محدثین کرام نے أپنی کتب میں أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو کیوں بیان کیا؟

سؤال:

محدثین کرام نے أپنی کتب میں أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو کیوں بیان کیا؟ اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے.

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

منکرین أحادیث کے إس اعتراض کے کچھ أسباب ہیں پہلے یہ بیان کرتے ہیں پھر محدثین کے نقل کرنے کے أسباب بیان کریں گے ،

منکرین أحادیث کے اعتراض کے أسباب درج ذیل ہیں:

پہلا سبب :

عام فہم لوگوں کو سنت سے دور کرنا ، أور إس کے لیے وہ عام عوام کو کہتے ہیں کہ یہ دیکھیں یہ کتب أحادیث ضعیف أور موضوعات أحادیث سے بھری پڑی ہیں تو آپ إن پہ عمل کیسے کرسکتے ہیں.

دوسرا :

أئمۂ کرام جنہوں نے یہ دین ہم تک قرآن و أحادیث کی شکل میں بحفاظت منتقل کیا أنکی تنقیص کرنا مراد ہوتی ہے کہ انہوں نے جھوٹے لوگوں سے روایات لے کر دین کا مذاق بنایا .

تیسرا سبب :

منکرین أحادیث کو سب سے زیادہ فائدہ دینے والے خطباء و واعظین ، نقیبان محافل ، قوال ، أور حتی کہ حال و ماضی کے بعض بڑے بڑے علماء أور حتی کہ جنکو مجدد کہا جاتا رہا یا کہا جاتا ہے وہ بھی ،کیونکہ أنہوں نے سیرت و تفاسیر ، تاریخ أور أحادیث کی کتب جیسے معاجم طبرانی و حلیلۃ الأولیاء إصفہانی وغیرہ میں جو أحادیث آئیں یہ بیان کرتے چلے گئے ،

أور أپنی کتب میں لکھتے گے کبھی ان لوگوں نے مناقب یا أپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے خطابات کے دوران کبھی نہیں کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے یہ ضعیف جدا ہے یا موضوع ہے تو جب ان جید علماء أور حال و ماضی کے مجددین کرام نے بغیر ضعف و موضوع کی طرف إشارہ کیے بیان کرتے گے تو لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کردیا کہ کتب میں جو أحادیث آگی ہیں وہ صحیح ہیں،

إسکا فائدہ منکرین أحادیث کو ہوا أور نقصان مسلمانوں کو ہوا کہ أن میں سے ہر شخص أپنے عالم سے سنی ہوئی أحادیث کو اپنا عقیدہ سمجھنے لگا جس سے أمت میں انتشار بڑا۔

أور ضعیف و ضعیف جدا أور موضوع أحادیث سے ثابت ہونے والی چیزوں کو سنیت و غیر سنیت میں فرق کرنے کے لیے بنیاد بنا لیا گیا جس میں بلا شبہہ أمت کی ہلاکت ہے،

أگر آج بھی آپ أردو یا سیرت یا تفاسیر کی کتب أٹھا کر دیکھیں تو آپکو أن میں حدیث کا درجہ نہیں ملے گا کہ وہ کس درجے کی ہے إلا ماشاء الله یہی وجہ ہوئی کہ یہ علماء کسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے پھر انہیں احادیث کو بیان کرتے ہیں جو کتب تفسیر میں آئی ہوتی ہیں.

دوسری طرف محدثین کرام و جید علماء و مجددین نے درجہ احادیث کے بیان کے لیے مستقل کتب لکھیں جیسے کتب تخریجات ، کتب علل ، کتب تراجم ، کتب جرح و تعدیل ، کتب شروحات حدیث ، أور بعض متون میں بھی صحت کی شروط ہیں ، کتب فقہ، أور محقیقین نے تحقیق کے دوران حکم لگائے لہذا ہمیں أنکی کاوش سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔

چوتھا سبب:

ہمارے ہاں جہالت کی انتہاء ہے کہ کسی بھی حدیث کی صحت کا معیار یہ ہے کہ بس بیان کرنے والا کسی کتاب کا حوالہ دے دے چاہے وہ کتاب حدیث کی بھی نہ ہو یا حدیث کی ہو لیکن حدیث کا درجہ بیان نہ کیا گیا ہو حتی کہ أردو کی کتابوں کا حوالہ چلتا ہے ،

تو یہ بھی سبب بنا کہ لوگوں کا ذہن بن گیا کہ جو حدیث بھی کتابوں میں آجائے وہ صحیح ہوتی ہے تو جب أنکو منع کیا جاتا ہے تو پھر یہ سؤال أٹھایا جاتا ہے کہ کتب میں کیا ضعیف و شدید الضعف أور موضوع أحادیثیں ہیں کیوں ؟

یہ مرض عام لوگوں سے نہیں أور نہ ہی خطباء سے بلکہ چند إیک جید علمائے کرام أور جنکو مجدد کہا جاتا رہا یا کہا جاتا ہے أنکی وجہ سے عوام میں یہ کینسر پھیلا یہی وجہ ہے جب أن لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے یا موضوع تو کہتے ہیں وہ اتنے بڑے عالم تھے أنکو نہیں پتا تھا؟

یہ جہالت ہے جسکی لپیٹ میں ہمارا معاشرہ ہے سوائے چند إیک لوگوں کے مثال کے طور پہ واقعہ کربلا کو ہی لے لیں.

پانچواں سبب:

محدثین کرام نے فرمایا کہ أحادیث ضعیفہ فضائل میں قبول ہیں جب تک وہ موضوع نہ ہوں تو إس قاعدے کے تحت پھر جو حدیث ملی بعد میں آنے والے لوگوں کو چاہے وہ قرآن یا صحیح أحادیث کے خلاف ہی کیوں نہ ہو بیان کی جانے لگیں تو جب أنکو سمجھایا جاتا ہے تو یہ قاعدے پیش کردیتے ہیں ،

حالانکہ یہ قاعدہ متفق علیہا نہیں ہے أگرچہ إمام نووی نے اتفاق ذکر کیا ہے ، أور سب کو معلوم ہے کہ وہ لفظ اتفاق بولنے میں کتنا تساہل کرتے ہیں.

اگر متفق مان بھی لیں تو کیا محدثین کا یہ قاعدہ نہیں ہوتا کہ سند صحیح ہے متن موضوع ہے یا منکر المتن ہے تو اس قاعده پہ عمل کیا جائے گا۔

اور اس میں سب زیادہ أحسن وہی ہے جو علامہ ابن حجر عسقلانی نے نزہۃ النظر میں شروط بیان کی ہیں حدیث ضعیف قبول کرنے کی کہ وہ شدید الضعف حدیث نہ ہو وغیرہ

محدثین کرام نے بولا تھا ( تساھلنا ) أور ہم نے معنی لے لیا ( قبلنا/ قبول ہے) إس پہ پھر کبھی بحث ہوگی – بإذن اللہ-

یہ وہ بعض أسباب تھے جو إس سؤال کا سبب بنے أور محدثین کرام کی جہود پر سؤالات اُٹھنے لگے،

تو میں إیک ہی شعر کہنا چاہونگا:

تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر ، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لُٹا ؟

مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

محدثین کرام کے قافلے کی أس جد و جہد کو مشکوک أپنے ہی علماء نے کیا جب وہ بغیر حدیث کا درجہ بیان کیے أپنے خطابات کو پرکشش کرتے رہے تو سؤال إن علماء کی رہبری پہ ہے أور سوشل میڈیا کے مفکرین کی رہبری پہ بھی؟؟؟

چھٹا سبب:

فیسبک کے بعض دانشور و مفکرین و عام عوام بھی إسکے کسی حدتک حصہ دار ہیں۔

أب درج ذیل میں وہ أسباب بیان کرتے ہیں جنکی وجہ سے محدثین کرام نے ضعیف و موضوعات روایات کو بیان کیا؟

محدثین کرام نے إسکے کئ أسباب بیان کیے ہیں جن میں سے چند إیک درج ذیل ہیں:

أحادیث ضعیفہ روایت کرنے کے أسباب :

پہلا سبب:

کسی عنوان میں یا مسئلہ میں جتنی أحادیث ملتی ہیں أنکو جمع کرلیں تاکہ وہ أنکے ضعیف کو جان سکیں أور پھر أس ضعف سے لوگوں کی أگاہی کے لیے کتب میں لکھ دی جائیں.

دوسرا سبب:

متابعات و شواہد کے لیے أنکی أحادیث لیں یعنی أس میں صحیح یا حسن حدیث وارد تھی تو ساتھ ضعیف سند والی حدیث بھی لکھ دی تاکہ بعد میں آنے والے لوگ جب ضعیف سند والی حدیث پڑھیں تو أنکو معلوم ہو کہ یہ دوسرے طریق سے صحیح یا حسن ہے ،

أگر وہ یہ بیان نہ کرتے تو ہو سکتا تھا کہ یہ حدیث کسی کو معلوم ہوتی تو وہ إسے ضعیف سمجھنے لگتا.

تیسرا سبب:

أگر ضعف خفیف ہے تو أسکو بھی لکھا جاتا تاکہ وہ بھی أپنے دیگر أپنے جیسے طریق سے یا کم ضعف والے سے ارتقاء پاکر حسن لغیرہ کے درجے کو پہنچ جائے بشرطیکہ کہ وہ شدید الضعف نہ ہو جیسے متہم بالکذب یا کثرت سے خطأ کرنے والا یا فاسق ہو وغیرہ کیونکہ وہ حدیث درجہ حسن کو نہیں پہنچتی لیکن علامہ ابن حجر عسقلانی نے شدید الضعف کے ارتقاء کے متعلق بھی قاعدہ بیان کیا ہے جو إمام سیوطی نے تدریب الراوی میں ” حکم حدیث روی من وجوہ ضعیفہ” کی بحث کے آخر میں لکھا ہے .

چوتھا سبب:

کبھی راوی کا ضعف مقید ہوتا ہے یعنی وہ مطلقاً ضعیف نہیں ہوتا تو لہذا أسکی صحیح و ضعیف و باطل روایات کو واضح کرنے کے لیے لکھتے ہیں تاکہ لوگ أسکی تعدیل مقید سے واقف رہیں.

پانچواں سبب:

حدیث ضعیف فضائل کے باب میں قبول ہے تو لہذا إس وجہ سے بھی حدیث ضعیف قبول ہوتی ہے.

إمام نووی نے إن أسباب کو شرح صحیح مسلم کے مقدمے میں بیان کیا ہے.

( شرح صحیح مسلم ، فرع فی جملة المسائل والقواعد التي تتعلق بهذا الباب ، 1/125 )

چھٹا سبب:

بعض أحادیث کی أقسام صحت کے اعتبار سے متفق علیہ نہیں ہیں ہوسکتا ہے إیک حدیث محدثین کرام کے ہاں ضعیف ہو أور فقہاء کرام کے ہاں صحیح تو إس وجہ سے بھی حدیث ضعیف کو روایت کیا جاتا ہے.

جیسے إمام حاکم نے فرمایا:

” والصحيح من الحديث منقسم على عشرة أقسام خمسة متفق عليها وخمسة مختلف فيها "

ترجمہ: صحیح حدیث کی دس أقسام ہیں جن میں پانچ متفق علیہ ( صحت کے اعتبار سے) ہیں أور پانچ مختلف فیہ.

( المدخل إلی کتاب الإكليل للحاكم ابن البيع ، ص : 33 )

مزید مطالعہ کے لیے کتاب اصلاح ابن الصلاح إمام مغلطائی الحنفی کا مطالعہ فرمائیں جس میں أنہوں نے منہج محدثین و فقہاء میں فروق کو بیان کیا ہے.

إسی طرح علامہ ابن حجر عسقلانی نے أپنی کتاب ( نکت) میں مسئلہ ( أول من صنف الصحیح ، ص : 277 ) کے تحت إمام عراقی و إمام مغلطائی کے درمیان جو محاکمہ کیا ہے أسکو بھی پڑھیں ب۔

یہ فرق بہت کم لوگوں کو معلوم ہے،

اس لیے بعض لوگ لا علمی میں فقہائے کرام پر أحادیث ضعیفہ سے احتجاج کرنے کی تہمت لگاتے ہیں مذکورہ بالا مواقع کو پڑھنے سے تشفی ہوجائے گی باذن اللہ۔

أحادیث موضوع روایات کرنے کے أسباب :

پہلا سبب:

لوگوں کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے بچانے کے لیے موضوع أحادیث کو روایت کیا.

دوسرا سبب:

راوی کے کذاب ہونے کو ثابت کرنے کے لیے موضوع روایات بیان کی گئیں.

أحادیث ضعیف و موضوع روایات لانے کے أسباب مشترکہ:

پہلا سبب:

متقدمین محدثین کا أسلوب تھا کہ سند سے حدیث بیان کردیں ،

بعد میں آنے والے سند کا دراسہ کرکے خود معلوم کرلیں گے یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف یا موضوع تو یہ سبب بھی بنا ضعیف أحادیث بیان کرنے کا ،

لیکن شومئی قسمت کے أصول حدیث سے أور منہج محدثین سے ناواقف لوگوں نے کتب حدیث میں آنے والی ہر حدیث کو صحیح سمجھنا شروع کردیا تو لہذا یہ غلطی ہماری طرف سے ہے نہ کہ محدثین کی طرف سے،

جب إسماعیل بن محمد بن الفضل التیمی نے جب إمام طبرانی پر اعتراض کیا کہ وہ شدید الضعف أور موضوع أحادیث لائے ہیں أور بعض احادیث میں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین پر طعن بھی ہے تو علامہ ابن حجر عسقلانی نے إمام طبری پر ہونے والے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

” وهذا أمر لا يختص به الطبراني فلا معنى لإفراده باللوم بل أكثر المحدثين في الأعصار الماضية من سنة مائتين وهلم جرا إذا ساقوا الحديث بإسناده اعتقدوا أنهم برئوا من عهدته ، والله أعلم”

ترجمہ: یہ ( حدیث ضعیف یا موضوع روایت کرنے والا) معاملہ صرف طبرانی کے ساتھ خاص نہیں لہذا أنکی ملامت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ بہت سے محدثین زمانہ ماضی دوسری صدی ہجری سے لے کر أبھی تک وہ حدیث کو سند کے ساتھ روایت کردیتے ہیں ، أور أنکا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سند بیان کرکے أپنی ذمہ داری سے بری ہوگے ہیں ( أور أب جو بعد میں آئیں گے وہ سند کو دیکھ کر أسکے صحیح یا ضعیف یا موضوع ہونے کو معلوم کرلیں گے)

( لسان المیزان ، ترجمہ إمام طبرانی ، 4/125 )

لہذا کسی بھی کتاب میں حدیث کا آجانا أسکی صحت پر دلالت نہیں کرتا سوائے أن کتب کے جنہوں نے صحت کی شرط لگائی أور پھر أس شرط پر عمل بھی کیا جیسے صحیحین بخاری ومسلم وغیرہ.

دوسرا سبب:

لا علمی أور عدم معرفت کی وجہ سے ضعیف یا موضوع روایات کو بیان کیا.

إس کے لیے إمام عینی کی البنایہ شرح الہدایہ کا مطالعہ فرمالیں تو آپکو کئی مثالیں ملیں گی جس میں وہ شارحین ہدایہ پر اعتراض کرتے ہیں ،

أور کتب موضوعات خاص کر ملا علی قاری کی صغری و کبری وغیرہ .

إسی طرح یہ مجموعی دس أسباب ہوئے جنکی وجہ سے محدثین نے أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو بیان کیا.

أحادیث ضعیفہ و موضوعہ روایات لانے پر عقلی دلیل:

إس پر عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر شئے أپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے جیسے کہا جاتا ہے ( تعرف الأشياء بأضدادها ) ،

أگر وہ راویوں کی ضعیف و موضوع أحادیث نہ لکھتے تو صحیح روایات کو کیسے پہچانتے ، کیونکہ صحت کو جاننے کے لیے أمراض کا مطالعہ کرنا ضروری ہوتا ہے،

کیا أگر کوئی ڈاکٹر أپنی کتب میں مرض کے بارے میں لکھے تو ہم کیا یہ کہیں گے کہ إس نے أمراض کو کیوں لکھا صرف صحت کے أسباب لکھتا ؟

کیونکہ جب تک مرض معلوم نہ ہو تو أس سے بچیں گے کیسے؟

تو احادیث ضعیف و موضوع روایات کو بیان کرکے مرض کی تشخیص کی گئی تاکہ لوگ إس مرض میں مبتلا نہ ہوں.

واللہ أعلم .

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.