‘‘اسی کو استعانت کہتے ہیں۔تو غیر اللہ سے استعانت ہوئی ۔ اگر یہ تصور توحید کے منافی ہوتا تو حضور ہر گز ارشاد نہ فرماتے۔شیخ محقق اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں’’سل‘‘فرماکر سوال کو مطلق رکھا ،کسی خاص چیز سے مقید نہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ تمام معاملات حضور کے دست کرم میں ہیں،جوچاہیں ،جس کو چاہیںاپنے رب کے حکم سے عطا کردیں۔ (اشعۃ اللمعات للشیخ عبد الحق ،باب السجود وفضلہ)

شیخ محقق کی یہ تشریح استمداد کو تصور توحید کے منافی قرار دینے والوں کے لئے تا زیانۂ عبرت ہے ۔

قحط میں حضورکے وسیلے سے دعاکرنا

جب اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوگئے اور انہوں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر شکایت کی تو رسول اللہﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی۔تو خوب جم کر بارش ہوئی ۔مدینہ منورہ کے آس پاس کے لوگوں نے حاضر ہوکر عرض کی ہم ڈوب جائیں گے ۔پھر آپ نے دعا کی اور بارش صرف ارد گرد میں ہوئی ۔حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ولو ادرک ابو طالب ھذا الیوم لسرہ فقال لہ بعض اصحابہ یا رسول اللہ!اردت بقول ؎ وابیض یستقی الغمام بوجھہ ثمال الیتامیٰ عصمۃللارامل

’’ قال نعم‘‘یعنی اگر ابو طالب اس دن کو پاتے تو خوش ہوتے ایک صحابی نے عرض کیا ۔ حضور آپ کااشارہ ان کے اس شعر کی جانب ہے ۔ گورے رنگ والے جن کے چہرے کے وسیلے سے بارش کی دعا مانگی جاتی ہے ۔ یتیموںاور ناداروں کے ماویٰ وملجاء ،فرمایا ہاں۔(السیرۃ النبویہ لابن ھشام ج ۱؍ص ۱۷۹ ۔صحیح البخاری باب الاستقاء اول ص ۱۳۷)

بعد رحلت حضور سے توسل واستعانت

وسیلہ بالانسان کے متعلق بخاری باب الاستقاء میں روایت ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل یہ تھا کہ جب قحط پڑتا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وسیلے سے آپ اللہ سے بارش کا سوال کرتے ۔دعا کے الفاظ یہ ہوتے۔’’اللھم انا کنا نتوسل الیک نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال فیسقون۔ (صحیح البخاری جلد اول ص ۱۳۷)

اے اللہ ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی ا کا وسیلہ لے کر حاضر ہوتے تھے توتو ہمیں سیراب کرتا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کا وسیلہ لیکر آئے ہیں،ہم پر بارش برسا ۔راوی کہتے ہیں تو مینہ برستا‘‘۔

یہ حدیث اس پر واضح دلیل ہے کہ اہل بیت اور بزرگان دین کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بنانا اور ان کے سہارے مدد طلب کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عمل تمام صحابۂ کرام کے مجمع میں ہوا اور بلا نکیر سب نے اس پر عمل کیا تو توسل واستعانت کے مستحب ہونے پر صحابہ کا اجماع ہوگیا ۔توسل سے یہاں دعاکی درخواست مراد نہیں ،جیسا کہ ابن تیمیہ کے ریزہ خوار کہتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں صاف تصریح ہے کہ اے اللہ !ہم اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ لاتے ہیں۔ہم پر بارش نازل فرما۔اس کو دعا کی درخواست پر محمول کرنا حدیث کی تحریفِ معنوی ہے۔ابن تیمیہ کے پیرو کاروں کا یہ کہنا ہے کہ اگر بعد رحلت بھی حضور اکرم ا سے تو سل جائز ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عباس سے کیوں وسیلہ لیتے۔دھوکا اور فریب وجہالت ہے کیونکہ کسی چیز کے مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کو اپنانا دوسرے کی نفی کی دلیل نہیںبلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ بر تر کے ہوتے ہوئے اس سے کم رتبے والے سے بھی وسیلہ لیا جاسکتا ہے ۔پھر یہ کہ حضرت عباس سے توسل میں ایک اہم افادہ مقصود تھا حضور اقدس ا سے توسل واستعانت کا مستحب مستحسن ہونا سب کو معلوم تھا ممکن ہے کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ غیر نبی سے تو سل جائز نہیں تو حضرت عمر نے حضرت عباس کو وسیلہ بنا کر واضح کردیا کہ غیر نبی سے توسل بھی مستحب ہے،بالخصوص رشتۂ نبی ا کا وسیلہ لینا ، حدیث کے الفاظ ’’کنا نتوسل‘‘سے ظاہر ہے کہ یہ تو سل واستعانت صرف عہد رسالت ا کے ساتھ خاص نہ تھا بعد میں بھی صحابہ کا یہ معمول رہا ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وصال کے بعد استمداد ووسیلہ لینا جائز نہیں،وہ در اصل صحیح روایتوں کے منکر ہیں۔چنانچہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں اور علامہ قسطلانی نے ’’المواھب اللدنیہ‘‘میں مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے یہ روایت بیان فرمائی۔ اس کے راوی حضرت عمر کے خازن مالک الدار ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ’’اصاب الناس قحط فی زمان عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجاء رجل الی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ!استق اللہ لامتک فانھم قد ھلکو افاتاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام فقال ائت عمر فاقرئہ السلام واخبرہ انھم یسقون۔ (فتح الباری دوم ،ص ۱۳۷)

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں لوگ قحط میں مبتلاء ہوئے تو ایک شخص نبیٔ کریم ا کے مزار اقدس پر حاضر ہوا ،اور کہا یا رسول اللہا !اپنی امت کے لئے بارش کی دعا فرمائیں ،لوگ ہلاک ہورہے ہیں ۔نبی کریم ا خواب میں ایک شخص کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: عمر سے جاکر عرض کرو کہ عنقریب بارش آئے گی۔بعض لوگوں نے اس شخص کا نام بلال بن حارث مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتایا ہے۔اس حدیث کو علامہ ابن حجر اور علامہ قسطلانی نے صحیح قرار دیا ہے۔بیہقی نے’’ دلائل النبویہ‘‘ میں یہ حدیث ذکر کیا ہے ۔تو اس حدیث صحیح سے ثابت ہوا کہ وقتا فوقتا صحابۂ کرام حضور ا کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر حضورا سے استعانت واستمداد کرتے تھے ۔

منکرین استمداد کے لئے یہ آیت کریمہ کافی ہے۔اللہ عزوجل فرماتا ہے :

’’ولوانھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروااللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما۔(سورۃ النساء آیت ۶۴)

اور جب وہ اپنی جانو ںپر ظلم (یعنی گناہ)کرکے تیرے پاس حاضر ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور معافی مانگیںان کے لئے رسول تو بیشک اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔

رسول پاک کی بارگاہ میں حاضری دے کر ان سے معافی مانگنے اور توبہ واستغفار کرنے کا یہ حکم حضور کی حیات ظاہری کے ساتھ خاص نہیں۔بلکہ آپ کے پردہ فرمانے کے بعد بھی یہ حکم جو ں کا تو ںباقی ہے ۔ صحابۂ کرام اور ائمۂ اسلام نے اس آیت کریمہ سے یہی سمجھا ہے ۔ چنانچہ علامہ نور الدین علی ابن احمد سمہودی اپنی کتاب’’وفاء الوفاء ‘‘ میںفرماتے ہیں :

’’علماء اسلام نے اس آیت کریمہ سے یہی سمجھا ہے کہ یہ حکم حضور اکی ظاہری حیات اور بعد وصال دونوں کو عام ہے اور آپ کی قبر انور پر حاضر ہونے والوں کے لئے اس آیت کریمہ کی تلاوت اور توبہ کرنے اور مغفرت چاہنے کو مستحب قرار دیا ہے‘‘ چنانچہ ذیل میں عہد صحابہ کے دو واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن سے علامہ سمہودی علیہ الرحمہ اور دیگر علمائے راسخین کی رائے اور مسلک اہلسنت وجماعت کی تائید ہوتی ہے ۔

(۱)محمد عتبی سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی قبر انور کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی دیہاتی آیا اور وہ السلام علیک یا رسول اللہ کے بعد کہنے لگا ،اے رسولوں میں سب سے بہتر اللہ تعالیٰ نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے ،اور اس میں ارشاد فرمایا ہے جب لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرکے آپ کی بار گاہ میں حاضر ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور آپ بھی ان کے لئے سفارش کریں تو اللہ ضرور توبہ قبول فرمائے گا ۔میں آپ کے پاس اپنے گناہوں کی مغفرت کے لئے آیا ہو ں یارسول اللہ! میں آپ کو اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں شفیع بناتاہوں،پھر روتے ہوئے اس نے یہ اشعار پڑھے۔

یا خیرمن دفنت بالقاع أعظمہ

فطاب من طیبھن لاقاع والاکم

نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ

فیہ العفاف وفیہ الجود والکرم

’’اے ان تمام لوگوں میں سب سے افضل جو زمین میں دفن کردیئے گئے تو ان کی خوشبو سے چٹیل میدان اور ٹیلے مہک اٹھے ۔میری جان اس قبر پر فدا جس میں آپ آرام فرماہیںجو پاک دامنی اور جود وکرم کا خزانہ ہے‘‘۔راوی کہتے ہیں کہ وہ اعرابی دوبارہ مغفرت طلب کرکے لوٹااتنے میں میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں نبیٔ کریم ا کی زیارت سے مشرف ہوا۔سرکار نے فرمایا:’’یا عتبی الحق الاعرابی فبشرہ بان اللہ تعالیٰ قد غفرلہ۔‘‘ ’’جائو اس اعرابی سے مل کر بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے میری سفارش سے اس کی مغفرت فرمادی ہے۔‘‘(رواہ ابن عساکر فی تاریخہ ،الجواہر المنظم لابن حجر الھیتمی ص ۱۵۳)

(۲)دوسری روایت ابو سعید السمعانی کی ہے ۔وہ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ کے وصال کے تین دن بعد ایک اعرابی آپ کی قبر انور پر حاضر ہوئے اور انہوں نے خود کو قبر شریف پر گرا دیا اور قبر کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگے اور کہتے جاتے تھے ۔ یارسول اللہ ! جو کچھ آپ نے فرمایا ہم نے سنا اور ہم نے آپ کے بتائے ہوئے کو محفوظ کرلیا یا رسول اللہ! آپ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ’’ولو انھم اذ ظلمواالخ‘‘میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اب میں آپ کی بار گاہ میں حاضر آیا ہوںکہ آپ اپنے رب سے میرے لئے استغفار کریں ۔تو قبر انور سے آواز آئی کہ تیری مغفرت ہوگئی‘‘۔( وفاء الوفاء ،ج ۴، ص ۱۳۶۱، الجواہر المنظم ص ۱۵۵)

ان دونوں روایتوں میں صاف وضاحت ہے کہ آپﷺ کی رحلت کے بعد قبر انور پر حاضر ہوکر استغفار واستمداد واستعانت واستشفاء جائزومستحب ہے اور یہ صحابۂ کرام کا طریقہ ہے۔عہد صحابہ کے بعد کے ائمہ ،علماء واولیاء نے بھی استمداد واستعانت وتوسل کو جائز ومستحسن سمجھا ۔ اس تعلق سے مستند کتابوں میں اتنا کچھ ہے کہ اس کے لئے دفتر در کار ہے ۔ یہاں سید الاولیاء حضرت غوث الثقلین کا ایک ارشاد نقل کیا جارہا ہے ۔ حضور سیدنا غوث اعظم کا یہ ارشاد’’ بہجۃ الاسرار شریف ‘‘میں مذکور ہے ۔’’جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہواور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہواور جو کسی حاجت میں اللہ تعالیٰ کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے اور دورکعت نماز پڑھے ،ہر رکعت میںبعد فاتحہ کے سورۂ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام پھیر کر نبی اپر درود بھیجے اور مجھے یاد کرے پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے‘‘۔اس طرح بہت سے اقوال حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہیں ۔ان کے علاوہ بہت سے بزرگان دین سے اس طرح کے اقوال مروی ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیاء وصلحاء سے استمداد جائز ودرست ہے۔

حضرت شیخ حسن عدوی حمزاوی نے ’’مشارق الانوار‘‘ میں شیخ الاسلام شہاب الدین رملی کا یہ عقیدہ بیان فرمایا۔’’شیخ الاسلام رملی سے پوچھا گیا کہ عوام مصیبت وپریشانی کے وقت یا شیخ فلاں اور اس قسم کے الفاظ کہتے ہیں تو کیا مشائخ کرام وصال کے بعد امداد فرماتے ہیں ؟تو آپ نے جواب دیا کہ انبیاء،اولیاء، صالحین اور علماء سے استغاثہ(فریاد خواہی)جائز ہے۔کیونکہ یہ حضرات وصال کے بعد ایسی ہی امداد فرماتے ہیں ۔جیسی وہ اپنی حیات ظاہری میں امداد فرمایا کرتے تھے کیونکہ انبیاء کے معجزے ، اولیاکی کی کرامتیں ہیں۔ مشارق الانوار ،للشیخ الحسن العدوی الحمزاوی

خاتم الفقہاء علامہ ابن عابدین شامی کی رد المختار کے حاشیہ میں ہے’’زیادی نے یہ بات بہ تحقیق بیان کی ہے، جب کسی انسان کی کوئی چیز گم ہوجائے اور وہ یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز واپس فرمادے تو اسے چاہییٔ کہ کسی بلند جگہ قبلہ رو کھڑا ہو جائے اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر اس کا ثواب نبیٔ کریم ا کو پہونچائے پھر سیدی احمد بن علوان کو ایصال ثواب کرے۔’’یا سیدی احمد یا ابن علوان ان لم ترد علی ضالتی والانزعتک من دیوان الاولیاء‘‘یعنی اس طرح کہے یا سیدی احمد اے ابن علوان !اگر آپ نے میری گم شدہ چیز واپس نہ کی تو میں آپ کا نام دفتر اولیاء سے کاٹ دوں گاتو اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے کہنے والے کو واپس فرمادے گا۔‘‘رد المختار کتاب اللقطہ ج ۶؍ص ۴۴۷

شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ ’’فتح العزیز‘‘میں سورئہ فاتحہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ غیراللہ سے استمدادو استعانت اگر بایں طور ہے کہ اس غیراللہ پر کلی اعتماد کرتا ہے اور اسے عون الٰہی کا مظہر نہیں جانتا تو وہ حرام ہے اور اگر التفات تو حق تعالیٰ کی طرف ہے اور غیر اللہ سے استمداد بایں طور ہے کہ اسے مدد الٰہی کا مظہر جانتا ہے جس کو استعانت ظاہری کہتے ہیں یہ شرعا جائز ودرست ہے۔انبیاء ،اولیاء سے اس قسم کی استعانت کی جاتی ہے‘‘۔ فتح العزیز تفسیر سورۂ فاتحہ

الغرض ذوات واشخاص سے استعانت واستمداد بلا شبہ جائز ومستحسن ہے۔کوئی بھی مسلمان انبیاء ،اولیاء ،صلحاء سے استمدادا نہیں مستقل بالذات سمجھ کر نہیں کرتا ہے۔نہ ہی انہیں قادر بالذات سمجھتا ہے بلکہ انہیں قضائے حاجات کا وسیلہ اور وصول فیض کا واسطہ جانتا ہے اور یہ معنیٰ تو غیر خدا ہی کے ساتھ خاص ہے ۔اس استمدادواستعانت کو تصور توحید کے منافی قرار دینا اور مشرک گرداننا توحید اور شرک کے شرعی مفہوم سے جاہل وناواقف رہنے کی بین دلیل ہے۔جیسا کہ ابن تیمیہ اور اس کے ریزہ خوار محمد ابن عبد الوھاب واسماعیل دہلوی نے اسے شرک قرار دیا ہے ۔ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ پورے عالم کا مسئلہ استمدادپر اجماع واتفاق رہا کہ عہد رسالت سے تقریبا سات سو سال تک کسی کے دل میں یہ خیال بھی نہ گزرا ہوگا کہ انبیاء واولیاء سے استمداد توحید کے منافی عمل ہے۔رہا ابن تیمیہ کا اسے حرام وشرک بتانا تو یہ جمہور اسلام کی مخالفت ہے جسے اس کے دور کے علماء نے اسے مسترد کردیا ہے ۔در اصل ابن تیمیہ اور اس کے متبعین شرک وتوحید کا معنیٰ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ لوگ اس بنیادی نکتہ پر غور نہ کر سکے کہ عہد رسالت کے مشرکین کا اصل شرک کیا تھا ۔اس لئے انہوں نے اپنے خود ساختہ تصور توحید کو اسلامی تصور توحید قراردے دیاحالانکہ اسلامیات کے ماہرین نے اس بات کی خوب صراحت کردی ہے ، کہ عہد رسالت کے مشرکین کا شرک ان کا چند معبود جاننے کا نظریہ تھا اور اللہ سبحانہ کے لئے اولاد ماننے کا عقیدہ تھا اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو نظام کائنات کی تدبیر میں خدا کا شریک سمجھناتھا ۔شرک توحید کی ضد ہے۔علامہ عینی نے توحید کا معنیٰ یہ بیان کیا ہے۔ ’’توحید اصل میں وَحَّدَ یُوَحِّدُ کا مصدر ہے اور وَحّدْتُ اللہ َ کے معنیٰ ہیں میں نے اللہ کو اس کی ذات وصفات میں منفرداعتقاد کیا ۔ جس کی نہ تو کوئی نظیر ہے ،نہ ہی اس کی کوئی شبیہ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ توحید نام ہے اللہ کی ذات کے لئے یہ ثابت کرنا کہ وہ دوسری ذات کے مشابہ نہیں ہے اور نہ صفات سے عاری ہے‘‘۔ حاشیہ بخاری جلد دوم ،ص ۱۰۹۶

اسی کے ساتھ ساتھ شرک کا مفہوم بھی ذھن میں بسالیں علامہ سعد الدین تفتازانی شرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں ۔شرک کرنے کے معنیٰ یہ ہیں۔الوہیت بمعنٰی وجوب وجود میں کسی کو خدا کا شریک ثابت کرنا جیسا کہ مجوسیوں کا شرک ہے ۔یا الوہیت بمعنیٰ استحقاق عبادت میں کسی کو خدا کا شریک ثابت کرنا جیسا کہ اصنام پرستوں کا شرک ہے۔ شرح العقائد للنسفی ۶۱ ، مجلس برکات مبارکپور اعظم گڑھ

شرک کی اس تعریف سے بخوبی عیاں ہے کہ خدا کی عطا کردہ قوت امداد مان کر انبیاء اولیا ء سے مدد طلب کرنا ہرگز ہرگز شرک کے خانے میں نہیں آتا …نہ ہوگا کہ دینی و دنیاوی کسی بھی طرح کی مدد کسی غیر اللہ سے چاہنا شرک ٹھہرے گا ۔والعیاذ باللہ ! تو حق وہی ہے جس پر عہد رسالت سے لیکر آج تک مسلمانان عالم کا اجماع ہے ۔بلکہ پچھلی اُمتوں کا بھی کہ قضائے حاجات کے لئے صالحین سے استمدادتصوّرِ توحید کے منافی نہیں ۔

محدثین کرام نے أپنی کتب میں أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو کیوں بیان کیا؟

سؤال:

محدثین کرام نے أپنی کتب میں أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو کیوں بیان کیا؟ اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے.

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

منکرین أحادیث کے إس اعتراض کے کچھ أسباب ہیں پہلے یہ بیان کرتے ہیں پھر محدثین کے نقل کرنے کے أسباب بیان کریں گے ،

منکرین أحادیث کے اعتراض کے أسباب درج ذیل ہیں:

پہلا سبب :

عام فہم لوگوں کو سنت سے دور کرنا ، أور إس کے لیے وہ عام عوام کو کہتے ہیں کہ یہ دیکھیں یہ کتب أحادیث ضعیف أور موضوعات أحادیث سے بھری پڑی ہیں تو آپ إن پہ عمل کیسے کرسکتے ہیں.

دوسرا :

أئمۂ کرام جنہوں نے یہ دین ہم تک قرآن و أحادیث کی شکل میں بحفاظت منتقل کیا أنکی تنقیص کرنا مراد ہوتی ہے کہ انہوں نے جھوٹے لوگوں سے روایات لے کر دین کا مذاق بنایا .

تیسرا سبب :

منکرین أحادیث کو سب سے زیادہ فائدہ دینے والے خطباء و واعظین ، نقیبان محافل ، قوال ، أور حتی کہ حال و ماضی کے بعض بڑے بڑے علماء أور حتی کہ جنکو مجدد کہا جاتا رہا یا کہا جاتا ہے وہ بھی ،کیونکہ أنہوں نے سیرت و تفاسیر ، تاریخ أور أحادیث کی کتب جیسے معاجم طبرانی و حلیلۃ الأولیاء إصفہانی وغیرہ میں جو أحادیث آئیں یہ بیان کرتے چلے گئے ،

أور أپنی کتب میں لکھتے گے کبھی ان لوگوں نے مناقب یا أپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے خطابات کے دوران کبھی نہیں کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے یہ ضعیف جدا ہے یا موضوع ہے تو جب ان جید علماء أور حال و ماضی کے مجددین کرام نے بغیر ضعف و موضوع کی طرف إشارہ کیے بیان کرتے گے تو لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کردیا کہ کتب میں جو أحادیث آگی ہیں وہ صحیح ہیں،

إسکا فائدہ منکرین أحادیث کو ہوا أور نقصان مسلمانوں کو ہوا کہ أن میں سے ہر شخص أپنے عالم سے سنی ہوئی أحادیث کو اپنا عقیدہ سمجھنے لگا جس سے أمت میں انتشار بڑا۔

أور ضعیف و ضعیف جدا أور موضوع أحادیث سے ثابت ہونے والی چیزوں کو سنیت و غیر سنیت میں فرق کرنے کے لیے بنیاد بنا لیا گیا جس میں بلا شبہہ أمت کی ہلاکت ہے،

أگر آج بھی آپ أردو یا سیرت یا تفاسیر کی کتب أٹھا کر دیکھیں تو آپکو أن میں حدیث کا درجہ نہیں ملے گا کہ وہ کس درجے کی ہے إلا ماشاء الله یہی وجہ ہوئی کہ یہ علماء کسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے پھر انہیں احادیث کو بیان کرتے ہیں جو کتب تفسیر میں آئی ہوتی ہیں.

دوسری طرف محدثین کرام و جید علماء و مجددین نے درجہ احادیث کے بیان کے لیے مستقل کتب لکھیں جیسے کتب تخریجات ، کتب علل ، کتب تراجم ، کتب جرح و تعدیل ، کتب شروحات حدیث ، أور بعض متون میں بھی صحت کی شروط ہیں ، کتب فقہ، أور محقیقین نے تحقیق کے دوران حکم لگائے لہذا ہمیں أنکی کاوش سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔

چوتھا سبب:

ہمارے ہاں جہالت کی انتہاء ہے کہ کسی بھی حدیث کی صحت کا معیار یہ ہے کہ بس بیان کرنے والا کسی کتاب کا حوالہ دے دے چاہے وہ کتاب حدیث کی بھی نہ ہو یا حدیث کی ہو لیکن حدیث کا درجہ بیان نہ کیا گیا ہو حتی کہ أردو کی کتابوں کا حوالہ چلتا ہے ،

تو یہ بھی سبب بنا کہ لوگوں کا ذہن بن گیا کہ جو حدیث بھی کتابوں میں آجائے وہ صحیح ہوتی ہے تو جب أنکو منع کیا جاتا ہے تو پھر یہ سؤال أٹھایا جاتا ہے کہ کتب میں کیا ضعیف و شدید الضعف أور موضوع أحادیثیں ہیں کیوں ؟

یہ مرض عام لوگوں سے نہیں أور نہ ہی خطباء سے بلکہ چند إیک جید علمائے کرام أور جنکو مجدد کہا جاتا رہا یا کہا جاتا ہے أنکی وجہ سے عوام میں یہ کینسر پھیلا یہی وجہ ہے جب أن لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے یا موضوع تو کہتے ہیں وہ اتنے بڑے عالم تھے أنکو نہیں پتا تھا؟

یہ جہالت ہے جسکی لپیٹ میں ہمارا معاشرہ ہے سوائے چند إیک لوگوں کے مثال کے طور پہ واقعہ کربلا کو ہی لے لیں.

پانچواں سبب:

محدثین کرام نے فرمایا کہ أحادیث ضعیفہ فضائل میں قبول ہیں جب تک وہ موضوع نہ ہوں تو إس قاعدے کے تحت پھر جو حدیث ملی بعد میں آنے والے لوگوں کو چاہے وہ قرآن یا صحیح أحادیث کے خلاف ہی کیوں نہ ہو بیان کی جانے لگیں تو جب أنکو سمجھایا جاتا ہے تو یہ قاعدے پیش کردیتے ہیں ،

حالانکہ یہ قاعدہ متفق علیہا نہیں ہے أگرچہ إمام نووی نے اتفاق ذکر کیا ہے ، أور سب کو معلوم ہے کہ وہ لفظ اتفاق بولنے میں کتنا تساہل کرتے ہیں.

اگر متفق مان بھی لیں تو کیا محدثین کا یہ قاعدہ نہیں ہوتا کہ سند صحیح ہے متن موضوع ہے یا منکر المتن ہے تو اس قاعده پہ عمل کیا جائے گا۔

اور اس میں سب زیادہ أحسن وہی ہے جو علامہ ابن حجر عسقلانی نے نزہۃ النظر میں شروط بیان کی ہیں حدیث ضعیف قبول کرنے کی کہ وہ شدید الضعف حدیث نہ ہو وغیرہ

محدثین کرام نے بولا تھا ( تساھلنا ) أور ہم نے معنی لے لیا ( قبلنا/ قبول ہے) إس پہ پھر کبھی بحث ہوگی – بإذن اللہ-

یہ وہ بعض أسباب تھے جو إس سؤال کا سبب بنے أور محدثین کرام کی جہود پر سؤالات اُٹھنے لگے،

تو میں إیک ہی شعر کہنا چاہونگا:

تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر ، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لُٹا ؟

مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

محدثین کرام کے قافلے کی أس جد و جہد کو مشکوک أپنے ہی علماء نے کیا جب وہ بغیر حدیث کا درجہ بیان کیے أپنے خطابات کو پرکشش کرتے رہے تو سؤال إن علماء کی رہبری پہ ہے أور سوشل میڈیا کے مفکرین کی رہبری پہ بھی؟؟؟

چھٹا سبب:

فیسبک کے بعض دانشور و مفکرین و عام عوام بھی إسکے کسی حدتک حصہ دار ہیں۔

أب درج ذیل میں وہ أسباب بیان کرتے ہیں جنکی وجہ سے محدثین کرام نے ضعیف و موضوعات روایات کو بیان کیا؟

محدثین کرام نے إسکے کئ أسباب بیان کیے ہیں جن میں سے چند إیک درج ذیل ہیں:

أحادیث ضعیفہ روایت کرنے کے أسباب :

پہلا سبب:

کسی عنوان میں یا مسئلہ میں جتنی أحادیث ملتی ہیں أنکو جمع کرلیں تاکہ وہ أنکے ضعیف کو جان سکیں أور پھر أس ضعف سے لوگوں کی أگاہی کے لیے کتب میں لکھ دی جائیں.

دوسرا سبب:

متابعات و شواہد کے لیے أنکی أحادیث لیں یعنی أس میں صحیح یا حسن حدیث وارد تھی تو ساتھ ضعیف سند والی حدیث بھی لکھ دی تاکہ بعد میں آنے والے لوگ جب ضعیف سند والی حدیث پڑھیں تو أنکو معلوم ہو کہ یہ دوسرے طریق سے صحیح یا حسن ہے ،

أگر وہ یہ بیان نہ کرتے تو ہو سکتا تھا کہ یہ حدیث کسی کو معلوم ہوتی تو وہ إسے ضعیف سمجھنے لگتا.

تیسرا سبب:

أگر ضعف خفیف ہے تو أسکو بھی لکھا جاتا تاکہ وہ بھی أپنے دیگر أپنے جیسے طریق سے یا کم ضعف والے سے ارتقاء پاکر حسن لغیرہ کے درجے کو پہنچ جائے بشرطیکہ کہ وہ شدید الضعف نہ ہو جیسے متہم بالکذب یا کثرت سے خطأ کرنے والا یا فاسق ہو وغیرہ کیونکہ وہ حدیث درجہ حسن کو نہیں پہنچتی لیکن علامہ ابن حجر عسقلانی نے شدید الضعف کے ارتقاء کے متعلق بھی قاعدہ بیان کیا ہے جو إمام سیوطی نے تدریب الراوی میں ” حکم حدیث روی من وجوہ ضعیفہ” کی بحث کے آخر میں لکھا ہے .

چوتھا سبب:

کبھی راوی کا ضعف مقید ہوتا ہے یعنی وہ مطلقاً ضعیف نہیں ہوتا تو لہذا أسکی صحیح و ضعیف و باطل روایات کو واضح کرنے کے لیے لکھتے ہیں تاکہ لوگ أسکی تعدیل مقید سے واقف رہیں.

پانچواں سبب:

حدیث ضعیف فضائل کے باب میں قبول ہے تو لہذا إس وجہ سے بھی حدیث ضعیف قبول ہوتی ہے.

إمام نووی نے إن أسباب کو شرح صحیح مسلم کے مقدمے میں بیان کیا ہے.

( شرح صحیح مسلم ، فرع فی جملة المسائل والقواعد التي تتعلق بهذا الباب ، 1/125 )

چھٹا سبب:

بعض أحادیث کی أقسام صحت کے اعتبار سے متفق علیہ نہیں ہیں ہوسکتا ہے إیک حدیث محدثین کرام کے ہاں ضعیف ہو أور فقہاء کرام کے ہاں صحیح تو إس وجہ سے بھی حدیث ضعیف کو روایت کیا جاتا ہے.

جیسے إمام حاکم نے فرمایا:

” والصحيح من الحديث منقسم على عشرة أقسام خمسة متفق عليها وخمسة مختلف فيها "

ترجمہ: صحیح حدیث کی دس أقسام ہیں جن میں پانچ متفق علیہ ( صحت کے اعتبار سے) ہیں أور پانچ مختلف فیہ.

( المدخل إلی کتاب الإكليل للحاكم ابن البيع ، ص : 33 )

مزید مطالعہ کے لیے کتاب اصلاح ابن الصلاح إمام مغلطائی الحنفی کا مطالعہ فرمائیں جس میں أنہوں نے منہج محدثین و فقہاء میں فروق کو بیان کیا ہے.

إسی طرح علامہ ابن حجر عسقلانی نے أپنی کتاب ( نکت) میں مسئلہ ( أول من صنف الصحیح ، ص : 277 ) کے تحت إمام عراقی و إمام مغلطائی کے درمیان جو محاکمہ کیا ہے أسکو بھی پڑھیں ب۔

یہ فرق بہت کم لوگوں کو معلوم ہے،

اس لیے بعض لوگ لا علمی میں فقہائے کرام پر أحادیث ضعیفہ سے احتجاج کرنے کی تہمت لگاتے ہیں مذکورہ بالا مواقع کو پڑھنے سے تشفی ہوجائے گی باذن اللہ۔

أحادیث موضوع روایات کرنے کے أسباب :

پہلا سبب:

لوگوں کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے بچانے کے لیے موضوع أحادیث کو روایت کیا.

دوسرا سبب:

راوی کے کذاب ہونے کو ثابت کرنے کے لیے موضوع روایات بیان کی گئیں.

أحادیث ضعیف و موضوع روایات لانے کے أسباب مشترکہ:

پہلا سبب:

متقدمین محدثین کا أسلوب تھا کہ سند سے حدیث بیان کردیں ،

بعد میں آنے والے سند کا دراسہ کرکے خود معلوم کرلیں گے یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف یا موضوع تو یہ سبب بھی بنا ضعیف أحادیث بیان کرنے کا ،

لیکن شومئی قسمت کے أصول حدیث سے أور منہج محدثین سے ناواقف لوگوں نے کتب حدیث میں آنے والی ہر حدیث کو صحیح سمجھنا شروع کردیا تو لہذا یہ غلطی ہماری طرف سے ہے نہ کہ محدثین کی طرف سے،

جب إسماعیل بن محمد بن الفضل التیمی نے جب إمام طبرانی پر اعتراض کیا کہ وہ شدید الضعف أور موضوع أحادیث لائے ہیں أور بعض احادیث میں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین پر طعن بھی ہے تو علامہ ابن حجر عسقلانی نے إمام طبری پر ہونے والے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

” وهذا أمر لا يختص به الطبراني فلا معنى لإفراده باللوم بل أكثر المحدثين في الأعصار الماضية من سنة مائتين وهلم جرا إذا ساقوا الحديث بإسناده اعتقدوا أنهم برئوا من عهدته ، والله أعلم”

ترجمہ: یہ ( حدیث ضعیف یا موضوع روایت کرنے والا) معاملہ صرف طبرانی کے ساتھ خاص نہیں لہذا أنکی ملامت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ بہت سے محدثین زمانہ ماضی دوسری صدی ہجری سے لے کر أبھی تک وہ حدیث کو سند کے ساتھ روایت کردیتے ہیں ، أور أنکا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سند بیان کرکے أپنی ذمہ داری سے بری ہوگے ہیں ( أور أب جو بعد میں آئیں گے وہ سند کو دیکھ کر أسکے صحیح یا ضعیف یا موضوع ہونے کو معلوم کرلیں گے)

( لسان المیزان ، ترجمہ إمام طبرانی ، 4/125 )

لہذا کسی بھی کتاب میں حدیث کا آجانا أسکی صحت پر دلالت نہیں کرتا سوائے أن کتب کے جنہوں نے صحت کی شرط لگائی أور پھر أس شرط پر عمل بھی کیا جیسے صحیحین بخاری ومسلم وغیرہ.

دوسرا سبب:

لا علمی أور عدم معرفت کی وجہ سے ضعیف یا موضوع روایات کو بیان کیا.

إس کے لیے إمام عینی کی البنایہ شرح الہدایہ کا مطالعہ فرمالیں تو آپکو کئی مثالیں ملیں گی جس میں وہ شارحین ہدایہ پر اعتراض کرتے ہیں ،

أور کتب موضوعات خاص کر ملا علی قاری کی صغری و کبری وغیرہ .

إسی طرح یہ مجموعی دس أسباب ہوئے جنکی وجہ سے محدثین نے أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو بیان کیا.

أحادیث ضعیفہ و موضوعہ روایات لانے پر عقلی دلیل:

إس پر عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر شئے أپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے جیسے کہا جاتا ہے ( تعرف الأشياء بأضدادها ) ،

أگر وہ راویوں کی ضعیف و موضوع أحادیث نہ لکھتے تو صحیح روایات کو کیسے پہچانتے ، کیونکہ صحت کو جاننے کے لیے أمراض کا مطالعہ کرنا ضروری ہوتا ہے،

کیا أگر کوئی ڈاکٹر أپنی کتب میں مرض کے بارے میں لکھے تو ہم کیا یہ کہیں گے کہ إس نے أمراض کو کیوں لکھا صرف صحت کے أسباب لکھتا ؟

کیونکہ جب تک مرض معلوم نہ ہو تو أس سے بچیں گے کیسے؟

تو احادیث ضعیف و موضوع روایات کو بیان کرکے مرض کی تشخیص کی گئی تاکہ لوگ إس مرض میں مبتلا نہ ہوں.

واللہ أعلم .

چیف صاحب * زرا ہاتھ ہلکا رکھیں *

چیف صاحب * زرا ہاتھ ہلکا رکھیں *

کبھی کبھی انسان بہت بے بس ہوجاتا ہے اسے سمجھ نہیں آتی کہ کرے تو کیا کرے ایسی صورتحال میں ایک ہی زات انسان کو راستہ دکھاتی ہے اور وہ زات اللہ پاک کی زات ہے آج جب تحریک کے خلاف فیصلہ آیا تو بے اختیار بے بسی کی انتہاء پر پہنچ کر میری نظریں عرش باری تعالیٰ کی جانب اٹھتی چلی گئیں

مجھے اچھے سے یاد ہے کہ جب میں کراچی میں تھا تو 12 مئی کا واقعہ ہوا اور ہمارے محلے میں جوان لاشیں آئیں تو کہرام مچ گیا ہر طرف ایک ہی صدا تھی کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نہ کراچی آتا نہ سرعام روڈوں پر گولی چلتی اور قتل عام ہوتا اور نہ ہی 44 گھروں کے چراغ گل ہوتے

ہم نے دیکھا کہ ایک شخص جسکی گردن میں گولی لگی تھی چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ خدا کے لیے مجھے ہسپتال لے جاؤ مگر اسے کوئی اٹھانے والا نہ تھا

آج جب ناموس رسالت اور ختم نبوت کی بنیاد پر بننے والی ایک جماعت کے خلاف چیف جسٹس نے قائداعظم کے فرمان کو سامنے رکھ کر یہ کہتے ہوئے موردالزام ٹھہرایا کہ فیض آباد دھرنے میں تحریک لبیک کے سربراہان پر فوجداری مقدمات چلائے جائیں کیونکہ نہ وہ دھرنا دیتے اور نہ ہی 6 لوگ ناموس رسالت پر شہید ہوتے تو میں سوچ میں پڑگیا ان 40 لوگوں کا گناہ کس کے سر پر ہے جو دعتخار حسین چوہدری کے استقبال کے لیے اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کرکے عدلیہ کی آزادی کا نعرہ لگا گئے

حالانکہ اس وقت حساس اداروں نے افتخار حسین چوہدری کو منع بھی کیا تھا مگر پھر بھی وہ کراچی گئے اور شاہراہ فیصل پر خون کی ہولی کھیلی گئی جسے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا سانحہ بارہ مئی میں ملوث کئی ملزمان گرفتار بھی ہوئے جنہوں نے بہت سے اہم انکشافات کئے ۔ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی کامران فاروقی نے سانحہ بارہ مئی کی تفتیش کے دوران یہ اعتراف بھی کیا کہ اس سانحہ کی منصوبہ بندی کے لئے نائن زیرو پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں فاروق ستار اور دیگر ارکان شامل تھےاور اس اجلاس میں قیادت نے ہر صورت شہر بند کرنے کی ہدایت دی تاکہ وکلاء اور عوام افتخار محمد چوہدری کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ نہیں پہنچ سکیں چاہے اسکے لیے ہمیں لاشوں ہی کیوں نہ گرانی پڑیں اور پھر عمران خان صاحب ملک کے موجودہ وزیراعظم نے لندن جاکر عدالت کو ایم کیو ایم کے خلاف ثبوت بھی فراہم کیے لیکن افسوس یہ کیس پاکستان کی عدالت میں دائر تک نہ ہو سکا

اور پھر آج تحریک لبیک کے خلاف کسی اس 12 مئی کے واقع کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ اس وقت اس واقع کا نوٹس نہیں لیا گیا جس پر لبیک کو شہہ ملی

اسکے بعد نقصان کا بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ 36 کروڑ کا نقصان ہوا جسکے زمہ دار بھی تحریک لبیک ہے کیونکہ انکے ارکان نے غصے میں یہ جلاو گھیراو کیا تو چیف صاحب آپکی توجہ ایک اہم واقع کی جانب مرکوز کرواتا چلوں تاکہ آپکو معلوم ہو سکے کہ اصل نقصان کب کیسے اور کس نے کیا بدقسمتی سے اس نقصان کا ازالہ بھی ابھی باقی ہے

جس میں ایک رات میں 48 افراد موت کے گھاٹ اتر گئے اور اربوں کی مالیت کو آگ لگا دی گئی پاکستان کی مالیت کو جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار اور پیر تک 5 دن خوب لوٹا گیا پورے ملک میں کرفیو کی صورت حال پیدا ہوگئی قرآن پاک سے بھری تاج کمپنی کی گاڑی کو آگ لگا دی گئی اور یہ سب پیپلزپارٹی کے چاہنے والوں نے کیا ان پانچ دنوں میں لوگ گھروں میں محصور رہے عورتوں کی عزتوں کو تار تار کیا گیا اور عیاش عناصر روڈوں پر دندناتے پھرتے نظر آئے لیکن افسوس اس پر کوئی کیس نہ بنا

اور آج جب قادیانیوں کو سرعام پاکستان کا ایک وزیر مسلمان کہہ کر 1973 کے آئین کا مزاق اڑاتا ہے دین کا مزاق اڑاتا ہے اس سے سوال پوچھنے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ لینے کے لیے گھر سے نکلے ہوئے مجاھدین کو سرعام تشدد کرنا اور طاقت کا بے دریغ استعمال کرکے 6 بندے شہید کردینے کا قصور وار بھی انھیں کہنا اور پھر کیس بھی انھیں پر چلانے جیسا انصاف دیکھنے میں آئے تو نظریں پھر چیف جسٹس کی طرف نہیں بلکہ خود بخود اس سپر پاور کی جانب اٹھ جاتی ہیں جو جبار اور قہار ہے اور پھر جب اس جبار و قہار کا لاٹھی چارج ہوتا ہے تو بل کس نکال دیتا ہے

چیف صاحب خدا کے لیے اللہ پاک کے عزاب کو دعوت مت دو

تحریر : لئیق احمد دانش

سبسڈی سے زیادہ ہے ضروری، حکمت عملی

سبسڈی سے زیادہ ہے ضروری، حکمت عملی

سبسڈی جو عربی میں اِعَانَةُ : اور اردو میں امداد کہلاتی ہے ۔

یہ وہ رقم ہے جو حکومت کسی ادارہ کو برائے ترقی یا بیرونی مقابلہ کے لئے دیتی ہے ۔

کم و بیش تمام اسلامی ممالک اپنے اپنے شہریوں کو حج کے موقع پر سہولیات فراہم کرتے ہیں، حتیٰ کے انڈیا جیسی لبرل ریاست بھی سات سو کروڑ ہر سال حاجیوں کے لیے سبسڈی دیتی ہے۔

ایک دو اہم سوال ہیں جو بار بار انباکس میں رسیو کئیے ۔

سوال :۔ کیا بیت المال سے زکوۃ کے پیسے سے سبسڈی دی جا سکتی ہے؟

جواب :۔ جی نہیں

سوال:۔ تو کیا حکومت دیگر ٹیکسز سے سبسڈی دے سکتی ہے جب کہ وہ پیسہ غریبوں کا ہے؟

جواب:۔ ٹیکسز صرف غریبوں کا پیسہ نہیں اس سے ہر شہری کو سہولت دی جا سکتی ہے اور دی جانی چاہیے، چاہے وہ حج ہو یا کوئی اور سفر یا صحت کے معاملات ہوں یا خوراک کے۔

سوال:۔ سوال یہ ہے کیا ٹیکسز کے ذرائع تمام کے تمام حلال ہیں یا حلال وحرام مکس ہیں؟

جواب:۔ میں سمجھتا ہوں اس کا معقول جواب مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے دیا ہے ۔

حکومت پر حج پر سبسڈی دینا کوئی واجب نہیں اور اگر دینا چاہتی ہے تو شرعاًممنوع بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی آمدن مخلوط ہوتی لیکن اس میں جائز ذرائع بھی شامل ہیں ، اس لئے حکومت حج کیلئے جوسبسڈی دے تو وہ یہ سمجھے کے یہ سبسڈی جائز ذرائع سے دے رہی ہے اورحاجی بھی یہ سمجھے کہ اس کویہ سبسڈی جائز ذرائع سے دی جارہی ہے ۔

اگر اس پر اعتراض کیا جائے تو پھر پوری دنیا کے مسلمانوں کے پاس کچھ بھی جائز نہیں بچے گا کیونکہ ہر جگہ پر ملاوٹ ہے کہیں پر سود کی کہیں پہ ناجائز مال کی حتیٰ کہ ہمارے حج، زکوۃ، مساجد کا چندہ بھی اس سے محفوظ نہیں.

پہلی بات تو یہ یاد رکھیے کہ ٹیکسز کا پیسہ صرف غریبوں کا ہی نہیں ہوتا،

پیسے کے ذرائع عمومی طور پر امیروں کے ہی ہوتے ہیں لیکن غریبوں کی ضروریات کے لئے اور ملک کی فلاح بہبود کے لئے ہی ٹیکسز وصول کیے جاتے ہیں۔

ایک بہترین اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد، ریاست مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور اس میں مزید اصطلاحات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کیں۔

مثلاً :۔

ائمہ مساجد کی تنخواہیں مقرر کرنا۔

سڑکوں کی تعمیر اور وقفے وقفے سے سرائے قائم کرنا.

مجاہدین اور انکی اولادوں کے وظائف مقرر کرنا۔

حاجیوں کے لئے پانی کا انتظام کرنا۔

اسی طرح ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے.

اسلامی حکومتوں میں بھی آمدن کے ذرائع ایک سے زیادہ ہوتے ہیں جس طرح زکوۃ، عشر، خراج، مال غنیمت وغیرہ ۔

اسی طرح موجودہ جمہوری حکومتوں کے پاس بھی آمدن کے ایک سے زائد ذرائع ہیں زکوۃ اور عشر ہے اور ہر قدم ٹیکسز جیسے بجلی، پانی، گیس، پٹرول، حتیٰ کے کھانے پینے پر ٹیکسز ہیں روڈ پر چلنے کا ٹیکس ہے، گاڑی خریدنے اور چلانے پر ٹیکسز ہے ۔

تو ٹیکسز اسی لئے دیئے جاتے ہیں کہ اس کے بدلے میں حکومت شہریوں کو سہولتیں فراہم کرے۔

اس میں دو باتیں ناجائز ہو سکتی ہیں ۔

ایک یہ کہ کوئی حاجی حج پر جانے کے لئے حکومت سے امداد طلب کرے، جبکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا بلکہ ہر سال درخواستیں زیادہ ہوتی ہیں اور حکومت کم لوگوں کو اجازت دیتی ہے، کیونکہ سعودی عرب کی طرف سے ایک مخصوص کوٹہ مقرر کیا جاتا ہے۔

اور دوسری ناجائز بات اقرباپروی ہے کہ کوئی وزیر، مشیر، یا حکومتی عہدیدار کسی خاص شخص کو سرکاری پیسے سے حج پر لے جائے۔

لیکن جب کسی حاجی کی طرف سے امداد کا مطالبہ بھی نہ ہو۔اور اقرباپروری بھی نہ ہو ۔

تو بطور پاکستانی شہری کے ان کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے وہ سبسڈی سے ہو یا کسی بھی ذریعہ سے۔

اور یہ کہنا کہ حج صاحب استطاعت اور مالداروں پر فرض ہے اس لیے انہیں جیسے چاہے لوٹا جائے یہ نہ دین ہے نہ انسانیت صاحب استطاعت کا معنی یہ نہیں حکومت جس طرح بھی لوٹنا چاہے صاحب استطاعت لُٹنے کے لئے تیار ہوجائے۔

سبسڈی سے زیادہ ضروری

1 ۔سرکاری کوٹہ کے حج کو ختم کیا جائے ۔

2۔حجاج کرام کے لیے وی آئی پی اور عام حاجی کی تفریق ختم کی جائے

3۔ وی آئی پی ہوٹلز کی بکنگ ختم کی جائے.۔

4:۔ عام حجاج کے لیے حرم شریف کے قریب پرانی مگر مہنگی رہائشیں کرائے پر نہ لی جائیں ،

5:. مہنگی اور پرانی عمارات کے بجائے حرم شریف سے دور نئی عمارات مگر سستی کرایہ پر حاصل کی جائیں۔

6:۔ ٹرانسپورٹ کرایہ پر لیں اور حجاج کو حرم شریف اور حرم شریف سے ہوٹل تک منتقل کریں۔

یہ وہ اقدامات ہے کہ اگر ان کو اختیار کیا جائے اور صحیح طریقے سے عمل درآمد کروایا جائے تو شاید سبسڈی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

تحریر :۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی