سبسڈی سے زیادہ ہے ضروری، حکمت عملی

سبسڈی سے زیادہ ہے ضروری، حکمت عملی

سبسڈی جو عربی میں اِعَانَةُ : اور اردو میں امداد کہلاتی ہے ۔

یہ وہ رقم ہے جو حکومت کسی ادارہ کو برائے ترقی یا بیرونی مقابلہ کے لئے دیتی ہے ۔

کم و بیش تمام اسلامی ممالک اپنے اپنے شہریوں کو حج کے موقع پر سہولیات فراہم کرتے ہیں، حتیٰ کے انڈیا جیسی لبرل ریاست بھی سات سو کروڑ ہر سال حاجیوں کے لیے سبسڈی دیتی ہے۔

ایک دو اہم سوال ہیں جو بار بار انباکس میں رسیو کئیے ۔

سوال :۔ کیا بیت المال سے زکوۃ کے پیسے سے سبسڈی دی جا سکتی ہے؟

جواب :۔ جی نہیں

سوال:۔ تو کیا حکومت دیگر ٹیکسز سے سبسڈی دے سکتی ہے جب کہ وہ پیسہ غریبوں کا ہے؟

جواب:۔ ٹیکسز صرف غریبوں کا پیسہ نہیں اس سے ہر شہری کو سہولت دی جا سکتی ہے اور دی جانی چاہیے، چاہے وہ حج ہو یا کوئی اور سفر یا صحت کے معاملات ہوں یا خوراک کے۔

سوال:۔ سوال یہ ہے کیا ٹیکسز کے ذرائع تمام کے تمام حلال ہیں یا حلال وحرام مکس ہیں؟

جواب:۔ میں سمجھتا ہوں اس کا معقول جواب مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے دیا ہے ۔

حکومت پر حج پر سبسڈی دینا کوئی واجب نہیں اور اگر دینا چاہتی ہے تو شرعاًممنوع بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی آمدن مخلوط ہوتی لیکن اس میں جائز ذرائع بھی شامل ہیں ، اس لئے حکومت حج کیلئے جوسبسڈی دے تو وہ یہ سمجھے کے یہ سبسڈی جائز ذرائع سے دے رہی ہے اورحاجی بھی یہ سمجھے کہ اس کویہ سبسڈی جائز ذرائع سے دی جارہی ہے ۔

اگر اس پر اعتراض کیا جائے تو پھر پوری دنیا کے مسلمانوں کے پاس کچھ بھی جائز نہیں بچے گا کیونکہ ہر جگہ پر ملاوٹ ہے کہیں پر سود کی کہیں پہ ناجائز مال کی حتیٰ کہ ہمارے حج، زکوۃ، مساجد کا چندہ بھی اس سے محفوظ نہیں.

پہلی بات تو یہ یاد رکھیے کہ ٹیکسز کا پیسہ صرف غریبوں کا ہی نہیں ہوتا،

پیسے کے ذرائع عمومی طور پر امیروں کے ہی ہوتے ہیں لیکن غریبوں کی ضروریات کے لئے اور ملک کی فلاح بہبود کے لئے ہی ٹیکسز وصول کیے جاتے ہیں۔

ایک بہترین اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد، ریاست مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور اس میں مزید اصطلاحات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کیں۔

مثلاً :۔

ائمہ مساجد کی تنخواہیں مقرر کرنا۔

سڑکوں کی تعمیر اور وقفے وقفے سے سرائے قائم کرنا.

مجاہدین اور انکی اولادوں کے وظائف مقرر کرنا۔

حاجیوں کے لئے پانی کا انتظام کرنا۔

اسی طرح ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے.

اسلامی حکومتوں میں بھی آمدن کے ذرائع ایک سے زیادہ ہوتے ہیں جس طرح زکوۃ، عشر، خراج، مال غنیمت وغیرہ ۔

اسی طرح موجودہ جمہوری حکومتوں کے پاس بھی آمدن کے ایک سے زائد ذرائع ہیں زکوۃ اور عشر ہے اور ہر قدم ٹیکسز جیسے بجلی، پانی، گیس، پٹرول، حتیٰ کے کھانے پینے پر ٹیکسز ہیں روڈ پر چلنے کا ٹیکس ہے، گاڑی خریدنے اور چلانے پر ٹیکسز ہے ۔

تو ٹیکسز اسی لئے دیئے جاتے ہیں کہ اس کے بدلے میں حکومت شہریوں کو سہولتیں فراہم کرے۔

اس میں دو باتیں ناجائز ہو سکتی ہیں ۔

ایک یہ کہ کوئی حاجی حج پر جانے کے لئے حکومت سے امداد طلب کرے، جبکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا بلکہ ہر سال درخواستیں زیادہ ہوتی ہیں اور حکومت کم لوگوں کو اجازت دیتی ہے، کیونکہ سعودی عرب کی طرف سے ایک مخصوص کوٹہ مقرر کیا جاتا ہے۔

اور دوسری ناجائز بات اقرباپروی ہے کہ کوئی وزیر، مشیر، یا حکومتی عہدیدار کسی خاص شخص کو سرکاری پیسے سے حج پر لے جائے۔

لیکن جب کسی حاجی کی طرف سے امداد کا مطالبہ بھی نہ ہو۔اور اقرباپروری بھی نہ ہو ۔

تو بطور پاکستانی شہری کے ان کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے وہ سبسڈی سے ہو یا کسی بھی ذریعہ سے۔

اور یہ کہنا کہ حج صاحب استطاعت اور مالداروں پر فرض ہے اس لیے انہیں جیسے چاہے لوٹا جائے یہ نہ دین ہے نہ انسانیت صاحب استطاعت کا معنی یہ نہیں حکومت جس طرح بھی لوٹنا چاہے صاحب استطاعت لُٹنے کے لئے تیار ہوجائے۔

سبسڈی سے زیادہ ضروری

1 ۔سرکاری کوٹہ کے حج کو ختم کیا جائے ۔

2۔حجاج کرام کے لیے وی آئی پی اور عام حاجی کی تفریق ختم کی جائے

3۔ وی آئی پی ہوٹلز کی بکنگ ختم کی جائے.۔

4:۔ عام حجاج کے لیے حرم شریف کے قریب پرانی مگر مہنگی رہائشیں کرائے پر نہ لی جائیں ،

5:. مہنگی اور پرانی عمارات کے بجائے حرم شریف سے دور نئی عمارات مگر سستی کرایہ پر حاصل کی جائیں۔

6:۔ ٹرانسپورٹ کرایہ پر لیں اور حجاج کو حرم شریف اور حرم شریف سے ہوٹل تک منتقل کریں۔

یہ وہ اقدامات ہے کہ اگر ان کو اختیار کیا جائے اور صحیح طریقے سے عمل درآمد کروایا جائے تو شاید سبسڈی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

تحریر :۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.