أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُنْظُرۡ كَيۡفَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡـكَذِبَ‌ؕ وَكَفٰى بِهٖۤ اِثۡمًا مُّبِيۡنًا  ۞

ترجمہ:

دیکھئے یہ لوگ کس طرح اللہ پر عمدا جھوٹ باندھ رہے ہیں اور ان کے لئے یہی علی الاعلان گناہ کافی ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی بیان کرتے ہیں بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (النساء : ٥٠) 

اپنی پاکیزگی اور فضلیت بیان کرنے کی ممانعت : 

تزکیہ کا معنی ہے صفاء باطن اور اس آیت میں جو اپنے تزکیہ سے منع فرمایا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اپنے متعلق یہ نہ کہو کہ ہم گناہوں سے پاک ہیں اور اپنی تعریف اور ستائش نہ کرو۔ امام ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ یہود یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور ہمارا کوئی گناہ نہیں ہے ‘ ضحاک نے بیان کیا ہے کہ یہود یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور ہمارا کوئی گناہ نہیں ہے ‘ ضحاک نے بیان کیا ہے کہ یہود یہ کہتے تھے کہ ہمارے گناہ صرف اتنے ہیں جتنے ہمارے نوزائیدہ بچوں کے گناہ ہوتے ہیں جس دن وہ پیدا ہوئے ہوں اگر ان کے گناہ ہیں تو ہمارے بھی گناہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیکھو یہ کس طرح اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کے لئے یہی کھلا گناہ کافی ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٨١) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے نام رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے جن سے اپنی پاکیزگی اور اپنی تعریف کا اظہار ہوتا ہو۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ زینب کا نام برہ (نیکی کرنے والی) تھا ان سے کہا گیا کہ تم اپنی پارسائی بیان کرتی ہو ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٤١) 

محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا ‘ تو مجھ سے زینب بنت ابی سلمہ نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نام سے منع کیا ہے میرا نام برہ رکھا گیا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنی پارسائی نہ بیان کرو اللہ ہی جانتا ہے کہ تم میں سے کون نیکی کرنے والا ہے ‘ مسلمانوں نے کہا پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ آپ نے فرمایا اس کا نام زینب رکھو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٢‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦١٩٢) 

حضرت سمرہ بن جندب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ چار نام اپنے بیٹوں کے نہ رکھو افلح (بہت فلاح پانے والا) رباح (نفع حاصل کرنے والا) یسار (آسانی کرنے والا) نافع (نفع پہنچانے والا) (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٣٦) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گئے تو آپ نے سنا کہ لوگ ان کو ابوالحکم کی کنیت کے ساتھ پکار رہے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلا کر فرمایا : اللہ تعالیٰ ہی حکم (فیصلہ کرنے والا) ہے اور اسی کی طرف حکم راجع ہوتا ہے۔ تم نے اپنی کنیت ابوالحکم کیوں رکھی ہے ‘ انہوں نے کہا جب میری قوم کا آپس میں کسی معاملہ میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں ‘ اور دونوں فریق راضی ہوجاتے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بہت اچھی بات ہے تمہاری اولاد بھی ہے ؟ اس نے کہا میرے تین بیٹے ہیں شریح ‘ مسلم اور عبداللہ ‘ آپ نے فرمایا ان میں سے بڑا کون ہے ؟ میں نے کہا شریح ‘ آپ نے فرمایا تم تو ابو الشریح ہو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٤٩٥٥‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٤٠٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٨١٣‘ المستدرک ج ١ ص ٢٤) 

جس شخص کا کسی شخص یا کسی چیز کے ساتھ زیادہ اشتغال ہو وہ اس کے ساتھ کنیت رکھ لیتا ہے ‘ مثلا حضرت ابوہریرہ (رض) کا بلی سے زیادہ اشتغال تھا تو ان کی کنیت ابوہریرہ رکھ دی ‘ ابو کا معنی والا یا صاحب ہے اور ابوہریرہ کا معنی بلی والا ہے ‘ ابو الشریح کا معنی شریح والا ہے ‘ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کی صفات کے ساتھ کنیت نہیں رکھنی چاہیے اس اعتبار سے ابوالاعلی کنیت بھی صحیح نہیں ہے۔ 

غرض صحیح کی بناء پر اپنی پاکیزگی اور اپنی فضیلت بیان کرنے کا جواز :

قرآن مجید اور ان احادیث میں اپنی پارسائی اور بڑائی بیان کرنے سے منع فرمایا ہے یہ اس وقت ہے جب انسان کسی پر اپنا تفوق اور برتری ظاہر کرنے کے لئے اپنی بڑائی بیان کرے ‘ لیکن جب اس سے اللہ کی نعمت کا اظہار مقصود ہو یا جب کسی جگہ اپنی پاک دامنی کا اظہار کرنا مقصود ہو یا کسی عیب اور الزام سے اپنی برات بیان کرنا مطلوب ہو یا اپنا حق اور اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے اپنے محامد بیان کرنے مقصود ہو تو پھر اپنے محامد اور اپنے فضائل اور اپنی براءت اور پاکیزگی کو بیان کرنا جائز ہے۔

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور فخر نہیں ہے ‘ اور حمد کا جھنڈا میرے ہی ہاتھ میں ہوگا اور فخر نہیں ہے ‘ اور تمام بنی آدم ہوں یا ان کے غیر سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی اور فخر نہیں ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣١٤٨‘ ٣٦١٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٣٠٨‘ مسند احمد ج ٣ ص ٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے پوچھا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی ؟ آپ نے فرمایا اس وقت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٦٠٩‘ المستدرک ج ٢ ص ٦٠٩‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ١٣٠) 

ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ جب باغیوں نے حضرت عثمان کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ اس وقت میں ان کے سامنے حاضر تھا ‘ حضرت عثمان (رض) نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں تمہیں اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو وہاں چاہ رومہ کے سوا اور کوئی میٹھے پانی کا کنواں نہیں تھا ‘ آپ نے فرمایا چاہ رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے کون وقف کرے گا ؟ اور اس کے بدلہ میں جنت میں اس سے بہتر چیز لے گا ! تو اس کنویں کو میں نے اپنے ذاتی مال سے خریدا تھا اور آج تم نے مجھ پر اس کنویں کا پانی بند کردیا ہے اور میں سمندر کا کھاری پانی پی رہا ہوں ‘ لوگوں نے کہا اے اللہ ! ہاں حضرت عثمان (رض) نے کہا میں تمہیں اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کہ جب مسجد نمازیوں سے تنگ ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فلاں شخص کی زمین کو خرید کر مسجد کے ساتھ کون لاحق کرے گا ؟ اور اس کے بدلہ میں جنت میں اس کو اس سے بہتر چیز مل جائے گی ! تو میں نے اپنے ذاتی مال سے زمین کو خریدا اور آج تم مجھ کو اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے سے بھی منع کرتے ہو ! انہوں نے کہا : اے اللہ ہاں ! آپ نے فرمایا میں تم کو اللہ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ میں نے جیش العسرۃ (غزوہ تبوک کے لشکر) کیلیے مدد فراہم کی تھی ‘ انہوں نے کہا اے اللہ ! ہاں ‘ حضرت عثمان (رض) نے کہا میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے ایک پہاڑ ثبیر پر تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) اور میں تھا ‘ پہاڑ ہلنے لگا ‘ حتی کہ اس کے پتھر نشیب میں گرنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر اپنا پیر مارا اور فرمایا۔ اے ثبیر ساکن ہوجا تجھ پر صرف نبی ہے ‘ صدیق ہے اور دو شہید ہیں ‘ انہوں نے کہا اے اللہ ہاں ! حضرت عثمان (رض) نے کہا اللہ اکبر ! انہوں نے میرے حق میں گواہی دی ہے اور تین بار کہا رب کعبہ کی قسم میں شہید ہوں۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٣‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٦٠٥‘ سنن دارقطنی ج ٤ ص ١٩٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٦ ص ١٦٨‘ کنزالعمال ‘ رقم الحدیث : ٣٦٢٨) 

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی غرض صحیح کی بناء پر اپنے فضائل بیان کرنا جائز ہے ‘ نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن مجید میں جو اپنی پاکیزگی اور تعریف کرنے سے منع فرمایا ہے اس کا محمل یہ ہے کہ کوئی شخص یہ نہ بیان کرے کہ آخرت میں اللہ کے نزدیک اس کا یہ درجہ ہے اور جنت میں یہ مقام ہے اور وہ آخری عذاب سے بری ہے اور یہود یہی کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور ان کو عذاب نہیں ہوگا اور اگر ہوا بھی تو صرف چالیس دن ہوگا ‘ اور اس سے اس لئے منع فرمایا کہ آخرتت کا حال غیب ہے اور غیب کا علم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خبر دیئے بغیر کسی کو نہیں ہوسکتا ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ براہ راست مطلع فرماتا ہے ‘ یا فرشتہ کی وساطت سے آپ کو مطلع فرماتا ہے ‘ اور جو دنیاوی فضائل ہیں یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتلانے سے جن درجات کا علم ہوا ان کا ضرورت کے وقت بیان کرنا جائز ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : دیکھئے یہ لوگ کس طرح اللہ پر عمدا جھوٹ باندھ رہے ہیں اور ان کے لئے یہی علی الاعلان گناہ کافی ہے۔ (النساء : ٥٠) 

اللہ پر عمدا جھوٹ باندھنے سے مراد ان کا یہ دعوی ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک گناہوں سے پاک ہیں ‘ حالانکہ وہ نہ اللہ کے بیٹے ہیں نہ اس کے محبوب ہیں نہ گناہوں سے پاک ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 50