اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 48

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اس کو جس کے لئے چاہیے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اس کو جس کے لئے چاہیے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا (النساء : ٤٨) 

شرک کی تعریف : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

شرک کا لغوی معنی ہے دو یا دو سے زیادہ لوگ کسی ایک معین چیز کے مالک ہوں تو وہ دونوں اس کی ملکیت میں شریک ہیں ‘ اور دین میں شرک یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کا شریک ٹھیرائے اور یہ سب سے بڑا کفر ہے اور شرک صغیر یہ کہ بعض کاموں میں اللہ کے ساتھ غیر اللہ کی بھی رعایت کرے جیسے ریاء اور نفاق۔ 

(المفردات ص ‘ ٢٦٠‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ٧٩١ ھ لکھتے ہیں : 

شرک کرنے کی تعریف یہ ہے : کسی شخص کو الوہیت میں شریک ماننا جیسے مجوس اللہ کے سوا واجب الوجود مانتے ہیں یا اللہ کے سوا کسی کو عبادت کا مستحق مانتے ہیں جیسا کہ بت پرست اپنے بتوں کو عبادت کا مستحق مانتے ہیں۔ (شرح عقائد نفسی ص ٦١‘ مطبوعہ مطبعہ یوسفیہ ہند) 

کیا چیزشرک ہے اور کیا چیز شرک نہیں ہے :

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو واجب بالذات یا قدیم بالذات ماننا ‘ یا اللہ کے سوا کسی کی کوئی صفت مستقل بالذات ماننا (مثلا یہ اعتقاء رکھنا کہ اس کو ازخود علم ہے یا از خود قدرت ہے) یا کسی کو اللہ کے سوا عبادت کا مستحق ماننا (مثلا اللہ کے ساتھ خاص ہیں ان کو غیر اللہ کے لیے بجا لانا ‘ مثلا کسی بزرگ کی نذر ماننا یا کسی کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ اپنی قدرتت سے رزق اور اولاد دیتا ہے ‘ بارش برساتا ہے ‘ بلاؤں کو ٹالتا ہے نفع پہنچانا اور ضرر دینا اس کی ذاتی قدرت میں ہے۔ حانث ہونے کے قصد سے کسی کے نام کی قسم کھانا یہ تمام امور شرک ہیں) 

مفتی محمد شفیع متوفی ١٣٩٦ ھ نے لکھا ہے کہ کسی کو دور سے پکارنا اور یہ سمجھنا کہ اس کو خبر ہوگئی یہ بھی شرک ہے۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ٤٣٠) 

یہ تعریف دو وجہ سے صحیح نہیں ہے کیونکہ شرک کا تعلق کسی چیز کو سمجھنے اور جاننے سے نہیں ہے ‘ ماننے اور اعتقاد کرنے سے ہے ‘ ثانیا ‘ اس وجہ سے کہ کوئی کسی شخص کو دور سے پکارے اور یہ اعتقاد رکھے کہ اس کو خبر ہوگئی۔ یہ اس وقت شرک ہوگا جب وہ یہ اعتقاد رکھے کہ وہ بےعطائے غیر مستقل سننے والا ہے ‘ شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ١٣٢٣ ھ کی اس سلسلہ میں بہت محتاط عبارت ہے وہ لکھتے ہیں : 

یہ خود معلوم آپ کو ہے کہ ندا غیر اللہ تعالیٰ کو کرنا شرک حقیقی جب ہوتا ہے کہ ان کو عالم سامع مستقل عقیدہ کرے ورنہ شرک نہیں ‘ مثلا یہ جانے کہ حق تعالیٰ ان کو مطلع فرما دیوے گا ‘ یا باذنہ تعالیٰ انکشاف ان کو ہوجائے گا یا باذنہ تعالیٰ ملائکہ پہنچا دیویں گے جیسا درود کی نسبت وارد ہے یا محض شوقیہ کہتا ہو محبت میں یا عرض حال محل تحسروحرمان میں کہ ایسے مواقع میں اگرچہ کلمات خطابیہ بولتے ہیں لیکن ہرگز نہ مقصود اسماع ہوتا ہے نہ عقیدہ ‘ پس ان ہی اقسام سے کلمات مناجات واشعار بزرگان کے ہوتے ہیں کہ فی حد ذاتہ نہ شرک نہ معصیت۔ (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ٦٨‘ مطبوعہ ناشران محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی) 

اسی طرح مفتی محمد شفیع نے کسی کو سجدہ کرنا بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ اس میں بھی تفصیل ہے ‘ سجدہ عبودیت شرک ہے اور سجدہ تعظیم ہماری شریعت میں حرام ہے سابقہ شریعتوں میں جائز تھا۔ 

کسی کی قبر یا مکان کا طواف کرنا بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ اس میں بھی تفصیل ہے اگر عبادت کی نیت سے قبر کا طواف کرے اور یہ مسلمان کے حال سے بہت بعید ہے تو یہ شرک ہے اور اگر تعظیم کی وجہ سے طواف کرے جیسا کہ اکثر جاہل مسلمان کرتے ہیں تو یہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ 

کسی کے روبرو رکوع کی طرح جھکنا ‘ اس کو بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ عبادت کی نیت سے شرک ہے خواہ حد رکوع تک ہو یا اس سے کم ہو اور تعظیم کی نیت سے حد رکوع تک جھکنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ 

دنیا کے کاروبار کو ستاروں کی تاثیر سے سمجھنا اس کو بھی شرک لکھا ہے حالانکہ ان کو صرف موثر حقیقی ماننا شرک ہے ‘ نیز ہم نے پہلے بھی لکھا ہے کہ کسی چیز کو جاننا اور سمجھنا شرک نہیں ہوتا اعتقاد اور ماننا شرک ہوتا ہے ‘ اور اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ ستارے نظام عالم میں اللہ کی قدرت کی علامات ہیں اور مثلا کہے کہ فلاں ستارہ کی وجہ سے بارش ہوئی تو یہ کفر نہیں ہے۔ البتہ مکروہ ہے۔ (شرح مسلم للنووی ج ١ ص ٥٩‘ مطبوعہ کراچی) 

اور کسی مہینہ کو منحوس سمجھنا اس کو بھی شرک لکھا ہے (معارف القرآن ج ٢ ص ٤٣٠) اس سے قطع نظر کرکے کہ سمجھنے کا شرک سے تعلق نہیں ہے ‘ نحوست کا اعتقاد شرک نہیں ہے بلکہ خلاف واقع اور خلاف شرع ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدشگونی لینے سے منع فرمایا ہے لیکن اگر کسی نے کسی چیز کو منحوس سمجھا تو وہ گنہ گار ہوگا مشرک نہیں ہوگا۔ 

زیر بحث آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شرک کے سوا ہر گناہ بخش دیا جائے گا خواہ صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ اس پر توبہ کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو ‘ اور اس آیت میں معتزلہ اور خوارج کا صراحۃ رد ہے۔ حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے رب کے پاس سے آنے والے نے مجھے بشارت دی کہ میری امت میں سے جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ میں نے کہا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٣٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٨٢) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔ (النساء : ٤٨) 

اس کا معنی ہے جس شخص نے ایسا گناہ کیا جس کی مغفرت نہیں کی جائے گی اور وہ شرک ہے ‘ اور اس کا دوسرا معنی ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔ افتری کا لفظ فری ہے ماخوذ ہے فری کا معنی ہے قطع کرنا اور جیسے کسی چیز کو کاٹا جائے تو وہ عموما فاسد ہوجاتی ہے اس لیے افتری کا معنی بہ طور غلبہ کے فساد ہوگیا اور قرآن مجید میں یہ لفظ ظلم ‘ کذب اور شرک کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 48