حضرت عبداللہ بن عمر کی مرویات

حضرت عبداللہ بن عمر کی مرویات

یہ بھی ان صحابہ کرام میں ہیں جو ابتدائً کتابت حدیث کے حق میں نہ تھے ، لیکن زمانے کے بدلتے حالات نے انکو بھی کتابت حدیث کے موقف پر لا کھڑا کیا تھا ،لہذا آپ نے بھی کتابت حدیث کا سلسلہ شروع کیا ، آپکے ارشد تلامذہ میں حضرت نافع آپکے آزاد کردہ غلام ہیں ،تیس سال آپکی خدمت میں رہے ،امام مالک ان سے روایت کرتے ہیں ،انکے بارے میں حضرت سلیمان بن موسی کا بیان ہے ۔

انہ رأی نافعا مولی ابن عمر علی علمہ ویکتب بین یدیہ (السنن للدارمی، ۶۶)

انہوں نے دیکھا کہ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے علم کے حافظ تھےاورانکے سامنے بیٹھ کر لکھا کرتے تھے ۔

حضرت مجاہد ،حضرت سعید بن جبیر اور آپکے بیٹے حضرت سالم کا بھی یہ ہی طریقہ تھا ،

بلکہ آخرمیں تو آپ نے اپنی اولاد کو یہ حکم دے دیا تھا کہ:۔

قیدواالعلم بالکتاب۔ (السنن للدارمی، ۶۸)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.